اردو
Friday 26th of April 2019
  734
  0
  0

اسلامی بیداری، سامراجی طاقتوں کے لئے خطرے کی علامت، قائد انقلاب

پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت کے مبارک و مسعود موقع پر قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ملک کے اعلی حکام، تہران میں مقیم اسلامی ممالک کے سفیروں اور مختلف عوامی طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کے اجتماع سے خطاب میں بعثت پیغمبر کو انتہائی حساس موڑ اور انسانوں کی سعادت و خوشبختی کو یقینی بنانے اور بشریت کی فطری خواہشات کی تکمیل کی جانب سفر کی شروعات قرار دیا۔ آپ نے فرمایا کہ پیغمبر اسلام کی بعثت اور دین اسلام عدل و انصاف، صلح و آشتی، آسائش و سلامتی اور انسانوں کے تحفظ کا پیغام ہے اور سرانجام یہ یکتا پرستی کا سلسلہ سچے وعدہ الہی کے مطابق اپنے پیروکاروں کے لئے فلاح و نجات اور کامیابی و کامرانی کی نوید ثابت ہوگا۔ آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے عید بعثت رسول کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے بعثت کو عدل و انصاف، صلح و آشتی اور آسائش و سلامتی کا سرآغاز ثابت ہونے کے باعث رحمت الہی کی بعثت قرار دیا اور فرمایا کہ طمانیت و سلامتی کی یہ راہیں انسان کے دل کی اندرونی وادی سے شروع ہوکر معاشرے کی فضا اور دنیا کی سطح تک جاتی ہیں اور جو لوگ اسلام میں ان راہوں کے مخالفین کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں وہ وہی لوگ اور مکاتب فکر ہیں جو انسانیت کی حقیقی خوشبختی کے مخالف ہیں۔ قائد انقلاب اسلامی نے انسانوں کو بشریت کی سعادت و خوشبختی کے مخالفین کے مقابلے میں ڈٹ جانے کی دعوت دینے والی قرآنی آیات اور احادیث نبوی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلام روشن دلیلوں سے تمام انسانوں کو امن و انصاف اور سلامتی و تحفظ کے زیر سایہ سعادت بخش زندگی گزارنے کی دعوت دیتا ہے لیکن دوسری جانب اس راہ کے مخالفین ہیں جو سخت مخالفت کا حکم دیتے ہیں۔ 

قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ طول تاریخ میں بشریت کی خوشبختی کے نورانی راستے کے مخالفین نے عدل و آشتی کے قیام کے لئے نہیں تسلط اور ظلم کا دائرہ پھیلانے اور انسانوں کا چین و سکون چھین لینے کے لئے جنگیں کی ہیں اور آج بھی دنیا کی تسلط پسند اور سامراجی طاقتیں جدید ٹکنالوجی اور ایٹمی اسلحے سمیت پیشرفتہ ہتھیاروں کے ذریعے زمانہ جاہلیت کی اسی روش کو ماڈرن پیرائے میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 

قائد انقلاب اسلامی نے سامراجی طاقتوں کے فوجی ساز و سامان اور اس پر آنے والے بے پناہ خرچے کو عصر حاضر کی افسوسناک مشکل قرار دیا اور فرمایا کہ جب تک عالمی مسائل بڑی طاقتوں کے ہاتھوں میں رہیں گے، جنگ، بد امنی اور نا انصافی پوری دنیا میں پھیلی رہے گی۔ آپ نے فرمایا کہ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد سے انیس سو نوے تک پینتالیس سال کے عرصے میں صرف تین ہفتے ایسے گزرے ہیں جو جنگ سے خالی رہے۔ آپ نے فرمایا کہ یہ جنگیں انہی لوگوں نے شروع کی ہیں جو ہھتیاروں کی پیداوار میں پہلے نمبر پر ہیں اور فوجی ساز و سامان فروخت کرکے پیسہ کمانے کی فکر میں رہتے ہیں، چنانچہ امن و انصاف قائم کرنے کے لئے جنگ کا امریکا کا دعوی سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ 

قائد انقلاب اسلامی نے امریکا کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال فوجی اخراجات پر چھے سو ارب ڈالر صرف کئے جانے کا ذکر کیا اور فرمایا کہ یہ فوجی ساز و سامان افغانستان کے مسلمانوں کی سرکوبی، ملت عراق پر غلبے اور مشرق وسطی کو درہم برہم کرنے کے لئے خبیث صیہونی حکومت کی مدد و اعانت میں استعمال ہو رہا ہے۔ قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ بد قسمتی سے دنیا میں انسانی زندگی پر اس جاہلانہ طاغوتی نظام کی حکومت ہے لیکن چونکہ یہ سلسلہ خلقت سے متعلق سنت الہی اور حق کے بر خلاف ہے اس لئے اس کا مٹ جانا یقینی ہے اور اس کے زوال کے آثار بھی نظر آنے لگے ہیں۔ 

قائد انقلاب اسلامی نے دنیا کے حالات میں تبدیلی اور عالم اسلام میں روز افزوں اسلامی بیداری کی لہر کی جانب اشارہ کیا اور فرمایا کہ سامراجی طاقتوں کا زوال شروع ہو جانے کی ایک وجہ مسلمانوں میں آنے والی اسلامی بیداری ہے جس کی وجہ سے ان طاقتوں کے پاس ماضی کی توانائياں باقی نہیں رہیں اور امریکا کے حال کا اس کے ماضی سے موازنہ کرکے اس کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔ 

قائد انقلاب اسلامی نے مسلمانوں میں پہلے سے زیادہ اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ راہ توحید اور سعادت بشر کے مخالفین ہر اس مقام پر خطرے کا احساس کرنے لگتے ہیں جہاں اسلامی بیداری بڑھ رہی ہو، یہی وجہ ہے کہ آج اسلامی جمہوریہ ایران سے دشمنیاں بڑھ گئی ہیں۔ قائد انقلاب اسلامی نے اسلامی جمہوریہ ایران کو مسلمان قوموں کے عز و وقار، بیداری و ہوشیاری اور اتحاد و یکجہتی کا علمبردار قرار دیا اور فرمایا کہ اکتیس سال سے سامراجی طاقتیں اسلامی نظام کی مخالفت کر رہی ہیں اور اکتیس سال سے ان تمام مخالفتوں کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران بفضل پروردگار ماضی کے مقابلے میں زیادہ قوی ہوا اور اس کی جڑیں زیادہ مضبوط ہوئی ہیں۔ 

قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا اور وعدہ پروردگار کے مطابق باطل کی سرنگونی و نابودی یقینی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ دشمنیاں جتنی بڑھیں گی عالم اسلام میں عوامی محاذ خود کو اور بھی بہتر طریقے سے پہچانے گا اور اسلامی حکومتوں اور قوموں کو بھی چاہئے کہ خود اعتمادی پیدا کریں اور سامراجی طاقتوں سے بالکل خوفزدہ نہ ہوں کیونکہ ان کی طاقت غیر حقیقی اور جعلی اور زوال پذیر ہے۔ 

اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے بھی بعثت رسول اسلام کی مبارکباد پیش کی اور بعثت کا مقصد انسانی فطرت سے ہم آہنگ دین اسلام کی دعوت دینا قرار دیا اور کہا کہ بعثت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا پیغام خدا کی بندگی، کلمہ توحید، قیام عدل، طاغوتی اور شیطانی طاقتوں کے مقابلے کا پیغام ہے جس کا نتیجہ انسانوں کی فلاح و بہبود ہے۔ انسانوں کی فطری بیداری سے شیطانی طاقتوں کے خوف و ہراس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے کہا کہ جیسا کہ اللہ تعالی نے وعدہ کیا ہے صالح بندے زمین کے وارث بنیں گے اور بعثت پیغمبر اسلام کا شجر، فرزند رسول حضرت امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی قیادت میں بارآور اور ثمر بخش بنے گا۔

 


source : http://urdu.khamenei.ir/index.php?option=com_content&task=view&id=752&Itemid=159
  734
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

آخر المقالات

      السنّة والبدعة
      لماذا تُنسَب الشيعة لابن سبأ ؟
      هل الدعوة لإزالة ذهب القباب عُمَرِيَةُ المنشأ فعلاً ؟
      القدرة المطلقة وإحياء الموتى
      ما هو الفرق بين بيعة الناس لعلي و بيعة الناس للخلفاء ؟
      ضرورة وحدة الأمة الإسلامیة
      علاقة الشیعة الامامیة بالغلاة
      لماذا ولد علي عليه السلام في الكعبة ؟!
      ما حكم الأكل من العقيقة لمن يعق عن نفسه؟
      ما حكم التوضؤ للصلاة قبل دخول الوقت؟ و هل تصح الصلاة ...

 
user comment