اردو
Sunday 16th of June 2019
  3486
  0
  0

توبہ

یہ بات اہل بصیرت سے پوشیدہ نہیں کہ توبہ خداوند کریم کے فضل عظیم کا ایک بڑا شعبہ اور رحمت واسعہ کا سب سے بڑ ادروازہ ہے۔جو اپنے بندوں کے لئے ہمیشہ کھلا رکھتا ہے اور کبھی بند نہیں ہوا۔اگر در توبہ اور باب رحمت بند ہوتا تو کوئی بندہ نجات نہیں پا سکتا تھا۔کیوں کہ گناہوں سے آلودگی اور خطاکاری بندوں کی سرشت میں داخل ہے چونکہ انسان سہو و خطا کا پتلا ہے خواہشات نفسانی اس کے دامن گیر ہے اس کے تمام اعضائے بد ن خواہ و باطنی ہوں یا خارجی گفتار و کردار سے متعلق ہوں یا افکار و تصورات سے بلکہ سارے حرکات سکنات گناہوں اور خطاوٴں سے خالی نہیں مگر یہ کہ ارحم الراحمین کی رحمت اس کا تحفظ اور راہنمائی شامل حال ہو۔

اس دنیا میں کوئی ایسا بندہ بشر مل نہیں سکتا جو کہ اپنے آپ کو کسی بھی گناہ اور خطا کی آلودگی سے پاک وپاکیزہ رکھنے میں کامیاب ہو گیا ہو۔اپنی فطرت اولیہ کو آخر عمر تک تازہ مولود کی طرح صاف ستھرا محفوظ رکھ سکا ہو۔انسان تو انسان حتی انبیاء کرام (علیہم السلام) بھی لغزشوں سے اپنے آپ کو بچا نہ سکے لیکن پیغمبروں کی خطا اور ہماری خطا میں بہت فرق ہے جس کا عنقریب ذکر ہوگا۔

خداوند حکیم ور حیم نے توبہ کو تمام روحانی درد اور قلبی بیماریوں کی دوا اور ہر قسم کے گناہوں کی آلودگی سے پاک کرنے والا بہترین اور آسان تیرن نسخہ تجویز فرمایا ہے۔تا کہ انسان گناہوں میں مبتلا ہونے کے بعد توبہ کی برکت سے مغفرت کا اہل اور نجات کا مستحق بن جائے۔خوش نصیب ہے وہ بندہ جو اس باب رحمت کی قدر کرے اس کی سہولت سے فائدہ اٹھائے اور اس عنایت پروردگار کا شکر ادا کرے اس کے برعکس بد نصیب وہ ہے جو اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھاسکے۔روز قیامت جب بندے موقع حساب میں لائے جائیں گے اور اس سے ان کے اعمال کے متعلق پوچھا جائے گا تو یہ بدنصیب بندے کہیں گے پروردگار میں ناداں و بے خبر تھا اپنی شہوت وغضب خواہشات نفسانی کا اسیر تھا اور میں شیطان کے وسوسوں کے سامنے بے بس تھا تو خدواند عالم جواب میں فرمائے گاکیا تم پر کوئی ایسی ذمہ داری ڈال دی گئی تھی جو تمہاری قوت و استطاعت سے باہرتھی؟کیا میں نے توبہ کے بارے میں سخت شرائط عائد کئے تھے؟ تو بندہ گنہگار جواب میں عرض کرے گا۔

الھی ارحمنی اذ انقطعت حجتی وکل عن جوابک لسانی و طاش عند سئوالک… (ابوحمزہ ثمالی) خدایا میری حالت پر رحم فرما تو نے میرے حیلہ وحجت کا خاتمہ کر دیا۔تجھے جواب دینے میں میری زبان کام نہیں کرتی تیرے سوالات سے میرے دل پر دہشت طاری ہوئی ہے اس لئے جواب سے قاصر ہے۔

حقیقت توبہ

حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ)(توبہ کی تعریف میں)فرماتے ہیں الندامتہ توبتہ گناہ سے پشیمانی(کانام)توبہ ہے ،جناب امام محمد باقر (علیہ السلام) نے فرمایا مامن عبد اذ نب ذنبا فندم علیہ الا غفر اللہ لہ قبل ان یستغفر(کافی جلد ۲ص۲۲۷)کوئی بندہ کسی قسم کا گناہ کرے اس کے بعد(دل سے ) پشیمان ہوتا ہے و خداوند رحیم اس سے پہلے کہ وہ (زبان سے)اپنے گناہ کی مغفرت طلب کرے اسے معاف کر دیتا ہے ۔پس معلوم ہوا گناہ سے پشیمانی ہی توبہ کی حقیقت ہے۔اور یہ کہ وہ محسوس کرے خدائے عزوجل کے نزدیک بہت بری چیز اس کی نافرمانی ہے جس سے وہ ناراض ہو تا ہے ۔اس طرح کے احساس رکھنے والا حساس انسان اس غلام کی مانند ہے جو اپنے مولا کی مرضی کے خلاف کوئی عمل اس غفلت میں انجام دیتا ہے کہ اس کامولا اس کا جرم نہیں دیکھ رہا لیکن وہ پوشیدہ طور سے تاک میں اچھی طرح دیکھ رہا تھا بعد میں یہ حالت غلام کو معلوم ہوتی ہے تو وہ دل سے سخت پچھتانے لگتا ہے اور زبان سے معذرت چاہتا ہے۔یا پھر اس تاجر کی مانند ہے جو اپنے کسی دانا دوست کے منع کرنے کے باوجود (کوئی)لین دین کرے اور اس میں اپنے تمام سرمائے سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔اور کافی مقدار میں قرضے بھی چڑھائے۔اس صورت میں وہ اس لین دین سے کس قدر پریشان اور حد درجہ پشیمان ہوگا۔

مزید وضاحت کے لئے ایسے شخص کی مثال بھی پیش کی جاسکتی ہے جسے طبیب نے کوئی خاص غذا کھانے سے منع کیا ہو لیکن وہ جان بوجھ کر کھائے اور بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد اس پر پچھتائے لیکن خداوند کریم کے حضور میں دل سے پشیمانی کافی ہے چنانچہ امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں کفی باالندم توبة توبہ کے لئے یہ کافی ہے کہ بندہ اپنے کئے پر نادم ہو۔

پشیمانی گناہ ترک کرنے کا سبب ہے

اس میں شک نہیں کہ پروردگار عالم، روزجزا اور جو کچھ انبیاء کرام و آئمہ طاہرین صلوات اللہ علیہم اجمعین نے احکام خدا ہم تک پہنچائے ہیں ان پر جس قدر ایمان اور یقین کا درجہ بلند ہو گا اسی حساب سے پشیمانی کا احساس بھی سخت ہو گا۔چنانچہ گناہ پر ندامت اور تاسف کا لازمہ یہ ہے کہ اس گناہ کو آئندہ ترک کرنے کا پختہ عزم کرے ۔اگر ایسا ارادنہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ در حقیقت وہ اس گناہ سے پشیمان نہیں ہوا۔

حضرت امیر المومنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں ان الندم علی الشر یدعو الی ترکہ(وسائل الشیعہ ج۱۱ص۳۴۹) اس میں شک نہیں کہ کسی گناہ پر شرمندگی اس کے ترک کا سبب بن جاتا ہے۔

نیز گناہ سے پشیمانی اور اظہار افسوس کا لازمہ یہ ہے کہ وہ آئندہ اس گناہ کے تدارک کے لئے اس طرح کوشش کرے کہ اگر گناہ حق اللہ میں سے ہو مثلاً نماز ،روزہ حج یا زکوٰة کو تر کر دیا ہو تو اس کا قضا بجالائے اگر حق الناس میں سے اگر مالی حق اس کے ذمہ واجب الادا ہو تو صاحب مال کو واپس کر دے اگر مالک مرچکا ہو تو اس کے وارثوں کو واپش کرے۔اگر وارثوں کو نہیں پہچانتا تو ان کی طرف سے صدقہ دے۔

اگر حق الناس عرضی( عزت و ناموس) سے متعلق ہو تو اسے بخشوانے اور اپنے آپ سے راضی کرے۔اگر حق قصاص یا دیت لی جاسکے یا معاف کر دی جائے۔اگر حق حد جیسا ہو مثلاًقذف تو لازم ہے کہ خود کو صاحب حق کے حوالے کرے تا کہ اس پر حد جاری ہو۔یا معافی حاصل کرلی جائے۔

لیکن اگر ایسے گناہ کا مرتکب ہوا ہو جس کے لئے خداوند عالم نے حد مقرر کر دی ہو جیسے زنا تو اس کے لئے یہ واجب نہیں کہ حاکم شرع کے پاس حد جاری کروانے کے لئے اقدار کیا جائے بلکہ اس کے توبہ کا طریقہ کار یہ ہے کہ اپنے گناہ کا مرتکب ہواہو جس کیلئے خداوند عالم نے حد مقرر کر دی ہو جیسے زنا تو اس کے لئے یہ واجب نہیں کہ حاکم شرع کے پاس حد جاری کروانے کے لئے اقدار کیا جائے بلکہ اس کے توبہ کا طریقہ کار یہ ہے کہ اپنے گناہ پر ندامت آئندہ نہ کرنے کا عزم اور باربار استغفار کرتے رہنا ہی کافی ہے ۔اسی طرح وہ گناہان کبیرہ جن کے لئے حد مقرر نہیں کی گئی جیسے غنا اور موسیقی سننا اور غیبت کرنا وغیرہ گناہوں کے لئے بھی ندامت و استغفار ضروری ہے۔اس بات کی توضیح ضروری ہے کہ اگر دنیا میں کسی گنہگار پرحد جاری کر دی جائے تو آخرت میں اس کے لئے قطعا سزا نہیں۔لیکن اگر صرف توبہ کر لی جائے اس صورت میں توبہ کرنے والے کیلئے ضروری ہے کہ قبولی توبہ او عذاب معاف کے متعلق خوف و رجاء کے درمیان غیر یقینی عالم میں طلب عفو کرتا رہے۔

آیات کریمہ اور احادیث کی رو سے پشیمانی کے بعد استغفار کرنا واجب ہے بایں معنی کہ بارگاہ خداوندی میں گناہوں کی مغفرت کے لئے استغفار اور دعا کرتے رہیں۔چنانچہ قرآن مجید میں فرمایا: و استغفروا اللہ ان اللہ غفور رحیم(سورہ بقرہ آیت۹۹۱) اور خدا سے مغفرت کی دعا مانگو بے شک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: لاکبیرة مع الاستغفاراستغفار کے بعد کوئی گناہ کبیرہ باقی نہیں رہتا۔

وقال (صلی اللہ علیہ و آلہ) الذنوب الاستغفارحضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا گناہوں کی بیماری کی دوا ستغفار ہے۔

وعن علی (علیہ السلام) العجب ممن یقنط ومعہ الممحاة قیل وماالممحاة؟قال علیہ السلام الاستغفار(وسائل باب ۸۳ج۱۱ص۳۵۶) جناب علی (علیہ السلام) فرماتے ہیں مجھے تعجب ہے اس شخص سے جو (گناہوں میں زیادہ ملوث ہونے کے بعد ناامیدی کی حالت میں حیران ہے جبکہ) اس کے ساتھ گناہوں کو مٹانے والا آلہ موجود ہے کسی نے عرض کیا مولا مٹانے والا آلہ سے کیا مراد ہے ؟فرمایا گناہوں کو مٹانے والا آلہ توبہ استغفار اور دعا ہے۔

توبہ کاملہ

کسی نے حضرت امیر المومنین (علیہ السلام) کے سامنے کہا۔استغفر اللہ آپ نے فرمایا تیری ماں تیرے ماتم میں روئے۔تمہیں معلوم ہے کہ استغفار کیا ہے؟(اس کا استغفار زبان تک محدود تھا اور دل حقیقت توبہ سے نا آشنا تھا) فرمایا استغفار بلند مقام افراد اور صدر نشین اشخاص کا مرتبہ ہے۔استغفار کے معنی اور اس کی حقیقت سمجھنے کے لئے کچھ چیزیں لازم ہیں۔

۱) گزشتہ بد کرداری سے پشیمانی اور تئاسف۔

۲) ہمیشہ کے لئے گناہ ترک کرنے کا مصمم ارادہ۔

۳) لوگوں کے حقوق اس طرح اداکریں کہ مرتے وقت کسی قسم کا حق اس کے ذمہ نہ ہو اور پاکیزہ حالت میں رحمت خدا سے پیوستہ ہو جائے۔

۴) ہر وہ واجب جسے انجام نہ دیا ہو اسکا تدارک کرے۔

۵) مال حرام سے بدن پر چڑھنے والے گوشت کو غم آخرت سے اس طرح پگھلائے کہ بدن کی کھال ہڈیوں سے متصل ہو جائے اور پھر حلا ل گوشت بدن میں پیدا ہو جائے۔

۶) اپنے جسم کو عبادت کی ورزش و عادت سے اس طرح مزہ چکھائے جس طرح عیاشی اور دن رات گناہ کی لذت سے آشنا کیا تھا۔

جب تم میں یہ چھ صفتیں پیدا ہوں اس وقت تم استغفر اللہ کا ورد پڑھنے کے اہل ہو(وسائل کتاب جہاد باب۸۵ج۱۱ص۳۶۱)

توبہ واجب ہونے کی دلیل اور اسکی فضیلت

علماء کرام کا یہ متفقہ فتویٰ ہے کہ گناہ کبیرہ ہو یا صغیرہ ان میں مرتکب ہونے کے بعد توبہ کرنا واجب ہے اور عقل انسان بھی اس حکم کو تسلیم کرتی ہے ۔چنانچہ محقق طوسی تجرید الکالم میں اور علامہ حلی اعلی اللہ مقامہ اس کی شرح میں فرماتے ہیں کہ توبہ دنیوی اوراخروی ضرر کو دور کرتی ہے اور ہر ضرر اور نقصان کا دفاع کرنا عقلاً واجب ہے اس لئے توبہ عقل کی رو سے واجب ہے۔اس بارے میں خداوند عالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے وتوبوا الی اللہ جمیعا ایھا المومنون لعلکم تفلحون(سورہ نور آیت ۳۱) اور (اے ایماندارو)تم سب کے سب خدا کی بار گاہ میں توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاجاوٴ۔

مزید فرماتا ہے یا ایھا الذین امنوا توبوا الی اللہ توبتة نصوحا عسیٰ ربکم ان یکفر عنکم سیئاتکم(سورہ تحریم آیت ۸) اے ایمانداروخدا کی بارگاہ میں توبہ نصوح (خالص توبہ صرف خدا کی خوشنودی کے لئے )کرو۔امید ہے کہ تمہارا پروردگار تم سے تمہارے گناہ دور کردے۔


source : http://www.islaminurdu.com/chapter.php?chapterID=672
  3486
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      امام علی علیه السلام کی امامت اور خلافت کو کیسے ثابت ...
      مسئلہ فلسطین کے بنیادی فقہی اصول امام خامنہ ای کی نگاہ ...
      سیرت رسول اکرم (ص) میں انسانی عطوفت اور مہربانی کے ...
      ہم امریکہ کی عمر کے آخری ایام سے گذر رہے ہیں: چالمرز ...
      شفاعت کی وضاحت کیجئے؟
      دین اسلام کی خاتمیت کی حقیقت کیا ھے۔ اور جناب سروش کے ...
      کیا تقلید کے ذریعھ اسلام قبول کرنا، خداوند متعال قبول ...
      امام کے معصوم ھونے کی کیا ضرورت ھے اور امام کا معصوم ...
      کیا پیغمبر اکرم (صل الله علیه وآله وسلم) کے تمام الفاظ ...
      عورتوں کے مساجد میں نماز پڑھنے کے بارے میں اسلام کا ...

 
user comment