اردو
Tuesday 26th of March 2019
  806
  0
  0

مسجد حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی شہادت پر سعودی حکمرانوں کو آیت اللہ العظمی سبحانی کا انتباہ

آیت اللہ العظمی سبحانی نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ مدینہ کی میونسپلٹی نے اعلانیہ طور پر شرع، تاریخ اور عرف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسجد فاطمۃالزہراء سلام اللہ علیہا کو شہید کرکے اس کو حدیقۃالفتح نامی پارک میں شامل کردیا ہے اور اسلامی آثار اور نام اہل بیت (ع) کو فراموش کروانے کی راہ میں ایک نیا قدم اٹھایا ہے۔

اشارہ: آیت اللہ العظمی شیخ جعفر سبحانی فقہ و اصول کے درس خارج اور فلسفہ و کلام کے استاد، عظیم مؤرخ اور تاریخ کے منفرد تجزیہ نگار اور متعدد کتب کے مؤلف اور نہایت عالمانہ انداز میں علمی مناظروں کے ماہر سمجھے جاتے ہیں اور سعودی عرب میں متعدد مناظروں میں مخالفین کو زبردست شکست سے دوچار کرنے کے بعد انہیں سعودی عرب میں ممنوع الدخول قرار دیا گیا ہے کیونکہ وہابی علماء کی دانش ان کا مقابلہ کرنے کے لئے کافی نہیں تھی۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آیت اللہ العظمی سبحانی کے پیغام کا متن درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

دنیا کی زندہ قومیں اور ترقی یافتہ معاشرے اپنی تاریخ کے تحفظ اور ملی و تاریخی آثار کو جمع کرنے کا اہتمام کرتے ہیں اور حادثات کی گزند سے اسلاف سے باقیماندہ آثار کو کی پاسداری کرتے ہیں۔ وہ اپنے بزرگوں کی میراث ـ جو ان کی پرانی تہذیب کی علامت ہے ـ کی تحفظ کے لئے ادارے تشکیل دیتے ہیں اور ماہر ترین افراد کو ان اداروں کا انتظام سونپ دیتے ہیں اور حتی مٹی کا کوئی پرانا برتن، کوئی ایک پرانا کتبہ یا حتی پرانے قلعے کی کوئی اینٹ کو نابود نہیں ہونے دیتے کیونکہ ان کا عقیدہ ہی اور یہ عقیدہ درست بھی ہے کہ آثار قدیمہ ان کی "مجسم تاریخ" اور ان کا "تاریخی شناخت نامہ" ہیں اور جو قوم اپنے اجداد اور بزرگوں سے اپنا پیوند توڑ دیتی ہے اس کی مثال ماں باپ کھونے والے طفل کی مانند ہے۔ 
اسلامی تہذیب پائیدار اور عظیم تہذیب ہے جو قرون وسطی میں بھی اکلوتی ترقی پسند انسانی تہذیب سمجھی جاتی تھی۔ مسلمانوں نے اپنی آسمانی تعلیمات کی روشنی میں ایک عظیم اور بے مثل و منفرد تہذیب کی بنیاد رکھی جو چوتھی اور پانچویں صدی ہجری میں اپنے عروج تک پہنچی اور ہندوستان میں تاج محل اور ہسپانیا میں متعدد تاریخی و تہذیبی مقامات کی گواہی کے مطابق اسلامی تہذیب نے مغرب سے مشرق تک کو مسخر کیا اور متعدد مغربی محققین نے اعتراف کیا ہے کہ اندلس اور صلیبی جنگوں کے ذریعے اسی اسلامی تہذیب کے یورپ میں وارد ہونے کی وجہ سے ہی یورپ کو ترقی ملی اور حالیہ صدیوں (چودھویں صدی سے سترھویں تک) میں نشاط ثانیہ (Renaissance) کا باعث ہوئی۔ 
اسلامی تہذیب کا آغاز رسول اللہ صلیاللہ علیہ و آلہ و سلم کی بعثت (سے ہی نہیں بلکہ آپ (ص) کی ولادت) سے ہوا اور آپ (ص) کے بعد آپ (ص) کے پیروکاروں نے متعدد صدیوں کے دوران وسیع اور استوار ہوئی۔ پیغمبر (ص) کی ذات اقدس اور آپ (ص) کے وفادار اصحاب سے تعلق رکھنے والے آثار اس عظیم تہذیب کی عمومی میراث ہیں اور یہ آثار کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہیں کہ جس طرح کہ وہ چاہیں انہیں بروئے کار لائیں۔ ان کا تعلق عالم اسلام (سے ہی نہیں بلکہ عالم انسانیت) سے ہے چنانچہ کوئی بھی مقامی حکومت عالم اسلام کی رائے عامہ معلوم کئے بغیر اس گرانقدر میراث میں تصرف کرنے اور عقیدہ توحید کے تحفظ! کے نام پر اس ورثے کو محو اور نیست و نابود کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔  
ہمیں معلوم ہوا کہ مدینہ منورہ کی میونسپلٹی نے شرع، تاریخ اور عرف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسجد فاطمۃالزہراء سلام اللہ علیہا کو شہید کرکے پارک میں شامل کردیا ہے اور اسلامی آثار اور اہل بیت (ع) کا و نام و نشان اسلامی تاریخ کے حافظے سے مٹادینے کی جانب ایک اور خطرناک قدم اٹھایا ہے۔ 
جس احاطے میں اس سے قبل مسجد فاطمۃالزہراء سلام اللہ علیہا واقع تھی، وہ احاطہ مساجد سبعہ (سات مساجد) میں سے ایک مسجد کی حیثیت سے زائرین اور حجاج کرام کی زیارت گاہ تھا جو اس وقت مدینہ کی بلدیہ کے توسط سے سیروتفریح کی غرض سے پارک میں تبدیل کردیا گیا ہے اور اس کا نام حدیقۃالفتح رکھا گیا ہے۔ اور یوں مسجد سیدہ فاطمہ (س) پارک میں شامل کردی گئی ہے۔  
مساجد سبعہ کی تاریخ کا تعلق صدر اول سے ہے۔ مدینہ کے شمال مغرب میں "سلع" کے نام سے ایک کوہستانی سلسلہ واقع ہے جہاں سنہ پانج ہجری کو جنگ خندق لڑی گئی۔ اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ اس پہاڑ کے اوپر سے دشمن کی سپاہ کی نقل و حرکت کا مشاہدہ کرتے رہے تھے اور نماز بھی یہیں ادا کیا کرتے تھے۔ 
بعد میں ان کی نماز کے مقامات پر چھ مساجد بنائی گئیں جن کی تعداد مسجد فتح کے ساتھ سات بنتی تھی چنانچہ انہیں مساجد سبعہ کا نام دیا گیا۔ 
وہابیت کی بنیاد ہی اسلامی آثار کی ویرانی اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور اصحاب و اہل بیت علیہم السلام سے منسوب کسی بھی اثر کو نیست و نابود کرنے پر استوار ہے اور وہ یہ کام تدریجی طور پر آگے بڑھا رہے ہیں تا کہ وہابیوں کے ان کرتوتوں کو کسی بھی عالمی رد عمل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مثال کے طور پر انہوں نے ابتدائی طور پر سنہ 1419 ہجری کو مسجد سیدہ فاطمہ (س) کا دروازہ کنکریٹ کے ذریعے بند کیا یہاں تک یہ مسجد ویرانے میں تبدیل ہوئی اور حال ہی میں زمین کی سطح سے محو ہوکر غائب ہوگئی اور اس کا احاطہ پارک میں شامل کیا گیا۔ 
یہ سات مسجدین صدیوں سے برقرار تھیں جو رسول اللہ (ص) کے اصحاب و اہل بیت (ع) کے ناموں پر تعمیر کی گئی تھی تا کہ ان کا نام و نشان اس مقام پر باقی رہے لیکن اب ایک ایسی مسجد جو صدیوں سے مسلمانوں کی عبادتگاہ تھی، کس بنا پر شہید کی گئی ہے؟ کیا وہابیوں نے مسجد کو ویران کرکے توحید کی خدمت کی ہے؟
اگر زائرین اس مسجد میں دوسری مساجد کی مانند دو رکعت نماز بجالاتے تھے تو وہ ان کا یہ عمل مستحب عمل تھا کیونکہ اسلام کا حکم ہے کہ جس مسجد میں بھی داخل ہوتے ہو اس مسجد دو رکعت نماز تحیّت بجا لاؤ۔ اور اگر عشق و محبت سے سرشار زائرین مساجد سبعہ کی طرف جاتے ہیں تا کہ وہاں مشرکین اور ان کے یہودی حلیفوں کے مد مقابل ڈٹنے والے مسلم دلیروں کے مقام کی زیارت کریں، ان کا مقصد یہ ہے کہ جنگ احزاب کے اصلی مقام کو قریب سے دیکھنا چاہتے ہیں اور اس جنگ کے دلیر شہیدوں کو فاتحہ اور درود و سلام کا تحفہ بھیجنا چاہتے ہیں؛ ان کا یہ عمل ان یکتاپرستوں کو خراج تحسین و عقیدت پیش کرنا ہے جنہوں نے اپنے خون کا نذرانہ دے کر پرچم توحید کی حفاظت کی ہے۔
عجیب ہے کہ سعودی عرب نامی ملک میں (قرآن کی گواہی کے مطابق) سابقہ (مغضوب) قوموں ـ جیسے عاد و ثمود اور اعراب بائدہ کے آثار کو زمین میں کھدائیاں کرکے باہر نکالا جارہا ہے تا کہ توحید اور خدا پرستی کے دعویدار سعودی حکمران ان آثار پر فخر و مباہات کا اظہار کرسکیں لیکن رسول اللہ (ص) اور خاندان رسول اللہ (ص) کے آثار کو مٹا رہے ہیں!! 
ان دو متضاد اعمال کا مطلب کیا ہوسکتا ہے؟ کیا صحابہ اور تابعین سے باقی ماندہ اسلامی آثار کا تحفظ شرک ہے لیکن اللہ کے غضب میں مبتلا ہونے والی مشرک اور مجرم قوموں کے آثار کی تلاش تہذیب و توحید ہے؟؟؟
ہاں سعودی حکمران اسلامی تاریخ کے اس حصے کا بھی تحفظ کررہے ہیں جن کا تعلق قوم یہود سے ہے؛ خیبر کے سات قلعے محفوظ ہیں اور سعودی حکمران ان کے تحفظ کے لئے اخراجات برداشت کرتے ہیں!!
آخر میں اس بات کی یادآوری کرنا چاہوں گا کہ جزیرہ نمائے عرب میں واقع تمام اسلامی آثار کا تعلق دنیا کے تمام مسلمانوں سے ہے اور فکری و مکتبی لحاظ سے دیگر مسلمانوں سے اختلاف رکھنے والا ایک چھوٹا سا گروہ ـ جو اس سرزمین پر مسلط ہے ـ کو ہرگز یہ حق نہیں پہنچتا کہ ان آثار کے بارے میں کوئی فیصلہ کریں اور انہیں نیست و نابود کرے تا کہ کچھ صدیاں گذرنے کے بعد تاریخ اسلام ایک افسانے میں تبدیل ہوجائے جس کا کوئی بھی محسوس و ملموس اثر روئے زمین پر نظر نہیں آئے گا۔

جعفر سبحاني
6/10/2010


source : http://abna.ir/data.asp?lang=6&Id=191831
  806
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      خلیج فارس کی عرب ریاستوں میں عید الاضحی منائی جارہی ہے
      پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش اور بعض دیگر اسلامی ...
      پاکستان کی نئی حکومت: امیدیں اور مسائل
      ایرانی ڈاکٹروں نے کیا فلسطینی بیماروں کا مفت علاج+ ...
      حزب اللہ کا بے سر شہید پانچ سال بعد آغوش مادر میں+تصاویر
      امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے امام خمینی نے بھی منع کیا ...
      کابل میں عید الفطر کے موقع پر صدر اشرف غنی کا خطاب
      ایرانی ڈاکٹروں کی کراچی میں جگر کی کامیاب پیوندکاری
      شیطان بزرگ جتنا بھی سرمایہ خرچ کرے اس علاقے میں اپنے ...
      رہبر انقلاب اسلامی سے ایرانی حکام اور اسلامی ممالک کے ...

 
user comment