اردو
Tuesday 26th of March 2019
  1118
  0
  0

اجنبی سیٹلائت چینلز سے متعلق آیت اللہ سیستانی کا فتوی

حضرت آیت اللہ سیستانی کی نظر میں اجنبیوں کو اطلاعات دینا اور ان سے اطلاعات لینا جائز نہیں ہے۔اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آیت اللہ العظمی سیستانی نے دو سوالوں کا جواب دیا ہے جو "زمزم احکام" سے گفتگو کرتے ہوئے آیت اللہ سیستانی کے نمائندے "حجت الاسلام جواد محمودی" نے بیان کیا ہے
سوال: کیا یہ درست ہے کہ ہم اجنبیوں کی ویب سائٹس، سیٹلائت چینلز اور بیگانہ قوتوں کے ذرائع ابلاغ کو دیکھیں اور سنیں اور ان سے اطلاعات و معلومات حاصل کریں؟ 
جواب: آیت اللہ سیستانی بیگانہ قوتوں کے زیر نگرانی چلنے والی ویب سائٹوں اور سیٹلائٹ چینلوں کو دیکھنے کی اجازت نہیں دیتے خواہ موصولہ اطلاعات جائز اور مشروع ہی کیوں نہ ہوں؛ کیونکہ یہ عمومی اخلاق کے خلاف ہے اور تدوین شدہ قوانین کی خلاف ورزی ہے چنانچہ حضرت آقا اجنبیوں کی ویب سائٹوں اور سیٹلائٹ چینلز سے استفادہ کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ 
سوال: اگر ہم اجنبی ذرائع ابلاغ اور بیرون ملک میں واقع نیٹ ورکس سے رابطہ کریں اور پیغام، ایمیل وغیرہ کے ذریعے ملکی حالات کے بارے میں انہیں معلومات فراہم کریں تو ہمارے اس عمل کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟
جواب: اجنبیوں کو پیغام اور ویب سائٹوں کے ذریعے ملک کی روان صورت حال کی اطلاعات و معلومات فراہم کرنا ـ چونکہ اسلام اور مسلمین کے مفادات اور مصلحتوں اور نظام کے مفاد کے خلاف ہے؛ چنانچہ آیت اللہ سیستانی اس کی اجازت نہیں دیتے اور یہ عمل جائز نہیں ہے


source : .abna.ir
  1118
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      کیا شیعھ اثنا عشری کے علاوه کوئی بھشت میں داخل ھوگا؟ ...
      فلسفہٴ روزہ
      اجتھاد اور مرجعیت
      اسلام کانظام حج
      تقلید
      مبطلاتِ روزہ
      حج کی قسمیں
      کیوں شیعہ ظہرین ومغربین ملا کر پڑھتےہیں ؟
      میت کی تقلید کیوں جائز نہیں؟
      اسلام ہی اصل تہذیب ہے

 
user comment