اردو
Friday 26th of April 2019
  664
  0
  0

کیا مھدویت کا عقیدہ صرف شیعوں کے ساتھ مختص ہے؟

بعض اھل سنت کہتے ہیں کہ مھدویت کا عقیدہ صرف شیعوں کے ساتھ مختص ہے اور شیعوں کا من گھڑت عقیدہ ہے اور وہ تمام احادیث شیعوں کی من گھڑت ہیں اگرچہ ان کا جواب خود اھل سنت نے بھی دیاہے اور مھدویت کے عقیدہ کوثابت کیاہے اور کہا ہے کہ اگر کوئی مھدویت کے عقیدہ کو نہ مانے تو وہ اسلام کے دائرہ سےخارج ہے ۔ 

یہاں ہم ان کے اقوال ذکر کرتےہیں جنہوں نے امام مھدی عج کے وجود اور ظہور کا انکار کیا ہے اور بعد میں ان کے رد کے لیے ان اصحاب کے نام جنہوں نے ان امام مھدی عج کےبارے میں وارد احادیث کونقل کیاہے اوراھل سنت کے ان علماء کے نام جنہوں نے ان کی تصدیق کی ہے اور جنہوں نے باقاعدہ اورمستقل کتابیں لکھی ہیں۔

عبدالرحمن محمدعثمان نے کتاب تحفۃ الاحوذی پرحاشیہ لگایا ہے اس کی چھٹی جلدمیں حاشیہ لگاتے ہوئے کہتاہے کہ یرى الكثیرون من العلماء أن كل ما ورد من أحادیث عن المهدی إنما هی موضع شك وأنها لا تصح عن رسول الله صلى الله علیه وسلم بل إنها من وضع الشیعةترجمہ :بہت سارے علماء کا خیال ہے کہ جواحادیث امام مھدی عج کے بارے میں وارد ہوئی ہیں ان میں شک ہے اور رسول اکرم سے روایت نہیں ہوئیں بلکہ شیعوں کی گھڑی ہوئیں ہیں اسی چھٹی جلد کے باب (فی تقارب الزمن وقصر الامل )کے ذیل میں کہتاہے کہ ویرى الكثیرون من العلماء الثقاة الأثبات أن ما ورد من أحادیث خاصة بالمهدی لیست إلا من وضع الباطنیة والشیعة وأضرابهم وأنها لا تصح نسبتها إلى الرسول صلى الله علیه وسلمترجمہ :بہت سارے علماء کے نزدیک ثابت ہے کہ جواحادیث مھدی کے ظہور کے بارے میں وارد ہوئی ہیں یہ شیعوں کی من گھڑت ہیں اور ان احادیث کی رسول اکرم کی طرف نسبت دینا صحیح نہیں ہےمحی الدین عبد الحمید سیوطی کی کتاب العرف الوردی فی اخبار المھدی ص ۱۶۶ پر حاشیہ لگاتے ہوئے کہتاہے کہ  یرى بعض الباحثین أن كل ما ورد عن المهدی وعن الدجال من الإسرائیلیات کہ مھدی کے بارے میں جواحادیث وارد ہوئی ہیں وہ (نعوذ باللہ )یہودیوں کی بنائی ہوئی ہیں اس سے بھی زیادہ خطر ناک ابوعیبہ جو بعثت الازھر کا رئیس ہے کتاب النھایہ جوابن کثیر کی کتاب ہے اس پر حاشیہ لگاتے ہوئے کہتاہے کہ اصلا مھدی کی شان اور عیسی کے نزول اور دجال کے بارے میں کوئی احادیث وارد نہیں ہوئیں  حالانکہ

اولا : خوداھل سنت مھدویت کے عقیدہ کو دین اسلام کی ضروریات میں شمار کرتے ہیں اور اس کے منکر دین اسلام سے خارج سمجھتے ہیں المجلۃ الاسلامیۃ بالمدینۃ المنورہ شمارہ نمبر ۲ ص ۱۴۴ 
میں لکھا ہے کہ امام مہدی عج کے ظہور کی تصدیق ایمان میں داخل ہے اورمھدی کے ظہور کی تصدیق یعنی رسول اکرم صل اللہ علیہ و آلہ وسلم  کے قول کی تصدیق ہے اور جو مھدی کے ظہور کا انکار کرے یعنی اس نے رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی بات کو جھٹلایا ہے.

ثانیا :اھل سنت کی معتبر کتابوں کوپڑھنے سے اور وہ اصحاب جن سے یہ احادیث نقل ہوئی ہیں ،اھل سنت کے وہ علمائے کرام جنہوں نے باقاعدہ امام مھدی علیہ السلام پر مستقل کتابیں لکھی ہیں ان سب سے یہ واضح ہوتاہے کہ یہ شیعوں کی من گھڑت احادیث نہیں ہیں ۔

ثالثا : دوسری طرف ایک الھی حکومت کا انتظار کہ جس میں عدل وانصاف قائم ہو، خدا وند متعال کی عبادت ہو، کسی پر ظلم نہ ہو، کیا ایسی حکومت کا انتظار ایک مسلمان کا کمال اور فضیلت شمار نہیں ہوتا کہ جس کی خوشخبری خود رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دی تھی اور اس وقت سے مسلمان ایسی الھی حکومت کا انتظار کرتے رہے ہیں اور یہ شیعوں کے ساتھ نہ مختص ہے اور نہ شیعوں کا من گھڑت ۔ اب ہم ان اصحاب کے نام ذکر کرتےہیں  جنہوں نے رسول اکرم سے روایات نقل کی ہیں جو ان کے قول کو جھوٹا ثابت کرنےکے لیے کافی ہے کہ یہ شیعوں کی من گھڑت ہیں اور ان اصحاب سے خود اھل سنت نے احادیث نقل کی ہیں اور اپنی کتابوں میں ذکر کی ہیں ۔ ان اصحا ب کے نام جنہوں نے رسول اکرم سے روایات نقل کی ہیں وہ یہ ہیں علی بن أبی طالب الحسین بن علیأم سلمةعبد الله بن عباس حذیفة بن الیمان أبو سعید الخدری جابر بن عبد الله عمار بن یاسرعبد الله بن مسعودعبد الرحمن بن عوف عبد الله بن عمرعبد الله بن عمروأبو هریرةأنس بن مالكعوف بن مالكثوبان مولى رسول اللهقرة بن إیاس علی الهلالی عبد الله بن الحارث بن جزءعمران بن حصین أم حبیبة رضی الله عنه اطلحة  بن عبید الله عثمان بن عفان أبو الطفیل جابر الصدفی امام مھدی عج کے بارے میں جو روایات وارد ہوئی ہیں وہ ان اصحاب سے نقل ہوئی ہیں یہ اھل سنت کے نزدیک ہیں حالانکہ شیعوں کے اماموں جو امام علی علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کے علاوہ دوسرے اماموں سے نقل ہوئی ہیں ان سے بھی روایات نقل ہوئی ہیں جو بہت زیادہ ہیں کیا یہ سب جھوٹ ہے اور شیعوں کی من گھڑت ہیں تو سب دین اسلام پر درود پڑھنا ہوگا کیونکہ بہت کم ایسے موضوع ہیں جن پر اتنی تاکید ہوئی ہے تو جن موضوعات پر بہت کم احادیث بیان ہوئی ہیں ان کا کیا بنے گا  


source : http://www.zuhoor14.com/node/112
  664
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

آخرین مطالب

      هدف اساسى اسلام نسبت به خانواده‏  
      جوانان را دریابید!
      انفاق به غير مؤمنان‏  
      رحم خدا در برزخ و قيامت‏
      روزگار امام دوازدهم
      امام زمان (عج) فريادرس انسان‏‌ها
      سیمای حضرت علی اکبر (ع)
      ياد پدر و مادر در نمازهاى يوميه‏
      تربيت در آخر الزمان
      حق خداوند متعال بر بنده

بیشترین بازدید این مجموعه

      ازدواج غير دائم‏
      میلاد امام حسین (علیه السلام)
      آیه وفا
      اسم اعظمی که خضر نبی به علی(ع) آموخت
      یک آیه و این همه معجزه !!
      نیمه شعبان فرصتی برای بخشش گناهان کبیره
      شاه کلید آیت الله نخودکی برای یک جوان!
      حاجت خود را جز نزد سه نفر نگو!
      فضيلت ماه شعبان از نگاه استاد انصاريان
      افزایش رزق و روزی با نسخه‌ امام جواد (ع)

 
user comment