اردو
Wednesday 27th of March 2019
  2011
  0
  0

حقوق اہلبیت (ع)

حقوق اہلبیت (ع) 

معرفت حقوق

781۔ رسول اکرم ، قسم ہے اس خدا کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ ہمارے حق کی معرفت کے بغیر کسی بندہ کا کوئی عمل مفید نہیں ہوسکتاہے۔(المعجم الاوسط 2 ص 360 / 2230 روایت ابن ابی لیلیٰ از امام حسن (ع) ینابیع المودہ 2 ص 272 / 775 روایت جابر ، مجمع الزوائد 0 ص 272 / 15007 ، امالی مفید 44 / 2 ، محاسن 1 ص 134 / 169 ، الغدیر 2 ص 301 / 10 ص 280 ، احقاق الحق 9 ص 428)۔

782۔ رسول اکرم ! مومن کا چراغ ہمارے حق کی معرفت ہے اور بدترین اندھاپن ہمارے فضل سے آنکھیں بندکر لیناہے۔( جامع الاخبار ص 505 / 1399 ، الخصال ص 633 / 60 روایت ابوبصیر و محمد بن مسلم عن الصادق (ع) ، تفسیر فرات ص 368 / 499 از امام علی(ع))۔

783۔ امام علی (ع) ! ہمارا ایک حق ہے جو دیدیا گیا تو خیر ورنہ ہم پشت ناقہ پر سوار ہی رہیں گے چاہے سفر کتنا ہی طویل کیوں نہ ہوجائے۔ (نہج البلاغہ حکم نمبر 22)۔

784۔ امام علی (ع) ! جو شخص اپنے خدا ، رسول اور اہلبیت (ع) کے حق کی معرفت کے ساتھ اپنے بستر پر مرجائے وہ بھی شہید ہی مرتاہے اور اس کا اجر پروردگار کے ذمہ ہوتاہے اور وہ اپنے نیک اعمال کی نیت کے ثواب کا بھی حقدار ہوتاہے اور اس کی نیت جہاد کے مانند ہوتی ہے کہ ہر شے کی ایک مدت معین ہے، اس سے آگے بڑھنا ممکن نہیں ہے، دوام صرف نیک میں ہوتاہے۔(غرر الحکم ص 9061)۔

785۔ جابر بن یزید الجعفی امام محمد باقر (ع) سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے ٌضرت سے آیت ” ثم اورثنا الکتاب“ کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا کہ ظالم وہ ہے جو حق امام سے ناآشنا ہو، مقتصد حق امام کا جاننے والا ہے اور سابق بالخیرات خود امام ہے۔” جنات عدن یدخلونھا“ یہ انعام صرف سابق اور میانہ رو کے لئے ہے، ظالم کے لئے نہیں ہے۔( معانی الاخبار ص 104 ، کافی 1 ص 214)۔

786۔ امام صادق (ع) ! پروردگار عالم نے ائمہ ہدیٰ کے ذریعہ اپنے دین کو واضح کردیا ہے اور اپنے راستہ کو روشن کردیا ہے اور علم کے مخفی چشموں کے نمایاں کردیا ہے لہذا امت محمد میں جو شخص بھی امام کے واجب حق کو پہچان لے گا وہی ایمان کی حلاوت اور اسلام کی طراوت و تازگی سے آشناہوسکے گا ۔( کافی 1 ص 203 ، الغیبتہ للنعمانی ص 224 / 7 ، مختصر بصائر الدرجات ص 89 روایت اسحاق بن غالب ، بصائر الدرجات 413 /2 روایت ابن اسحاق غالب )۔

 

تاکید محافظت حقوق

787۔ رسول اکرم ۔ میں تمھیں اہلبیت (ع) کے بارے میں خدا کو یاد دلاتاہوں، میں تمھیں اہلبیت (ع) کے بارے میں خدا کو یاد دلاتاہوں۔( صحیح مسلم 4 / 1873 / 2480 ، سنن دارمی 2 ص 890 / 3198 ، مسند ابن حنبل 7 ص 75 / 19285 ، السنن الکبری 10 ص 194 / 20335 ، تہذیب تاریخ دمشق 5 ص 439 ، در منثور 7 ص 349 نقل از ترمذی و نسائی ، فرائد السمطین 2 ص 234 از زید بن ارقم ، احقاق 9 ص 391)۔

788۔ رسول اکرم ! تمھارے سامنے اہلبیت (ع) کے بارے میں خدا کو گواہ بناتاہوں (المعجم الکبیر 5 ص 183 / 5027 ، کنز العمال 13 / 640 / 19 376 روایت زید بن ارقم ، احقاق الحق 9 ص 434۔

789۔ رسول اکرم ! میں تمھین اپنی عترت کے بارے میں خیر کی وصیت کرتاہوں۔( مستدرک حاکم 2 ص 131 / 2559 ، مجمع الزوائد 90 ص 257 / 14960 روایت عبدالرحمان بن عوف ، کفایة الاثر ص 41 روایت سلمان فارسی ص 129 روایت حذیفہ اسید ص 132 روایت عمران بن حصین ص 104 روایت زید بن ارقم ، احقاق الحق 9 ص 432۔

790۔ رسول اکرم ! میں سب سے پہلے خدائے عزیز و جبار کی بارگاہ میں بروز قیامت قرآن واہلبیت (ع) کے ساتھ وارد ہوں گا، اس کے بعد امت وارد ہوگی تو میں سوال کروں گا کہ تم لوگوں نے کتاب و عترت کے ساتھ کیا سلو ک کیا ہے۔( کافی 2 ص 600 /4 روایت ابوالجارود ، مختصر بصائر الدرجات ص 89 روایت شعیب الحداد)۔

791۔ رسول اکرم ! لوگو ! اللہ کو یاد رکھنا میرے اہلبیت (ع) کے بارے میں کہ یہ دین کے ارکان ، تاریکیوں کے چراغ اور علم کے معدن ہیں۔( خصائص الائمہ ص 75 روایت عینی الضریر عن الکاظم (ع) ، بحار 22 ص 487 / 31)۔

792۔ رسول اکرم ! خدایا یہ میرے اہلبیت (ع) ہیں اور میں انھیں ہر مومن کے حوالہ کرکے جارہاہوں تہذیب تاریخ دمشق 4 ص 322 روایت انس، ینابیع المودہ 2 ص 71 /11 ، احقاق الحق 9 ص 435۔

793۔ رسول اکرم ! جو میرے اہلبیت (ع) کے بارے میں میری حفاظت کرے گا اس نے گویا خدا کے نزدیک عہد لے لیا ہے( ذخائر العقبیٰ ص 18 روایت عبدالعزیز ، ینابیع المودة 2 ص 114 / 323 ، احقا ق الحق 9 ص 918)۔

794۔ رسول اکرم ! میری عترت کے بارے میں میری حفاظت کرو، ( مسند الشہاب 1 ص 419 ، 474 روایت انس ، احقاق الحق 9 ص 434)۔

795۔ رسول اکرم ! میرے اہلبیت (ع) کے بارے میں مجھے باقی رکھنا ( الصواعق المحرقہ ص 150 ، الجامع الصغیر 1 ص 50 / 302 ، مجمع الزوائد 9 ص 257 / 14961 ، ینابیع المودة 1261 / 62 ، احقاق الحق 9 ص 448۔

796۔ رسول اکرم ! میری امت کے مومنین اہلبیت (ع) کے بارے میں میری امانت کی قیامت تک حفاظت کرتے رہی۔(کافی 2 ص 46 / 3 از عبدالعظیم الحسنئ)۔

797۔ رسول اکرم ! جو شخص چاہتا ہے کہ اس کی مدت حیات بابرکت ہو اور اللہ اسے نعمتوں سے بہرہ اندوز کرے اس کا فرض ہے کہ میرے بعد میرے اہلبیت (ع) کے ساتھ بہترین برتاؤ کرے۔( کنز العمال 12 ص 99 / 4171 3 روایت عبداللہ بن بدر الحظمی)۔

798۔ رسول اکرم ! تم عنقریب میرے بعد میرے اہلبیت (ع) کے بارے میں آزمائے گے ۔( المعجم الکبیر 192 / 4111 روایت خالد بن عرفطہ)۔

799۔ ابن عباس ! رسول اکرم منبر پر تشریف لے گئے اور لوگوں کے اجتماع عام میں خطبہ ارشاد فرمایا، مومنو ! پروردگار نے مجھے اشارہ دیا ہے کہ میں عنقریب یہاں سے جانے والا ہو… تم میری بات سنو اور میری نصیحت کا حق پہچانو اور میرے اہلبیت (ع) کے ساتھ وہی برتاؤ کرنا جس کا تمھیں حکم دیا گیا ہے ، انھیں محفوظ رکھنا کہ وہ میرے خواص، قرابتدار، برادران اور اولاد ہیں اور تم ایک دن جمع کئے جاؤگے جب تم سے ثقلین کے بارے میں سوال کیا جائے گا تو یہ دیکھتے رہنا کہ تم نے میرے بعد ان کے ساتھ کیا سلوک کیاہے، دیکھو ! یہ سب میرے اہلبیت (ع) ہیں ۔( امالی صدوق (ر) ص 62 / 11 التحصین ص 598 باب 4)۔

800۔ ابن عباس ! جب ہم حجة الوداع سے واپس ہوئے تو ایک دن رسول اکرم (ع) کے پاس ان کی مسجد میں بیٹھے تھے… کہ آپ نے فرمایا ایھا الناس ! میری عترت اور میرے اہلبیت (ع) کے بارے میں خدا کو یاد رکھنا ، فاطمہ (ع) میرے دل کا ٹکڑا ہے، حسن (ع) و حسین (ع) میرے بازو ہیں اور میں اور فاطمہ (ع) کے شوہر دونوں روشنی کے مانند ہیں، خدایا ! جو ان پر رحم کرے اس پر رحم کرنا اور جو ان پر ظلم کرے اسے ہرگز معاف نہ کرنا ( بحار الانوار 23 ص 143 / 97 نقل از الفضائل و کتاب الروضہ ، احقاق الحق 9 ص 198)۔

801۔ امام علی (ع) ! دیکھو اللہ کو یاد رکھنا اپنے نبی کی ذریت کے بارے میں ، تمھارے ہوتے ہوئے ان پر ظلم نہ ہونے پائے جبکہ ان سے دفاع کی طاقت بھی رکھتے ہو۔( کافی 7 ص 52 /7 روایت عبدالرحمان بن حجاج عن الکاظم (ع) ، تہذیب 9 ص 177 / 714 ، روایت جابر عن الباقر (ع) ، الفقیہ

4 ص 191 / 433 ، روایت سلیم بن قیس ، تحف العقول ص 198 کتاب سلیم بن قیس2 ص 926۔

802۔ امام علی (ع) !محمد بن بکر کو والی مصر قرار دیتے ہوئے فرمایا، بندگان خدا ! اگر تم نے تقویٰ اختیار کیا اور اہلبیت (ع) کے ذریعہ اپنے نبی کا تحفظ کیا تو تم نے خدا کی بہترین عبادت کی اور اس کا بہترین ذکر کیا اور بہترین شکر ادا کیا اور صبر و شکر دونوں کو جمع کرلیا اور بہترین کو شش سے کام لیا ہے چاہے تمھارے اغیار تم سے زیادہ طولانی نمازیں پڑھیں اور زیادہ روزے رکھیں لیکن تمھارا تقوی ان سے بالاتر ہے اور تم صاحبان امر کے زیادہ مخلص ہو۔( امالی طوسی (ر) 27 ص 31 از ابواسحاق الہمدانی )۔

803۔ امام صادق (ع) ! ہمارے بارے میں اسی طرح تحفظ سے کام لینا جس طرح بندہٴ صالح خضر نے دو یتیموں کے مال کا تحفظ کیا تھا کہ ان کا باپ صالح اور نیک تھا۔( امالی طوسی (ر) ص 273 / 514 روایت برذون بن شبیب )۔

  2011
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      امام جواد علیہ السلام اور شیعت کی موجودہ شناخت اور ...
      حدیث "قلم و قرطاس" میں جو آنحضرت{ص} نے فرمایا هے: ...
      حضرت علی (ع ) خلفاء کے ساتھ کیوں تعاون فر ماتے تھے ؟
      شیعه فاطمه کے علاوه پیغمبر کی بیٹیوں سے اس قدر نفرت ...
      کیا عباس بن عبدالمطلب اور ان کے فرزند شیعوں کے عقیده کے ...
      امام محمد باقر علیہ السلام کی حیات طیبہ کے دلنشین گوشے ...
      اگر کسی دن کو یوم مادر کہا جا سکتا ہے تو وہ شہزادی کونین ...
      قرآن مجید کی مثال پیش کرنے کا دعوی کرنے والوں کی حکمیت ...
      فاطمہ، ماں کی خالی جگہ
      تیرہ جمادی الاول؛ شہزادی کونین کے یوم شہادت پر ایران ...

 
user comment