اردو
Monday 25th of March 2019
  763
  0
  0

ايثار وشہادت كي ثقافت كي تعمير نو كے طريقے

آج كے ايران ميں ايثار وشہادت كي تہذيب دوسرے بہت سے معنوي كلمات اور اصطلاحات كے مانند عميق مفہوم اور متعدد مصاديق كے ساته سطحي وغير معقول تفسيروں كي بنياد پر ايك قسم كي كج فہمي اور نقصان سے اسقدر دوچار ہے كہ اسكي ترويج اور نسل نو كے سامنے اسكي حقيقت كا بيان مشكل ساز ہے۔ البتہ دوسري جانب جنگ تحميلي ميں ايسے مفاہيم كے عيني مشاہدے اورتجربات كے سبب انكي ترويج و تبليغ كا ماحول بهي تيار ہے۔ 
آج كے دور ميں اس موضوع سے متعلق يكسونگري، مفہوم ايثار وشہادت كي صحيح تاويل وتفسير نہ كرنا اور كبهي جنگ وخونريزي كے مفہوم سے ہماہنگ دكهانے جيسے موانع اس بيش قيمتي اور عميق تہذيب كو اپنے حقيقي مفہوم سے جدا كرديتے ہيں۔ جبكہ ايسے مفاہيم كو صلح كے زمانے ميں اور زيادہ پيش كرنا چاہئے۔
اس مقالہ ميں كوشش كي گئي ہے كہ قرآن كريم اور عرفان اسلامي ميں موجود شہادت كے مفہوم كو مد نظر ركهتے ہوئے نظام تعليم وتربيت اورخانوادہ كي تاثير وطاقت كے ذريعہ بچوں، نوجوانوں اور جوانوں كے درميان جذبۂ ايثار وشہادت كي تعمير نو كے عملي وبنيادي طريقہ پيش كئے جائيں۔ 
مقدمہ:
لغت ميں ايثارانفاق كرنا، دوسروں كو ترجيح دينا، دوسروں كے فائدہ كو اپنے فائدہ پر مقدم ركهنا اور اپنے ليے ضروري اشياء دوسروںكو بخشنا ہے۔ 
شہادت كے لغوي معنا كچه اسطرح ہيں :حاكم يا قاضي كے سامنے اسي چيز كي گواہي دينا جسے اپني آنكهوں سے ديكها ہو اور خدا كي يكتائي كي گواہي دينا بهي شہادت ہے اور خاصطور پر كلمۂ شہادت كے معني لا الہ الا اللہ زبان پر جاري كرنا ہے۔ 
لفظ ايثار وشہادت اور ان سے متعلق دوسرے الفاظ جيسے كہ شہيد، شاہد اور مشہود اپنے معني كي وسعت كي خاطر مختلف زمانوں اور تہذيبوں ميں ايك قسم كي سطحي فكر اور كبهي كبهي نامناسب معاني سے روبرو ہوئے ہيں۔ اس سب كے باوجود ان الفاظ كے معني كي درجہ بندي ايثار وشہادت كي تہذيب كي واقعي تعمير نوكا سبب بن سكتي ہے۔ 
سابقۂ تحقيق:
وہ مكتوب آثار جن ميں واضح طور پر ايثار وشہادت كي تہذيب كو بيان كيا گيا ہے عام طور پر دفاع مقدس كے ضمن ميں بيان كيا گيا ہے اور ان ميں بہت كم اصلي اسلامي منابع كو مد نظر ركها گيا ہے۔ ايسے مكتوب منابع جن ميں شہادت كے حقيقي معني بيان ہوئے ہيں غالباً عرفان اسلامي كے ديگر مفاہيم كے ضمن ميں پوشيدہ ہيں۔ تربيتي علوم سے متعلق تحقيقات ميں بهي اطفال اور جوانوں ميں كسي تہذيب كي ترويج كو ضمني طور پر بيان كيا گيا ہے۔ ليكن ايثار وشہادت كي تہذيب كي ترويج كے موانع كي شناخت اور انكو برطرف كرنے كے لئے لازمي ہے كہ ايثار وشہادت كے حقيقي مفاہيم كے ساته ساته علوم تعليم وتربيت كا لحاظ ركها جائے۔ 
اس مقالہ ميں جو راہيں اور طريقے بيان ہوئے ہيں اگر ظاہري طور پر سادے اور معمولي ہيں ليكن ايثار وشہادت كي ترويج كے بنيادي موانع كو بيان كرتے ہيں اسكے ساته ساته عرفان اسلامي اور تربيتي علوم كے منابع سے استفادہ كے لحاظ ايسي كوئي تحقيق ہمارے سامنے نہيں آئي۔ 
تحقيق كي روش۔ اس مقالہ ميں روش كتابخانہ كو مد نظر ركهكر معتبر مكتوب منابع اور مشہور، عارف اورمتفكرافراد جيسے كہ فريتہيوف شووان، رنہ گنون اور سيد حسن نصر كے آثار سے استفادہ ہوا ہے۔ 
مسئلہ كي وضاحت۔ اس مقالہ ميں ايثار وشہادت كے حقيقي معني كي وضاحت كے ساته ساته كوشش كي گئي ہے كہ ان كلمات كے حقيقي معني كے سلسلے ميں شبہہ كا ازالہ كرديا جائے۔ اسكے بعد موجودہ موانع كے بيان كے ساته ساته مختلف لوگوں ميں ايثار وشہادت كي تہذيب كي ايجاد واصلاح اور ترويج وترغيب كے طريقہ بتائے گئے ہيں۔ 
ايثار وشہادت۔ كلمۂ لا الہ الا اللہ ايك نفي وانكار اور ايك قبوليت پر مبني ہے۔ لا الہ كي صورت ميں ہر چيز كي نفي اور جب ہر چيز در ميان سے اٹه جائے تب الا اللہ ذہن نشين ہو تا ہے۔ شہادت وايثار كے واقعي اور كامل معني ذكر لا الہ الا اللہ كے عميق معني كے ادراك پر منحصر ہے۔ امام محمد غزالي نے مشكاة الانوار ميں تحرير فرمايا كہ جب تك ماسوي پر ذرہ برابر بهي توجہ رہے گي ''لا الہ'' كے محتاج رہوگے ليكن جيسے ہي رب الارباب كے مشاہدہ كي خاطر ہر چيز سے كنارہ كشي اختيار كي ''لا الہ'' كي نفي سے جدا ہوئے تو قُل اللّہ ثُمَّ ذَر'هُم فِي خَوضِهِم يَلعبُون (انعام ٩٢) كے اثبات تك رسائي ہوجائيگي۔ جب عدم كے ذكر سے فارغ ہو كر صرف واجب الوجود كي ياد ميں مصروف ہوجاؤگے اس وقت فقط ''اللہ'' كہو گے اور ماسوي سے نياز ہوجاؤگے۔ 
حديث نبوي ميں آيا ہے كہ سوائے شہادت كے ہر نيكي كے بلند مراتب بهي ہے ۔ 
شہادت اس لحاظ سے كمال ہے كہ اپنے اندر توكل، رضا، تسليم، توحيد، اتحاد ووحدت جيسے مفاہيم سميٹے ہوئے ہے اور جب كوئي شہيد ہو تاہے محدود سے لا محدود كي جانب سفر كرجا تاہے۔ 
تم جب شہيد ہوگے خدا كي جانب سفر ميں اس حقيقت كي جانب متوجہ ہوگے كہ ذات خدا ايسا آئينہ ہے جسميں تم خود كو ديكهو گے بالكل ايسے ہي جيسے تم خود آئينہ حق ہو اور خدا اس آئينہ ميں اسماء اور انكے كمالات كا مشاہدہ كرتا ہے۔ ليكن اسكے اسماء اسكي ذات سے جدا نہيں ہيں لہذا آخر كار پروردگار پروردگار ہے اور بندہ بندہ ہے اسكے با وجود خداوند اس آئينہ كے مثل ہے جسميں ايك روحاني انسان اپني حقيقت كا مطالعہ كرتا ہے۔ جسكے نتيجہ ميں خود انسان ايسا آئينہ ہوجا تاہے كہ خدا اپنے اسماء وصفات اسميں مشاہدہ فرماتا ہے اسطرح كہ اس ا نسان كے قلب ميں ہدف خلقت كمال كو پہونچتا ہے اور خداوند اسكے دل ميں مخفي خزانے كو پہچان ليتا ہے۔ جو انسان شہادت كي منزلوں كو طے كرتا ہے موت آنے سے قبل اسماء وصفات الہي كے سامنے موجود تمام حجاب برطرف كرنے كے سبب اسماء وصفات الہي كي عظمت كو اپني روح كے ذريعہ درك كرتا ہے۔ 
شہادت يہ نہيں كہ انسان اپني زندگي سے نااميد، اپني خلقت كے طبيعي تقاضوں سے بيزار ہوكر لذت بخش بہشتي زندگي كي خاطر موت كو قبول كرلے۔ 
شہادت كا مطلب يہ نہيں كہ انسان ايك خود كش حملے كے تحت خدا كي عطا كردہ حسين زندگي كو خطر ے ميں ڈالے۔ شہادت كوئي جذباتي مسئلہ نہيں ہے۔ 
شہيد جذبۂ وصال پروردگار كے عشق كا مشتاق ہوتا ہے۔ تمام چيزيں اسكي جانب سے ہيں اور اسي كي جانب سب كي بازگشت ہے۔ اس سے قبل كہ خدائي قانون اسے اپني گرفت ميں لے شہيد اپنے اشتياق وعشق كے سبب اسكي جانب سفر كرتا ہے۔ مقام شہادت كا لازمہ مراتب كمال تك رسائي ہے۔ اور يہ مرتبہ پروردگار كي قدرت وعظمت سے عشق كي بنياد پر ميسر ہے۔ خدا ہي اپنے بندوں كا سب سے پہلا عاشق ہے اور وہي قلب انساني ميں عشق ايجاد كرتا ہے۔ جب كبهي عشق ايجاد ہوتا ہے اپني مقدار عظمت كے لحاظ سے عاشق الہي كے قلب ميں نور كي بارش كرتا ہے اور قلب كي تاريكي نور سے بدل جاتي ہے۔ جيسے ہي نور چهوٹي چهوٹي رگوں ميں جاري ہو تاہے اور انسان عشق الہي ميں ركاوٹ نہ بنے تو رفتہ رفتہ روزنۂ نور ميں وسعت ايجاد ہوجاتي ہے جو انساني دل كو شفاف آئينہ كي مانند كرديتي ہے اور انسان پروردگار كي عظمت وقدرت وجمال كا ايسا شاہد بن جاتا ہے كہ اپنے ارد گرد جو كچه ديكهتاہے اسميں بس جمال حق كو حاضر وزندہ ديكهتا ہے۔ 
شہادت خير وشر كے درميان كبهي جسماني جنگ وميداني كارزارميں راہ خدا ميں قتل ہونے كي صورت ميں حاصل ہوتي ہے اور كبهي صلح كے زمانے ميں بهي جب خير وشر كے درميان حقيقي جنگ ہوتي ہے اور نور كے درميان نوراني حجاب دكهائي ديتے ہيں اور جہاد اكبر پيش آتا ہے۔ 
ايثار، شہادت كا پيش خيمہ ہے۔ ايثار ايسا تجربہ ہے جو انسان كويہ ا لہي قانون سكهاتا ہے كہ عالم خلقت ميں تمام چيزيں متحرك ہيں اور پاني كي گردش يا جو كچه اس عالم ميں ہے اس تحرك ميں ركاوٹ بنے تومرتبہ گهٹنے كا سبب بنتاہے۔ 
ايثار كا معنوي قانون يعني بندگان خدا كے لئے فيض الہي كا مانع نہ بننا، يعني اپنے نفس كو دوسري تمام مخلوقات خدا كو اہميت دينے كي خاطر اختيار ميں ركهنا، يعني كائنات كے ذرہ ذرہ ميں پروردگار ہستي كے حضور كو درك كرنا۔ 
جو ايثار كرتا ہے اپني جانب سے دوسروں كو عطا نہيں كرتا اور اسكي ملكيت كم نہيں ہوتي وہ صرف بندگان خدا كے لئے واسطۂ فيض ہے۔ ايثار كرنے والا خدا سے ليكر اسكے بندوں تك پہونچاتا ہے لہذا وہ پروردگار كي نعمتوں كا ايك جاري دريا ہے۔ وہ اپني معرفت اور تجربے سے درك كرتاہے كہ كائنات ميں كوئي دوسرا وجود، غير پروردگار كے معني ميں نہيں ہے اسي وجہ سے ايثار كرنے والا لطف وعظمت پروردگار سے ملنے والي ہر نعمت كو صحيح طريقہ سے استعمال كرتا ہے۔ ايثار كرنے والا الہي نعمتوں كو ضائع نہيں كرتا اور نعمتوں كا سب سے بہتر استفادہ وصال پروردگار كي راہ ميں استفادہ كرناہے۔ جب شہيد اپني جان راہ خدا ميں فدا كرتا ہے حقيقت ميں زندگي كي نعمت سے اسي كے حكم كے مطابق وصال پروردگاراوراسكے بندوںكي خدمت كي خاطراستفادہ كرتا ہے۔اسي وجہ سے شہيد عاشقانہ انداز ميںاپنے پروردگار كي اطاعت كے شوق كے سبب اپني جان فدا كرديتا ہے اور ايك دوسري عظيم دنيا ميں پروردگار كے سامنے زندہ وحاضر ہوتا ہے اور يہي ''شہادت''ہے۔ 
ايثار وشہادت ايك فردي امر ہے جو خود انسان كے ارادہ اور اختيار كي بنياد پر البتہ لطف پروردگار كي مدد سے حاصل ہوتا ہے ليكن سماج اسكي ترويج وتبليغ كے لئے مناسب ماحول ايجاد كرسكتا ہے۔ اور يہ بات واضح ہے كہ سماج كے مختلف طبقوں ميں ايسي ماحول سازي تربيتي اصول كي پيروي اور اسي سماج ميں تاثير گزاري كے باعث ہي ممكن ہوگي۔ 
ايثار وشہادت كي تہذيب كي ترويج كے موانع۔ 
ايثار وشہادت كي تہذيب كي تعمير نو كي راہوں كو مختلف قسمتوں ميں بيان كرنے سے پہلے اس تہذيب كي ايجاد وترويج كے اہم موانع كي طرف خلاصہ كے طور پر ايك اشارہ كردينا مناسب ہے۔ سب سے زيادہ اہم مانع جو تمام مخاطبوں ميں مشترك ہے معنوي مفاہيم كي گہرائيوںاور باطن كي طرف بے توجہي ہے جيسے كہ مفہوم شہادت لوگوں كے ذہن ميں موجودہ حقيقت سے كچه الگ ہے۔ 
دين اسلام اور خاصطور پر مذہب تشيع ايثار وشہادت كي تہذيب كي جلوہ گا ہے اور دوسرے بڑے اديان كے مثل اپني ايك صورت اور معنا ركهتا ہے۔ شريعت يا اعمال ومراسم اور معنا و باطني راہ
رنہ گنون سنت كے ان دو زاويوں كو جو ايك طولي اوردوسرا عرضي ہے راہ باطني كے عنوان سے ذكر كرتا ہے، اسكي نظر ميں ان دونوں كے درميان بدن اور قلب كے جيسا رابطہ ہے۔ 
شريعت كو كبهي ظاہر اور كبهي باطن بهي كہا گيا ہے۔ شريعت سے مراد ايسے اصول اور عبادات ہيں جو خود سعادت بشر كے ضامن ہيں۔ شريعت حقيقت كي تجلي گاہ اور وجود انساني كو اسكي حقيقي زندگي كي طرف دعوت ديتي ہے۔ عرفان اسلامي ميںايك بنيادي دستور يہ مشہور حديث ہے كہ جس ميں خدا نے پيامبر ۖ كي زبان مبارك سے فرمايا: ميرابندہ ہميشہ مستحب امور كي خاطر مجه سے نزديك ہوتا ہے يہاں تك وہ ميرا محبوب ہوجاتا ہے اور جب ميں اس سے محبت كرنے لگتا ہوں تو اسكا سننے والا كان بهي ميں ہي ہوجاتا ہوں اسكي ديكهنے والي آنكه بهي ميں ہي بن جاتا ہوں اور اسكے ہاته پير بهي ميں ہوجاتا ہوں جس سے وہ اپنے امور انجام ديتا ہے۔ اور اسطرح فاعل مطلق فاعل مشروط كي جان ميں بس جاتا ہے اور فاعل مشروط فاعل مطلق ميں ضم ہوجاتا ہے۔ يہي حقيقت، طريقت باطني كا جدائي ناپذير جز ہے۔ 
بعض ديني مفكر اور عظيم شخصيتوں نے اس عقيدے كو دليل بناتے ہوئے كہ شريعت عوام كے لئے اور طريقت معنوي خواص كے لئے باطني راہ كو عام انسانوں كے لئے دستيابي سے باہر بتاديا ہے البتہ عوام كو خواص سے ممتاز كرنا انكے لئے ممكن نہيں ہے۔ اس فكر كا نتيجہ يہ ہے كہ جو كچه وسيع پيمانے پر مختلف طريقوں سے ترويج وتعليم ديا جاتا ہے بے روح شريعت ہے، اسي سبب ممكن ہے دين كے لئے ايسے حالات پيش آجائيں كہ متدين لوگوں كي تمام توجہ صرف ظاہري امور پر ہو اور معني وروح شريعت سے غفلت ہوجائے۔ ظاہر ہے كہ بے روح شريعت پر عمل دين كو بے مقصد بنا ديگا۔ ايسے حالات ميں متدين افراد دين كي حقيقي عظمت سے بے بہرہ ہونگے اور كچه لوگ ايسے بے روح دين سے گريزاں ہونگے۔ عوام كے عنوان سے موجود كثير تعداد ميں لوگوں كو اعمال وعبادات كي حقيقت تك رسائي نہ ہونے اور انكو اس لائق نہ سمجهنے كا نتيجہ يہ ہے كہ آج كے كوگ دين كو مادي علم كے قونين كي بنياد پر سمجهنے كي كوشش كريں اور آخر كار جو كچه اسطرح قابل فہم نہ ہو اس سے كنارہ كشي اختيار كرليں۔ ايسے موقع پر ہميں ياد ركهنا چاہئے كہ جناب رسول خدا ۖ ''امّي'' ہيں اور اسميں ہمارے لئے درس پوشيدہ ہے۔ فيض الہي عام ہے اور باران لطف سب پر برستي ہے لہذا تمام انسان اپني استعداد كے مطابق كمال تك رسائي حاصل كرسكتے ہيں۔ آج انسانيت پهر سے اعمال وعبادات ديني كي روح وحقيقت كي محتاج ہے اور تہذيب ايثار وشہادت كي تعمير نو كے لئے ضروري ہے كہ ايثار وشہادت كے حقيقي معاني كو عام انسانوں كے لئے واضح كيا جائے۔ 
ان تمام باتوں كو مد نظر ركهتے ہوئے تہذيب ايثار وشہادت كي ترويج وتبليغ كے بنيادي موانع يوں بيان كئے جاسكتے ہيں:
١۔ راہ باطن كي شريعت سے جدائي 
٢۔ ايثار وشہادت كے مفہوم كي جانب سطحي نظر 
٣۔ طريقت يا باطني راہ كو خواص كے لئے مخصوص سمجهنا
٤۔ عوام كي نسبت بے اعتمادي كہ وہ ديني مفاہيم كو سمجهنے اور حقيقت كي راہ كے ذريعہ اسكو درك كرنے سے عاجز ہيں۔
٥۔ بے روح وبے حقيقت شريعت كي ترويج وتعليم اور شريعت كے عميق مفاہيم كي جانب بے توجہي 
تہذيب ايثار وشہادت كي تعمير نو كے طريقہ۔ يہ طريقے تين گروہوں]
١۔ اساتذہ اور سرپرست 
٢۔ جوانوں اور
٣۔اطفال
كے عنوان كے تحت قابل بحث ہيں۔
١۔اساتذہ اور سرپرست 
الف: شہادت كے حقيقي معني كي ياد آوري كے سلسلے ميں فكري اصلاح۔
سب سے پہلا قدم تہذيب ايثار وشہادت كي نسبت بعض اساتذہ اور سرپرست حضرات كے ذہنوں ميں موجود تعصب،كجروي،افراط،لغزشوں اور محدوديت كو ختم كرنا ہے جسكي سب سے زيادہ ذمہ داري ديني علماء اور باطني راہ پر چلنے والي ہستيوں پر ہے۔ يہ امر كتابو ں كي نشر واشاعت، تقريروں، جلسات اور ميڈيا سے استفادہ كرتے ہوئے امكان پذير ہے۔ ممتاز ہنرمند لوگوں كو اس امر كے لئے ترغيب دلانا اورادبي وہنري آثار كے ذريعہ ماحول سازي اہم كردار ادا كرسكتا ہے۔ سرپرست وذمہ دار حضرات كي ايسي ذہنيت بنانا كہ ايثار وشہادت كي معرفت انكے وجود كا حصہ بن جائے بچوں، نوجوانوں اور جوانوں ميں قابل توجہ تاثير كا سبب بن سكتي ہے۔ 
جہاد يا ايثار وشہادت كو سمجهنے ميں ايك بڑي خطا يہ ہے كہ جنگ وخونريزي كو ان مفاہيم كے مثل بتايا جائے۔ دور حاضر ميں كچه لوگ اسي فكر كے حامل ہيں اور ايثار وشہادت اور جہاد وشہيد كو واقعي طور پر دشمن سے ظاہري جنگ اور فوجي كاروائي كا نتيجہ مانتے ہيں جبكہ دين كے پانچ اركان ميں سے شہادتين سب سے پہلا اور اہم ركن ہے جسكے بغير باقي اركان بے معني ہيں۔ درحقيقت انسان كے تمام اعمال وعبادات (خاصطور پر ميدان جنگ ميں قتل ہو جانا) اس وقت قيمتي ہيں جب ان ميں خدائي رنگ پايا جاتا ہو اسي وجہ سے جب پيغمبر ۖ سے دريافت كيا گيا كہ راہ خدا ميں جہاد كرنے والوں ميں سب سے زيادہ اجر كس كو ملے گا؟ تو آپ نے فرمايا: جو خدا كوسب سے زيادہ ياد ركهتے ہوں۔ ايسي ہي ايك حديث ميں ذكر خدا كے بارے ميں فرمايا: ذكر خدا كے مانند كوئي عمل عذاب الہي كو دور نہيں كرتا ،يہاں پر اصحاب نے سوال كيا آيا كفار سے جنگ بهي اسكے برابرنہيں ہے؟ آپ نے جواب ديا نہيں چاہے اتني جنگ كرے كہ تلوار بهي ٹوٹ جائے۔ اسكے علاوہ ايك دوسري مناسبت سے فرمايا: آيا تميہں ايسي چيز كي تعليم دوں جو كفار سے جنگ كرنے سے بہتر ہے؟ اصحاب نے عرض كيا: ہاں ہميں بتائيے۔ آپنے فرمايا : ذكر خدا ۔ 
اس بنياد پر جب شہادت كمال كا بلندترين درجہ ہے تو صرف كفار سے جنگ كے معني ميں كيونكر ہوسكتا ہے جيسا كہ ايك غزوہ سے بازگشت كے موقع پر آنحضرت ۖ نے فرمايا: ہم نے اب جہاد اصغر (جو تلوارسے انجام پاتا ہے) سے جہاد اكبر (جو ياد خدا سے انجام پاتا ہے) كي جانب رخ كيا۔ 
لوگوں ميں قلبي طور ايثار وشہادت كے عظيم معني كي قبوليت آخر كار زمانۂ صلح ميں اسكي ترويج كا سبب بنتي ہے كيونكہ ايك تربيتي قانون كے لحاظ سے لوگ اندروني طور پر جيسے ہوتے ہيں ويسے ہي مفاہيم كو درك كرتے ہيں نہ وہ مفاہيم جو ان سے ،مطلوب ہوں۔ لوگ اپني اولاد كي ويسي تربيت كرتے ہيں جيسے خود ہيں نہ ويسي تربيت كہ جيسي چاہتے ہيں۔ 
ب: تربيتي اصول وروش سے آشنائي: 
اساتذہ اور سرپرست حضرات اپني دانش ومعرفت كو منتقل كرنے كے لئے تربيت كے صحيح قوانين واصول كے محتاج ہيں۔بعض موقوں پر نامناسب رويہ اور كبهي كبهي زبر دستي كرنا يا بے وقت نامناسب طريقے سے تعليم نہ صرف يہ كہ نوجوانوں اور جوانوں كے لئے قابل قبول نہيں ہے بلكہ دين سے بيزاري كا سبب بنتي ہے۔ لہذا معرفت ودانش ہونا ہي كافي نہيں ہے بلكہ اپني معرفت ودانش كو صحيح طور پر دوسروں تك منتقل كرنے كے لئے تربيتي علوم كے معتبر قواعد كي آشنائي بهي لازمي ہے۔ 
ج۔ جوانوں كي باطني پاكيزگي كے علاوہ انكي قابليت و صلاحيت پر اعتماد كرنا۔ 
اساتذہ اور سرپرست حضرات اور جوانوں كے درميان رابطہ ميں جو چيز بہت بڑا مانع ہے وہ ہر زمانے كے ماحول كو ملحوظ خاطر ركهے بغير ماضي كے جوانوں كا حال كے جوانوں سے مقايسہ كرنا ہے اور خاصطور پر يونيورسٹي وغيرہ ميں يہ مسئكہ زيادہ در پيش ہے۔ دور حاضر كے اساتذہ اور مربيو ں كي جواني انقلاب اور جنگ تحميلي كے جيسے خاص حالات ميں گذري ہے اسكے ساته ساته ايران پر جنگ اور اسكے بعد اْقتصادي بائيكاٹ كے نتيجہ ميں جو نقصانات ہوئے ان سے چشم پوشي نہيں كي جاسكتي لہذا ياد ركهنا چاہئے كہ ہر زمانے كے انسان اپنے زمانے كے حالات كے تقاضوں كے مطابق پروان چڑهتے ہيں اس بنا پر زمانے كے فرق كو ملاحظہ كئے بغير آج كے جوانوں كا ماضي كے جوانوں سے مقايسہ ان جوانوں كي صلاحيت پر شك اور انكي اندروني پاكيزگي كے ساته ساته انكي قابليت اور نيك كرداري پر توجہ نہيں دي گئي ہے۔ جوانوں كي استعداد پر توجہ انكے والدين اور اساتذہ كي جانب سے قبوليت كا سبب بنتي ہے اورايك دوسرے كا احترام عظيم ديني مفاہيم كي افہام وتفہيم ميں معاون ثابت ہوتا ہے۔ 
انسان كے وجود ميں روح الہي پر توجہ سبب بنتي ہے كہ اساتذہ اور مربي تہ دل سے جوانوں كو لائق وفہيم، پاكيزہ وبا صلاحيت اور مستقل سمجهيں اور اسي عقيدے كے تحت ايثار وشہادت كے حقيقي معني كے تجلي بن كر جوانوں كو باطني وروحاني راستوں پر چلنا سكها سكتے ہيں اور تہذيب ايثار وشہادت كے جلوہ گر ہونے ميں بخوبي ماحول سازي كرسكتے ہيں۔ 
٢۔ جوان
اساتذہ اور سرپرست حضرات كي ذمہ داريوں كے سلسلے ميں جو بحث كي گئي اسكے علاوہ كچه عملي اقدام تہذيب ايثار وشہادت كي تشكيل كے موانع كو ان جوانوں كے سلسلے ميں برطرف كرسكتے ہيں جو ممكن ہے كہ كچه ركاوٹوں كے سبب دين سے گريزاں يا مفاہيم وعبادات ديني سے بد بيں ہوگئے ہوں۔ 
الف۔ اسكول كا ماحول اور يونيورسيٹيوں ميں صحيح تربيت۔
تعليم وتربيت كي نامناسب روش كي خاطر اكثر جوانوں ميں خوف گناہ اور نالائقي كا احساس پايا جاتا ہے۔ ايسے جوان معنويت اور معرفت الہي كو دسترس سے بہت دور سمجهتے ہيں۔ اعتماد بہ نفس پيدا كركے جوانوں ميں كائنات سے متعلق محبت ايجاد كي جاسكتي ہے جو خود پروردگار كي سمت رجوع اور ايثار وشہادت كے جذبہ كي تعمير نو كا سبب بن سكتي ہے۔ 
ب۔ تعليمي نظام ميں اسلامي معارف سے متعلقہ دروس ميں ترتيب واستحكام۔
بعض موقعوں پر اسلامي معارف (اخلاق اسلامي، اسلامي تعليم وتربيت وغيرہ) كے دروس ميں صرف شريعت كے ظاہري امور پر تاكيد كے علاوہ مختلف سطحوں ميں ايك ہي جيسے مطالب مكرر پيش كئے جاتے ہيں جو طالبعلموں كي بے توجہي اور دلسردي كا سبب بنتے ہيں۔ مناسب تو يہ ہے كہ طالب علم كي علمي سطح كے لحاظ سے ديني مسائل كو سنجيدگي كے ساته تحرير كيا جائے۔ 
ج۔ عرفان اسلامي كے متون كي از سر نو تدوين وتاليف۔ 
جوانوں كي ايك كثير تعداد مشرقي عرفاني كتابوں يا دين نما مكاتب كي جانب مائل ہوئي ہے۔ يہ ميلان عرفان اسلامي كے سلسلے ميں قابل فہم منابع كي عدم موجودگي اور معنويت كے بارے ميں اندروني عطش كا نتيجہ ہے۔ آج كے جوان مسلمان ہونے كے باوجود غير اسلامي (ہندي، تبتي، مسيحي) عرفان كتابوں كي طرف زيادہ مائل ہو رہے ہيں كيونكہ يہ كتابيں اسلامي عرفاني كتابوں كي بہ نسبت زيادہ آسان اور سليس زبان ميں لكهي گئي ہيں۔ 
ظاہر ہے قديم اور پيچيدہ اسلامي عرفاني متون كي سادہ زبان ميں از سر نو اسطرح تحرير كہ اسكا مقصد ختم نہ ہو جوانوں كو جذب كرنے ميںمعاون ثابت ہوگي۔ لہذا مناسب ہو گا كہ ثقافتي ادارے روحاني ومعنوي امور سے آشنا مصنف اور مولف حضرات كے لئے راہ ہموار كريں۔ عادلانہ سلوك، قارئين كي قدرت فہم وانتخاب كي تشخيص اور اديان توحيدي كے معارف كو دور حاضر كي سليس زبان ميں تاليف اس راہ كے موثر اقدامات ميں شمار كئے جاسكتے ہيں۔ 
٣۔ اطفال
كسي بهي فرد ميں تہذيب بچپن سے ہي وجود ميں آتي ہے۔لہذا ايك ثابت ومستحكم نتيجہ تك پہونچنے كے لئے بچے كو شروع سے صحيح تربيتي اصول كے ذريعہ انوار الہي سے مانوس كرنا چاہئے تاكہ جواني كے عالم ميں ايثار وشہادت اسكے وجود ميں جلوہ گر ہو۔ قوم كے بزرگوں (اساتذہ اور سرپرست حضرات) كي تربيت اور ثقافتي امور كے صحيح اصول كي تعليم بچوں ميں ديني تہذيب وثقافت كي ترقي ميںمو ثر ثا بت ہوسكتي ہے۔ 
الف۔ والدين كي جانب سے بچوں سے بلا شرط محبت۔
فروم كے مطابق عشق ايك عمل ہے ايسا عمل جو زبردستي يا مجبوري كے بغير اور فقط آزادي كي صورت ميں انساني صلاحيتوں كو بروئے كار لانے كا مادہ ركهتا ہے۔ عشق تاثير گذاري كا نام ہے نہ كہ تاثير پذيري كا، ثابت قدمي كا نام ہے نہ اسير ہونے كا، عشق پہلے مرحلے ،ميں نثار كرنے كا نام ہے نہ كہ قبول كرنے كا۔ اسي طرح يہ بهي كہ عشق وہ معجزہ ہے جسكے ذريعہ ميں دوسروں پر حاوي ہوجاتا ہوں اور اسي كے ذريعہ خود كو ،دوسرے كو اور آدميت كو كامل طور پر كشف كرتا ہوں۔ 
بچوں پر بلا شرط عشق نثار كرنا انميں يہ احساس ايجاد كرتا ہے كہ ميں اچها ہوں آپ اچهے ہيں اور تنہا يہ احساس ہے جسكے ذريعہ انسان خود خواہي كي قيد سے آزاد ہوسكتا ہے اور اللہ كي راہ ميںسيركے ذريعہ مرتبہ شہادت تك پہونچ سكتا ہے۔ 
ب۔ بچوں ميں ذمہ داري كا احساس جگانا۔ 
ذمہ داري كا احساس كمسني سے ہي بچوں ميں جگانا چاہئے كيونكہ اسي كے سبب انسان خود پر اعتماد كرتا ہے اور ذمہ داري كا احساس ركهنے والا ذمہ داري سے خائف نہيں ہوتا۔ وہ اپني لغزشوں كو قبول كرتا ہے اور اسے اپنے كمال تك پہونچنے كا ذريعہ بنا تا ہے۔ ذمہ داري قبول كرنا خود كو منظم ركهنا ہے جو شريعت كو قبول كرنے كا نتيجہ ہے ذمہ دارانسان نے اپنے اندر احكام وقوانين رباني كو قبول كرنے كي صلاحيت پيدا كرركهي ہے لہذا راہ حقيقت پر چلنا اسكے لئے نہايت آسان ہوتا ہے۔ 
ج۔ كائنات ميں موجود پروردگار كي نعمتو ںكو ذہن نشين كرانا۔ 
بچوں كي ذہني آمادگي اور سيكهنے كي صلاحيت ايك اچها موقع ہے ہم انكو مخلوقات ميں پروردگار كي علامتوں اور نشانيوں كي طرف متوجہ كرائيں۔ جب ايك انسان بچپن سے ہي خدا كو اپنے نزديك محسوس كرے اور كائنات كے ايك ايك ذرے ميں اسكي نشانيوں كو درك كرسكے تو يقينا تمام ہستي اسكے لئے پيام حقيقت پہونچانے كا كام كريگي اور اسے نور كي جانب راہنمائي كريگي يہاں تك كہ وہ حق ميں محو ہوجا ئيگا اور حق اسميں ظہور كريگا۔ 
د۔ بچوں كو بتانا كہ پروردگار ان سے محبت كرتا ہے۔ 
بچے جيسے اپنے والدين كي محبت كو نشانيوں كے ذريعہ محسوس كرتے ہيں پروردگار كي محبت كو بهي اسكي نعمتوں كے ذريعہ محسوس كرسكتے ہيں بشرطيكہ والدين انكو اس امر كي طرف توجہ دلائيں۔ اس بات كو سمجهنا كہ پروردگار اپنے بندے كا سب سے بڑا چاہنے والا ہے اور ہميشہ ان پر رحم كرتا ہے انسان كے دل ميں اپنے پروردگار كے لئے عشق ايجاد كرتاہے۔ 
ه۔ بچوں كو خدا پر توكل سكهانا۔
خدا كي اس بات پر توكل كرنے والے كہ فقط وہي اس كائنات ميں عالم مطلق ہے ايمان كے درجوں پر پہونچ گئے ہيں۔ پروردگار پر توكل بهي بچپن سے ہي سكهانا چاہئے اور يہ كسي كام كے سلسلے ميں كوشش كرنے اور كام كا نتيجہ خدا پر چهوڑ دينے كے ضمن ميں بچوں كي فكري سطح كے لحاظ سے بتانا چاہئے۔ مثال كے طور پربچے كو كچه دانے ديكراسكے رشد و ترقي كے بارے ميںبتا كر بہت سے مفاہيم سكهائے جا سكتے ہيں كہ دانے كو مٹي ميں ڈالو اور ہردن اسے پاني دو اور باقي خدا پر چهوڑ كر اسكا نتيجہ ديكهو۔ اس ايك مختصر سے كام كے ذريعہ بچہ عشق،اپني نظم وضبط، احساس ذمہ داري، پروردگار پر توكل كے ساته ساته كائنات ميں جاري خدا كي حكمتوں كو كسي زحمت كے بغير درك كرسكے گا۔ اسي طرح اسے يہ بهي پتہ چلے گا كہ اس كائنات ميں كچه قوانين حاكم ہيں اگر انسان ان سے آگاہ نہ ہو پهر بهي ہميشہ يہ قوانين انكي زندگي ميں دخالت ركهتے ہيں اور انسان انہيں قوانين كا نتيجہ ديكهتا ہے۔ وہ بچہ جو ہستي كے قوانين كو محسوس كرلے نہايت آساني سے الہي قوانين كو قبول كرنے كامادہ ركهتاہے۔ 
و۔ احساس وابستگي نہ ہونا۔
مقام شہادت پر فائز ہونے كے لئے لازمي ہے كہ انسان كے دل ميں كسي بهي چيز سے وابستگي كا احساس نہ ہو۔ ايك ہي وقت ميں عشق اور عدم وابستگي كا احساس شہادت تك پہونچاتا ہے اور يہي احساس ناشناختہ چيزوں كي جانب حركت كا سبب بنتا ہے جسميں كسي چيز كے چهننے كا احساس بهي نہيں ہوتا۔ جب خدا پر توكل اور اسكے عشق كے ساته حركت آغاز ہو تو وہ خود دستگيري فرمائيگا۔ 
نتيجہ گيري۔
جب بهي ايثار وشہادت كي ظاہري شكل يعني جہاد اصغر كو سب كچه سمجها جائيگا تو دين كا مقصد كامل نہ ہوگا لہذا ضروري ہے كہ اسكے باطني اور حقيقي مفاہيم يعني جہاد اكبر كي جانب پہلے سے زيادہ توجہ كي جائے۔ 
اس تہذيب كي تعمير نو اور ترويج كے لئے تربيتي علوم ور سنت پر عمل كے ذريعہ مختلف سطحوں ميںاقدام كرنا لازمي ہے۔ 
ہماري رائے يہ ہے كہ ہر سطح كے نظام تعليم وتربيت سے متعلق ذمہ دار حضرات كے ذہنوں ميں ايك بار پهر شہادت وايثار كے عميق مفہوم كو زندہ كرنے كے ساته ساته ذيل ميں مذكورہ اقدامات بهي لازمي ہيں۔
ا۔تعليم وتربيت سے متعلقہ افراد تربيت كے جديد شيووں سے آشنا ہوں۔
٢۔ انسان كي اندروني پاكيزگي اور لياقت ہميشہ مد نظر رہے۔
٣۔امام خميني كے نوراني كلام كي روشني ميں كہ فرمايا: يونيورسٹي انسان سازي كا كارخانہ ہونا چاہئے، تعليمي مراكز سالم شخصيت سازي اور طالبان علم كي معنوي حالت كي ترقي ميں معاون ثابت ہوں۔
٤۔ اسلامي معارف سے متعلقہ دروس كے مطالب ہر سطح اور درسي مضمون ميں ہماہنگ اور مرتب ہونا چاہئے اسكے علاوہ ابتدا سے ہي شريعت كے ساته ساته باطني راہ كي تعليم بهي دي جاني چاہئے۔ 
٥۔ اسلامي عرفاني كتب كا ترجمہ اور سليس زبان ميں از سر نو تحرير ہونا چاہئے۔
٦۔ اسلامي عرفاني كتب اور آثار كي نشر واشاعت كے لئے ماحول فراہم ہونا چاہئے۔
٧۔ اديان توحيدي كے مشتركہ نكات كو بيان كرنا چاہئے۔ 
٨۔ بچوں كو بلا شرط والدين كي محبت ملنا چاہئے تا كہ انكي سالم شخصيت عشق الہي كي قبوليت كے لئے آمادہ ہو۔ 
٩۔ احساس ذمہ داري بچپن سے ہي مناسب روشوں كے ذريعہ ايجاد كرنا چاہئے۔
١٠۔ بچوں كو پروردگار عالم كي نشانيوں كي طرف متوجہ كرنا چاہئے۔
١١۔ بچوں كو خدا كا اپنے بندوں اور مخلوقات سے عشق باور كرانا چاہئے۔
١٢۔ خدا پر توكل عملي مثالوں كے ضمن سكهانا چاہئے۔ 
١٣۔ بخشش اور عدم وابستگي عملي طور ہر بچوں ميں ايجاد كرنا چاہئے۔


source : http://www.shahed.isaar.ir/ur/index.php?Page=definition&UID=235265
  763
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      ہم امریکہ کی عمر کے آخری ایام سے گذر رہے ہیں: چالمرز ...
      شفاعت کی وضاحت کیجئے؟
      دین اسلام کی خاتمیت کی حقیقت کیا ھے۔ اور جناب سروش کے ...
      کیا تقلید کے ذریعھ اسلام قبول کرنا، خداوند متعال قبول ...
      امام کے معصوم ھونے کی کیا ضرورت ھے اور امام کا معصوم ...
      کیا پیغمبر اکرم (صل الله علیه وآله وسلم) کے تمام الفاظ ...
      عورتوں کے مساجد میں نماز پڑھنے کے بارے میں اسلام کا ...
      خداوند متعال نے کیوں پیغمبر اکرم (ص) کو عارضی ازدواج کا ...
      کیا "کل یوم عاشورا و کل ارض کربلا" کوئی روایت یا ...
      اھل سنت کے وضو کے طریقھ کے پیش نظر آیھ وضو میں لفظ " ...

 
user comment