اردو
Friday 19th of July 2019
  986
  0
  0

اسلامی نظام کا پیغام کرامت انسانیت کا تحفظ اورسامراجیت کے چنگل سے قوموں کی نجات ہے

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ایران کے جنوبی شہر خرم شہر کی عراقی فوج کے چنگل سے آزادی کی سالگرہ کے موقع پر کل امام حسین علیہ السلام کیڈٹ کالج میں منعقدہ ایک تقریب میں شرکت کی ۔ تقریب میں پہنچ کر قائد انقلاب اسلامی اور مسلح فورسز کے سپریم کمانڈر آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے پہلے شہدا کی یادگار پر فاتحہ خوانی کی اور پھر فوجی دستوں کا معاینہ کیا۔ قائد انقلاب اسلامی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خرم شہر کی آزادی کی سالگرہ کے دن تین خرداد مطابق چوبیس مئی کو انقلاب اور ملک کی تاریخ کا ناقابل فراموش دن قرار دیا اور فرمایا : اس عظیم اور سبق آموز واقعے کا بنیادی عامل اللہ تعالی اور اپنے زور بازو پر اعتماد کا جذبہ تھا اور یہ جذبہ ہمیشہ خرم شہر کی آزادی جیسے حیرت انگیز کارنامے انجام دے سکتا ہے۔ قائد انقلاب اسلامی نے بانی انقلاب امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے اس جملے کا حوالہ دیا کہ " خرم شہر کو اللہ تعالی نے آزاد کرایا" اور فرمایا : اس واقعے کے سلسلے میں سب سے حکیمانہ اور مناسب ترین جملہ امام (خمینی رحمت اللہ علیہ) کا یہی جملہ ہے کیونکہ (خرم شہر کو عراقی فوجیوں سے آزاد کرانے کے لئے انجام دئے جانے والے) بیت المقدس آپریشن میں اللہ تعالی کی قدرت مجاہدین اسلام کے فولادی عزم و ارادے، جدت عمل اور قلوب میں جلوہ فگن ہوئی۔ قائد انقلاب اسلامی نے بیت المقدس آپریشن میں شریک مجاہدین اسلام کے ایمان و ایثار اور شجاعت و فداکاری بالخصوص سراپا شجاعت و ایثار کمانڈر احمد متوسلیان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے فرمایا : بیت المقدس آپریشن کی ایک مہینے کی مدت میں فداکاری و جاں نثاری کی حیرت انگیز نشانیاں موجزن رہیں اور خرم شہر کی فتح ان افتخارات کا نقطہ کمال تھا۔ قائد انقلاب اسلامی نے نوجوانوں کو تحریری شکل میں آ چکے اس افتخار آمیز آپریشن کے اہم گوشوں کے مطالعے کی سفارش کی اور فرمایا : بیت المقدس آپریشن اور خرم شہر کی فتح، بعثی فوج کے پیکر پر ہی نہیں عالمی سامراجی نظام کے پیکر پر بھی ایک کاری ضرب تھی جو صدام کی جنگی مشینری کی پشت پر موجود تھا۔ مسلح فورسز کے سپریم کمانڈر آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا : بیت المقدس آپریشن اور خرم شہر کی فتح، ایمان کے سامنے مادی طاقتوں کی شکست کا آئینہ تھی۔ آپ نے فرمایا : آج بھی ملت ایران کے مقابلے وہی لوگ کھڑے ہیں جو اس زمانے میں ملت ایران کے دشمنوں کے حامی و پشتپناہ تھے اور وہ اسی زمانے کی مانند اب بھی ایمان و عزم اور ہمت و فداکاری پر تکیہ کرنے والے انسانوں کا سامنا نہیں کر پائیں گے۔ قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا : ملت ایران کے دشمن اپنے پروپیگنڈے سے حقائق کو بر عکس شکل میں دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں، یہی لوگ ہیں جو دنیا کے بیشتر خطوں بالخصوص افغانستان، عراق اور مقبوضہ فلسطین میں مجرمانہ اقدامات اور بد امنی کے ذمہ دار ہیں۔ قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا : ملت ایران کے دشمنوں کو جس طرح انیس سو بیاسی میں شکست ہوئی آج بھی اسی طرح انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑےگاـ قائد انقلاب اسلامی نے ایران کے اسلامی نظام کو دنیا کے دیگر نظاموں کے بر خلاف ایک خاص پیغام کا حامل قرار دیا اور فرمایا : اسلامی نظام کا پیغام قدروں، انسانیت اور تسلط پسند طاقتوں کے چنگل سے قوموں کی نجات پر مشتمل ہے اور دنیا کی قومیں ایسے پیغام کی متلاشی ہیں۔ قائد انقلاب اسلامی نے اسی پیغام کو توسیع پسند طاقتوں کی جانب سے ملت ایران کی دشمنی کی بنیادی وجہ قرار دیا اور فرمایا : اکتیس سال سے فوجی لشکر کشی، سیاسی یلغار، معاشی محاصرے اور گوناگوں دھمکیوں سمیت مختلف شکلوں میں یہ دشمنی جاری رہی لیکن ملت ایران کی پائیداری و استقامت کی وجہ سے اسلامی نظام کی مستحکم عمارت اور شجرہ طیبہ کی جڑیں اور بنیادیں روز بروز زیادہ گہری ہوئیں۔ قائد انقلاب اسلامی کے بیان کرنے مطابق اب ملت ایران سے اس کے دشمن بڑی ناامیدی اور مایوسی کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں اور آج دشمن کے اندازے بھی پوری طرح غلط ہیں کیونکہ ملت ایران بالخصوص نوجوان نسل کی روحانی طاقت اور پایئداری کے نتیجے میں دوسری قوموں میں بھی بیداری و امید اور جوش و جذبہ پیدا ہو گیا ہے۔ مسلح فورسز کے سپریم کمانڈر نے امام حسین علیہ السلام کیڈٹ کالج اور مسلح فورسز سے وابستہ دیگر علمی مراکز کے طلبہ کو نوجوانی کی صلاحیتوں اور مواقع کے بھرپور استعمال کی سفارش کی اور فرمایا : ان مواقع سے بھرپور استفادہ سب سے بڑا شکر ہے۔ اس تقریب میں قائد انقلاب اسلامی کی تقریر سے قبل سپاہ پاسداران انقلاب کے سربراہ جنرل جعفری نے سپاہ کے با ایمان، شجاع، انقلابی اور ماہر جوانوں کی تربیت اور متعلقہ اہم اسٹریٹیجی کی رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے بتایا : سپاہ پاسداران انقلاب فورس اپنے کمانڈروں کی اخلاقی اور روحانی تربیت کے لئے مخصوص کلاسوں کا اہتمام کرتی ہے جن میں بزرگ علماء کو بلایا جاتا ہے۔ انہوں نے اسلامی انقلاب کے دفاع اور اپنے انقلابی فرائض کی ادائیگی کے لئے سپاہ پاسداران انقلاب کی مکمل آمادگی کا اعلان کیا۔ قابل ذکر ہے کہ امام حسین علیہ السلام کیڈٹ کالج کے کمانڈر جناب صفاری نے بھی کیڈٹ کالج کی کارکردگی کی رپورٹ پیش کی۔ اس تقریب میں کیڈٹ کالج کے نمونہ اساتید، کمانڈروں اور طلبہ نے قائد انقلاب اسلامی سے اپنے انعامات حاصل کئےاورتقریب کے اختتام پر فوجی دستوں نے پاسنگ آؤٹ پریڈ کی۔ 


source : http://omidworld.org/ur/component/news/?cat=news&nid=4920
  986
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      امام علی علیه السلام کی امامت اور خلافت کو کیسے ثابت ...
      مسئلہ فلسطین کے بنیادی فقہی اصول امام خامنہ ای کی نگاہ ...
      سیرت رسول اکرم (ص) میں انسانی عطوفت اور مہربانی کے ...
      ہم امریکہ کی عمر کے آخری ایام سے گذر رہے ہیں: چالمرز ...
      شفاعت کی وضاحت کیجئے؟
      دین اسلام کی خاتمیت کی حقیقت کیا ھے۔ اور جناب سروش کے ...
      کیا تقلید کے ذریعھ اسلام قبول کرنا، خداوند متعال قبول ...
      امام کے معصوم ھونے کی کیا ضرورت ھے اور امام کا معصوم ...
      کیا پیغمبر اکرم (صل الله علیه وآله وسلم) کے تمام الفاظ ...
      عورتوں کے مساجد میں نماز پڑھنے کے بارے میں اسلام کا ...

 
user comment