اردو
Tuesday 19th of March 2019
  791
  0
  0

اس بار جامعہ کراچی میں؛ امریکی تفکرات کے لئے جوتے کا تحفہ

ایک شاگرد نے عراقی صحافی منتظر زیدی کی روش سے استفادہ کرتے ہوئے مغرب نواز استاد کو سبق دیا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق جامعہ کراچی کا استاد مغربی دنیا کی تعریف اور اسلامی انقلاب کی مخالفت میں لیکچر دے رہا تھا جب کلاس میں موجود ایک طالبعلم نے اس کی طرف جوتا روانہ کرکے اس کے لیکچر کی مخالفت کا اعلان کردیا.

یہ واقعہ جمعرات آٹھ اکتوبر 2009 کو جامعہ کراچی کے بین الاقوامی تعلقات کے شعبے میں پیش آیا. نام نہاد استاد نے سب سے پہلے پاکستان کے نظام حکومت کی زبردست بے حرمتی کی اور اسلامی جمہوریہ ایران کی بھی توہین کردی اور کہا کہ ایران میں اسلامی انقلاب کا سبب محض یہ تھا کہ وہاں کے عوام شاہنشاہی نظام سے اکتا گئے تھے.

مذکورہ استاد نے اسلامی انقلاب کی تاریخ میں تحریف کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی اسلام کا بہانہ بنا کر شاہنشاہی نظام کی خلاف اٹھ کھڑے ہوئے.

مذکورہ استاد نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے اور اسلامی اصولوں کا مذاق اڑاتے ہوئے خواتین کے لئے اسلامی لباس اور حجاب (پردے) کو بھی توہین کا نشانہ بنایا اور امریکہ نوازی کا بھرپور اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت آزادی صرف امریکہ جیسے ممالک میں دیکھنے کو ملتی ہے.

اس رپورٹ کے مطابق استاد کی تقریر کی وجہ سے اکثر طالبعلم غضبناک تھے مگر ان میں سے ایک شیعہ طالبعلم نے اٹھ کر منتظر الزیدی کی روش سے استفادہ کرتے ہوئے اپنا جوتا استاد کی طرف پھینکا جس کے بعد کلاس میں موجود سارے طالبعلموں نے احتجاجاً کلاس روم کو ترک کردیا اور استاد کو تنہا چھوڑا.

یادرہے کہ اس قضیئے کے بعد امامیہ اسٹودنٹس آرگنائزیشن اور اسلامی جمعیت طلبہ نے اپنی جامعہ کے غیور طالبعلم کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ہتک و توہین کرنے والے استاد کے موقف کی مذمت کی.

ابنا کی بات:

اعتراض کے لئے جوتا پھینکنے کے سوا بھی کئی روشیں ہوسکتی ہیں لیکن درس و تدریس کا تقاضا یہ ہی کہ استاد کو واقعی استاد بن کر پڑھانا چاہئے جبکہ جامعات کے طالبعلم پڑھے لکھے ہوتے ہیں اور کوئی بھی استاد کوئی غلط بات انہیں منوانے کی کوشش کرے گا تو اس کو رد عمل کی بھی توقع کرنی چاہئے اور کسی نوجوان طالبعلم کا رد عمل یقینا جذباتیت پر مبنی ہوسکتا ہے.

تا ہم اہم بات یہ ہے کہ اسلام پر حرف آئے تو ذاتی اور جماعتی اختلافات کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا. یہ وہ سبق تھا جو اس واقعے کے بعد ملا جب امامیہ اسٹودنٹس آرگنائزیشن اور اسلامی جمعیت طلبہ نے اپنے اختلافات بھلا کر مشترکہ مقصد کے لئے اتخاد کا مظاہرہ کیا اور یہ سبق ہم سب کے لئے سیکھنا ضروری ہے کیونکہ اس وقت پوری دنیا میں ان تمام مقدسات کے ہر روز توہین اور بے حرمتی ہوتی ہے جو تمام اسلامی مکاتب اور اہالیان قبلہ کے لئے مقدس ہیں؛ توہین رسالت و قرآن آج مغربیوں کے لئے چاکلیٹ کی حیثیت رکھتی ہے، مسجد الاقصی یعنی مسلمانوں کا قبلۂ اول منہدم کرنے کی سازشیں ہورہی ہیں؛ اسلامی ممالک پر سامراج کا قبضہ ہے اور پاکستان پر بھی عملی طور پر امریکیوں کا تسلط  بڑھ رہا ہے جو اس ملک کی محفوظ ترین مقام جی ایج کیو تک پر دہشت گرد حملے کرواتے ہیں؛ اور ہم؟؟ اور ہم بھی ذمہ دار ہیں؛ ہمارے بھی فرائض ہیں اور ہم سب کے لئے کراچی یونیورسٹی کی دو مختلف العقیدہ طلبہ تنظیموں نے ایک ہدف کے لئے متحد ہوکر پیغام دیا ہے کہ اسلام پر حرف آئے تو ذاتی اور جماعتی اختلافات کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا اور اس وقت اسلام کے لئے ذاتی، جماعتی اور مسلکی اختلافات کی قریانی دینے اور متحد ہونے کی ضرورت ہے ورنہ کل بہت دیر ہوگی.

ایک صارف کا پیغام:

مذکورہ پروفیسر ایک امریکی تھنک ٹینک کا رکن ہے.


source : http://www.abna.ir/data.asp?lang=6&Id=169082
  791
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      خلیج فارس کی عرب ریاستوں میں عید الاضحی منائی جارہی ہے
      پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش اور بعض دیگر اسلامی ...
      پاکستان کی نئی حکومت: امیدیں اور مسائل
      ایرانی ڈاکٹروں نے کیا فلسطینی بیماروں کا مفت علاج+ ...
      حزب اللہ کا بے سر شہید پانچ سال بعد آغوش مادر میں+تصاویر
      امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے امام خمینی نے بھی منع کیا ...
      کابل میں عید الفطر کے موقع پر صدر اشرف غنی کا خطاب
      ایرانی ڈاکٹروں کی کراچی میں جگر کی کامیاب پیوندکاری
      شیطان بزرگ جتنا بھی سرمایہ خرچ کرے اس علاقے میں اپنے ...
      رہبر انقلاب اسلامی سے ایرانی حکام اور اسلامی ممالک کے ...

 
user comment