اردو
Friday 23rd of August 2019
  807
  0
  0

حضرت علی(ع) قرآن كریم کے ہم منصب

آیت اللہ جواد آملی

انھوں نے کہا: حضرت علی علیہ السلام قرآن کریم کے ہم منصب ہے اور دنیا والے تمام کے تمام انسان مل کر یکجا ہوجائیں علی علیہ السلام کی مثال نہیں لاسکیں گے۔

 

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حضرت آیت اللہ العظمی عبداللہ جوادی آملی نے جمعہ کی شام "اسراء بین الاقوامی وحیانی علوم مرکز" کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امیرالمؤمنین علیہ السلام کی شان و منزلت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: عام انسان حتی وصی رسول اللہ (ص) کی شخصیت کے ایک معمولی سے معنوی گوشے کے ادراک سے بھی عاجز ہیں۔

انھوں نے کہا: اب تک بعض محققین نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کی بعض ظاہری حکمتوں اور آپ (ع) کی انفرادی اور سماجی زندگی کے بعض نمونوں، جیسے: ظلم کے خلاف جہاد، عدل و انصاف کے لئے قیام وغیرہ کے بارے میں کتاب لکھ سکے ہیں، لیکن وہ خصوصیات جو امیرالمؤمنین کی شخصیت کو عالم وجود کی یگانہ شخصیت بناتی ہیں، ان نمونوں کے علاوہ ہیں جن کے بعض ذروں کو علامہ حلی جیسے بزرگ علماء کے افکار میں ڈھونڈا جاسکتا ہے۔ 

انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ارشاد گرامی "علی مع الحق و الحق مع علی" (علی حق کے ساتھ ہے اور حق علی کے ساتھ) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اسلام کے مکتب عظیم الشان میں حقیقت کی کسوٹی اور حق کا محور امیرالمؤمنین علیہ السلام کی ذات با برکات ہے اور جو بھی حقیقت کے ادراک کے درپے ہے اس کو سب سے پہلے امام علی علیہ السلام کی ولایت کا ادراک کرنے کی ضرورت ہے۔ 

حضرت آیت‌اللہ جوادی آملی نے کہا: حضرت علی علیہ السلام کا والا مقام قرآن مجید کے برابر ہے اور اگر دنیا کے تمام کے تمام انسان مل کر یکجا ہوجائیں علی علیہ السلام کی مانند ایک فرد بھی نہیں لاسکیں گے۔

انھوں نے کہا کہ جو شخص علوی جینا چاہے اس کو ثقفی نہیں بلکہ غدیری بننا پڑے گا؛ نماز خداوند متعال کی زیارت ہے اور اذان و اقامت زیارت کے لئے داخلے کا راستہ اور اذن دخول ہے لیکن ثقفی نماز و اقامت کو ایک عام انسان (عبداللہ بن زید) کے خواب سے نسبت دیتے ہیں۔ 

حضرت آیت‌اللہ العظمی جوادی آملی نے کہا: شیعیان اہل بیت (ع) کی فکر و عقیدے میں اذان و اقامت کسی انسان کے ہاتھوں کی بنی ہوئی نہیں ہے بلکہ اس کا معلم خداوند متعال، اس کو نازل کرنے والے جبرئیل (ع) اور اس کے متعلم خضرت رسول اللہ (ص) اور وصی رسول اللہ (ص)، یعنی حضرت علی (ع) ہیں۔ 

آیت‌اللہ  العظمی جوادی آملی نے خبردار کیا: ایسا نہ ہو کہ شیعیان اہل بیت رسول (ص)، امیرالمؤمنین علیہ السلام کو دوسروں کے کلام سے پہچان لین اور یہ سب ـ بالخصوص ہم، حوزہ علمیہ کے فضلاء و طلباء ـ کا فرض ہے کہ ائمہ علیہم السلام کے انوار الہیہ کی نسبت معرفت حاصل کریں اور انہیں اپنی جان و روح کی گہرائیوں سے پہچان لیں۔

 

 


source : http://abna.ir/data.asp?lang=6&id=193485
  807
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      امام کاظم علیہ السلام کی مجاہدانہ زندگی کے واقعات کا ...
      امام جواد علیہ السلام اور شیعت کی موجودہ شناخت اور ...
      حدیث "قلم و قرطاس" میں جو آنحضرت{ص} نے فرمایا هے: ...
      حضرت علی (ع ) خلفاء کے ساتھ کیوں تعاون فر ماتے تھے ؟
      شیعه فاطمه کے علاوه پیغمبر کی بیٹیوں سے اس قدر نفرت ...
      کیا عباس بن عبدالمطلب اور ان کے فرزند شیعوں کے عقیده کے ...
      امام محمد باقر علیہ السلام کی حیات طیبہ کے دلنشین گوشے ...
      اگر کسی دن کو یوم مادر کہا جا سکتا ہے تو وہ شہزادی کونین ...
      قرآن مجید کی مثال پیش کرنے کا دعوی کرنے والوں کی حکمیت ...
      فاطمہ، ماں کی خالی جگہ

 
user comment