اردو
Monday 25th of March 2019
  4249
  0
  0

اسلام اورانسانی حقوق

یتیم کا حق

تحریر : ڈاکٹر طاہرالقادری 

حضور نبی اکرم نے معاشرے کے دیگر محروم المعیشت طبقات کی طرح یتیموں کے حقوق کا بھی تعین فرمایا تاکہ وہ بھی کسی معاشرتی یا معاشی تعطل کا شکار ہوئے بغیر زندگی کے ہر میدان میں آگے بڑھ سکیں۔ آپ نے یتیم کی کفالت کرنے

والے کی فضیلت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ” میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح نزدیک ہوں گے اور آپ نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کے ذریعے یہ بات بتائی۔“ قرآن حکیم میں یتیموں کے حقوق کو بڑے جامع انداز سے بیان کیا گیا۔ ”اور وہ (لوگ) تم سے یتیموں کے بارے میں سوال کرتے ہیں (ان سے) کہو (جس بات میں) ان (یتیموں ) کی اصلاح (اور بہتری) ہے، وہ تمہارے لئے بھی بہتر ہے، اور اگر تم ان سے مل جل کر رہو تو وہ تمہارے بھائی بند ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ کون مفسد ہے اور کون مصلح اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں سخت مشکل میں ڈالتا۔ وہ اختیار والا اور حکمت والا ہے۔“ اس ایک آیت میں یتیموں کے وہ تمام حقوق بیان کئے گئے ہیں جو معاشرے پر عائد ہوتے ہیں۔

سب سے پہلے یہ ارشاد فرمایا گیا کہ یتیموں کے بارے میں وہی فیصلہ کیا جائے۔ جو ان کی جان، ان کے مال، ان کے اخلاق، ان کی تعلیم و غیرہ تمام امور میں ان کیلئے بہتر ہو۔ ولی جس طرح اپنی اولاد سے متعلق فیصلہ کرتے ہوئے ہمیشہ ان کی بہتری اور بھلائی مد نظر رکھتا ہے اور اس پر توجہ اور محنت سے عمل کرتا ہے وہی حق یتیموں کا بھی ہے۔ اس کے بعد اس طرف متوجہ کیا گیا کہ یہ نہ سمجھا جائے کہ یہ حسن سلوک صرف انہی کے لئے بہتری اور اصلاح کا موجب ہے، بلکہ یہ معاشرے کیلئے بھی باعث خیر و برکت ہو گا۔ کیونکہ یہی یتیم بڑے ہو کر قوم کے افراد بنیں گے۔ اگر کم سنی میں ان کی تعلیم و تربیت کی کماحقہ نگہداشت نہ کی گئی تو کل یہ معاشرے اور قوم کیلئے ایک بوجھ بن جائیں گے۔ اگر ولی کی غفلت سے ان کے اموال ضائع ہو گئے تو لازماً بڑے ہو کر مفلسی کا شکار ہوں گے اور اس معاشرتی خرابیوں کا باعث بنیں گے۔

یتیموں کی مالی کفالت میں احتیاط اور نگرانی پر زور دیا گیا تاکہ ان کی املاک ضائع نہ ہوں۔ ”تم اپنے مال کو نادان اور کم عمر لوگوں کے حوالے نہ کر دو (کیونکہ) تمہارا مال و دولت اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے معیشت و زیست کا سامان بنایا ہے، ہاں انہیں (کم سنی کے زمانے میں) ان کے مال میں سے کھانے کو دو، پہننے کو دو اور انہیں نیک اور عمدہ تعلیم دو“۔ ”اور یتیموں کا امتحان لیتے رہو، یہاں تک کہ وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں پھر اگر تم ان میں (ہر طرح کی) صلاحیت پاﺅ، تو ان کے اموال ان کے حوالے کر دو اور (اس خوف سے) ان کے مال کو فضول خرچی سے جلد جلد ضائع نہ کر دو کہ وہ بڑے (ہونے پر طلب کرنے کے قابل) ہو جائیں گے۔“ دوسرے مقام پر یتیموں کے حقوق کی پامالی پر سخت و عید سنائی گئی۔ ”جو لوگ ظلم سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں، وہ گویا (یہاں بھی) اپنے پیٹوں میں انگار بھر رہے ہیں اور آخرت میں تو وہ دوزخ کی آگ میں جھونکے جائیں گے۔“ قرآن حکیم میں یتیموں کے حقوق کی ادائیگی پر متعدد مقامات میں زور دیا گیا۔ ”آپ سے پوچھتے ہیں کہ (اللہ کی راہ میں) کیا خرچ کریں، فرمادیں جس قدر بھی مال خرچ کرو (درست ہے) مگر اس کے حقدار تمہارے ماں باپ ہیں اور قریبی رشتہ دار ہیں اور یتیم ہیں اور محتاج ہیں اور مسافر ہیں، اور جو نیکی بھی تم کرتے ہو بیشک اللہ اسے خوب جاننے والا ہے۔“ ”اور یتیموں کو ان کے مال دیدو اور بری چیز کو عمدہ چیز سے نہ بدلا کرو اور نہ ان کے مال اپنے مالوں میں ملا کر کھایا کرو یقینا یہ بہت بڑا گناہ ہے۔“ ”اور (یتیموں سے معاملہ کرنیوالے) لوگوں کو ڈرنا چاہیے کہ اگر وہ اپنے پیچھے تاتواں بچے چھوڑ جاتے تو (مرتے وقت) ان بچوں کے حال پر (کتنے) خوفزدہ (اور فکر مند) ہوتے سوا نہیں (یتیموں کے بارے میں) اللہ سے ڈرتے رہنا (اور فکر مند) ہوتے سو انہیں (یتیموں کے بارے میں) اللہ سے ڈرتے رہنا چاہئے اور (ان سے) سیدھی بات کہنی چاہیے۔

بیشک جو لوگ یتیموں کے مال ناحق طریقے سے کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں نری آگ بھرتے ہیں، اور وہ جلد ہی دہکتی ہوئی آگ میں جا گریں گے۔“ ”اور جان لو کہ جو کہ مال غنیمت تم نے پایا ہو تو اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لیے اور رسول کے لئے اور (رسول کے) قرابت داروں کیلئے (ہے) اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کیلئے ہے۔“ ”اور تم یتیم کے مال کے (بھی) قریب تک نہ جانا مگر ایسے طریقے سے جو (یتیم کیلئے) بہتر ہو یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے۔“ ”اور (یہ لوگ میں جو) مسکین، یتیم اور قیدی کو اس کی (یعنی اللہ کی ) محبت میں کھانا کھلاتے ہیں۔“ ” جو مال (بلا جنگ کے) اللہ نے اپنے رسول کو (دوسری) بستیوں کے (کافر) لوگوں سے دلوایا تو وہ اللہ اور اس کے رسول کا حق ہے اور (یہ مال حضور نبی اکرم اور آپ کے ) عزیزوں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کیلئے ہے۔“ ”یہ بات نہیں بلکہ تم یتیموں کی قدر دانی نہیں کرتے۔ اور نہ ہی تم مسکینوں (یعنی غریبوں اور محتاجوں) کو کھانا کھلانے کی (معاشرے میں) ایک دوسرے کو ترغیب دیتے ہو۔ اور وارثت کا سارا مال سمیٹ کر (خود ہی) کھا جاتے۔“ ’دیا بھوک والے دن کھانا کھلانا ہے۔ قربت دار یتیم کو۔ یا شدید غربت کے مارے ہوئے محتاج کو جو محض خاک نشین (اور بے گھر) ہے۔“ 10۔ بے سہاروں کا حق حضور نبی اکر غریبوں اور مسکینوں کے لئے رحمت اور سراپا لطف و عطا تھے۔ مساکین کو تکلیف میں دیکھ کر آپ ان کے دکھ درد کے ازالے کیلئے کمر بستہ ہو جاتے۔ آپ نے مساکین کی تکالیف کے ازالے کو معاشرے کا فرض قرار دیا۔ ارشاد نبوی ہے۔ ”بیوہ اور مسکین کےلئے امدادی کوشش کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے۔ قعنبی کو شک ہے کہ شاید امام مالک نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس شب بیدار کی طرح ہے جو کبھی سستی محسوس نہیں کرتا اور اس روزہ دار کی طرح جو کبھی روزے نہیں چھوڑتا۔


source : http://www.jang.com.pk/jang/jun2010-daily/02-06-2010/u33270.htm
  4249
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      غرب اردن میں فلسطینیوں کے حملے میں 6 صہیونی فوجی ہلاک و ...
      میر واعظ، سید علی گیلانی اور یاسین ملک نئی دہلی طلب
      بیس لاکھ یمنی بچے سعودی جارحیتوں کی بنا پر تعلیم سے ...
      مسلمان خاتون اسرائیل کی حمایت نہ کرنے پر نوکری سے برطرف
      حضرت امام خامنہ ای کی زبان سے انقلاب اسلامی کی یادیں
      دنیاوی انعام اور نشان کو اللہ تعالی کی راہ میں مجاہدت ...
      عمران خان سے جرمن وزیر خارجہ کی ملاقات، اہم امورپر ...
      “ملا عمر” کی پوشیدہ رہائش (The Secret Life of Mullah Omar) یا چراغ ...
      انوکھا احتجاج
      نوازشریف کو ہرممکن علاج فراہم کیا جائے، وزیراعظم ...

 
user comment