اردو
Wednesday 27th of March 2019
  825
  0
  0

رابطہ کمیٹی : علمائے کرام اتحاد بین المسلمین کا درس دیں/ ایک دلچسپ یادداشت

کراچی میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارے کی فضاء کے قیام کیلئے متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کی جانب سے مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔اس سلسلے میں گزشتہ روز ممتازمذہبی اسکالر ڈاکٹرجمیل راٹھورکی سربراہ میں خلیفہ ارشادمحمودحبیبی،مولانافداحسین طیّبی،علامہ عبدالحفیظ طیّبی، مولاناسیدمحمدامین الدین پر مشتمل وفد جبکہ مولاناسیداظہرحسین نقوی سربراہ میں جمعیت علماء امامیہ پاکستان کے مولانااکرام حسین ترمذی، مولانا محمدعباس ،مولانا شاہد رضاحسینی، علامہ مر زاحبیب،علامہ ریاض الحسن اورمولانا غلام رضا جعفری پر مشتمل وفدنے خورشید بیگم میموریل ہال عزیزآباد میں رابطہ کمیٹی کے ارکان کنورخالدیونس، سیف یارخان ،توصیف خانزادہ اورا شفاق احمد منگی سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔اس موقع پر ایم کیوایم علماء کمیٹی کے انچارج جاویداحمد ،اراکین انوررضا، ناصر یامین اور منظر مہدی بھی موجودتھے۔مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام نے کراچی میں بے گناہ شہریوں کے قتل اور شہر میں فرقہ وارانہ فسادات کی سازش کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ فرقہ واریت کی آگ بھڑکر مسلمانوں کو آپس میں لڑانے والے انسانیت کے کھلے دشمن ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مذہبی رواداری، فرقہ وارانہ ہم آہنگی ، بھائی چارے کی فضاء کے فروغ اور اتحاد بین المسلمین کیلئے الطاف حسین کا کردار ناقابل فراموش ہے اورتمام مکاتب فکر کے علمائے کرام اس کارخیرمیں ان کے ساتھ ہیں ۔ علمائے کرام نے کراچی میں امن وامان کی فضاء کے قیام اورفرقہ وارانہ فسادات کی سازش کو ناکام بنانے کیلئے ایم کیوایم کو اپنے ہرممکن تعاون کا یقین دلایا۔ رابطہ کمیٹی کے ارکان نے علمائے کرام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں فرقہ وارانہ فسادات کی ساز ش کو ناکام بنانے کیلئے تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام اور عوام کومیدان عمل میں آکر حق پرستانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے علمائے کرام سے اپیل کی کہ وہ اپنے خطبات میں اتحاد بین المسلمین کا درس دیں اورعوام کے مذہبی جذبات بھڑکانے والے سازشی عناصر پر کڑیں نظر رکھیں۔اس موقع پر کراچی میں دہشت گردی کے واقعات میں جاں بحق ہونیو الے تمام افرادکے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔

بشکریہ از روزنامہ جنگ
......

یادداشت

اللہ کے نام سے

بقلم: ف۔ح۔مہدوی


یہ اتحاد بین المسلمین کا موضوع بھی ابھی تک حل نہیں ہوا 
کسی کو نہیں معلوم کہ اتحاد بین المسلمین سے مراد کیا ہے؟
کیا اتحاد بین المسلمین سے مراد یہ ہے کہ سارے شیعہ سنی ہوجائیں؟
کیا اتحاد بین المسلمین سے مراد یہ ہے کہ سارے سنی شیعہ ہوجائیں؟
نہیں بھئی ابھی تک تو ایسی کوئی بات میرے سامنے نہیں آئی
تو پھر اتحاد کی دعوت دینے کا مطلب کیا ہے؟
یہ شیعہ ہی کیوں اتحاد کی دعوت دیتے ہیں؟
یہی وہ سوال ہے کہ سنی برادران کو شک میں ڈال دیتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ شیعہ اپنے عقائد چھپا کر سنیوں سے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ان کا استحصال کرنا چاہتے ہیں!
لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ عددی اعتبار سے ایک چھوٹی جماعت بڑی جماعت کا استحصال کرے؟
اور ہاں! کیا شیعہ سنی بن کر (اور تقیہ کرکے) سنیوں کو اتحاد کی دعوت دیتے ہیں؟
کیا شیعہ عقیدہ امامت، عقیدہ عدل الہی اور عقیدہ عصمت کو ترک کرنے کا اعلان کرکے اتحاد کی دعوت دیتے ہیں؟
نہیں؛ ایسا ہرگز نہیں ہے۔
شیعہ شیعہ بن کر ہی اپنے تمام عقائد کی حقانیت پر یقین رکھتے ہوئے اتحاد کی دعوت دیتے ہیں۔
اگر ایسا ہے تو پھر سنی برادران کیوں نہیں دیکھتے کہ یہ لوگ اتحاد پر اتنا اصرار کیوں کرتے ہیں؟
یہ لوگ فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کرنے والے دہشت گردوں کے ہاتھون قتل ہونے والے عزیزوں کی لاشیں اٹھا کر ہی اتحاد بین المسلمین کا نعرہ کیوں لگاتے ہیں؟
اس لئے نہیں کہ وہ کسی کا استحصال کرنا چاہتے ہیں بلکہ اس لئے کہ انھوں نے دشمن کو پہچان لیا ہے۔
شیعہ جان چکے ہیں کہ دشمن بنیادی طور پر لا الہ اللہ محمد رسول اللہ (ص) کا دشمن ہے اور اس کی مثال رسول اللہ اور قرآن مجید کی مسلسل توہین ہے جو آئے روز مغربی دنیا میں ہورہی ہے۔ 
شیعہ سمجھ گیا ہے کہ دشمن کو کسی بھی مکتب سے کوئی سروکار نہیں ہے نہ ہی اس کے لئے کسی مذہب کی کوئی اہمیت ہے۔
 وہ تو کعبہ کو بھی ڈھانا چاہتا ہے، وہ کعبہ پر بمباری کی تجاویز پیش کررہا ہے۔ اس نے قبلۂ اول پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔
میرا خیال ہے کہ اگر کوئی اس بھیانک حقیقت کا ادراک کرسکے کہ "قبلۂ اول پر دشمن کا قبضہ ہوچکا ہے اور اس قبضے کو کئی عشرے گذر چکے ہیں" تو وہ اتحاد کا مقصد بھی سمجھ ہی لے گا لیکن کب؟
معلوم نہیں 
یا پھر اس وقت ہی سمجھنا آسانا ہوجائے گا جب دشمن ان سب کے گھروں کے دروازون پر تعینات ہوگا اور سانس کی اجازت بھی ان ہی سے لینے کی ضرورت ہوگی جیسا کہ عراق اور افغانستان میں ہم دیکھ رہے ہیں۔
لیکن کیا ان سب مسائل کا سامنا کرنے سے پہلے ہی اس حقیقت یعنی "ضرورت وحدت مسلمین" کو جاننے کی کوشش کرنے سے کسی نقصان کا خدشہ ہے؟
حتی اگر کوئی بچہ آپ سے کہہ دے کہ باہر مت نکلنا کیونکہ وہاں ایک درندہ جانور یا درندہ صفت انسان بندوق ہاتھ میں لئے آپ کا انتظار کررہا ہے تو کیا ایک بار دیکھ کر باہر جانے کی کوشش نہیں کریں گے؟ 
اگر ہاں تو 
یہی عقل کا تقاضا ہے اور اگر نہیں 
تو آپ سے بات کرنا ہی فضول ہے۔

ایک اور یادداشت:

۔ شیعہ ہی وحدت اسلامی کے داعی !


source : http://www.abna.ir/data.asp?lang=6&id=192374
  825
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      خلیج فارس کی عرب ریاستوں میں عید الاضحی منائی جارہی ہے
      پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش اور بعض دیگر اسلامی ...
      پاکستان کی نئی حکومت: امیدیں اور مسائل
      ایرانی ڈاکٹروں نے کیا فلسطینی بیماروں کا مفت علاج+ ...
      حزب اللہ کا بے سر شہید پانچ سال بعد آغوش مادر میں+تصاویر
      امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے امام خمینی نے بھی منع کیا ...
      کابل میں عید الفطر کے موقع پر صدر اشرف غنی کا خطاب
      ایرانی ڈاکٹروں کی کراچی میں جگر کی کامیاب پیوندکاری
      شیطان بزرگ جتنا بھی سرمایہ خرچ کرے اس علاقے میں اپنے ...
      رہبر انقلاب اسلامی سے ایرانی حکام اور اسلامی ممالک کے ...

 
user comment