اردو
Friday 19th of July 2019
  1050
  0
  0

توہین رسالت ص کی ایک اور ناپاک جسارت

 

              توہین رسالت ص کی ایک اور ناپاک جسارت


آج 20 مئی کو مغربی دنیا میں کچھ بدبخت لوگ،اہل اسلام کے جذبات مجروح کرنے کے لئے Draw Muhammad Day یعنی ”حضرت محمد کے خاکے بناو“ دن منا رہے ہیں۔اس شیطانی غول کی قیادت امریکی کارٹونسٹ مولی نورس کر رہی ہے۔مولی نورس نے حضور کے خاکے بنانے کے لئے جو دعوت نامے جاری کئے ہیں اس میں بھی حضور کی شان میں گستاخی کی گئی ہے۔دعوت نامے پر روزمرہ استعمال کی چیزوں گلاس کپ وغیرہ کے خاکے بنائے گئے ہیں ان کے نیچے لکھا ہے کہ جس طرح ان اشیاء کی تصویریں بنانا عام اور معمول کی بات ہے۔اسی طرح (نعوذ باللہ) پیغمبر اسلام کے خاکے بنانا بھی عام اور معمول کی بات ہے۔ مولی نورس نے ایک گروپ Citizen Against Homour تشکیل دیا ہے جو اس خباثت کے لئے کوشش کریگا کہ آزادی اظہار کے ساتھ ساتھ ہر شخص کو آپ سمیت ہر نبی ص کا کسی بھی قسم کا خاکہ اور کارٹون بنانے کی اجازت ہو۔مولی نورس کی دعوت کے بعد انٹرنیٹ پر گستاخانِ رسول نے سرکارِ دو عالم کے بے شمار توہین آمیز خاکے رکھ دئیے ہیں اور ہر لمحے اس بے ہودگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔اس معاملے میں ہمارے ہاں میڈیا خصوصی طور پر الیکٹرانک میڈیا میں خاموشی ہے جبکہ مغربی میڈیا مولی نورس کی آزادی اظہار کے نام پر حمایت کر رہا ہے۔ آزادی اظہار پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی،لیکن اس کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔سوا ارب کمیونٹی کی دل آزاری کو آزادی اظہار کا نام نہیں دیا جا سکتا۔مولی نورس کی اس حرکت پر دنیا بھر کے مسلمانوں خصوصی طور پر امریکہ میں اشتعال پایا جاتا ہے۔امریکہ میں دو مسلم تنظیموں کیئر اور ریولوشن مسلم نے مولی نورس اور اس کے ساتھیوں کی جسارت پر شدید احتجاج کیا ہے۔نبی پاک سے اپنے والدین اور اولاد سے بڑھ کر محبت ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔ مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے،حضور کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتا۔ غازی علم الدین شہید اور غازی عبدالقیوم شہید شاتمان رسول کو انجام تک پہنچا کر بڑی خوشی سے تختہ دار کی طرف بڑھ گئے تھے۔

2004ء میں ڈینش فلم ساز تھیووان جوگ نے ایک فلم میں سرور کائنات کا مذاق اڑایا تھا۔اس کو اسی سال ایک ڈینش مسلم نوجوان نے چاقو کے وار کر کے جہنم واصل کر دیا تھا۔عامر چیمہ شہید بھی ایک شاتم کو انجام تک پہنچانے کی کوشش میں راہ حق میں جان کا نذرانہ پیش کر گیا۔مولی نورس کی پشت پناہی یوٹیوب نٹ ورکنگ ویب سائٹ بھی کر رہی ہے جس پر حضور ص کے توہین آمیز خاکے بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ایک دو دیکھنے بعد کسی مسلمان میں مزید دیکھنے کی ہمت اور حوصلہ نہیں رہتا۔ فیس بک انتظامیہ کی پالیسی یہ ہے کہ جس صفحہ کے خلاف دیکھنے والوں کو شکایات ہوں وہ فوری طور پر بند کر دیا جاتا ہے،لیکن فیس بک انتظامیہ نے حضرت محمد ص کی شان میں گستاخی پر مبنی یہ صفحہ نہیں ہٹایا۔مولی نورس کا کہنا ہے ”امریکی حکومت اس کے ساتھ ہے اور اسے سرکاری تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے“۔ امریکہ مسلم دشمنی میں سب سے آگے ہے۔ کوئی وجہ نہیں کہ مولی نورس کی طرف سے امریکی تحفظ کے دعوے کو مسترد کیا جائے۔اگر نورس کو امریکی تحفظ حاصل نہ ہوتا اور امریکہ کو مسلمانوں کے جذبات کی کچھ پروا ہوتی،تو وہ مولی کو ایسی جسارت کی اجازت نہ دیتا جس کے باعث پورا عالم اسلام آج ایک کرب اور درد میں مبتلا ہے۔ ڈنمارک کے اخبارات اور جرائد نے تو چند ایک خاکے بنائے تھے نورس کی قیادت میں آج ہونے والے مقابلے میں ہزاروں بن چکے ہیں۔

ایسے توہین آمیز خاکوں سے نبی آخرالزمان کی شان کم ہو گی نہ آپ کی حیثیت و اہمیت میں سرِمو فرق آئے گا۔تاہم ان خاکوں سے مسلمانوں کے دل و دماغ میں نفرت اور انتقام کا الاو ضرور بھڑکے گا۔وہ کسی بھی وقت توہین آمیز خاکوں کے ذمہ داروں کو جلا کر راکھ کر سکتا ہے۔ افسوس کہ پاکستان سمیت کسی اسلامی ملک کی طرف سے شیطانی غول کے خلاف آواز بلند نہیں کی گئی،تاہم کچھ مذہبی تنظیمیں احتجاج ضرور کر رہی ہیں۔ ایوانِ بالا میں بھی سینٹرز عبدالخالق پیرزازہ،اسحٰق ڈار،صلاح الدین ڈوگر،عباس خان،پروفیسر خورشید احمد،حافظ رشید احمد اور مولانا گل نصیب نے مسلمانوں کے جذبات کی نمائندگی کرتے ہوئے فیس بک مقابلے کی مذمت کی اور اقوامِ متحدہ سے اس مقابلے کو رکوانے کا مطالبہ کیا ہے۔ آج جبکہ بین المذاہب،مفاہمت کی ضرورت ہے ایسے فیس بک مقابلوں میں مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان نفرت کی خلیج مزید وسیع ہوتی چلی جائے گی۔ان لوگوں کو حیا آنی چاہئے کہ ہم مسلمان تو حضرت موسی ٰع اور عیسیٰ ع کا نہ صرف احترام کرتے ہیں بلکہ ان کی تکریم کو ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں اور یہ کن لغویات اور فضولیات میں پڑے ہوئے ہیں۔ان کی حرکتیں بالآخر ان کو لے ڈوبیں گی۔ کچھ مذہبی تنظیمیں اس شرمناک مقابلے کے خلاف آج بھی احتجاج کریں گی۔یہ صرف مذہبی تنظیموں کا ہی کام نہیں ہر مسلمان کو امریکی پشت پناہی میں حضور کی شان میں گستاخی کرنیوالوں کے خلاف احتجاج کرنا چاہئے۔ مشائخ عظام،علماءکرام اور مفتیان اسلام سے گزارش ہے کہ وہ بتائیں کہ حضور کی شان میں اس حد تک گستاخی کرنیوالوں،خاکے بنانے،خاکے بنوانے،ان کی پشت پناہی کرنیوالوں کو جلا ڈالنا جائز ہے؟

جو لوگ ایسی جسارت کرنیوالوں سے تعلق اور رابطے رکھتے ہیں،اپنی استطاعت کے مطابق احتجاج نہیں کرتے ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟ مولی نورس کی قیادت،مغربی میڈیا کی حمایت اور امریکی سرپرستی میں مسلمانوں کی اس سطح پر دل آزاری بھی ایک دہشتگردی ہے اور اس کا ہر کردار دہشت گرد ہے۔ایسی دہشت گردی پر مسلم حکمرانوں کی خاموشی ان کی بے حسی اور مذہبی بے حمیتی و بے غیرتی کا ثبوت ہے۔آج مسلمانوں کے اتحاد کی اشد ضرورت ہے۔پوری دنیا کے عام مسلمان تو ناموس رسالت پر کٹ مرنے کو تیار ہیں۔حکمران اپنے ذاتی مفادات کے حوالے سے سوچتے ہیں۔او آئی سی جس چڑیا کا نام ہے اس کو ایسے معاملات میں شدید ردِ عمل کا اظہار کرنا چاہئے تھا۔ وہ بھی حکمرانوں کی طرح خاموش ہے۔

مسلم حکمرانوں کا اقتدار نبی کریم ص کے جوتوں کا صدقہ ہے۔اس کا احساس کریں۔ مغرب کبھی گستاخانہ خاکوں،کبھی نقاب اور برقعہ پر پابندی اور کبھی مساجد کے میناروں اور اذان پر پابندی لگا کر مسلم اور عیسائی دنیا کے درمیان ایک دیوار کھڑی کرنا چاہتا ہے۔مسلمانوں کو بھی اس دیوار کو قبول کر کے متحد اور مضبوط ہو جانا چاہئے۔یہ لعنت بھیجیں امریکہ اور یورپ کی دوستی پر۔جو ہمارے رسول کی توہین کرے،توہین کرنے والوں کی حمایت اور سرپرستی کرے وہ مسلمانوں کا دوست کیونکر ہو سکتا ہے۔مغرب کے اس اقدام نے کیا ثابت نہیں کر دیا؟ ”یہود و نصاریٰ تمہارے دوست نہیں ہو سکتے۔“

 


source : http://omidworld.org/ur/component/news/?cat=features&fid=270
  1050
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      خلیج فارس کی عرب ریاستوں میں عید الاضحی منائی جارہی ہے
      پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش اور بعض دیگر اسلامی ...
      پاکستان کی نئی حکومت: امیدیں اور مسائل
      ایرانی ڈاکٹروں نے کیا فلسطینی بیماروں کا مفت علاج+ ...
      حزب اللہ کا بے سر شہید پانچ سال بعد آغوش مادر میں+تصاویر
      امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے امام خمینی نے بھی منع کیا ...
      کابل میں عید الفطر کے موقع پر صدر اشرف غنی کا خطاب
      ایرانی ڈاکٹروں کی کراچی میں جگر کی کامیاب پیوندکاری
      شیطان بزرگ جتنا بھی سرمایہ خرچ کرے اس علاقے میں اپنے ...
      رہبر انقلاب اسلامی سے ایرانی حکام اور اسلامی ممالک کے ...

 
user comment