اردو
Saturday 18th of August 2018

اسلامی اتحاد اور عالم اسلام میں تفرقے کے خطرات

میری تمنا یہ ہے کہ میری زندگی اتحاد بین المسلمین کی راہ میں گزرے اور میری موت بھی مسلمانوں کے اتحاد کی راہ میں واقع ہو"

 

اسلامی اتحاد اور عالم اسلام میں تفرقے کے خطرات

"میری تمنا یہ ہے کہ میری زندگی اتحاد بین المسلمین کی راہ میں گزرے اور میری موت بھی مسلمانوں کے اتحاد کی راہ میں واقع ہو"

امت مسلمہ کا مقام اور توانائیاں

ہمدلی اور باہمی اخوت کے جذبے سے سرشار یہ قومیں جو سیاہ فام، سفید فام اور زرد فام نسلوں پر مشتمل ہیں اور جو درجنوں مختلف زبانوں سے تعلق رکھتی ہیں، سب کی سب خود کو عظیم امت مسلمہ کا جز جانتی اور اس پر فخر کرتی ہیں۔ سب ہر دن ایک ہی مرکز کی سمت رخکرکے بیک آواز اللہ تعالی سے راز و نیاز کرتی ہیں، سب کو ایک ہی آسمانی کتاب سے درس و الہام ملتا ہے۔

یہ عظیم مجموعہ جس کا نام مسلم امہ ہے بے حد قیمتی ثقافت اور با عظمت میراث کے ساتھ اور بے مثال درخشندگی اور بارآوری کے ساتھ، تنوع اور رنگارنگی کے باوجود بڑی حیرت انگیز یکسانیت اور یگانگت سے بہرہ مند ہے جو اسلام کی گیرائی و نفوذ، اس کی خاص اور خالص وحدانیت کے باعث اس (عظیم پیکر) کے تمام اجزا، ستونوں اور پہلوؤں میں نمایاں و جلوہ فگن ہے۔

امت مسلمہ کے پاس اپنے وجود اور اپنے حقوق کے دفاع کے تمام وسائل موجود ہیں۔ مسلمانوں کی آبادی بہت بڑی ہے۔ ان کے پاس عظیم قدرتی دولت ہے۔ ان میں نمایاں ہستیاں اور روحانی سرمائے سے مالامال شخصیات ہیں جو لوگوں میں توسیع پسندوں کے سامنے ڈٹ جانے کا حوصلہ و جذبہ پیدا کرتی ہیں۔ مسلمانوں کے پاس قدیم تہذیب و تمدن ہے جو دنیا میں کم نظیر ہے، ان کے پاس لا محدود وسائل ہیں، بنابریں صلاحیتکے اعتبار سے مسلمان اپنے دفاع پر قادر ہیں۔ عالم اسلام کو آج اپنے عز و وقار کے لئے قدم بڑھانا چاہئے، اپنی خود مختاری کے لئے مجاہدت کرنا چاہئے، اپنے علمی ارتقاء اور روحانی طاقت و توانائی یعنی دین سے تمسک، اللہ کی ذات پر توکل اور نصرت پروردگار پر تیقن کے لئے کوشش کرنا چاہئے۔ " وعداتک لعبادک منجزہ" (اپنے بندوں سے کیا جانے والا تیرا وعدہ بالیقیں پورا ہونے والا ہے، وسائل الشیعہ ج 14 ص 395) یہ وعدہ الہی ہے۔ یہ حتمی وعدہ الہی ہے کہ" ولینصرن اللہ من ینصرہ" (اللہ اس کی مدد کرےگا جو اللہ کی نصرت کرے گا، حج 40) اس وعدے پر یقین کامل کے ساتھ میدان عمل میں قدم رکھیں۔ میدان عمل میں قدم رکھنے سے مراد صرف یہ نہیں کہ بندوق اٹھا لی جائے۔ اس سے مراد فکری عمل ہے، عقلی عمل ہے، علمی عمل ہے، سماجی عمل ہے، سیاسی عمل ہے۔ یہ سب کچھ اللہ تعالی کے لئے اور عالم اسلام کے اتحاد کی راہ میں انجام پائے۔ اس سے قوموں کو بھی فائدہ پہنچے گا اور اسلامی حکومتوں کو بھی ثمرہ حاصل ہوگا۔

اسلامی اتحاد و یکجہتی کا مفہوم

اتحاد کا معنی و مفہوم بہت آسان اور واضح ہے۔ اس سے مراد ہے مسلمان فرقوں کا باہمی تعاون اور آپس میں ٹکراؤ اور تنازعے سے گریز۔ اتحاد بین المسلمین سے مراد یہ ہے کہ ایک دوسرے کی نفی نہ کریں، ایک دوسرے کے خلاف دشمن کی مدد نہ کریں اور نہ آپس میں ایک دوسرے پر ظالمانہ انداز میں تسلط قائم کریں۔

مسلمان قوموں کے درمیان اتحاد کا مفہوم یہ ہے کہ عالم اسلام سے متعلق مسائل کے سلسلے میں ایک ساتھ حرکت کریں، ایک دوسرے کی مددکریں اور ان قوموں کے درمیان پائے جانے والے ایک دوسرے کے سرمائے اور دولت کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔

اتحاد بین المسلمین کا مطلب مختلف فرقوں کا اپنے مخصوص فقہی اور اعتقادی امور سے اعراض اور روگردانی نہیں ہے بلکہ اتحاد بین المسلمین کے دو مفہوم ہیں اور ان دونوں کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے۔ پہلا مفہوم یہ کہ گوناگوں اسلامی مکاتب فکر، جن کے اندر بھی کئی ذیلی فقہی اور اعتقادی فرقے ہوتے ہیں، دشمنان اسلام کے مقابلے میں حقیقی معنی میں آپس میں تعاون اور ایک دوسرے کی اعانت کریں اور ہم خیالی اور ہمدلی برقرار کریں۔

دوسرے یہ کہ مسلمانوں کے مختلف فرقے خود کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوشش کریں، ہم خیالی پیدا کریں، مختلف فقہی مکاتب کا جائزہ لیکر ان کے اشتراکات کی نشاندہی کریں۔ علما و فقہا کے بہت سے فتوے ایسے ہیں جو عالمانہ فقہی بحثوں کے ذریعے اور بہت معمولی سی تبدیلی کے ساتھ دو فرقوں کے ایسے فتوے میں تبدیل ہو سکتے ہیں جو ایک دوسرے کے بہت قریب ہوں۔

اسلامی اتحاد و یکجہتی کے محور

توحید

جب یکتا پرست معاشرے میں کے جس کی نظر میں عالم ہستی کا موجد و مالک، عالم وجود کا سلطان اور وہ حی و قیوم و قاہر کہ دنیا کی تماماشیاء اور ہر جنبش جس کے ارادے اور جس کی قدرت کی مرہون منت ہے، واحد و یکتا ہے تو پھر (اس معاشرے کے انسان) خواہ سیاہ فام ہوں، سفید فام ہوں یا دیگر رنگ والے اور مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے ہوں اور ان کی سماجی صورت حال بھی مختلف ہو، ایک دوسرے کے متعلقین میں ہیں۔ کیونکہ وہ سب اس خدا سے وابستہ ہیں۔ ایک ہی مرکز سے جڑے ہوئے ہیں اور ایک ہی جگہ سے نصرت و مددحاصل کرتے ہیں۔ یہ عقیدہ توحید کا لازمی و فطری نتیجہ ہے۔ اس نقطہ نظر کی رو سے انسان ہی ایک دوسرے سے منسلک اور وابستہ نہیں ہیں بلکہ توحیدی نقطہ نظر تو دنیا کے تمام اجزاء و اشیاء، حیوانات و جمادات، آسمان و زمین، غرضیکہ ہر چیز ایک دوسرے سے وابستہ اور جڑی ہوئي ہے اور ان سب کا بھی انسانوں سے رشتہ و ناطہ ہے۔ بنابریں وہ تمام چیزیں جو انسان دیکھتا اور محسوس کرتا اور جس کا ادراک کرتا ہے وہ ایک مجموعہ، ایک ہی افق اور ایک دنیا ہے جو ایک پر امن اور محفوظ دائرے میں سمائی ہوئی ہے۔

اسلامی شناخت اور تشخص

دنیا کے ہر خطے میں آج مسلمان، خواہ وہ مسلم ممالک ہوں یا ایسی ریاستیں جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں، اسلام کی سمت جھکاؤ اور میلان اور اپنی اسلامی شناخت کی بازیابی کا احساس کر رہے ہیں۔ آج علم اسلام کا روشن خیال طبقہ اشتراکیت اور مغربی مکاتب سے بد دل ہوکر اسلام کی سمت بڑھ رہا ہے اور عالم انسانیت کے درد و الم کی دوا کے لئے اسلام کا دامن تھام رہا ہے اور اس سے راہ حل چاہ رہا ہے۔ آج مسلم امہ میں اسلام کی جانب ایسی رغبت پیدا ہوئی ہے جو گزشہ کئی صدیوں میں دیکھنے میں نہیں آئی۔ اسلامی ممالک پر کئی عشروں تک مغربی اور مشرقی بلاکوں کے گہرے سیاسی و ثقافتی تسلط کے بعد اب عالم اسلام کے نوجوانوں کی فکروں کا افق اور نگاہوں کا مرکز اسلام بن گيا ہے۔ یہ ایک سچائی ہے۔ خود مغرب والے اور دنیا کی سامراجی طاقتیں بھی اس کی معترف ہیں۔ اکابرین سامراج کے لئے جو چیز سوہان روح بنی ہوئی ہے وہ مسلمانوں کا اسلامی تشخص اور یہ احساس ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔ یہ چیز مسلمانوں کو متحد کرتی اور ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔

دین اسلام

اسلام بھی اس کا باعث ہے کہ امت مسلمہ کے اندر ایک دوسرے سے رابطے اور تعلق کا احساس پیدا ہو اور یہ ایک ارب اور کئی کروڑ کی آبادی عالم اسلام کے مختلف مسائل میں اپنا کردار ادا کرے۔

مقدس دین اسلام میں اتحاد ایک بنیادی اصول کا درجہ رکھتا ہے۔ ذات اقدس باری تعالی سے لیکر کہ جو وحدت و یکتائی کی بنیاد اور حقیقی مظہر ہے، اس وحدت کے جملہ آثار تک آپ دیکھئے پورے عالم وجود کی توجہ اسی عظیم و ارفع مرکز کی جانب مرکوز ہے، "کل الیناراجعون" (سب ہماری جانب ہی لوٹنے والے ہیں، انبیاء 93) سب کے سب اسی ذات الہی کی جانب حرکت کر رہے ہیں۔ " و الی اللہ المصیر" (سب کی واپسی اسی کی جانب ہے، نور42) اتحاد، اسلام اور اعتصام بحبل اللہ کی اساس پر قائم ہونا چاہئے توہمات اور بے معنی قومیتی تعصب کی بنیاد پر نہیں۔ امت مسلمہ کا دار و مدار اسی پر ہے۔ اتحاد، اسلام کی حاکمیت کے لئے ہونا چاہئے ورنہ بصورت دیگر وہ عبث اور بے معنی ہوگا۔

قرآن

قرآن کریم نے مسلمانوں کو اتحاد کی دعوت دی ہے۔ قرآن نے مسلمانوں کو انتباہ بھی دیا ہے کہ اگر انہوں نے اپنے اتحاد و یکجہتی کو گنوایا تو ان کی عزت و آبرو، شناخت و تشخص اور طاقت و توانائی سب کچھ مٹ جائے گا۔ آج بد قسمتی سے عالم اسلام میں مشکلات سامنے کھڑی ہیں۔ آج اسلام کے خلاف جو سازش کی جا رہی ہے وہ بہت گہری سازش ہے۔ موجودہ حالات میں اگر اسلام کے خلاف منظم سازشیں مزید شدت و سرعت کے ساتھ جاری ہیں تو اس کی وجہ امت مسلمہ میں آنے والی وہ بیداری ہے جسے دیکھ کر دشمنوں پر خوف طاری ہو گیا ہے۔ عالمی استکبار، اسلامی ممالک میں موجود لالچی عناصر، اسلامی حکومتوں اور ملکوں میں مداخلت کرنے والے، امت مسلمہ کے اتحاد سے مضطرب ہیں۔

اسلام میں خطاب " یا ایھا الذین آمنوا"( اے ایمان لانے والو!) کے ذریعے کیا گيا ہے۔ " یا ایھا الذین تشیعوا" (اے اہل تشیعہ) یا " یا ایھا الذین تسننوا" (اے اہل تسنن) کہہ کر مخاطب نہیں کیا گیا ہے۔ خطاب تمام اہل ایمان سے کیا گیا ہے۔ کس چیز پر ایمان رکھنے والے؟ قرآن پر ایمان رکھنے والے، اسلام پر ایمان رکھنے والے، پیغمبر پر ایمان رکھنے والے۔ ہر شخص کا اپنا الگ عقیدہ بھی ہے جو دوسرے افراد سے مختلف ہے۔ جب ارشاد ہوا کہ " و اعتصموا بحبل اللہ جمیعا و لا تفرقوا" (اور سب کے سب ایک ساتھ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو، آل عمران 103) تو مخاطب تمام مومنین کو قرار دیا گیا ہے۔ مومنین کے کسی مخصوص گروہ کو مخاطب قرار نہیں دیا گیا۔ جب ارشاد ہوا کہ " و ان طائفتان من المومنین اقتتلوا فاصلحوا بینھما" (اگر مومنین کے دو گروہوں می‍ں جنگ ہو جائے تو ان کے درمیان مصالحت و مفاہمت کروائیے، حجرات9) تمام مومنین کو مخاطب بنایا گيا ہے، کسی مخصوص گروہ کو نہیں۔ اسلام ان بنیادی کاموں کے ذریعے مذہبی تعصب اور تنازعے کو پائیدار بنیادوں پر ختم کر سکتا ہے جس سے تمام انسانیت دوچار ہے۔

قرآن کہتا ہے کہ " و اعتصموا بحبل اللہ جمیعا و لا تفرقوا" اعتصام بحبل اللہ، اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنا ہر مسلمان کا فرض ہے،لیکن قرآن نے اتنے پر ہی اکتفا نہیں کیا کہ ہر مسلمان اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لے بلکہ حکم دیتا ہے کہ تمام مسلمان اجتماعی شکل میں اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑیں۔ "جمیعا" یعنی سب کے سب ایک ساتھ مضبوطی سے پکڑیں۔ چنانچہ یہ اجتماعیت اور یہ معیت دوسرا اہم فرض ہے۔ معلوم ہوا کہ مسلمانوں کو اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کے ساتھ ہی ساتھ اس کا بھی خیال رکھنا ہے کہ یہ عمل دوسرے مسلمانوں کے ساتھ اور ایک دوسرے کے شانہ بشانہ اجتماعی طور پر انجام دیا جانا ہے۔ اس اعتصام کی صحیح شناخت حاصل کرکے اس عمل کو انجام دینا چاہئے۔ قرآن کی آیہ کریمہ میں ارشاد ہوتا ہے کہ " فمن یکفر بالطاغوت و یومن باللہ فقد استمسک بالعروۃ الوثقی" (جو طاغوت کی نفی کرتا اور اللہ پر ایمان لاتا ہے بے شک اس نے بہت مضبوط سہارے کو تھام لیا ہے، بقرہ 256) اس میں اعتصام بحبل اللہ کا مطلب سمجھایا گيا ہے۔ اللہ کی رسی سے تمسک اللہ تعالی کی ذات پر ایمان اور طاغوتوں کے انکار کے صورت میں ہونا چاہئے۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم

نبی مکرم و رسول اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا وجود مقدس اہم ترین نقطہ اتحاد ہے۔ ہم پہلے بھی یہ بات عرض کر چکے ہیں کہ عالم اسلام اس نقطے پر آکر ایک دوسرے سے منسلک ہو سکتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جو تمام مسلمانوں کے جذبات کا سنگم ہے۔ یہ عالم اسلام کے عشق و محبت کا قبلہ ہے۔ اب آپ دیکھئے کہ صیہونیوں کے ہاتھوں بکے ہوئے قلم اسی مرکز کو نشانہ بنا رہے ہیں اور اس کی توہین کر رہے ہیں تاکہ امت مسلمہ کی توہین اور عالم اسلام کی تحقیر رفتہ رفتہ ایک عام بات بن جائے۔ یہ بنیادی نقطہ ہے۔ سیاستداں حضرات، علمی شخصیات، مصنفین، شعرا، ہمارے فن کار اس (اتحاد کے) نقطہ پر توجہ دیں اور اسی نعرے کو وسیلہ بنا کر مسلمان خود کو ایک دوسرے کے نزدیک لائیں۔ اختلافی باتوں میں نہ الجھیں، ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشیاں نہ کریں، ایک دوسرے کے خلاف کفر کے فتوے صادر نہ کریں، ایک دوسرے کو دائرہ اسلام سے خارج نہ کریں۔ مسلم امہ کے قلوب ذکر پیغمبر اسلام اور عشق رسول اعظم سے تازگی پاتے ہیں، ہم سب کے سب اس عظیم ہستی کے پروانے اور عاشق ہیں۔

 

اہل بیت پیغمبر علیہم السلام

جو عوامل اتحاد کا محور قرار پا سکتے ہیں اور جن پر تمام مسلمان اتفاق رائے قائم کر سکتے ہیں ان میں ایک اہل بیت پیغمبر علیہم السلام کا اتباع ہے۔ اہل بیت پیغمبر سے تمام مسلمانوں کو عقیدت ہے۔

عالم اسلام اہل بیت سے متعلق دو باتوں کو اپنے اتحاد و اتفاق کا محور قرار دے سکتا ہے۔ ایک ہے محبت جو قلبی اور اعتقادی معاملہ ہے اور تمام مسلمانوں کو اہل بیت اطہار علیہم السلام سے محبت و مودت رکھنے کا حکم دیا گیا ہے اور سب نے اسے قبول بھی کیا ہے۔ بنابریں یہ وہ نقطہ ہے جو تمام مسلمانوں کے احساسات و جذبات کا محور قرار پا سکتا ہے۔ دوسری بات ہے دین کی تعلیم اور معارف و احکام الہی کے معاملے میں قرآن کا شریک کار ہونا جس کی جانب حدیث ثقلین میں اشارہ کیا گيا ہے۔ اس حدیث کو شیعہ سنی اور دوسرے بہت سے اسلامی فرقے نقل کرتے ہیں۔

تاریخ بشریت کی عظیم ہستی

امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے محبت و عقیدت اور تاریخ انسانیت اور تاریخ اسلام کی عظیم ہستی سے عشق و الفت نہ سنیوں سے مختص ہے اور نہ ہی مسلمانوں تک محدود ہے۔ یہ تو وہ چیز ہے جس میں دنیا کے تمام حریت پسند اور آزاد منش انسان مسلمانوں کے ساتھ شریک ہیں۔ ایسی شخصیات جو مسلمان بھی نہیں ہیں اس چہرہ تابناک اور اس خورشید عالم تاب کی بارگاہ میں عقیدت کے پھول نچھاور کرتی ہیں، طبع آزمائی کرتی ہیں۔ لہذا یہ بڑی غلط بات ہوگی کہ عالم اسلام میں امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ذات کو اختلاف کا موضوع بنا دیا جائے۔ یہ وہ با عظمت ذات ہے جس سے تمام مسلمانوں اور تمام اسلامی فرقوں کو دل و جان سے پیار اور عقیدت ہے۔ اس عقیدت و محبت کی وجہ آپ کی وہ اعلی صفات و خصوصیات ہیں کہ ہر با شعور انسان جن کی عظمت کو سلام کرتا ہے۔ تو نقطہ اشتراک اور نقطہ اجتماع یہ ذات ہے۔

سنت و سیرت معصومین علیہم السلام

دلوں کی پاکیزگی اور اتحاد

امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے اپنے فرزندوں حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین علیہما السلام کو جو وصیت فرمائیاس کے دوسرے حصے میں تیسرا اہم نکتہ ہے "صلاح ذات بین" یعنی ایک دوسرے کے ساتھ محبت آمیز برتاؤ رکھیں، ایک دوسرے کی طرف سے دل صاف رکھیں، اتحاد قائم رکھیں اور آپ دونوں کے درمیان اختلاف اور دوری پیدا نہ ہونے پائے۔ آپ نے اس جملے کو بیان کرنے کے ساتھ ہی اسی مناسبت سے ایک حدیث نبوی بھی نقل کی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس مسئلے پر آپ خصوصی تاکید کرنا چاہتے ہیں اور اسسلسلے میں آپ فکر مند ہیں۔ " صلاح ذات بین" کی اہمیت تمام امور کو منظم رکھنے سے ( جس پر حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے خاص تاکید فرمائي ہے) کم نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ " صلاح ذات بین" کے لئے خطرات زیادہ ہیں۔ چنانچہ ایک حدیث نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے تمہارے نانا کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ " صلاح ذات البین افضل من عامۃ الصلاۃ و الصیام"( کافی ج4 ص51 باب صدقات النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) آپس میں بھائي چارہ اور میل محبت اور لوگوں کے درمیان انسیت و الفت ہر نماز و روزے سے بہتر ہے۔ آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ " تمام روزوں اور نمازوں سے بہتر ہے" بلکہ ارشاد فرمایا کہ " ہر نماز اور روزے سے بہتر ہے" یعنی تم اپنے نماز اور روزے کی فکر میں رہنا چاہتے ہو لیکن ایک کام ایسا ہے جو ان دونوں سے افضل ہے۔ وہ کیا ہے؟ وہ " صلاح ذات البین" ہے۔ اگر آپ نے دیکھا کہ امت مسلمہ میں کہیں اختلاف اور شگاف پیدا ہو رہا ہے تو فور آگے بڑھ کر اس خلیج کو ختم کیجئے۔ اس کی فضیلت نماز روزے سے زیادہ ہے۔

برادر دینی اور شریک انسانیت

اسلام کا پیغام اتحاد، تحفظ اور اخوت کا پیغام ہے۔ امیر المومنین علیہ الصلاۃ و السلام کا ایک یادگار جملہ ہے جو تمام انسانوں کے سلسلے میں آپ نے ارشاد فرمایا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ یہ انسان جو تمہارے سامنے ہے یا تمہارا دینی بھائی ہے یا پھر خلقت میں تمہارا شریک ہے، بہرحال وہ بھی ایک انسان ہے۔ تمام انسانوں کو آپس میں متحد اور مہربان رہنا چاہئے۔ یہ چیز کسی ایک گروہ اور ایک دستے سے مخصوص نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ جو افراد دین و عقیدے کے لحاظ سے تم سے مختلف ہیں ان کے ساتھ بھی اچھا سلوک رکھا جائے۔ " ولا ینھاکم اللہ عن اللذین لم یقاتلوکم فی الدین و لم یخرجوکم من دیارکم ان تبروھم و تقسطوا الیھم ان اللہ یحب المقسطین" (اللہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ جنہوں نے دین کے معاملے میں تم سے قتال نہیں کیا اور تمہیں تمہارے گھروں سے باہر نہیں نکالا، نیکی اور بھلائی اور ان کے ساتھ انصاف کرنے سے نہیں روکتا، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے، ممتحنہ 8) یہ ہے اسلامی روش۔ یعنی جو شخص فکری لحاظ سے تم سے الگ ہے اور ایک الگ عقیدہ رکھتا ہے وہ اپنے اس عقیدے کی وجہ سے یہاں ( اس دنیا میں) سزا پانے کامستحق نہیں ہے اور نہ اس کی ذمہ داری تم پر ہے۔ "والحکم اللہ و المعود الیہ القیامۃ" (داور و قاضی خدا ہے اور قیامت اس کی وعدہ گاہ ہے، بحار الانوار ج29 ص485) یہ بھی امیر المومنین علیہ السلام کا کلام ہے۔ آپ کا واسطہ ایسے انسان سے ہے جو تمہارا ہم عقیدہ اور تمہارا بھائی ہے اور اگر ہم عقیدہ نہیں تو خلقت میں تمہارا شریک ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران

دشمن نے اسلامی معاشرے میں شگاف و اختلاف پیدا کرنے کے لئے متعدد حربے آزمائے لیکن آج اسے ایک ایسی بے مثال حقیقت کا سامنا ہے جو تمام مسلمانوں کے اتحاد کا مرکز بن گئی ہے۔ یہ حقیقت ہے "اسلامی جمہوریہ" یہ بلند پرچم اور یہ ہمہ گیر آواز ایک نئی شئ ہے، اس کا آئین، اس کے نعرے اور اس کا عمل اسلام کے مطابق ہے اور فطری طور پر دنیا بھر میں مسلمانوں کے دل اس کے لئے دھڑکتے ہیں۔ آج دنیا میں کوئی بھی خطہ اس سنجیدگی اور دلجمعی کے ساتھ احکام اسلامی کے نفاذ کی خاطر کوشاں نہیں ہے۔ میری مراد قومیں نہیں ہیں، مسلمان قومیں تو خیر ہر جگہ ہی اسلام کے عشق میں غلطاں اور اسلام کی ہر خدمت کے لئے آمادہ ہیں۔ میری مراد وہ پالیسیاں، وہ نظام اور وہحکومتیں ہیں جنہوں نے اپنا کام اسلام کے نام سے شروع تو کیا تھا لیکن جب انہیں عالمی سطح پر حملوں کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے پسپائی اختیار کر لی۔

ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی اور پورے عالم اسلام میں اس نئی فکر کی ترویج کے بعد اس ہمہ گیر اسلامی موج کا مقابلہ کرنے کے لئے سامراج نے ایک حربہ یہ اپنایا کہ اس نے ایک طرف تو ایران کے اسلامی انقلاب کو ایک شیعہ تحریک یعنی ایک عام اسلامی تحریک نہیںایک فرقہ وارانہ تحریک ظاہر کرنے کی کوشش کی اور دوسری طرف شیعہ سنی اختلاف اور شقاق کو ہوا دینے پر توجہ مرکوز کی۔ ہم نے شروع سے ہی اس شیطانی سازش کو محسوس کرتے ہوئے ہمیشہ اسلامی فرقوں کے درمیان اتفاق و یکجہتی پر زور دیا اور یہ کوشش کی ہے کہ اس فنتہ انگیزی کو دبائیں، اللہ کے فضل و کرم سے ہمیں بڑی کامیابیاں بھی ملیں جن میں ایک " تقریب مذاہب اسلامی عالمی کونسل" کی تشکیل ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے اوائل انقلاب سے آج تک مسلمان ممالک کو اتحاد کی دعوت دی ہے۔ ایران نے اسلامی حکومتوں کے ساتھ دوستانہ اور برادرانہ تعلقات قائم کرنے کی اگر بلا وقفہ کوششیں کی ہیں تو اس کی وجہ یہ ہرگز نہیں کہ ایران کی حکومت یا عوام کو اس ہمراہی کی احتیاج اور ضرورت ہے۔ نہیں، یہ کوششیں صرف اس لئے تھیں کہ اس رابطے سے پورے عالم اسلام کو فائدہ پہنچے۔

اسلامی اتحاد و یکجہتی کے ثمرات

مسلمانوں کی فتح و کامرانی اور عزت و وقار

مسلمان قوموں کو چاہئے کہ اپنی طاقت و توانائی کو، جو در حقیقت ان کے ایمان اور اسلامی ممالک کے باہمی اتحاد کی طاقت ہے، پہچانیں اور اس پر تکیہ کریں۔ اسلامی ممالک اگر ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ دیں تو ایک ایسی طاقت معرض وجود میں آ جائے گی کہ دشمن اس کے سامنے کھڑے ہونے کی جرائت نہیں کر پائے گا اور ان ملکوں سے تحکمانہ انداز میں بات نہیں کر سکے گا۔ اگر مسلمان ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیں اور اپنے اندر اپنائیت کا جذبہ پیدا کر لیں، ان کے عقائد میں اختلاف ہو تب بھی وہ دشمن کے آلہ کار نہ بنیں تو عالم اسلام کی سربلندی بالکل یقینی ہوگی۔

قومیں جہاں کہیں بھی میدان عمل میں اتر چکی ہیں، وہ اپنی اس موجودگی کو جاری رکھیں اور اس راہ میں پیش آنے والی مشکلات کو برداشت کریں تو امریکا ہو یا امریکا جیسا کوئی دوسرا ملک ان کے خلاف اپنی منمانی نہیں کر سکیں گے، فتح قوموں کا مقدر ہوگی۔ یہ ایک حقیقت ہے۔ عالم اسلام اگر مسلم امہ کی حرکت کو فتح و کامرانی کی سمت صحیح انداز سے جاری رکھنا چاہتا ہے تو کچھ ذمہ داریاں تو اسے قبول کرنی ہی پڑیں گی۔ ان ذمہ داریوں میں سب سے پہلا نمبر ہے اتحاد کا۔

مشکلات پر غلبہ

اگر مسلمان متحد ہو جائیں، اگر ان میں بیداری آ جائے، اگر وہ اپنی طاقت سے آشنا ہو جائیں، اگر انہیں یقین ہو جائے کہ موجودہ صورت حال کو تبدیل کیا جا سکتا ہے اور اپنی سرنوشت اور اپنے مستقبل کے امور کو ہاتھ میں لیا جا سکتا ہے اور اگر وہ دیکھ لیں کہ عظیم ملت ایران کی مانند بعض قوموں نے کس طرح اپنے مستقبل کو اپنے ہاتھ میں لیا ہے، اگر وہ بڑی طاقتوں کے زیر نگیں نہ رہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ عالم اسلام کی مشکلات کا خاتمہ نہ ہو۔ اس وقت سب سے بنیادی چیز یہی ہے۔

نہ التماس و خوشآمد، نہ سر جھکانا، نہ مذاکرات اور نہ وہ راستے جن کی تجویز بعض لوگوں نے بڑے سادہ لوحانہ انداز میں مسلمانوں کے سامنے پیش کر دی ہے۔ ان میں سے کوئی بھی مسلمانوں کی نجات کا راستہ اور ان کی مشکلات کا حل نہیں ہے۔ راہ حل بس ایک ہے اور وہ ہے اتحاد بین المسلمین، اسلام، اسلامی اصولوں اور اسلامی اقدار پر ثابت قدمی، دباؤ اور مخالفتوں کا مقابلہ اور دراز مدت میں دشمن پر عرصہحیات تنگ کر دینا۔

آج عالم اسلام کے لئے واحد راہ حل اسلام، روحانیت اور اسلامی احکام کی سمت واپسی اور دوسرے اتحاد بین المسلمین ہے، یہ اتحاد بھی اسلام کے احکامات اور تعلیمات کا ہی جز ہے۔ اسلام نے مسلمانوں کے اتحاد اور ان کے درمیان کدورت و بغض و کینے کو راہ نہ دئے جانے پر خاص تاکید کی ہے۔

معاشی اور سیاسی قدرت میں اضافہ

اسلامی ممالک کے درمیان مفادات کا ٹکراؤ نہیں ہے۔ ایک اسلامی اتحاد اور ایک اسلامی بلاک سب کے لئے مفید اور اچھا ہے، کسی مخصوص گروہ کے لئے نہیں۔ عالم اسلام کے بڑے ممالک بھی اسلامی بلاک اور اتحاد سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ چیز سب کے فائدے میں ہے۔ بلا شبہ اگر بوسنیا کے مسلمانوں کو عالم اسلام کی حمایت حاصل نہ ہوتی تو آج یورپ میں بوسنیائی مسلمانوں کا کوئی نام و نشان نہ ہوتا، ان کاصفایا ہو چکا ہوتا۔

موجودہ حالات میں عالم اسلام کے مغربی ترین علاقوں یعنی مغربی افریقہ سے لیکر عالم اسلام کے مشرقی ترین خطوں یعنی مشرقی ایشیا تک کا علاقہ مسلمان نشین علاقہ ہے۔ دنیا کے اہم ترین علاقے مسلمانوں کے پاس ہیں۔ اس کا ایک حصہ تو یہی خلیج فارس ہے، اس علاقے کے قدرتی ذخائر سے اپنی جھولی بھرکر لے جانے کے لئے پوری دنیا صف باندھے کھڑی ہے۔ پوری دنیا کو اس خطے کے تیل کی احتیاج ہے۔ اگر مسلمان آپس میں متحد ہ جائیں تو عالم اسلام کو بہت فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

قیادت و اقتدار

موجودہ دور میں مسلمانوں کو متحد ہونے سے روکنے اور انہیں ایک دوسرے کے خلاف سرگرمیوں میں مصروف رکھنے کے لئے بہت بڑے پیمانے پر کوششیں ہو رہی ہیں۔ یہ کوششیں اب جبکہ مسلمانوں کو ہمیشہ سے زیادہ اتحاد کی ضرورت ہے اور بھی تیز ہو گئی ہیں۔ تقریبا یقینی اندازہ یہ ہے کہ دشمنوں کی ان کوششوں کا مقصد اسلام کے اقتدار اور قائدانہ کردار کی دیرینہ خواہش کو جو عملی طور پر تکمیل کے نزدیک پہنچ گئي ہے پورا نہ ہونے دینا ہے۔ یہ تو فطری بات ہے کہ اگر اسلام کو دنیا میں برتری اور قائدانہ کردار دلانا ہے اور عالم اسلام میں مسلمان اپنے دین سے متمسک ہونے کا ارادہ کر چکے ہیں تو یہ ہدف ان اختلافات کے ساتھ پورا ہونے والا نہیں ہے۔ اسلام کی برتری اور اس کےقائدانہ کردار کا سد باب کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اسلامی معاشروں میں خواہ وہ کوئي ایک ملک ہو یا متعدد اسلامی ممالک کے معاشرے ہوں، مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنا دیا جائے۔

تفرقے کے علل و اسباب

شرک

شرک آمیز افکار انسانوں کو تقسیم کر دیتے ہیں۔ جس معاشرے کی بنیاد مشرکانہ عقیدے پر ہو اس میں انسان ایک دوسرے سے جدا اور ایک دوسرے کے لئے اجنبی اور مختلف طبقات میں تقسیم ہوں گے۔ جب مشرک معاشرے میں سر آغاز وجود اور پورے عالم پر مسلط و محیط ہستی سے انسانوں کے رابطے کا موضوع اٹھے گا تو فطری بات ہے کہ اس معاشرے کے انسان ایک دوسرے سے جدا ہوں گے کیونکہ کوئی ایک طبقہ کسی ایک خدا سے متعلق ہوگا تو دوسرا طبقہ کسی دوسرے خدا سے اور تیسرا طبقہ کسی تیسرے خدا سے۔ جس معاشرے میں شرک کا بول بالا ہوگا وہاں انسانوں اور انسانی طبقات کے درمیان ایک ناقابل تسخیر دیوار اور کبھی نہ پٹنے والی خلیج ہوگی۔

شیطان

جہاں بھی مومنین اور اللہ تعالی کے صالح بندوں کے درمیان اختلاف نظر آ رہا ہے وہاں یقینا شیطان اور دشمن خدا کا عمل دخل ہے۔ جہاں بھی آپ کو اختلاف نظر آئے، آپ غور کریں تو آپ کو بڑی آسانی سے شیطان بھی نظر آ جائے گا۔ یا پھر وہ شیطان، جو ہمارے نفس کے اندر موجود ہے جسے نفس امارہ کہتے ہیں اور جو سب سے خطرناک شیطان ہے، ہمیں دکھائی دے گا۔ بنابریں ہر اختلاف کے پس پردہ یا تو ہماری انانیت، جاہ طلبی اور مفاد پرستی ہے اور یا پھر خارجی اور ظاہری شیطان یعنی دشمن، سامراج اور ظالم طاقتوں کا ہاتھ کارفرما ہے۔

جہالت و کج فہمی

اگر آپ امت اسلامیہ کو تفرقے کا شکار دیکھ رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو صحیح طور پر اس کا ادراک نہیں ہے کہ اتحاد بھی دین کا جز ہے۔ اب وہ دور ہے کہ جس میں امت اسلامیہ کو خواہ وہ سیاسی شخصیات ہوں، علمی ہستیاں ہوں یا دینی عمائدین اور یا پھر عوامی طبقات سب کو ہمیشہ سے زیادہ ہوشیار رہنا چاہئے، دشمن کے حربوں کو پہچاننا اور اس کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ ان کا ایک موثر ترین حربہ اختلاف کی آگ بھڑکانا ہے۔ وہ پیسے خرچ کرکے اور مربوط سازشوں کے ذریعے اس کوشش میں ہیں کہ مسلمانوں کو آپسی اختلافات میںالجھائے رکھیں اور ہماری غفلتوں، کج فہمیوں اور تعصب کو استعمال کرکے ہمیں ایک دوسرے کی نابودی پر مامور کر دیں۔

آج بعض مکاتب فکر میں تنگ نظری دکھائی دیتی ہے۔ وہ اپنے علاوہ پورے عالم اسلام کو کافر سمجھتے ہیں۔ جسے بھی پیغمبر اسلام سے عشق و محبت ہے وہ کافر ہے؟! اس تنگ نظری کے عوامل کیا ہیں؟ ہمیں تو بے حد خوشی ہوگی کہ ان اختلافات سے بالاتر ہوکر ایک دوسرے کا ہاتھ گرمجوشی سے تھامیں اور ایک دوسرے کی مدد کریں۔

نسلی تعصب

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مسلمان قوموں کے درمیان قومیتی، قومی، لسانی اور اسی جیسے دوسرے پہلوؤں پر زور دیا جاتا ہے۔ بالکل واضح ہے کہ یہ حالت امت اسلامیہ کے ایک دوسرے سے الگ ہونے کے عمل کی شروعات کی علامت ہے۔ ہم نے دیکھا کہ اسی ملک میں گزشتہ (شاہی) حکومت کے دور میں کس طرح نسل، حسب و نسب اور خون سے متعلق غلط افسانوں اور خیالات کی جانب بازگشت اور فارسیت اور ایرانیت کا مسئلہ کس زور و شور سے اٹھایا گيا۔ اس کی وجہ کیا تھی؟ ملت ایران کو اس سے کیا فائدہ پہنچ سکتا تھا؟ ضرر و زیاں کے علاوہ اس کا کوئی نتیجہ نہیں ہو سکتا تھا۔ سب سے بڑا نقصان یہ تھا کہ اس سے دیگر اسلامی قوموں کے مقابلے میں ملت ایران کے اندر علاحدگی پسندی کا جذبہ پیدا ہوا اور دوسری قوموں کے ساتھ اس قوم کی کشیدگی شروع ہوئی۔ یہی کام عرب قوموں کے ساتھ کیا گيا اور یہی چال علاقے کی دیگر قومیتوں کے ساتھ بھی چلی گئی اور آج بھی چلی جا رہی ہے۔

صاحبان اقتدار

مسلمان فرقوں اور مسلکوں کے درمیان صدیوں قبل سے آج تک اختلافات، ٹکراؤ، تنازعہ اور تضاد جاری رہا ہے اور ان اختلافات کا نقصان ہمیشہ مسلمانوں کو پہنچا ہے۔ تاریخ اسلام میں ان اختلافات اور تنازعات کے بہت بڑے حصے کی ساری ذمہ داری مادی طاقتوں کی ہے۔ ابتدائی اختلافات یعنی قرآن کے مخلوق ہونے یا نہ ہونے اور اسی جیسے دوسرے مسائل سے لیکر ديگر اختلافی موضوعات تک جو طول تاریخ میں اسلامی فرقوں کے ما بین خاص طور پر شیعہ اور سنی فرقوں کے درمیان نظر آتے ہیں تقریبا تمام اسلامی خطوں میں ان اختلافات کے تار سیاسی طاقتوں سے جڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ البتہ عمومی جہالت، عقل و منطق سے خالی تعصب اور ایک دوسرے کے اختلافات کو برانگيختہ کرنے کا بھی بہت اثر پڑتا ہے لیکن یہ سب کچھ مقدمہ ہے اور صرف انہی عوامل کی بنیاد پر تاریخ کے وہ اندوہناک واقعات رونما نہیں ہو سکتے تھے۔ ان بڑے سانحوں کی ذمہ داری زمانے کی طاقتوں پر ہے جنہوں نے ان اختلافات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ جب استعمار اسلامی ممالک میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر گھس آیا تو واضح ہو گیا کہ اس کی نظریں بھی اسی ہدف پر ٹکی ہوئی ہیں۔

عالم اسلام میں اختلافات اور تفرقہ پیدا کرنے والے حلقے

آج دنیا میں "مسجد ضرار" (وہ مسجد جہاں بیٹھ کر منافقین مسلمانوں کے خلاف سازشیں تیار کرتے تھے وحی الہی سے پیغمبر اسلام کو منافین کی سازش کا علم ہوا اور آپ کو پتہ چلا کہ "مسجد ضرار" کی تعمیر مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ڈالنے کے لئے کی گئی ہے چنانچہ آپ نے اس مسجد کو مسمار کر دینے کا حکم دیا) کی تعمیر کے لئے پیسے خرچ کئے جا رہے ہیں۔ آج مسلمانوں کے اتحاد پر ضرب لگانے اور اسلامی فرقوں کے درمیان اختلاف اور تنازعے کو ہوا دینے کے مقصد سے مراکز اور ادارے قائم کرنے کے لئے پیسے خرچ کئے جا رہے ہیں۔ کچھ شیطان صفت افراد ہیں جو بالکل اسی طرح جیسے اس نے اللہ سے کہا تھا کہ " ولاغونھم اجمعین" ( اور یقینا میں ان سب کو گمراہ کروں گا حجر39) اور اس نے اپنے وجود کو بندگان خدا کو بہکانے اور گمراہ کرنے کے لئے وقف کر دیا، ان افراد نے بھی خود کو اختلافات پیدا کرنے کے لئے وقف کر رکھا ہے۔

اسلامی بیداری کا مظہر وہ افراد نہیں جو آج عالم اسلام میں دہشت گردی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ جو لوگ عراق میں مجرمانہ کارروائیاں کر رہے ہیں، جو لوگ عالم اسلام میں اسلام کے نام پر مسلمانوں کے خلاف سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں، جو لوگ شیعہ سنی کے نام پر یا نسل پرستی کے نام پر مسلمانوں کے بیچ فتنہ و فساد پھیلانے کو اپنا فرض اولیں سمجھتے ہیں وہ ہرگز اسلامی بیداری کا نمونہ اور آئینہ نہیں قرار پا سکتے، یہ بات تو خود سامراجی طاقتیں بھی جانتی ہیں۔ جو لوگ رجعت پسند اور دہشت گرد گروہوں کے ذریعے مغربی دنیا میں اسلام کومتعارف کرانے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں بھی معلوم ہے کہ حقیقت اس سے الگ ہے۔

آج عالم اسلام کے اندر بعض تفرقہ انگیز عناصر اہل بیت علیہم السلام کے مکتب فکر اور تعلیمات کی شبیہ خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کی ایسی تصویر کشی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو حقیقت سے بالکل پرے ہے۔ آج مختلف ممالک میں بڑی طاقتوں کے ہاتھوں بکے ہوئے درباری علماء شیعوں کے خلاف کفر کے فتوے دے رہے ہیں۔ شیعہ سنی اختلاف آج امریکا کا سب سےمرغوب ہدف ہے، عالمی تسلط پسندانہ نظام کا اہم ہدف ہے اور ان کی آلہ کار حکومتوں کا بنیادی مقصد ہے۔

بعض اسلامی حکومتیں

یہ بے پناہ زمین دوز ذخائر، یہ قدرتی دولت اور یہ بے شمار ہتھیار اسلامی ممالک اور مسلمان معاشروں کے پاس ہیں۔ ہم اپنا دفاع کرنے پر قادر کیوں نہیں ہیں؟ اس لئے کہ ہم متحد نہیں ہیں۔ ہم متحد کیوں نہیں ہیں؟ اس لئے کہ جن حکومتوں کو اتحاد کی ضمانت فراہم کرنا چاہئے ان کے اہداف کچھ اور ہی ہیں، قوم پرستانہ اہداف، کفر آلود اہداف اور غیر اسلامی اہداف۔ البتہ قوموں کے دل ایک ساتھ ہیں۔ کون سی دو قومیں ہیں جن میں ایک دوسرے کے لئے کینہ و نفرت ہو؟ آٹھ سالہ جنگ کے بعد ملت ایران اور ملت عراق کی آغوش ایک دوسرے کے لئے کھلی ہوئی ہے۔ جنگ کا تعلق قوموں سے نہیں ہے، اختلافات سے قوموں کا کچھ لینا دینا نہیں ہے، یہ سارا کیا دھرا حکومتوں کا ہوتا ہے جن کے پیش نظر غیر اسلامی اہداف ہوتے ہیں۔ اس کا علاج کیا جانا چاہئے۔

مسلمانوں کے مفادات سے علمائے اسلام کی لا تعلقی!

حقیقت یہ ہے کہ ایک ہزار سال تک شیعہ اور سنی فرقوں کو لڑوایا گيا، انہوں نے ایک دوسرے کے خلاف کتابیں لکھیں، ایک دوسرے کے مقدسات کی توہین کی۔ مسلمانوں بشمول شیعہ سنی کے درمیان اختلافات کی ذہنیت موجود ہے۔ دشمن مسلمانوں کے ان دونوں بڑے فرقوں کے ما بین اختلافات کی آگ بھڑکانے کے لئے اسی ذہنیت کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا۔ چنانچہ بعض اسلامی ممالک میں کبھی شیعہ اہل علم کو سنی حضرات کے جذبات کو برانگیختہ کرنے والا بیان دینے کے لئے تیار کیا جاتا ہے اور کبھی سنی عالم دین کو ایسا بیان دینے کے لئے اکسایا جاتا ہے جس سے شیعہ فرقے کے جذبات مجروح ہوتے ہوں۔ بعض اسلامی ممالک میں بد قسمتی سے یہ سلسلہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اگر اس سلسلے میں علماء اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں اور اپنے فریضے کو پہچانیں اور اس بات پر اکتفا نہ کریں کہ حقیقت خود ان کی نظر میں واضح ہے، وہ اس بات پر اکتفا نہ کریں کہ شخصی طور پر شیعہ فرقے سے ان کے اپنے برادرانہ تعلقات ہیں بلکہ تمام لوگوں کو اس اسلامی اخوت و برادری کا درس دیں، اس کی تلقین کریں اور دشمنوں کی سازشوں سے انہیں آگاہ کریں، اگر یہ کام انجام دیا جائے تو عوامی سطح پر بروئے کار لائے جانے والے دشمن کے حربوں کی کوئی گنجائش ہی باقی نہیں رہے گی۔

اغیار سے وابستہ عناصر

بد قسمتی سے عالم اسلام میں ایسے عناصر پائے جاتے ہیں جو امریکا اور سامراجی طاقتوں کی قربت حاصل کرنے کے لئے کچھ بھی کر گزرنے اور شیعہ سنی اختلافات کو ہوا دینے کے لئے تیار ہیں۔ میں اس وقت ایران کے بعض ہمسایہ ممالک میں کچھ ایسے ہاتھوں کا مشاہدہ کر رہا ہوں جو بڑے منظم طریقے سے اور عمدی طور پر شیعہ سنی فساد برپا کرنے کے در پے ہیں، مسلکوں، قومیتوں کو ایک دوسرے سے دور کر رہے ہیں اور سیاسی حلقوں کو آپس میں دست بگریباں کر رہے ہیں تاکہ گدلے پانی سے اپنے مفادات کی مچھلیوں کا شکار کر سکیں اوراسلامی ممالک میں اپنے ناجائز اہداف کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔ ہمیں ہوشیار رہنا چاہئے۔ قومیں، حکومتیں، تمام مسلمان، سیاسی حلقے، روشن خیال افراد اور سرکردہ شخصیات کو چاہئے کہ دشمن کی اس سازش کی جانب سے ہوشیار رہیں اور مختلف بہانوں سے اختلاف بھڑکانے کی دشمن کی کوششوں کو کامیاب نہ ہونے دیں۔

جعلی مسلک

علمائے اسلام بہت ہوشیار رہیں، آپ اتحاد کو پارہ پارہ کر دینے والے ان جعلی مسلکوں کی جانب سے بہت ہوشیار رہئے۔ تیل سے ملنے والے ان ڈالروں سے جو تفرقہ کے لئے استعمال ہو رہے ہیں بہت زیادہ محتاط رہئے۔ ان بکے ہوئے پلید ہاتھوں کی جانب سے جو مسلمانوں کے اتحاد کے "عروۃ الوثقی" کو پارہ پارہ کر دینے کے در پے ہیں محتاط رہئے۔ ان کا مقابلہ کیجئے۔ یہی اتحاد سے لگاؤ اور اسلامی اتحاد کی راہ پر چلنے کا تقاضہ ہے۔ اس کے بغیر ( اتحاد) ممکن ہی نہیں ہے۔

اختلاف و شگاف کی ان دراز مدت سازشوں نے جو سو، دو سو یا پانچ سو سال سے جاری ہیں سامراجی مسلک پیدا کر دئے ہیں جو عالم اسلام کے پیکر عظیم میں ایسے زخم لگائیں جن کا آسانی سے مداوا نہ ہو سکے۔ مثال کے طور پر وہابیت اور بعض دیگر جعلی مسلک اور مکاتب جو عالم اسلام میں شگاف اور انتشار پید کرنے کے لئے وجود میں لائے گئے ہیں۔

شروع سے ہی وہابیت کو اسلامی اتحاد پر ضرب لگانے اور مسلم برادری کے درمیان اسرائیل جیسا اڈہ قائم کرنے کے لئے تیار کیا گیا۔ جس طرح اسلام پر ضرب لگانے کے لئے ایک ٹھکانے کے طور پر اسرائیل کی تشکیل عمل میں لائی گئی اسی طرح وہابیوں اور ان نجد کے حکمرانوں کی حکومت تیار کی گئی تاکہ اسلامی برادری کے اندر ان کا ایک محفوظ مرکز ہو جو ان سے وابستہ ہو اور آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہی ہو رہا ہے۔

مقدسات کی توہین

اسلامی نظام کے نقطہ نگاہ سے ایک دوسرے کے مقدسات کی بے حرمتی ریڈ لائن کا درجہ رکھتی ہے۔ جو افراد نادانستہ طور پر، غفلت میں پڑ کر یا بعض اوقات اندھے اور نا معقول تعصب کی بنا پر، خواہ وہ شیعہ ہوں یا سنی، ایک دوسرے کے مقدسات کی بے حرمتی کرتے ہیں انہیں اس کا ادراک ہی نہیں ہے کہ وہ کر کیا رہے ہیں؟! دشمن کے بہترین حربے یہی افراد ہیں۔

شیعہ اور سنی دونوں ہی اپنے اپنے مذہبی پروگرام، اپنے اپنے طور طریقے اور اپنے اپنے دینی امور انجام دیتے ہیں اور انہیں دینا بھی چاہئے۔ ریڈ لائن یہ ہے کہ ان کے درمیان مقدسات کی بے حرمتی کی بنا پر خواہ بعض شیعہ افراد غفلت میں پڑ کر اس کے مرتکب ہوں یا سنی حضرات جیسے سلفی اور دیگر مسلکوں کی جانب سے دیکھنے میں آتا ہے کہ ایک دوسرے کی نفی کرنے پر تلے رہتے ہیں، اس طرح کا کوئی کام انجام دیں تو یہ در حقیقت وہی چیز ہوگی جو دشمن کی مرضی کے مطابق ہے۔ ایسے مواقع پر آنکھیں کھلی رکھنے کی ضرورت ہے۔

قومی اختلافات کی آگ

انتہا پسندانہ قوم پرستی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے قومی اختلافات زیادہ تر اغیار سے وابستہ روشن خیال افراد کی جانب سے بھڑکائےجاتے ہیں۔

اتحاد مخالف بعض عوامل جیسے قومی اختلافات، مذہبی اختلافات، مسلکی اختلافات، فرقہ وارانہ اختلافات اور سیاسی اختلافات کا موجود ہونا تقریبا ایک فطری امر ہے، اس کا مقابلہ کیا جانا چاہئے۔ انہی قومی، مسلکی، مذہبی اور فرقہ وارانہ اختلافات کی آڑ لیکر اسلام دشمن طاقتیں اپنی دائمی سازش کے تحت مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو ہوا دیتی ہیں۔ ان اختلافات کے پیچھے دشمن کا ہاتھ، دشمن کی سازشیں اور دشمن کیچالیں صاف دکھائی دیتی ہیں۔ اس کا علاج ضروری ہے۔ تمام فرقوں کے اہل نظر حضرات کو چاہئے کہ مسلمانوں کے درمیان فتنہ کی آگ پھیلنے اور باہمی بھائي چارے اور محبت و الفت کو مٹنے نہ دیں جو دشمنان اسلام کی کوشش ہے۔

امت اسلامیہ میں تفرقے کے  اندیشے

دشمنان اسلام کا طمع و لالچ

اس وقت عالم اسلام میں ہمیں در پیش سب سے بڑا خطرہ تفرقہ کا ہے۔ اگر ہم ایک دوسرے سے الگ الگ ہوں گے تو ہمیں دیکھ کر دشمن کے حوصلے بلند ہوں گے۔ عالم اسلام کی تمام حکومتوں اور مسلمان قوموں کو ہم اتحاد، وحدت اور قربت کی دعوت دیتے ہیں۔ اختلافات کو پس پشت ڈال دینا اور نظر انداز کرنا چاہئے۔ بعض اختلافات قابل حل ہیں، ہمیں چاہئے کہ مل بیٹھ کر انہیں حل کر لیں۔ بعض اختلافات ممکن ہے کہ کوتاہ مدت میں حل ہونے والے نہ ہوں، ان سے ہمیں چشم پوشی کرکے آگے بڑھ جانا چاہئے۔ یہ ٹھیک وہ چیز ہوگی جو امریکیوں اور صیہونیوں کو نقصان پہنچائے گی۔ اسی لئے ان سب نے اس کے لئے جان لگا دی ہے۔

امت اسلامیہ پر مظالم

اگر آج ملت فلسطین اس تلخ سرنوشت سے دوچار ہے، اگر آج ملت فلسطین کا پیکر خون میں غلطاں ہے اور اس قوم کا درد و غم تمام دردمندانسانوں کے دلوں کی گہرائیوں میں اتر گیا ہے تو یہ مسلمانوں کے اختلافات کا نتیجہ ہے۔ اگر اتحاد ہوتا تو آج یہ حالت نہ ہوتی۔ اگر اسلامی مملکت عراق قابضوں کے بوٹوں تلے روندی جا رہی ہے تو یہ مسلمانوں کے اختلافات کا نتیجہ ہے، اگر آج مشرق وسطی کے ممالک امریکا کی مغرورانہ اور بدمستانہ دہاڑ کی زد پر ہیں تو یہ مسلمانوں کے اختلاف کی ہی وجہ سے ہے۔

تزلزل اور اسلام و مسلمین سے خیانت

جو بھی عالمی تسلط پسند طاقتوں سے مرعوب ہے وہ اس لئے ہے کہ اسے تنہائی اور پشتپناہی کے فقدان کا احساس ستا رہا ہے۔ اگر کوئی حکومت اور قوم مرعوب ہے تو اس کی بھی وجہ یہی ہے۔ اگر اسلامی حکومتوں اور قوموں میں ایک دوسرے کے لئے اپنائیت کے جذبات پیدا ہو جائیں تو حکومتیں پائیں گی کہ قومیں ان کی پشتپناہی کے لئے کھڑی ہوئی ہیں۔ قومیں یہ دیکھیں کہ حکومتیں حقوق کی بحالی کے لئے کوشاں ہیں، قومیں دیکھیں کہ وہ آپس میں بھائی بھائي ہیں۔ ان میں ہمدلی اور ہمفکری ہے تو اس کے نتیجے میں رعب و دہشت کی کوئی گنجائش نہیں رہے گی جو سامراج نے بعض قوموں اور سربراہان مملکت کے دلوں میں پیدا کر رکھی ہے۔ اتحاد کا سب سے پہلا ثمرہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کے اندر طاقت و توانائی کا احساس ابھرتا ہے جبکہ انتشار کا سب سے پہلا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان اندر سے کھوکھلا ہوکر رہ جاتا ہے۔ " و تذھب ریحکم" انسان بلکہ پوری ایک قوم اپنی شادابی اور تازگی سے محروم ہو جاتی ہے۔

اصلی دشمن سے غفلت

موجودہ دور عالم اسلام کے اتحاد کا دور ہے۔ اسی موجودہ کمزور اتحاد کو درہم برہم کر دینے کے لئے دشمن کتنی بڑی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ عراق اور دیگر اسلامی خطوں میں حالات انہی سازشوں کی زد پر ہیں۔ اسلامی جماعتوں، اسلامی فرقوں، اسلامی قومیتوں اور اسلامی قوموں کے درمیان مختلف بہانوں سے اختلافات پیدا کئے جا رہے ہیں۔ ایک ہے جو دوسرے کی جان کو آ گیا ہے اور دوسرا پہلے کو تہہ تیغ کئے در رہا ہے۔ ایک کے دل میں دوسرے کا بغض بھرا ہوا ہے اور دوسرے کے دل میں پہلے کا کینہ ہے۔ نتیجہ اس کا یہ ہے کہ مسلمان عالم اسلام کے اصلی دشمنوں، دنیا کے اس خطے پر تسلط اور غلبہ کے منصوبہ سازوں کی جانب سے غافل ہیں۔

ہر فرقے اور مسلک کے محبان قرآن و اسلام اگر اپنی بات میں سچے ہیں اور واقعی انہیں ہمدردی ہے اور چاہتے ہیں کہ قرآن کی عظمت اور اس کا وقار برقرار رہے تو انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ بعض ممالک میں اختلافات پھیلانے کے لئے لٹائي جا رہی یہ رقم یہ بکے ہوئے قلم اور زبانیں، اسلام کی سربلندی کی رکاوٹیں ہیں اور یہ دشمن کی کارستانیاں ہیں۔

اتحاد کے قیام اور تقویت کے طریقے

اتحاد کے قیام اور تقویت کے طریقے

اتحاد کے دو مراحل ہیں۔ ایک مرحلہ الفاظ اور بیان کا ہے جو آسان ہے، ایسا کوئی خاص مشکل نہیں۔ البتہ بعض لوگ ایسے ہیں جو یہ آسان کام کرنے کے لئے بھی آمادہ نہیں ہیں اور بعض افراد مسلمان فرقوں کے خلاف اعلانیہ کفر کے فتوے صادر کر رہے ہیں۔ موجود ہیں ایسے افراد جو اتحاد مسلمین اور اسلامی فرقوں کی یکجہتی کے باب میں ایک لفظ منہ سے نکالنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ بہرحال لفظی کوششوں کا مرحلہ بہت عام تو نہیں ہو سکا ہے لیکن بہرحال یہ کوئی مشکل اور دشوار مرحلہ نہیں ہے۔ دوسرا مرحلہ ہے عملی اقدام کا۔ اس کے لئے واقعی مجاہدت اور تندہی کی ضرورت ہے۔ بڑا سخت اور دشوار کام ہے لیکن یہ امر واجب ہے۔ بہت سے عناصر ہیں جو عمدا اتحاد کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں اور بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس راہ میں لٹائے جانے والے پیسے سے ان کی تقویت بھی ہو رہی ہے اور تیل کی قیمت کے طور پر ملنے والے ڈالر کی بہت بڑی مقدار اسی راہ میں خرچ ہو رہی ہے۔ بہرحال چونکہ موجودہ دور میں یہ ( اتحاد کی عملی کوشش) واجب و لازم و ضروری ہے اس لئے اس کی سختیوں اور دشواریوں کو برداشت کرنا ہے۔

ثقافتی طریقے

نبی اعظمۖ کی شخصیت کے پہلوؤں کی ترسیم

دنیا کے مسلمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اسم مبارک کے سائے میں زیادہ آسانی کے ساتھ متحد اور مجتمع ہو سکتے ہیں۔ یہ اس عظیم ذات کا کرشمہ ہے۔ میں نے بارہا عرض کیا ہے کہ " یہ عظیم ہستی مسلمانوں کے جذبات کا محور اور نقطہ اجتماع ہے، مسلمان کو اپنے پیغمبر سے الفت ہے" پالنے والے! تو خود گواہ ہے کہ ہمارے قلوب محبت رسول سے سرشار ہیں۔ اس محبت کے ثمرات سے ہمیں مستفیض ہونا چاہئے۔ یہ محبت بڑی کارساز اور مشکل کشا ہے۔

علمائے اسلام، مسلم دانشور، مصنفین، شعراء اور عالم اسلام کے اہل فن حضرات کا عصری فریضہ ہے کہ جہاں تک ان سے ہو سکے نبی اکرم کی شخصیت اور اس مقدس وجود کی عظمت کے پہلوؤں کی مسلمانوں اور غیر مسلموں کے لئے تصویر کشی کریں۔ یہ امر امت اسلامیہ کے اتحاد اور امت کے نوجوانوں میں اس وقت اسلام کی جانب شدید رغبت کی لہر جو نظر آ رہی ہے اس کے سلسلے میں بہت مددگار ثابت ہوگا۔

اگر علمائے اسلام یہ قبول کرتے ہیں کہ قرآن کے مطابق " و ما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ" (ہم نے کسی بھی رسول کو مبعوث نہیں کیا، سوائے اس کے کہ اس کی اطاعت کی جائے، نساء 64) پیغمبر اس لئے نہیں آئے کہ وعظ و نصیحت کریں، کچھ بیان کریں اور امت اپنا کام کرتی رہے اور آپ کا احترام بھی کر لیا کرے۔ آپ اس لئے مبعوث کئے گئے کہ آپ کی اطاعت کی جائے، آپ معاشرے اور زندگی کی سمت و جہت کا تعین فرمائیں، نظام حکومت تشکیل دیں اور صحیح طرز زندگی کے اہداف کی جانب انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کریں۔

دشمن کے سلسلے میں ہوشیاری

قرآن کہتا ہے کہ " اے بیدار ذہن مسلمانو! دشمن کو کبھی بھی فراموش نہ کرو، تمہارے ذہن سے نکل نہ جائے کہ تمہارا دشمن موجود ہے، یہ نہ بھولو کے دشمن گھات لگائے بیٹھا ہے، یہ نہ بھولو کہ اگر تم نے پسپائی اختیار کی، اگر کمزوری کا مظاہرہ کیا تو دشمن وار کر بیٹھے گا" دشمن ضرب لگانے کے لئے ہر راستہ آزماتا ہے، اقتصادی راستہ، ثقافتی راستہ، سیاسی راستہ اور سلامتی کا راستہ۔ مسلم امہ کو بیدار رہنا چاہئے۔ " الم اعھد الیکم یا بنی آدم ان لا تعبدوا الشیطان انھ لکم عدو مبین" ( اے بنی آدم کیا ہم نے تم سے یہ عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا کہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے، یس 60) دشمن کے آگے ہتھیار نہ ڈال دیجئے، دشمن کو فراموش نہ کیجئے، یاد رکھئے کہ دشمن موجود ہے۔ اسیشیطان کے سلسلے میں اللہ تعالی اتنی زیادہ تاکید کے ساتھ فرماتا ہے کہ " انّ کید الشیطان کان ضعیفا" ( شیطان کے مکر و حیلے کمزور ہیں، 76) یہی شیطان جس کی جانب سے بہت محتاط رہنا پڑتا ہے اور اگر احتیاط کا دامن چھوٹ جائے تو آپ پر اس کا وار چل جائے گا۔ ہاں اگر آپ بیدار ہیں، چوکنے ہیں، متحد ہیں، متوجہ ہیں اور اپنے فرائض پر عمل کر رہے ہیں تو پھر اس کا مکر و فریب بے حد کمزور ہوگا اور وہ کچھ بھی نہیں بگاڑ پائے گا۔

" انما سلطانہ علی اللذین یتولونہ" ( اس کا غلبہ صرف ان لوگوں پر ہوتا ہے جنہوں نے اسے اپنا سرپرست بنا لیا ہے، نحل100) شیطان کا زور ان پر چلتا ہے جو اس سے ڈرتے ہیں، اس سے خوف کھاتے ہیں، اس کو بہت بڑا سمجھتے ہیں۔ جو شخص اللہ تعالی کی ذات پر تکیہ کئے ہوئے ہے اور جو بندہ خدا ہے اس سے تو خود شیطان کو ڈرنا پڑتا ہے۔

علمائے کرام کی ہمفکری و ہم خیالی

مختلف مسلکوں کے درمیان فقہی میدان میں نظریات کے تبادلے سے بہت سے فقہی مسائل میں ایک دوسرے کے قریب بلکہ مشترکہ فتوؤں تک پہنچا جا سکتا ہے۔ بعض اسلامی فرقوں کے ہاں فقہی میدان میں قابل قدر پیشرفت اور تحقیقات نظر آتی ہیں۔ ان سے دوسرے فرقے استفادہ کر سکتے ہیں۔ کبھی یہ بھی ممکن ہے کہ قرآن و سنت سے بعض احکام اور اسلامی امور کے استنباط میں بعض فرقوں کے پاس جدت عمل ہو جس سے دوسرے فرقے بھی مستفیض ہو سکتے ہیں اور اس راستے سے مشترکہ فتوے تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کسی فرقے کے حوالے سے کوئی فتوا نقل کیا جاتا ہے جبکہ وہ فتوا اس فرقے کا بہت ہی غیر معروف فتوا ہے جسے اس فرقے کے بہت کم افراد ہی مانتے ہیں۔ ممکن ہے کہ اس فرقے کے افراد اس فتوے کو زیادہ قابل اعتنا نہ سمجھیں اور ان کا اس پر کوئي اصرار نہ ہو۔ ہم مشترک فتوؤں کی نشاندہی کی کوشش کیوں نہ کریں؟

علماء کا فریضہ، حقائق پر روشنی ڈالنا

علمائے اسلام آگے بڑھیں اور اسلامی اتحاد کو عملی جامہ پہنائیں اور ایک ایسا منشور تیار کریں جس کی تائید اور جسے عملی جامہ پہنانے کی کوشش عالم اسلام کے تمام روشن خیال حضرات، تمام سرکردہ اور مخلص سیاسی شخصیات کریں تاکہ کسی مسلمان کی یہ جرئت نہ ہو کہ کسی اور مسلک سے تعلق رکھنے والے کلمہ گو کو کافر قرار دے۔

مسلمان بھائی خواہ وہ ایران میں، یا عراق میں ہوں، یا پاکستان میں ہوں، یا لبنان میں ہوں یا پھر دنیا کے دیگر علاقوں میں آباد ہوں، ان کا تعلق کسی بھی مسلک و فرقے سے ہو، سب یہ بات جانتے ہیں کہ حقیقی علمائے اسلام کا نظریہ یہ ہے کہ " اپنے مسلمان بھائی کے خون سے اپنا ہاتھ رنگین کرنا نا قابل بخشش گناہوں میں ہے" کچھ لوگ اسلام کی پیروی کے نام پر اور اسلام کی پابندی کے نام پر اپنے ہاتھ اپنے مسلمانبھائی کے خون سے آلودہ کر لیتے ہیں، یہ تو دائرہ اسلام سے نکل جانے والا اقدام ہے۔ سب کے سب یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ دیگر مسلم اقوام کے ساتھ ملت ایران کا برادری و اخوت کا رشتہ حقیقی رشتہ ہے۔ مسلکی اختلاف اپنی جگہ۔ شیعہ، شیعہ ہے اور سنی، سنی ہے۔ اہل تشیع اور اہل تسنن کے ما بین فکری اور عقیدتی اختلافات ہیں لیکن پھر بھی یہ سارے کے سارے لوگ "لا الہ الا اللہ و محمد رسول اللہ" کے پرچم تلے برادرانہ جذبے کے ساتھ جمع ہوں اور دشمنان اسلام اور دشمنان امت اسلامیہ کے مقابلے میں پامردی کا مظاہرہ کریں۔

اختلافی باتوں کو بنیاد نہ بنائیں

حقیقی اسلام اور وہ اسلام جس کی بنیاد پر اسلامی نظام کی تشکیل عمل میں آئی ہے اس کا نعرہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو عقائد اور مذہبی بنیادوں میں اختلافات کے باوجود متحد رہنا چاہئے، مشترکہ نکات کو بنیاد بنانا چاہئے، ایک دوسرے کے جذبات کو مجروح کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے۔ اس طرز فکر والی یہ دینی فضا جس میں آزادی، انصاف، جمہوریت اور پورے عالم اسلام پر اور امت اسلامیہ کے درمیان اتحاد کی تقویت کی راہ ہموار ہو، ہماری سعی و کوشش کے شعبوں میں سے ایک ہے، ہمیں اس میدان میں مجاہدت کرنا چاہئے۔

شیعہ اور سنی حضرات اپنے اختلافات کو اپنے تک محدود رکھیں، عالمی برادری کی سطح پر اور منظر عام پر اختلافات کا دکھاوا کرنے سے گریز کریں۔ اتحاد کا مظاہرہ کریں اور امت اسلامیہ کے اتحاد کو سامنے لائیں۔ جو افراد تبلیغ کے فرائض انجام دیتے ہیں وہ تبلیغی عمل خوش اسلوبی کے ساتھ اور مدلل اور علمی بیان کے ذریعے انجام دیں تاکہ دلوں کو حق و حقیقت کی جانب متوجہ کیا جا سکے۔

آپ جہاں کہیں بھی ہوں، اگر آپ کو یہ نظر آئے کہ کوئی مقرر کوئی خطیب، کوئي اخبار اور کوئي مقالہ نگار اپنی باتوں سے، اپنے کنایوںسے، اپنے صریحی بیانوں سے عوام میں تشویش پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لوگوں کے اتحاد کو ختم کر دینے کے در پے ہے تو آپ یقین جانئے کہ وہ بہت بڑی غلطی کر رہا ہے اور غلط راستے پر چل رہا ہے۔ اگر آپ یہی بات ذہن نشین رکھیں تو بھی کافی ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ آپ کوئی اقدام بھی کریں۔ بس آپ اپنے ذہن میں یہ بات رکھئے کہ جو کوئی بھی یہ طرز عمل اختیار کر رہا ہے وہ بہت بڑی غلطی کا شکار ہے اور اس سے بہت بڑی بھول ہوئی ہے۔

سیاسی طریقے

مشترکہ دشمن کے مقابلے میں باہمی اتحاد

امت اسلامیہ کا اتحاد ایک مقدس اور عظیم تمنا ہے جو عالم اسلام کے ہر گوشے میں لوگوں کے دلوں میں موجود ہے۔ اس ہدف کے حصول کے کچھ مقدمات اور کچھ شرائط ہیں کیونکہ یہ بڑا سنگین کام اور بہت اونچی چوٹی ہے اور اس کے علاوہ اس راستے میں دشواریاں اور مشکلات بھی بہت زیادہ ہیں۔ اسی آج کے دور میں دنیا بھر میں ایسے حلقے موجود ہیں جو مسلمانوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کی پیہم کوششوں میں مصروف ہیں۔ اگر ان کے بس میں ہوتا ہے تو وہ دو مسلم ملکوں کے درمیان جنگ کروا دیتے ہیں اور اگر وہ اس میں کامیاب نہ ہوئے تو سیاسی جنگ، عقیدتی تنازعہ مذہبی اختلاف اور فرقہ وارانہ عناد پیدا کر دیتے ہیں۔ جو لوگ ان کاموں میں لگے ہوئے ہیں وہ گلی کوچے کے عام افراد نہیں بلکہ وہ طاقتور مراکز ہیں جن کے پاس عالمی سلامتی، سیاست اور دولت ہے۔ بنابریں اتحاد مسلمین کی کوششوں کی راہ میں ان کی جانب سے ان دشواریوں کا کھڑا کیا جانا طے ہے، اس سے بچا نہیں جا سکتا۔

اسلامی ممالک کا سربراہی اجلاس ممالک کے حکام و عوام کے مابین اور اسی طرح حکام کی صفوں کے اندر دوستانہ تعاون، مضبوط انتظامی توانائی اور اتحاد و یکجہتی کی علامت ہے۔ امریکی حکام کو اس میں عظیم، مشترکہ اور پیچیدہ کارناموں کی انجام دہی کی صلاحیت و توانائیصاف نظر آ گئی ہے اور سامراج کے لئے اسلامی بیداری بہت بڑا خطرہ ہے۔ جہاں بھی اسے یہ خطرہ نظر آتا ہے وہ حملہ آور ہو جاتا ہے، اسے اپنے حملوں کی آماجگاہ بنا دیتا ہے۔ (اس خطرے کا عامل) خواہ شیعہ ہوں یا اہل سنت۔ سامراج فلسطین میں حماس کے سلسلے میں وہی نقطہ نگاہ اور وہی سلوک اپنائے ہوئے ہے جو لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ اس نے روا رکھا ہے۔ وہ (حماس) سنی ہے اور یہ ( حزب اللہ) شیعہ تنظیم ہے۔ دنیا کے ہر گوشے میں دیندار اور فرض شناس مسلمانوں کے ساتھ سامراج کا رویہ ایک ہی ہے وہ مسلمان خواہ شیعہ ہوں یا سنی۔

اقتصادی طریقے

ایسا ہر عمل جو اسلامی قوتوں کو یکجا کرنے کے لئے انجام دیا جائے اور جس سے عظیم امت اسلامیہ زندگی کے مختلف امور سے متعلق فیصلوں میں منظم ہو وہ اسلام کی خدمت، اسلامی ممالک کی خدمت اور انسانیت کی خدمت کا درجہ رکھتا ہے۔ اسلامی ممالک کے مرکزی بینکوں کے سربراہوں، اسلامی ترقیاتی بینک کے سربراہ اور مالیاتی خدمات انجام دینے والے اداروں کے سربراہوں کے بنکاری کے کام اسی زمرے میں آتے ہیں اور اسی سمت و جہت میں قرار پاتے ہیں۔

اگر اسلامی ممالک حقیقی معنی میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہو جائیں، ہم یہ نہیں کہتے کہ ان کے درمیان سیاسی اتحاد تشکیل پا جائے بلکہ ان کے ما بین دوستانہ روابط و تعلقات قائم ہو جائیں، مثلا مشترکہ بازار کے لئے جو زیر بحث بھی ہے سنجیدہ اقدام اور فیصلہ کیا جائے۔ اس راستے کی مشکلات کی نشاندہی کرکے ان کے حل تلاش کئے جائیں تو عالم اسلام کی فکرمندی بڑی حد تک ختم ہو جائے گی۔ بالفاظ دیگر بہت سی مشکلات کی شدت میں کمی واقع ہوگی۔

اتحاد کے علمبردار

آيت اللہ العظمی بروجردی اور شیخ محمود شلتوت

 دو نمایاں اور ممتاز شخصیتیں جن میں ایک اپنے زمانے کے عظیم فقیہ، شیعوں کے عظیم الشان مرجع تقلید اور ماضی قریب کے ادوار میں عدیم المثال مذہبی پیشوا حضرت آیت اللہ العظمی بروجردی تھے اور دوسری شخصیت اہل سنت کے با عظمت فقیہ اور مفتی اعظم، الازہر یونیورسٹی کے شجاع اور جدید افکار کے حامل علامہ شیخ محمود شلتوت کی ہے۔ آيت اللہ بروجردی مرحوم مصر کے "دار التقریب" ادارے کے بانیوں میں تھے۔ شیخ شلتوت بھی اسی طرح "دار التقریب بین المذاہب" ادارے کے بانیوں میں تھے۔ یہ تقریب (اسلامی مکاتب فکر کو ایک دوسرے کے قریب لانا) شیعہ اور سنی علما دونوں کا فریضہ ہے۔

 برسوں قبل آيت اللہ بروجردی مرحوم رضوان اللہ تعالی علیہ اور مصر میں بعض اکابرین اور علمائے اہل سنت کے زمانے سے یہ خیال سامنے آیا کہ اختلافات کو حاشئے پر ڈال دیا جائے۔ سنی، سنی رہے اور شیعہ، شیعہ رہے۔ ہر کوئی اپنے عقیدے کا پابند رہے اور اس کے ساتھ ہی ایک دوسرے کا مددگار بن جائے۔ اس زمانے میں شیعوں کے عظیم الشان مرجع تقلید کا عزم و حوصلہ اور مصر کے مفتی اعظم کی شجاعت و آزاد منشی وقت کے تقاضے کے مطابق بہت بڑا قدم تھا۔ آج کے دور میں بھی اکابرین، مفکرین، علمائے دین، دانشوروں، مفتیوں اور سیاستدانوں میں ہر ایک پر اس تعلق سے بہت بڑی ذمہ داریاں ہیں۔

نصف صدی قبل ان دونوں عظیم ہستیوں نے اس نمایاں حقیقت کا ادراک کیا اور اس کی راہ میں مساعی انجام دیں۔ اگر اہل علم و ارباب سیاست اس مشن کو سنجیدگی سے آگے بڑھاتے تو شائد آج عالم اسلام کو مسلمانوں کے اختلافات کے دردناک عواقب نہ بھگتنے پڑتے۔ شائد فلسطین کی مصیبت اور عالم اسلام کے دیگر اندوہناک مسائل اس طرح در پیش نہ ہوتے۔

سید جمال الدین اسد آبادی 

سید جمال الدین اسد آبادی ہماری گزشتہ تاریخ کی ان اہم ترین شخصیتوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے مسلمانوں کو اتحاد کی دعوت دی۔ سیدجمال الدین کا نظریہ یہ تھا کہ اگر عالم اسلام سیاسی و روحانی حیات نو کا خواہاں ہے تو اسے اتحاد قائم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ سید جمال الدین اسد آبادی کے سفر، مذاکرات، بیانات سب کچھ اسی تناظر میں ہوتے تھے۔ سید جمال الدین اسد آبادی کو اہل سنت، سنی کہتے تھے اور شیعہ انہیں شیعہ مانتے تھے۔ یعنی دونوں فرقے انہیں پسند کرتے تھے۔ سید جمال الدین اسد آبادی ایرانی شیعہ اور سادات میں سے تھے۔ شافعی سنی عالم دین شیخ محمد عبدہ کی آواز سے انہوں نے اپنی آواز ملائی اور ان کا پیغام پوری دنیا میں گونج اٹھا۔ سید جمال الدین اسد آبادی وہ شخصیت تھے جس نے اسلام کے احیاء کا پرچم بلند کیا۔ معلوم ہوا کہ اسلام کے احیاء کا پرچم شیعہ یا سنی کی تفریق قبول نہیں کرتا۔

امام خمینی رضوان اللہ علیہ

 امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے جن عظیم اہداف کی نشاندہی فرمائی وہ اس طرح ہیں؛ عالمی استکبار سے مقابلہ، "نہ مشرقی نہ مغربی کا نعرہ" ( یہ نعرہ اس دور سے متعلق ہے جب دنیا مشرقی اور مغربی بلاکوں میں تقسیم تھی) قوم کی ہمہ جہتی خود مختاری یعنی مکمل خود کفائی پر بہت زیادہ تاکید، اسلامی شریعت و فقہ اور اصول دین کی پاسداری و پاسبانی پر بے حد تاکید، اتحاد و یکجہتی کا قیام، دنیا کی مظلوم اور مسلمان قوموں پر توجہ، اسلام اور مسلم اقوام کی توقیر، عالمی طاقتوں کے سامنے بے خوفی، اسلامی معاشرے میں انصاف و مساوات کی ترویج، معاشرے کے محروم اور مستضعف طبقوں کی دائمی اور بے دریغ امداد و حمایت۔ ہم سب نے دیکھا کہ امام (خمینی رحمت اللہ علیہ) نے ان اہداف کے لئے بڑی تاکید اور تندہی کے ساتھ سعی پیہم فرمائی۔ ہمیں چاہئے کہ آپ کے مسلسل جاری مشن اور اعمال صالح کو آگے بڑھائیں اور آپ کے راستے پر چلیں۔

 

اسلامی اتحاد و یکجہتی کے مظاہر

امت اسلامیہ کا شکوہ

حج مسلمانوں کے اتحاد و وحدت کا مظہر ہے۔ یہ جو اللہ تعالی نے تمام مسلمانوں کو، جو بھی اس کی استطاعت رکھتا ہے ایک مخصوص وقت میں ایک خاص نقطے پر جمع ہونے کی دعوت دی ہے اور ان اعمال و مناسک کے تناظر میں جو نظم و ترتیب، ہم آہنگی و تال میل، اور پر امن بقائے باہمی کا آئینہ ہیں مسلمانوں کو شب و روز ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھا کر دیا ہے، اس کا سب سے پہلا اور نمایاں اثر ہر فرد میں اتحاد اور اجتماعیت کا احساس پیدا ہونا اور مسلمانوں کے اجتماع کی شان و شوکت کے مناظر کا سامنے آنا اور احساس عظمت سے ان کے ہر فرد کے ذہن و دل کا سرشار ہو جانا ہے۔

حج امت اسلامیہ کے اتحاد و یگانگت، درمیان سے پردوں اور حجابوں کے ہٹ جانے اور دشمن کی ایجاد کردہ یا تعصب اور توہمات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خلیج کے پٹ جانے کا مظہر اور متحدہ مسلم امہ کی تشکیل کی سمت میں اٹھایا جانے والا ایک قدم ہے۔ دوسری جانب یہ دشمنان خدا سے برائت و بیزاری اور مشرکین اور شرک و کفر کے مہروں سے دوری کا آئينہ ہے۔

 

ہفتہ اتحاد

اسلامی جمہوریہ نے عالم اسلام کو دعوت دی ہے کہ آئیے بارہ ربیع الاول سے سترہ ربیع الاول تک اتحاد کا تجربہ کریں۔ ایک روایت کے مطابق جسے اہل سنت کی اکثریت مانتی ہے اور بعض شیعہ بھی اسے قبول کرتے ہیں بارہ ربیع الاول پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا یوم ولادت با سعادت ہے۔ دوسری روایت سترہ ربیع الاول کی ہے جسے شیعوں کی اکثریت اور سنیوں میں بعض لوگ مانتے ہیں۔ بہرحال بارہ سے سترہ ربیع الاول تک جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ولادت کے ایام ہیں عالم اسلام کے اتحاد و یکجہتی پر زیادہ توجہ دی جانیچاہئے۔ یہ مستحکم حصار اور مضبوط قلعہ اگر تعمیر کر لیا جائے تو کوئی بھی طاقت اسلامی ملکوں اور قوموں کی حدود میں قدم رکھنے کی جرئت نہیں کر سکے گی۔

ہم یہ نہیں کہتے کہ دنیا کے اہل سنت حضرات آکر شیعہ ہو جائیں، یا دنیا کے شیعہ اپنے عقیدے سے دست بردار ہو جائیں۔ البتہ کوئی سنی یا کوئی دوسرا شخص تحقیق اور مطالعہ کرے اور پھر اس کے نتیجے میں وہ جو کوئی بھی عقیدہ اپنائے وہ اپنے عقیدے اور اپنی تحقیق کے مطابق عمل کر سکتا ہے۔ یہ اس کے اپنے اور اللہ تعالی کے بیچ کا معاملہ ہے۔ ہفتہ اتحاد میں اور اتحاد کے پیغام کے طور پر ہمارا یہ کہنا ہے کہ مسلمانوں کو ایک دوسرے کے قریب آکر اتحاد قائم کرنا چاہئے، ایک دوسرے سے دشمنی نہیں برتنا چاہئے۔ اس کے لئے محور کتاب خدا، سنت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور شریعت اسلامیہ کو قرار دیا جائے۔ اس بات میں کوئی برائی نہیں ہے۔ یہ تو ایسی بات ہے جسے ہر منصف مزاج اور عاقل انسان قبول کرے گا۔

یوم قدس

یوم قدس عالم اسلام کے اتحاد و یکجہتی کے حقیقی جلوؤں میں سے ایک ہے۔ امت اسلامیہ کی یکجہتی کا دن پرچم نجات قدس کے زیر سایہ منایا جائے۔ عالم اسلام کے مشرقی نقطے یعنی انڈونیشیا سے لیکر عالم اسلام کے مغربی نقطے یعنی افریقا اور نائیجیریا تک جہاں کہیں بھی عوام کو اپنی خواہش و ارادے کو ظاہر کرنے کا موقع ملے وہ اس دن ضرور ظاہر کریں۔ اس وقت عالم اسلام مسئلہ فلسطین کے تعلق سے بے حد حساس اور پر جوش نظر آ رہا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ عالم اسلام میں بیداری آ چکی ہے۔ لہذا ہمیں اس دن کا احترام کرنا چاہئے، مظلوم ملت فلسطین کی حمایت میں اٹھنے والی اپنی آواز کو دنیا والوں کے کانوں تک پہنچانا چاہئے، ماہ رمضان المبارک کے فیوضات سے الہام حاصل کرتے ہوئے اپنے دلوں کو مستحکم و پائیدار بنانا چاہئے اور وعدہ الہی پر اپنے ایمان و ایقان کو قوی تر کرنا چاہئے۔

 

اسلامی عیدیں

اسلامی عید مسلمانوں میں اتحاد و یگانگت کا احساس جگانے کے لئے ہے۔ اسلامی عید یعنی وہ دن جب پورے عالم اسلام میں لوگ جشن منائیں۔اسلامی عید کے دو پہلو ہیں۔ ایک پہلو اللہ تعالی اور روحانیت و معنویت کی جانب توجہ اور ارتکاز کا ہے اور دوسرا پہلو تمام مسلمانوں کا محور واحد کے گرد جمع ہو جانا ہے۔ تمام اسلامی عیدوں اور تقاریب میں ہمارے لئے ان خصوصیات پر توجہ دینا ضروری ہے تاکہ ہم مسلمانوں کے دل ایک دوسرے کے قریب ہوں۔ آج مسلمانوں کو ہر دور سے بڑھ کر اس کی ضرورت ہے کہ ان کے دل ایک دوسرے کے نزدیک ہوں۔

دار التقریب

میں (اسلامی) فرقوں اور مسلکوں کی ایک دوسرے سے قربت کو لازم، واجب اور ضروری سمجھتا ہوں اور اسے اسلامی نظام کے اہداف کی راہ میں اٹھایا گیا قدم مانتا ہوں۔ میرا یہ نظریہ ہے کہ اتحاد شکنی کا عمل امت اسلامیہ کے پیکر پر کاری ضرب کے مترادف ہے۔ جس دار التقریب (اسلامی مسلکوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لئے کوشاں ادارہ) کی بات ہم کر رہے ہیں وہ اسی لئے ہے۔ مصر میں جو دار التقریب تھا وہ ہمارے نزدیک بہت قابل قدر اور محترم تھا اور آج بھی اس کا ہم بہت احترام کرتے ہیں۔ لیکن بد قسمتی یہ رہی کہ اسے کام ہی نہیں کرنے دیا گيا اور آج بھی اسے یہ موقع نہیں دیا جا رہا ہے۔ صرف ایک مختصر عرصے میں جب "رسالۃ الاسلام" نامی مجلہ شائع ہوتا تھا اور شلتوت مرحوم اور شیخ سلیم مرحوم بقید حیات تھے، دار التقریب نے بڑی اچھی سرگرمیاں انجام دیں۔ آیت اللہ بروجردی مرحوم جو ہمارے مرجع تقلید تھے مصر کے دار التقریب کے پشت پناہوں میں شامل تھے۔ جامعۃ الازھر کے چانسلر پہلے شیخ سلیم تھے جو دار التقریب کے بانی اور اس کے مقدمات فراہم کرنے والے تھے، اس کے بعد شیخ محمود شلتوت الازہر کے چانسلر بنے جو مصر کے مفتی بھی تھے۔ انہوں نے بھی دار التقریب کے سربراہ کے فرائض انجام دئے۔ یہ شخصیتیں تقریب المذاہب کی پشت پناہی کرتی تھیں۔ آج بھی دنیائے اسلام کو اس کی اشد ضرورت ہے۔ اس تقریب کا مقصد یہ ہے کہ اسلامی فرقے افکار و نظریات کی سطح پر ایک دوسرے کے قریب آئیں۔ بہت ممکن ہے کہ مختلف فرقوں میں ایک دوسرے کے تعلق سے پائے جانے والے تصورات سے بحث و گفتگو کے نتیجے میں بڑے اچھے اور مفید نتائج نکلیں۔ شائد بہت سی غلط فہمیاں دور ہو جائیں اور بعض نظریات میں اعتدال پیدا ہو جائے اور بعض افکار حقیقی معنی میں بالکل قریب اور ہم آہنگ ہو جائیں۔ ایسا ہو جائے تو یہ بہترین صورت حال ہوگی۔ کم سے کم یہ ہونا چاہئے کہ اشتراکات اور مشترکہ باتوں پر زور دیا جائے۔ باہمی گفتگو، مذاکرات اور تبادلہ خیال کا کمترین فائدہ یہ ہوگا۔ بنابریں تفرقہ انگیز باتیں اٹھانے سے گریز کیا جانا چاہئے۔


source : http://www.wilayat.com/html/index.htm

latest article

      کیا غدیر کے دن صرف اعلان ولایت کیا گیا؟
      آیا غدیر کا ہدف امام کاتعین تھا ؟
      امیر المومنین [ع] کا حدیث غدیر سے احتجاج
      خوشبوئے حیات حضرت امام محمد تقی علیہ السلام
      حالات زندگی حضرت امام جواد علیہ السلام
      امام محمدتقی علیہ السلام کے ہدایات وارشادات
      امام محمد تقی کی نظربندی، قید اور شہادت
      امام جواد کے نام امام رضا کا ایک اہم خط
      امام جواد علیہ السلام کی نماز،زیارت اور حرز
      امام جواد علیہ السلام کا مختصر تعارف

user comment