اردو
Friday 19th of July 2019
  583
  0
  0

توبہ شکن

 

بي بي رو رو کر ہلکان ہو رہي تھي۔ آنسو بے روک ٹوک گالوں پر نکل کھڑے ہوئے تھے۔ مجھے کوئي خوشي راس نہیں آتي ۔ ميرا نصيب ہي ايسا ہے۔ جو خوشي ملتي ہے ايسي ملتي ہے گويا کوکا کولا کي بوتل میں ريت ملا دي ہو کسي نے۔آنکھيں سرخ ساٹن کي طرح چمک رہي تھيں اور سانسوں ميں دمے کے اکھڑے پن کي سي کيفيت تھي۔ پاس ہي پپو بيٹھا کھانس رہا تھا۔ کالي کھانسي نامراد کا ہلا جب بھي ہوتا بيچارے کا منہ کھانس کھانس کر بينگن سا ہو جاتا ۔ منہ سے رال بہنے لگتا اور ہاتھ پاؤں اينٹھ سے جاتے۔ امي سامنے چپ چاپ کھڑکي ميں بيٹھي ان دنوں کو ياد کر رہي تھيں جب وہ ايک ڈي سي کي بيوي تھيں اور ضلع کے تمام افسروں کي بيوياں ان کي خوشامد کيا کرتي تھيں۔ وہ بڑي بڑي تقريبوں ميں مہمان خصوصي ہوا کرتيں، اور لوگ ان سے درخت لگواتے ربن کٹواتے ۔۔انعامات تقسيم کرواتے۔

پروفيسر صاحب ہر تيسرے مندھم سي آواز ميں پوچھتے ۔ ليکن آخر بات کيا ہے بي بي ۔ کيا ہوا ہے۔ وہ پروفيسر صاحب کو کيا بتاتي کہ دوسروں کے اصول اپنانے سے اپنے اصول بدل نہیں جاتے صرف ان پر غلاف بدل جاتا ہے۔ ستار کا غلاف ، مشين کا غلاف ، تکيے کا غلاف۔۔درخت کو ہميشہ جڑوں کي ضرورت ہوتي ہے۔ اگر اسے کرسمس ٹري کي طرح يونہي داب داب کر مٹي میں کھڑا کر ديں گے تو کتنے دن کھڑا رہے گا۔ بالاخر تو گرے ہي گا۔ وہ اپنے پروفيسر مياں کو کيا بتاتي کہ اس گھر سے رسہ تڑوا کر جب وہ بانو بازار پہنچي تھي اور جس وقت وہ ربڑ کي ہوائي چپلوں کا بھاؤ چار آنے کم کروا رہي تھي تو کيا ہوا تھا؟۔

اس کے بوائي پھٹے پاؤں ٹوٹي چپلي میں تھے۔ ہاتھوں کے ناخنوں ميں برتن مانجھ مانجھ کر کيچ جمي ہوئي تھي۔ سانس میں پياز کے باسي لچھوں کي بو تھي۔ قميض کے بٹن ٹوٹے ہوئےا ور دوپٹے کي ليس ادھڑي ہوئي تھي۔ اس ماندے حال جب وہ بانو بازار کے ناکے پر کھڑي تھي تو کيا ہوا تھا؟۔ يون تو دن چڑھتے ہي روز کچھ نہ کچھ ہوتا ہي رہتا تھا پر آج کا دن بھي خوب رہا۔ ادھر پھچلي بات بھولتي تھي ادھر نيا تھپڑ لگتا تھا۔ ادھر تھپڑ کي ٹيس کم ہوتي تھي۔ ادھر کوئي چٹکي کاٹ ليتا تھا۔ جو کچھ بانو بازار ميں ہوا وہ تو فقط فل اسٹاپ کے طو رپر تھا۔

صبح سويرے ہي سنتو جمعدارني نے بر آمدے میں گھستے ہي کام کرنے سے انکار کر ديا۔ رانڈ سے اتنا ہي تو کہا تھا کہ نالياں صاف نہیں ہوتيں ۔ ذرا دھيان سے کام کيا کر ۔ بس جھاڑو وہيں پٹخ کر بولي ۔ ميرا حساب کر ديں جي۔۔ کتني خدمتيں کي تھيں بد بخت کي۔ صبح سويرے تام چيني کے مگ میں ايک رس کے ساتھ چائے۔ رات کے جھوتے چاول اور باسي سالن روز کا بندھا ہوا تھا۔ چھ مہينے کي نوکري میں تين نائلون جالي کے دوپٹے ۔ امي کے پرانے سليپر اور پروفيسر صاحب کي قميض لے گئي تھي۔ کسي کو جرات نہ تھي کہ اسے جمعدارني کہہ کر بلا ليتا۔ سب کا سنتو سنتو کہتے منہ سوکھتا تھا۔ پر وہ تو طوطے کي سگي پھوپھي تھي۔ ايسي سفيد چشم واقع ہوئي کہ فورا حساب کر، جھاڑو بغل می داب ، سر پر سلپفحي دھر۔ يہ جا وہ جا۔ بي بي کا خيال تھا کہ تھوڑي دير میں آکر پاؤں پکڑے گي۔ معافي مانگے کي اور ساري عمر کي غلامي کاعہد کرے گي۔ بھلا ايسا گھر اسے کہاں ملے گا۔ پر وہ تو ايسي دفان ہوئي کہ دوپہر کا کھانا پک کر تيار ہو گيا پر سنتو مہاراني نہ لوٹي۔

سارے گھر کي صفائيوں کے علاوہ غسلخانے بھي دھونے پڑے اور کمروں میں ٹاکي بھي پھيرني پڑي۔ ابھي کمر سيدھي کرنے کو ليٹي ہي تھي کہ ايک مہمان بي بي آگئيں۔ منے کي آنکھ مشکل سے لگي تھي۔ مہمان بي بي حسن اتفاق سے ذرا اونچا بولتي تھيں ۔ منا اٹھ بيٹھا اور اٹھتے ہي کھانسنے لگا۔ کالي کھانسي کا بھي ہر علاج کر ديکھا تھا پر نہ تو ہوميو پيتھيک سے آرام آيا نہ ڈاکٹري علاج سے۔ حکيموں کے کشتے اور معجون بھي رائيگاں گئے۔ بس ايک علاج رہ گيا تھا اور يہ علاج سنتو جمعدارني بتايا کرتي تھي۔ بي بي کسي کالے گھوڑے والے سے پوچھو کہ منے کو کيا کھلائيں۔ جو کہے سو کھلاؤ ۔ دنو ں ميں آرام آجائے گا۔

ليکن بات تو مہمان بي بي کي ہو رہي تھي۔ ان کے آنے سے سارے گھر والے اپنے اپنے کمروں سے نکل آئے اور گرميوں کي دوپہر میں خورشيد کو ايک عدد بوتل لينے کے لئے بھگا ديا گيا۔ ساتھ ہي اتنا سارا سودا اور بھي ياد آگيا کہ پورے پانچ روپے دينے پڑے۔ خورشيد پورے تين سال سے اس گھر میں ملازم تھي۔ جب آئي تھي تو بغير دوپٹے کے کھوکھے تک چلي جاتي تھي اور اب وہ بالوں ميں پلاسٹک کے کلپ لگانے لگي تھي۔ چوري چوري پيروں کو کيو ٹيکس اور منے کو پاؤڈر لگانے کے بعد اپنے چہرے پر بے بي پاؤڈر استعمال کرنے لگي تھي۔ جب خورشيد موٹي ململ کا دوپٹہ اوڑھ کر ہاتھ میں خالي سکوائش کي بوتل لے کر سراج کے کھوکھے پر پہنچي تو سڑکيں بے آبد سي ہو رہي تھيں۔ پانچ روپے کا نوٹ جو اس کے ہاتھ میں پتي سي بن گيا تھا نقدي والے ٹين کي ٹرے ميں دھرتي ہوئي خورشيد بولي۔ايک بوتل مٹي کا تيل لا دو۔۔ دو سات سو سات کے صابن۔ تين پان سادہ۔۔ چار ميٹھے۔۔۔ايک نلکي سفيد دھاگے کي۔ دو لولي پاپ اور ايک بوتل ٹھنڈي ٹھار سيون اپ کي۔

روڑي کوٹنے والا انجن بھي جا چکا تھا اور کولتار کے دو تين خالي ڈرم تازہ کوٹي ہوئ سڑک پر اوندھے پڑے تھے ۔ سڑک پر سے حدت کي وجہ سے بھاپ سي اٹھتي نطر آتي تھي۔ دائي کي لڑکي خورشيد کو ديکھ کر سراج کو اپنا گاؤں دھلا يا د آگيا۔ دھلے میں اسي وضع قطع، اسي چال کي سيندوري سے رنگ کي نو بالغ لڑکي حکيم صاحب کي ہوا کرتي تھي۔ ٹانسے کا برقعہ پہنتي تھي۔ انگريزي صابن سے منہ دھوتي تھي اور شايد خميرہ گاؤ زبان اور کشتہ مردا ريد بمعہ شربت صندل کے اتني مقدار میں پي چکي تھي کہ جہاں سے گزر جاتي سيب کے مربے کي خوشبو آنے لگتي ۔گاؤں ميں کسي کے گھر کوئي بيمار پڑ جاتا تو سراج اس خيال سے اس کي بيمار پرسي کرنے ضرور جاتا کہ شايد وہ اسے حکيم صاحب کے پاس دوا لينے کے لئے بھيج دے۔ جب کبھي ماں کے پيٹ میں درد اٹھتا تو سراج کو بہت خوشي ہوتي۔

حکيم صاحب ہميشہ اس نفخ کي مريضہ کے لئے دو پڑياں ديا کرتے تھے ۔ ايک خاکي پڑيا گلاب کے عرق کے ساتھ پينا ہوتي تھي اور دوسري سفيد پڑيا سونف کے عرق کے ساتھ۔ حکيم صاحب کي بيٹي عموماً اسے اپنے خط پوسٹ کرنے کو ديا کرتي۔ وہ ان خطوں کو لال ڈبے میں ڈالنے سے پہلے کتني دير سونگھتا رہتا تھا۔ ان لفافوں سے بھي سيب کے مربے کي خوشبو آيا کرتي تھي۔

اس وقت دائي کرموں کي بيٹي گرم دوپہر میں اس کے سامنے کھڑي تھي اور سارے ميں سيب کا مربہ پھيلا ہوا تھا۔ پانچ روپے کا نوٹ نقدي والے ٹرے میں سے اٹھا کر سراج نے چيچي نظرو ں سے خورشيد کي طرف ديکھا اور کھنکار کر بولا ۔۔۔ايک ہي سانس میں اتنا کچھ کہہ گئي ۔ آہستہ آہستہ کہو نا۔ کيا کيا خريدنا ہے؟ايک بوتل مٹي کا تيل ۔۔۔دو سات سات صابن ۔۔۔تين پان سادہ چار ميٹھے۔ايک نلکي بٹر فلائي والي سفيد رنگ کي۔۔۔ايک بوتل سيون اپ کي۔۔جلدي کر ، گھر مہمان آئے ہوئے ہيں۔سب سے پہلے تو سراج کھٹاک سے سبز بوتل کو ڈھکنا کھولا اور بوتل کو خورشيد کي جانب بڑھا کر بولا۔ يہ تو ہو گئي بوتل اور۔۔۔بوتل کيوں کھولي تو نے۔۔اب بي بي جي ناراض ہوں گي۔ ميں تو سمجھا کہ کھول کر ديني ہے۔ میں نے کوئي کہا تھا تجھے کھولنے کے لئے۔ اچھا اچھا بابا ۔۔ميري غلطي تھي۔ يہ بوتل تو پي لے ۔ميں ڈھکنے والي اور دے ديتا ہوں تجھے۔۔ جس وقت خورشيد بوتل پي رہي تھي اس وت بي بي کا چھوٹا بھائي اظہر ادھر سے گزرا۔ اسے سڑا سے بوتل پيتے ديکھ کر وہ ميں بازار جانے کي بجائے الٹا چودھري کالوني کي طرف لوٹ گيا اور اين ٹائپ کے کوارٹر میں پہنچ کر بر آمدے ہي سے بولا۔ بي بي آپ يہاں بوتل کا انتظار کر رہي ہيں اور وہ لاڈلي وہاں کھوکھے پر خود بوتل پي رہي ہے سڑا لگا کر۔ بھائي تو اخبار والے کے فرائض سر انجام دے کر سائيکل پر چلا گيا ليکن جب دو روپے تيرہ آنے کي ريزگاري مٹھي میں دبائے دوسرے ہاتھ ميں مٹي کے تيل کي بوتل اور بکل ميں سات سو سات صابن کے ساتھ سيون اپ کي بوتل لئے خورشيد آئي تو سنتو جمعدارني کے حصے کا غصہ بھي خورشيد پر ہي اترا۔ اتني دير لگ جاتي ہے تجھے کھوکھے پر ۔ بڑي بھيڑ تھي جي۔۔ سراج کے کھوکھے پر ۔۔اس وقت؟                             بہت لوگون کے مہمان آئے ہوئے ہيں جي۔۔سمن آباد میں ويسے ہي مہمان بہت آتے ہيں۔ سب نوکر بوتليں لے جا رہے تھے۔۔ جھوٹ نہ بول کمبخت ميں سب جانتي ہون۔ جورشيد کا رنگ فق ہو گيا۔کيا جانتي ہیں ۔ جي آپ ؟ ابھي کھوکھے پر کھڑي تو۔۔۔بوتل نہیں پي رہي تھي۔ خورشيد کي جان میں جان آئي ۔۔پھر وہ بھپر کر بولي ۔وہ ميرے اپنے پيسوں کي تھي جي۔ آپ حساب کر ديں جي ميرا۔۔ مجھ سے ايسي نوکري نہیں ہوتي۔ بي بي تو حيران رہ گئي۔سنتو کا جان گويا خورشيد کے جانے کي تمہيد تھي۔ لمحوں ميں بات يوں بڑھي کہ مہمان بي بي سميت سب بر آمدے ميں جمع ہو گئے ۔ اور کترن بھي لڑکي نے وہ زبان درازي کي کہ جن مہمان بي بي پر بوتل پلا کر رعب گانٹھنا تھا وہ اس گھر کو ديکھ کر قائل ہو گئيں کہ بد نظمي ، بے ترتيبي اور بد تميزي ميں يہ گھر حرف آخر ہے۔ اناً فاناً مکان ناکوراني کے بغير سونا سونا ہو گيا۔ ادھر جمعدارني اور خورشيد کا رنج تو تھا ہي اوپر سے پپو کي کھانسي دم نہ لينے ديتي تھي۔ جب تک خورشيد کا دم تھا کم از کم اسے اٹھانے پچکارنے والا تو کوئي موجود تھا۔ اب کفگير تو چھوڑ چھاڑ کے بچے کو اٹھانا پڑتا۔ اسے بھي کالي کھانسي کا دورہ پڑتا تو رنگت بينگن کي سي ہو جاتي۔ آنکھيں سرخا سرخ نکل آتيں اور سانس يوں چلتا جيسے کئي ہوئي پاني کي ٹيوب سے پاني رس رس کے نکلتا ہے۔

اس روز دن ميں کئي مرتبہ بي بي نے دل ميں کہا۔ہم سے اچھا گھرانہ نہيں ملے گا تو ديکھيں گے ۔ ابھي کل بر آمدے ميں آئي بيٹھي ہوں گي دونوں کالے منہ والياں پر اسے اچھي طرح معلوم تھا کہ اس سے اچھا گھر ملے نہ ملے وہ دونوں اب تو کر نہ رہیں گي۔سارے گھر ميں ميں نظر دوڑاتي تو چھت کے جالوں سے لے کر رکي ہوئي نالي تک اور ٹوٹي ہوئي سيڑھيوں سے لے کر اندر ٹپ ٹپ برسنے والي نلکے تک عجيب کسمپرسي کا عالم تھا، ہر جگھ ايک آنچ کي کسر تھي۔ تين کمروں کا مکان جس کے دروازوں کے آگے ڈھيلي ڈوروں ميں دھاري دار پردے پڑے تھے، عجيب سي زندگي کا سراغ ديتا تھا۔ نہ تو يہ دولت تھي اور نہ ہي غريبي تھي ۔ ردي کے اخبار کي طرح اس کا تشخص ختم ہو چکا تھا۔

جب تک ابا جي زندہ تھے ار بات تھي۔ کبھي کبھار مائکہ جا کر ہي ہوا کا احساس پيدا ہو جاتا۔ اب تو ابا جي کي وفات کے بعد امي اظہر اور مني بھي اس کے پاس آگئے تھے امي زيادہ وقت پچھلي پوزيشن کو ياد کر کے رونے ميں بستر کرتيں۔جب رونے سے فراغت ہوتي تو وہ اڑوس پڑوس میں يہ بتانے کے لئے نکل جاتيں کہ وہ ايک ڈپٹي کمشنر کي بيگم تھيں اور حالات نے انہيں يہاں سمن آباد ميں رہنے پر مجبور کر ديا ہے۔ مني کو مٹي کھانے کا عارضہ تھا ۔ ديواريں کھرچ کھرچ کر کھوکھلي کر دي تھيں ۔نامراد سمينٹ کا پکا فرش اپني نرم نرم انگليوں سے کريد کر دھر ديتي ۔ بہت مرچيں کھلائيں ۔ کونين ملي مٹي سے ضيافت کي۔ ہانٹوں پر دھکتا ہوا کوئلہ رکھنے کي دھمکي دي پر وہ شير کي بچي مٹي کو ديکھ کر بري طرح ريشہ خطمي ہوتي۔

اظہر جس کالج ميں داخلہ لينا چاہتا تھا جب اس کالج کے پرنسپل نے تھرڈ ڈويزن کے باعث انکار کر ديا تو دن رات ماں بيٹا مرحوم ڈي سي صاحب کو ياد کر کے روتے رہے۔ ان کے ايک فون سے وہ بات بن جاتي جو پروفيسر فخر کے کئي پھيروں سے نہ بني۔ امي تو دبي زبان ميں کئي بار يہاں تک کہہ کي تھيں کہ داماد کس کام کا جس کي سفارش ہي شہر ميں نہ نتيجے کے طو رپر اظہر نے پڑھائي کا سلسہ منقطع کر ليا۔ پروفيرسر صاحب نے بہت سمجھايا پر اس کے پاس تو باپ کي نشاني ايک موٹر سائيکل تھا۔ چند ايک دوست تھے جو سول لائنز ميں رہتے تھے ۔ وہ بھلا کيا کالج والج جاتا۔ اس سارے ماحول میں پروفيسر فخر کيچڑ کا کنول تھے۔ لمبے قد کے دبلے پتلے پروفيسر۔ سياہ آنکھيں جن ميں تجسس اور شفقت کا ملا جلا رنگ تھا۔ انہیں ديکھ کر خدا جنے کيوں ريگستان کے گلہ بان ياد آ جاتے۔ وہ ان لوگوں کي طرح تھے جن کے آدرش وقت کے ساتھ دھندلے نہیں پڑ جاتے۔ جو اس لئے محکمہ تعليم ميں نہيں جاتے کہ ان سے سي ايس پي کا امتحان پاس نہیں ہو سکتا وہ دولت کمانے کے لئے کوئي بہتر گر نہیں جانتے۔ انہوں نے تعليم و تدريس کا پيشہ اس لئے چنا تھا کہ انہیں ناجانوں کي پر تجسس آنکھيں پسند تھيں انہیں فسٹ ايئر کے وہ لڑکے بہت اچھے لگتے تھے جو گاؤں سے آتے تھے اور آہستہ آہستہ شہر کے رنگ میں رنگے جاتے تھے۔ ان کے چہروں سے جو ذہانت ٹپکتي تھي دھرتي قريب رہنے کي وجہ سے ان ميں جو دو اور دو چار قسم کي عقل تھي پروفيسر فخر انہیں صفيل کرنے ميں بڑا لطف حاصل کرتے تھے۔

وہ تعليم کو ميلاد النبي کا فنکشن سمجھتے ۔ جب گھر گھر ديے جلتے ہيں اور روشني سے خوشي کي خوشبو آنے لگتي ہے۔ ان کے ساتھي پروفيسر جب اسٹاف روم ميں بيٹھ کر خالص ہيو نوٹس کے انداز ميں نو دولتي سوسائٹي پر تبصرہ کرتے تو وہ خاموش رہتے کيونکہ ان کا مسلک لوئي پاسچر کا مسلک تھا۔ کولمبس کا مسلک تھا۔ ان کے دوست جب فسٹ کلاس، سيکنڈ کلاس اور سليکشن گريڈ کي باتيں کرتے تو پروفيسر فخر منہ بند کئے اپنے ہاتھوں پر نگاہیں جماليتے۔ وہ تو اس زمانے کي نشانيوں ميں سے رہ گئے تھے۔ جب شاگرد اپنے استاد کے برابر بيٹھ نہ سکتا تھا۔ جب استاد کے آشير باد کے بغير شانتي کا تصور بھي گناہ تھا۔ جب استاد خود کبھي حصول دولت کے لئے نہيں نکلتا تھا ليکن تاجدار اس کے سامنے دو زانو آ کر بيٹھا کرتے تھے ۔ جب وہ بادشاہ جہانگير کے دربار میں مياں مير صاحب کي طرح کہتا کہ اے شاہ آج تو بلا ليا ہے پر اب شرط عنايت يہي ہے کہ پھر کبھي نہ بلانا۔

جب استاد کہتا ۔

اے حاکم وقت سورج کي روشني چھوڑ کر کھڑا ہو جا۔

جب بي بي نے پہلي بار پروفيسر فخر کو ديکھا تھا تو فخر کي نظروں کا مجذ د بابہ حسن شہد کي مکھيوں جيسا جذبہ خدمت اور صوفيائے کرام جيسا انداز گفتگو اسے لے ڈوبا۔ بي بي ان لڑکيوں ميں سے تھي جو درخت چاہے کيسا ہي آسمان کو چھونے لگے بالا خر مٹي کے خزانوں کو نچوڑتا ہي رہتا ہے ۔ وہ چاہے کتنے ہي چھيتنا رہ کيوں نہ ہو، بالآخر اس کي جڑوں ميں نيچے اترتے رہنے کي ہوس باقي رہتي ہے۔ اور پھر پروفيسر کا آدرش کوئي مانگے کا کپڑا تو تھا نہیں کہ مستعار ليا جاتا ليکن بي بي تو ہوا میں جھولنے والي ڈاليوں کي طرح يہي سوچتي رہي کہ اس کا دھرتي کے ساتھ کوئي تعلق نہيں۔ وہ ہوا پر زندہ رہ سکتي ہے۔ محبت ان کے لئے کافي ہے۔

تب ابا جي زندہ تھے اور ان کے پاس شيشوں والي کار تھي جس روز وہ بي اے کي ڈگري لے کر يونيورسٹي ہال سے نکلي تو اس کے ابا جي ساتھ تھے۔ ان کي کار رش کي وجہ سے عجائب گھر کي طرف کھڑکي تھي۔ مال کو کراس کر کے جب وہ دوسري جانب پہنچے تو فٹ پاتھ پر اس نے پروفيسر فخر کو ديکھا۔ وہ جھکے ہوئے اپني سائيکل کا پيڈل ٹھيک کر رہے تھے۔

سر سلام عليکم ۔۔۔

فخر نے سر اٹھايا ۔۔ اور ذہين آنکھوں ميں مسکراہٹ آگئي۔

وعليکم السلام مبارک ہو آپ کو۔۔

سياہ گائون ميں وہ اپنے آپ کو بہت مغزز محسوس کر رہي تھي ۔

سر ميں لے چلوں آپ کو ۔۔

بري سادگي سے فخر نے سوال کيا۔ اپ سائيکل چلانا جانتي ہیں؟

سائيکل پر نہيں جي ۔۔ميرا مطلب ہے کار کھڑي ہے جي ميري۔

فخر سيدھا کھڑا ہو گيا اور بي بي اس کے کندھے برابر نظر آنے لگي۔

ديکھئےمس۔۔۔استادوں کے لئے کاروں کي ضرورت نہیں ہوتي۔ان کے شاگرد کارون ميں بيٹھ کر دنيا کا نظام چلاتے ہيں۔ استادوں کو ديکھ کر کار روکتے ہیں ليکن استاد شاگردوں کي کار ميں کبھي نہيں بيٹھتا کيونکہ شاگرد سے اس کا رشتہ دنياوي نہیں ہوتا۔ استاد کا آسائش سے کوئي تعلق نہیں ہوتا ۔ وہ مرگ چھالا پر سوتا ہے۔ بڑ کے درخت تلے بيٹھتا اور جو کي روتي کھاتا ہے۔

بي بي کو تو جيسے ہونٹوں پر بھڑ ڈس گئي۔

ابھي چند ثانے پہلے وہ ہاتھوں ميں ڈگري لے کر فل سائز فوٹو کھنچوانے کا پروگرام بنا رہي تھي اور اب يہ گائوں يہ اونچا جوڑا يہ ڈگري سب کچھ نفرت انگيز بن گيا۔ جب مال رود پر ايک فوٹو گرافر کي دکان کے آگے روک کر ابا جي نے کہا ۔

ايک تو فل سائز تصوير کھنچو اور ايک پورٹريٹ۔

ابھي نہيں ابا جي ميں پرسو ں اپني دوستوں کے ساتھ مل کر تصوير کھنچواؤں گي۔

صبح کي بات پر ناراض ہو ابھي تک؟ ابا جي نے سوال کيا۔

نہیں جي وہ بات نہیں ہے ۔

صبح جب وہ يونيورسٹي جانے کے لئے تيار ہو رہي تھي تو ابا جي نے دبي زبان ميں کہا تھا کہ وہ کنوکيشن کے بعد اسے فوٹو گرافر کے پاس نہ لے جا سکیں گے کيونکہ انہيں کمشنر سے ملنا تھا۔ اس بات پر بي بي نے منہ تھتھا ليا تھا۔ اور جب تک ابا جي نے وعدہ نہیں کر ليا تب تک وہ کار میں سوار نہ ہوئي تھي۔

اب کار فوٹو گرافر کي دکان کے آگے کھڑي تھي۔ ابا جي اس کي طرف کا دروازہ کھولے کھڑے تھے ليکن تصوير کھنچوانے کي تمنا آپي آپ مر گئي۔

بي اے کے بعد کالج کا ماحول دور رہ گيا۔ يہ ملاقات بھي گرد آلود ہو گئي اور غالبا طاق نسياں پر بھي دھري رہ جاتي اگر اچانک کتابوں کي دکان پر ايک دن اسے پروفيسر فخر نظر نہ آجاتے۔

وہ حسب معمول سفيد قميض خاکي پتلون ميں ملبوس تھے۔ رومن نوز پر عينک ٹکي تھياور وہ کسي کتاب کا غور سے مطالعہ کر رہے تھے ۔ بي بي اپني دو تين سہيليوں کے ساتھ دکان ميں داخل ہوئي ۔ اسے ويمن اينڈ ہوم قسم کے رسالے درکار تھے ۔ عيد کارڈ اور سٹچ کرافٹ کے پمفلٹ خريدنے تھے۔ لو کيلري ڈائٹ قسم کي ايسي کتابوں کي تلاش تھي جو سالوں ميں بڑھايا ہوا وزن ہفتوں میں گھٹا دينے کے مشورے جانتي ہیں ليکن اندر گھستے ہي گويا آئينے کا لشکار پڑا۔

جب بات پڑھنے پڑھانے تک جا پہنچي تو پروفيسر فخر بولے۔

جي ہاں ميں انہیں پڑھا دوں گا۔ بخوشي۔

اب پہلو بدل کر ريٹائرڈ ڈي سي صاحب نے کہا۔۔ معاف کيجئے پروفيسر صاحب ليکن بات پہلے ہي واضح ہو جاني چاہئيے۔ يعني آپ ۔۔ميرا مطلب ہے آپ کي رينومريشن کيا ہو گي؟ ٹيوشن کي فيس کو خوبصورت سے انگريزي لفظ ميں دھال کر گويا ڈي سي صاحب نے اس ميں سے ذلت پھانس نکال دي۔

ليکن پروفيسر صاحب کا رنگ متغير ہو گيا اور وہ مونڈھے کي پشت کو ديوار سے لگا کر بولے۔

ميں۔۔۔مجھے ۔۔۔دراصل گورنمنٹ پڑھانے کا عوضانہ ديتي ہے۔ سر اس کے علاوہ۔۔۔میں ٹيوشن نہيں کرتا۔۔تعليم ديتا ہوں۔ جو چاہے جب چاہے مجھ سے پڑھ سکتا ہے۔

ليکن يہ تو آپ کي آفيشل ڈيوٹي نہيں ہے سر۔۔يہ تو۔۔

ديکھئے جناب ۔۔ميں اس لئے پڑھاتا ہوں کہ مجھے پڑھانے کا شوق ہے اگر میں تحصيلدار ہوتا تو بھي پڑھاتا۔۔ اگر ضلع کا ڈي سي ہوتا تو بھي پڑھاتا۔۔کچھ لوگ پيدائشي ميري طرح ہوتے ہیں۔ ان کے ماتھے پر مہر ہوتي ہے پڑھانے کي ۔۔ان کے ہاتھوں پر لکير ہوتي ہے پڑھانے کي۔

بي بي کے حلق ميں نمکين آنسو آگئے۔

دو غيرتوں کا مقابلہ تھا ۔ايک طرف ڈي سي صاحب کي وہ غيرت تھي جسے ہر ضلع کے افسروں نے کلف لگائي تھي۔ دوسري جانب ايک آدمي کي گيرت تھي جو گھونگے کي طرح اپنا سارا گھر اپنے ہي جسم پر لاد کر چلا کرتا ہے اور ذرا سي آہٹ پاکر اس گھونگے میں گوشہ نشين ہو جاتا ہے۔ پروفيسر صاحب بڑي بھلي سي باتيں کيے جا رہے تھے اور اس کے ابا جي مونڈھے ميں يوں بيٹھتے تھے جيسے بھاگ جانے کي تدبيريں سوچ رہے ہوں۔

فائن آرٹ کا دولت کي ذخيرہ اندوزي سے کوئي تعلق نہیں ہے ۔ ميں سمجھتا ہوں ميرا پروفيشن فائن آرٹس کا ايک شعبہ ہے۔ انسان ميں کلچر کا شعور پيدا کرنے کي سعي۔۔۔ انسان ميں تحصيل علم کي خواہش کا بيدار کرنا۔۔عام سطح سے اٹھ کر سوچتا اور سوچتے رہنا۔ ايک صحيح استاد ان نتمتوں کو بيدار کرتا ہے۔ ايک تصوير ، ايک گيت ، ايک خوبصورت بت بھي يہي کچھ کر پاتے ہیں۔ ساز بجانے والے کو اگر آپ لاکھ روپيہ ديں اور اس پر پابندي لگائيں کہ وہ ساز کو ہاتھ نہ لگائے گا تو وہ غالبا وہ۔۔اگر وہ جينيس ہے تو آپ کي پيشکش ٹھکرا دے گا۔ ميں ٹيچر ہوں ۔جينيس نہیں فيک نہيں ہوں ۔۔زبيري صاحب ۔۔۔

ڈي سي صاحب اپني بيٹي کے سامنے ہار ماننے والے نہ تھے۔

اور جو پيٹ میں کچھ نہ ہو تو غالبا ساز ندہ مان جائے گا۔

پھر وہ ساز نواز فيک ہوگا۔ پيسن کا اس کي زندگي سے کوئي تعلق نہ ہو گا بلکہ غالبا وہ اپنے آرٹ کو ايک تمغہ ايک پاسپورٹ ، ايک اشتہار کي طرح استعمال کرتا ہوگا۔ اچھا جي آپ پيسے نہ ليں ليکن بي بي کو پڑھا تو ديا کريں۔

جي ہاں بخوشي پڑھا دوں گا۔

تو کب آيا کريں گے آپ ؟ میں کار بھجوا ديا کروں گا۔

پروفيسر فخر کي آنکھيں تنگ ہو گئيں اور وہ ہچکچا کر بولے ۔میں تو کہيں نہیں جاتا شام کے وقت۔۔۔

تو ميرا مطلب ہے کہ آپ اسے پڑھائيں گے کيسے؟

يہ چار سے پانچ کے درميان کسي وقت آجايا کريں۔ میں پڑھا ديا کروں گا۔

بي بي کے پيروں تلے سے يوں زمين نکلي کہ اس وقت تک واپس نہ لوٹي جب تک وہ اپنے پلنگ پر ليٹ کر کئي گھنٹے تک آنسوئوں سے اشنان نہ کرتي رہي۔

عورت کے لئے عموما مرد کي کشش کے تين پہلو ہوتے ہیں ۔

بے نيازي ذہانت اورفصاحت

يہ تينوں اوصاف پروفيسروں ميں بقدر ضرورت ملتے ہیں ۔ اسي لئے ايسے کالجوں ميں جہان مخلوط تعليم ہو لڑکياں عموما اپنے پروفيسروں کي محبت میں مبتلا ہو جاتي ہيں ۔ اس محبت کا چاہے کچھ نتيجہ نہ نکلے ليکن ہيرو شپ کي طرح اس کا اثر ان کے ذہنوں ميں ابدي ہوتا ہے جس طرح ملکيت ظاہر کرنے کے لئے پرانے زمانے ميں گھوڑوں کو داغ ديا جاتا تھا اسي طرح اس رات بي بي کے دل پر مہر فخر لگ گئي۔ ابا جي ہر آنے جانے والے سے پروفيسر فخر کے احمق پن کي داستان يوں سنانے بيٹھ جاتے جيسے يہ بھي کوئي ويت نام کا مسئلہ ہو۔ ان کے ملنے والے پروفيسر فخر کي باتوں پر خوب ہنستے ۔ بي بي کو شبہ ہو چلا تھا کہ انہوں نے بيٹي کو ٹيوشن کي اجازت نہ دي تھي پھر بھي اندر ہي اندر ابا جي فخر کي شخصيت سے مرعوب ہو چکے تھے ۔

ايک دن جب بي بي اپني ايک سہيلي سے ملنے سمن آباد گئي اور سامنے والي لائن ميں اسے پروفيسر فخر کا مکان دکھائي ديا تو اچانک اس کے دل می ايک زبر دست خواہش اٹھي۔ وہ خوب جانتي تھي کہ اس سارے وقت پروفيسر صاحب کالج جا چکے ہوں گے۔ پھر بھي وہ گھر کے اندر چلي گئي ۔سارے کمرے کھلے پڑے تھے ۔ لمبے کمرے ميں ايک چارپائي بچھي تھي جس کا ايک پايہ غائب تھا اور اس کي جگہ اينٹوں کي تھٹي لگي ہوئي تھي۔ تينوں کمرون میں کتابيں ہي کتابیں تھيں ۔ ہر سائز کي ، ہر پيپر، اور ہر طرح کي پرنٹنگ والي کتابيں ۔ ان کتابوں کو درستگي کے ساتھ آراستہ کرنے کي خواہش بڑي شدت کے ساتھ بي بي کے دل ميں اٹھي۔۔

جستي ٹرنک پر پڑے ہوئے کپڑے ، زرد رو چھپکلياں جو بڑي آزادي سے چھت پر سے جھانک رہي تھيں اور کونوں میں لگے ہوئے جالے۔ ان چيزوں کا بي بي پر بہت گہرا اثر ہوا۔ باورچي خانے سے کچھ جلنے کي خوشبو آ رہي تھي ليکن پکانے والا ديگچي اسٹوو پر رکھ کر کہيں گيا ہوا تھا۔ بي بي نے تھوڑا سا پاني ديگچي ميں ڈالا اور سہيلي سے ملے بغير آگئي۔

جس رو بي بي نے پروفيسر فخر سے شادي کرنے کا فيصلہ کيا اسي روز جمالي ملک کا رشتہ بھي آگيا۔ جمالي ملک لاہور کے ايک نامي گرامي ہوٹل ميں منيجر تھے ۔ بڑي پريس کي ہوئي شخصيت تھي اپني پتلون کي کريز کي طرح ۔ اپنے چمکدار بوٹوں کي طرح جگمگاتي ہوئي شخصيت ۔ وہ کسي ٹوتھ پيسٹ کا اشتہار نظر آتے تھے۔ صاف ستھرے دانتوں کي چمک ہميشہ چہرے پر رہتي۔

جمالی ملک اپنے ہوٹل کي طرح تنظيم ، صفائي اور سروس کا سمبل تھے۔

ائر کنڈيشنڈ لابي ميں پھرتے ہوئے، مدھم بتيوں والي بار میں سر پرائز وزٹ کرتے ہوئے لفٹ کے بٹن دباتے ہوئے، ڈائننگ ہال میں وي آئي پيز کے ساتھ پر تکلف گفتگو کرتے ہوئے، ان کا وجد کٹ گلاس کے فانوس کي طرح خوبصورت اور چمکدار تھا۔

جس روز اسي بڑے ہوٹل کے بڑے منيجر نے بي بي کے خاندان کو کھانے کي دعوت دي۔ اسي روز ڈرائي کلينز سے واپسي پر بي بي کي مڈ بھڑي پروفيسر فخر کے ساتھ ہو گئي۔ وہ فٹ پاتھ پر پراني کتابوں والي دوکانوں کے سامنے کھڑے تھے اور ايک پرانا سا مسودہ ديکھ رہے تھے۔

ان سے پانچ چھ قدم دور ہر مال ملے گا آٹھ آنے والا چيخ چيخ کر سب کو بلا رہا تھا۔ ذرا سا ہٹ کر وہ دکان تھي جس میں سرخ چونچوں والے طوطے ، سرخ افريقہ کي چڑياں اور خوبصورت لقے کبوتر غٹر غوں غٹر غوں کر رہے تھے۔ پروفيسر صاحب پر سارے بازار کا کوئي اثر نہ ہو رہا تھا اور وہ بڑا انہماک سے پڑھنے ميں مشغول تھے۔ کار پارک کرنے کي کوئي جگہ نہ تھي ۔ بالاخر محکمہ تعليم کے دفتر میں جا کر پارک کروائي اور خود پيدل چلتي ہوئي پروفيسر فخر تک جا پہنچي ۔

پراني کتابيں بيچنے والے دور تک پھيلے تھے۔ کرم خوردہ کتابوں کے ڈھير تھے۔ ايسي کتابيں اور رسالے بھي تھے جنہيں امريکن وطن لوٹنے سے پہلے سيروں کے حساب سے بيچ گئے تھے اور جن کے صفحے بھي ابھي کھلے نہ تھے۔

سلام عليکم سر۔۔۔

چونک کر سر نے پيچھے ديکھا تو بي بي شرمندہ ہوگئي۔ اللہ اس پروفيسر کي آنکھ ميں کبھي پہچان کي کرن جاگے گي؟ ہر بار نئے سرے سے اپنا تعارف تو نہ کروانا پڑے گا۔

آپ اتني دھوپ ميں کھڑے ہيں سر۔۔۔

پروفيسر نے جيب سے ايک بوسيدہ اور گندہ رومال نکال کر ماتھا صاف کيا اور آہستہ سے بولے۔ ان کتابوں کے پاس آکر گرمي کا احساس باقي نہیں رہتا۔

بي بي کو عجيب شرمندگي سي محسوس ہوئي کيونکہ جب کبھي وہ پڑھنے بيٹھتي تو ہميشہ گردن پر پسينے کي نمي سي آجاتي اور اسے پڑھنے سے الجھن ہونے لگتي۔

آپ کو کہيں جانا ہو تو جي ميں چھوڑ آؤں آپ کو۔

نہيں ميرا سائيکل ہے ساتھ۔۔شکريہ۔

بات کچھ بھي نہ تھي ۔ فٹ پاتھ پر پراني کتابوں کي دکان کے سامنے ايک بے نياز چھوٹے پروفيسر کے ساتھ جس کے کالر پر ميل کا نشان تھا، ايک سر سري ملاقات تھي چند چانے بھر کي۔ ليکن اس ملاقات کا بي بي پر تو عجيب اثر ہوا۔ سارا وجود تحليل ہو کر ہوا میں مل گيا۔ کندھوں پر سر نہ رہا۔ اور پاؤں ميں ہلنے کي سکت نہ رہي۔ حالانکہ پروفيسر فخر نے اس سے ايک بات بھي ايسي نہ کي جو بظاہر توجہ طلب ہوتي۔ پر بي بي کے تو ماتھے پر جيسے انہوں نے اپنے ہاتھ سے چندن کا ٹيکہ لگ ديا۔ کھوئي کھوئي سي گھر آئي اور غائب سي بڑے ہوٹل پہنچ گئي۔

جب وہ شموز کي ساتھي پہنے آئينہ خانے سے لابي میں پہنچي تو دراصل وہ آکسيجن کي طرح ايک ايسي چيز بن چکي تھي جسے صرف محسوس کيا جا سکتا ہے۔ جمالي ملک صاحب شارک سکن کے سوٹ ميں ملبوس، کالر میں کار نيشن کا پھول لگائے گھنٹوں پر کلف شدہ سرويٹ رکھے اتنے ٹھوس نظر آ رہے تھے کہ سامنے ميز پر کہنياں ٹکائے جھينگے کا پلاؤ اور چوپ سوئي کھانے والي لڑکي پر انہیں شبہ تک نہ ہو سکا اور وہ جان ہي نہ سکے کہ مسلسل باتيں کرنے والي لڑکي دراصل ہوٹل میں موجود ہي نہیں ہے۔ اگر بي بي کي شادي جمالي ملک سے ہو جاتي تو کہاني آسنگ لگے کيک کي طرح دلاويز ہوتي۔ لفٹ کي طرح اوپر کي منزلوں کو چڑھنے والي، سوئمنگ پول کے اس تختے کي طرح جس پر چڑھ کر ہر تيرنے والا سمر سولٹ کرنے سے پہلے کئي فٹ اوپر چلا جايا کرتا ہے۔

ليکن۔

شادي تو بي بي کي پروفيسر فخر سے ہو گئي۔

ڈي سي صاحب کي بيٹي کا بياہ اس کي پسند کا ہوا اور اس شادي کي دعوت ہوٹل ميں دي گئي جس کے منيجر جمالي صاحب تھے ۔ دلہن کے گھر والون نے چار ڈي لکس قسم کے کمرے دو دن پہلے بک کر رکھے تھے اور بڑے ہال می جہاں رات کا آرکشترا بجا کرتا ہے وہیں دولہا دلہن کے اعزاز میں بہت بڑي دعوت رہي۔ نکاح بھي ہوٹل ہي ميں ہوا اور رخصتي بھي ہوٹل ہي سے ہوئي ۔ ساري شادي سے ہنگامہ منقود تھا۔ ايک ٹھنڈ کا ايک خاموشي کا احساس مہمانوں پر طاري تھا۔ ٹھنڈے ٹھنڈے ہال می يخ بستہ کولڈ ڈرنکز پيتے ہوئے سرد مہر سے مہمانوں سے مل کر بي بي اپنے مياں کے ساتھ سمن آباد چلي گئي۔

ليکن اس رخصتي سے پہلے ايک اور بھي چوھتا سا واقعہ ہوا۔

نکاح سے پہلے جب دلہن تيار کي جا رہي تھي اور اسے زيور پہنايا جا رہا تھا، اس وقت بجلي اچانک فيوز ہو گئي۔ پہلے بتياں گئيں ۔ پھر ايئر کنڈيشنز کي آواز بند ہو گئي۔ چند ثانئے تو کانوں کو سکون سا محسوس ہوا ليکن پھر لڑکيوں کا گروہ کچھ تو گرمي کے مارے اور کچھ موم بتيوں کي تلاش ميں باہر چلا گيا۔

بتياں پورے آدھے گھنٹے بعد آئيں ۔

اب خدا جانے يہ جمالي ملک کي اسکيم تھي يا واپڈا والوں کي سازش تھي۔ بجلي کے چلے جانے کے کوئي دس منٹ بعد بي بي کے دروازے پر دستک ہوئي۔ ڈري ہوئي آواز ميں بي بي نے جواب ديا۔

کم ان ۔

ہاتھ میم شمعدان لئے جمالي ملک داخل ہوا۔

اس نے آدھي رات جيسا گہرا نيلا سوٹ پہن رکھا تھا۔ کالر ميں سرخ کا رنيشن کا پھول تھا اور اس کے آتے ہي تمباکو ملي کوئي تيز سي خوشبو کمرے ميں پھيل گئي۔

بي بي کا دل زور زور سے بجنے لگا۔

ميں يہ بتانے آيا تھا کہ ہمارا جنريٹر خراب ہو گيا ہے ۔ تھوڑي دير میں بجلي جائے گي۔ کسي چيز کي ضرورت تو نہیں آپ کو ؟

وہ خاموش رہي۔

ميں يہ کينڈل اسٹينڈ آپ کے پاس رکھ دوں؟

اثبات ميں بي بي نے سر ہلاديا ۔

جمالي ملک نے شمعدان ڈريسنگ ٹيبل پر رکھ ديا۔

جب پانچ موم بتيوں کا عکس بي بي کے چہرے پر پڑا اور کنکھيوں سے اس نے آئينے کي طرف ديکھا تو لمحہ بھر کو اپني صورت ديکھ کر وہ خود حيران سي رہ گئي۔

آپ کي سہيلياں کدھر گئيں ؟

وہ نيچے چلي گئي ہیں شايد۔۔۔

اگر آپ کو کوئي اعتراض نہ ہو تو ۔۔تو میں يہاں بيٹھ جاؤں چند منٹ ۔

بي بي نے اثبات میں سر ہلاديا۔

وہ اپولو کي طرح وجيہہ تھا ۔ جب اس نے ايک گھٹنے پر دوسرا گھٹنا رکھ کر سر کو صوفے کي پشت سے لگايا تو بي بي کو عجيب قسم کي کشش محسوس ہوئي۔ جمالي ملک کے ہاتھ میں سارے ہوٹل کي ماسٹر چابياں تھيں اور اس کي بڑي سي انگوٹھي نيم روشني میں چمک رہي تھي۔

اس خاموش خوبصورت آدمي کو بي بي نے اپنے نکاح سے آدھ گھنٹہ پہلے پہلي بار ديکھا اور اس کي ايک نظر نے اسے اپنے اندر اس طرح جذب کر ليا جيسے سياہي چوس سياہي کو جذب کر تا ہے ۔

ميں آپ کو مبارکباد پيش کر سکتا ہوں؟ اس نے مضطرب نظروں سے بي بي کو ديکھ کر پوچھا۔

وہ بالکل چپ رہي۔

لڑکياں خاص کر آپ جيسي لڑکيوں کو ايک بڑا زعم ہوتا ہے اور اسي ايک زعم کے ہاتھوں وہ ايک بہت بڑي غلطي کر بيٹھتي ہيں۔

نقلي پلکوں والے بوجھل پپوٹے اٹھا کر بي بي پوچھا۔ کيسي غلطي۔ ؟

کچھ لڑکياں محض رشي سا دھوؤں کي تپسياں توڑنے کي خوشي کي معراج سمجھتي ہيں۔

وہ سمجتھي ہيں کہ کسي بے نياز کي ڈھال میں سوراخ کر کے وہ سکون کي معراج کو پا ليں گي۔ کسے کے تقوي کو برباد کرنا خوشي کے مترارف نہیں ہے۔ کسي کے ذہد کو عجز و انکساري ميں بدل دينا کچھ اپني راحت کا باعث نہیں۔ ہاں دوسروں کے لئے احساس شکست کا باعث ہو سکتي ہے يہ بات۔

چابياں ہاتھ ميں گھوم پھر رہي تھي۔ ذہانت اور فصاحت نادريا رواں تھا۔

يہ عزم ۔۔عورتوں ميں لڑکيوں ميں کب ختم ہوگا۔؟ آپ بھي توبہ شکن بننا چاہتي ہیں۔

مجھے پروفيسر فخر سے محبت ہے۔

محبت ؟ آپ پروفيسر فخر کو يہ بتانا چاہتي ہیں کہ اندر سے وہ بھي گوشت پوست کے بنے ہوئے ہیں۔ اپنے تمام آئيڈيلز کے باوجود وہ بھي کھانا کھاتے ہيں۔ سوتے ہيں ۔ اور محبت کرتے ہيں ۔ ان کا کورٹ آف آرمر اتنا سخت نہيں جس قدر وہ سمجتھے ہيں۔

وہ چاہتي تھي کہ جمالي ملک سے کہے کہ تم کون ہوتے ہو مجھے پروفيسر کے متعلق کچھ بتانے والے۔ تمہیں کيا حق پہنچتا ہے کہ يہاں ليدر کے صوفے سے پشت لگا کر سارے ہوٹل کي ماسٹر چابياں ہاتھ میں لے کر اتنے بڑے آدمي پر تبصرہ کرو۔ ليکن وہ بے بس سنے جا رہي تھي اور کچھ کہہ نہیں سکتي تھي۔

ميں پروفيسر صاحب سے واقف نہیں ہوں ليکن جو کچھ سنا ہے اس سے يہي اندازہ لگايا ہے کہ ۔ وہ اگر مجرو رہتے تو بہتر ہوتا۔ عورت تو خواہ مخواہ توقعات وابستہ کر لينے والي شے ہے۔ وہ بھلا اس صنف کو کيا سمجھ پائيں گے؟

جمالي صاحب۔۔ اس نے التجاکي۔

آپ سي لڑکياں اپنے رفيق حيات کو اس طرح چنتي ہیں جس طرح مينو ميں سے کوئي اجنبي نام کي ڈش آرڈر کر دي جائے۔ محض تجربے کي خاطر ۔۔ محض تجسس کے لئے۔

وہ پھر بھي چپ رہي۔

اتنے سارے حسن کا پروفيسر صاحب کو کيا فائدہ ہوگا بھلا۔ مني پلاٹ پاني کے بغير سوکھ جاتا ہے۔ عورت کا حسن پر ستش اور ستائش کے بغير مرجھا جاتا ہے۔ کسي ذہن مرد کو بھلا کسي خوبصورت عورت کي کب ضرورت ہوتي ہے۔ اس کے لئے تو کتابوں کا حسن بہت کافي ہے۔

شمعدان اپني پانچ موم بتيوں سميت دم سادھے جل رہا تھا اور وہ کيوٹيکس لگے ہاتھوں کو بغور ديکھ رہي تھي۔

مجھ سے بہتر قصيدہ گو آپ کو کبھي نہيں مل سکتا قمر۔ مجھ سا گھر آپ کو نہیں مل سکتا کيونکہ ميرا گھر اس ہوٹل میں ہے اور ہوٹل سروس سے بہتر کوئي سروس نہیں ہوتي اور مجھے يہ بھي يقين ہے کہ ميري باتوں پر آپ کو اس وقت يقين آئے گا جب آپ کے چہرے پر چھائياں پڑ جائيں گي۔ ہاتھ کيکر کي چھال جيسے ہو جائيں گے اور پيٹ چھاگل ميں بدل جائے گا۔ ميں تو چاہتا تھا۔ ميري تو تمنا تھي کہ جب ہم اس ہوٹل کيلابي ميں اکھٹے پہنتے ۔ جب اس کي بار میں ہم دونوں کا گزر ہوتا۔ جب اس کي گيلريون ميں ہم چلتے نظر آتے تو امريکن ٹورسٹ سے لے کر پاکستاني پيٹي بوذو تک سب ہماري خوشي نصيبي پر رشک کرتے ليکن آپ آئيڈيلسٹ بننے کي کوشس کرتي ہیں۔ يہ حسن کے لئے گرھا ہے بربادي ہے۔

ساون کي رات جيسا گہرا نيلا سوٹ، کارنيشن کا سرخ پھول اور آفٹر شيو لوشن سے بسا ہوا چہرہ بالاخر دروازے کي طرف بڑھا اور بڑھتے ہوئے بولا۔ کسي سے آئيڈيلز مستعار لے کر زندگي بسر نہیں ہو سکتي محترمہ۔۔ آدرش جب تک اپنے ذاتي نہ ہوں ہميشہ منتشر ہو جاتے ہيں ۔ پہاڑوں کا پودا ريگستانوں ميں نہیں لگايا کرتا۔

اس میں تو اتنا حوصلہ بھي باقي نہ رہا تھا کہ آخري نظر جمالي ملک پر ہي ڈال ليتي۔ دروازے کے مدر و ہينڈل پر ہاتھ ڈال کر جمالي ملک نے تھوڑا سا پٹ کھول ديا۔ گيلري سے لڑکيوں کے ہنسنے کي آوازيں آنے لگي۔

ميں بھي کس قدر احمق ہوں اس سے اپنا کيس کر رہا ہوں جو کبھي کا فيصلہ کر چکي ہے۔ اچھا جي مبارک ہو آپ کو۔

دروازہ کھلا اور پھر بند ہو گيا۔

جاتے ہوئے وجيجہ منيجر کو ايک نظر بي بي نے ديکھا اور اپنے آپ پر لعنت بھيجتي ہوئي اس نے نظريں جھکاليں۔

چند لمحو ں بعد دروازہ پھر کھلا اور ادھ کھلے پٹ سے جمالي ملک نے چہرہ اندر کر کے ديکھا۔ اس کي ہلکي براؤن آنکھوں ميں نمي اور شراب کي ملي جلي چمک تھي جيسے گلابي شيشے پر آہوں کي بھاپ اکھٹي ہو گئي ہو۔

مجھ سے بہتر آدمي تو آپ کو مل رہا ہے۔ ليکن مجھ سے بہتر گھر نہ ملے گا آپ کو مغربي پاکستان ميں ۔

اسي طرح سنتو جمعدارني کے جانے پر بي بي نے سوچا تھا۔ ہم سے بہتر گھر کہاں ملے گا کملوہي کو۔

اسي طرح خورشيد کے چلے جانے پر وہ دل کو سمجھاتي تھي کہ اس بد بخت کو اس سے اچھا گھر کہاں ملے گا اور ساتھ ساتھ بي يہ بھي جانتي تھي کہ اس سے بہتر گھر چاہے نہ ملے وہ لوٹ کر آنے واليوں ميں سے نہیں تھيں۔ اتنے برس گزرنے کے بعد آج ايک پل تعمير ہو گيا۔ آپي آپ ماضي سے جوڑنے وال۔ وہ دل برداشتہ انار کلي چلي گئي۔ اس خيال تھا کہ وہ چار گھنٹے کي غير موجودگي ميں سب کچھ ٹھيک کر دے گي۔ سنتو جمعدارني اور خورشيد تک کو آتے دال کا بھاؤ معلوم ہو جائے گا۔

ليکن ہوا يوں کہ جب وہ اپنے اکلوتے دس روپے کے نوٹ کو ہاتھ میں لئے بازار ميں کھڑي تھي اور سامنے ربڑ کي چپلو ں والے سے بھاؤ کر رہي تھي اور نہ چپلوں والے پونے تين سے نيچے اترتا تھا اور نہ وہ ڈھائي روپے سے اوپر چڑھتي تھي عين اس وقت ايک سياد کار اس کے پاس آکر رکي۔

اپنے بوائے پھٹے پيروں کو نئي چپل ميں پھنسا تے ہوئے اس نے ايک نظر کار والے پر ڈالي۔

وہ اپالو کي بت کي طرح وجيہہ تھا۔

کنپٹيوں کے قريب پہلے چند سفيد بالوں نے اس کي وجاہت پر رعب حسن کي مہر بھي لگا دي تھي۔ وقت نے اس سينٹ کا کچھ نہ بگاڑا تھا۔ وہ اسي طرح محفوظ تھا جيسے ابھي ابھي کولڈ اسٹوريج سے نکلا ہو۔

بي بي نے اپنے کيکر کے چھال جيسے ہاتھ ديکھے۔

پيٹ پر نظر ڈالي جو چھاگل ميں بدل چکا تھا۔

اور ان نظروں کو جھکا ليا جن میں اب کنيزہ گوند کي بجھي بجھي سي چمک تھي۔

جمالي ملک اس کے پاس سے گزرا ليکن اس کي نظروں ميں پہچان کي گرمي نہ سلگي۔

واپسي پر وہ پروفيسر صاحب سے آنکھيں چرا کر بستر پر ليٹ گئي اور آنسوؤں کا رکا ہوا سيلاب اس کي آنکھوں سے بہہ نکلا۔

پروفيسر صاحب نے بہت پوچھا ليکن وہ انہیں کيا بتاتي کہ درخت چاہے کتنا ہي اونچا کيوں نہ چلا جائے اس کي جڑيں ہميشہ زمين کو ہوس سے کريدتي رہتي ہیں ۔ وہ انہیں کيا سمجھاتي کہ آئيڈيلز کچھ مانگے کا کپڑا نہيں جو پہن ليا جائے۔

وہ انہیں کيا کہتي کہ عورت کيسے توقعات وابستہ کرتي ہے۔

اور۔۔۔۔

يہ توقعات کا محل کيونکر ٹوٹتا ہے؟

وہ غريب پروفيسر صاحب کو کيا سمجھاتي ۔

ايسي باتيں تو غالباً اب جمالي ملک بھي بھول چکا تھا۔

 


source : http://www.tebyan.net/index.aspx?pid=69426
  583
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      امام علی علیه السلام کی امامت اور خلافت کو کیسے ثابت ...
      مسئلہ فلسطین کے بنیادی فقہی اصول امام خامنہ ای کی نگاہ ...
      سیرت رسول اکرم (ص) میں انسانی عطوفت اور مہربانی کے ...
      ہم امریکہ کی عمر کے آخری ایام سے گذر رہے ہیں: چالمرز ...
      شفاعت کی وضاحت کیجئے؟
      دین اسلام کی خاتمیت کی حقیقت کیا ھے۔ اور جناب سروش کے ...
      کیا تقلید کے ذریعھ اسلام قبول کرنا، خداوند متعال قبول ...
      امام کے معصوم ھونے کی کیا ضرورت ھے اور امام کا معصوم ...
      کیا پیغمبر اکرم (صل الله علیه وآله وسلم) کے تمام الفاظ ...
      عورتوں کے مساجد میں نماز پڑھنے کے بارے میں اسلام کا ...

 
user comment