اردو
Tuesday 21st of May 2019
  1247
  0
  0

پانچواں حصہ طولانی عمر

پانچواں حصہ

طولانی عمر

حضرت امام مھدی علیہ السلام کی زندگی سے متعلق ایک بحث آپ کی طولانی عمر کے سلسلہ میں ھے۔ بعض لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ھوتا ھے کہ کس طرح ایک انسان کی اتنی طولانی عمر ھوسکتی ھے؟!([1])

اس سوال کا سرچشمہ اور اس کی علت یہ ھے کہ آج کل کے زمانہ میں عام طور پر ۸۰ سے ۱۰۰ سال کی عمر ھوتی ھے([2]) لہٰذا ایسی عمر کو دیکھنے اور سننے کے باوجود اتنی طولانی عمر پر یقین کس طرح کرے، ورنہ تو طولانی عمر کا مسئلہ عقل اور سائنس کے لحاظ سے بھی کوئی ناممکن بات نھیں ھے، دانشوروں نے انسانی بدن کے اعضاء کی تحقیقات سے یہ نتیجہ نکالا ھے کہ انسان بھت زیادہ طولانی عمر پاسکتا ھے، یھاں تک کہ اس کو بڑھاپے اور ضعیفی کا احساس تک نہ ھو۔

برنارڈ شو کا قول:

”بیوجیلسٹ ماھرین دانشوروں کے نزدیک قبول کئے ھوئے اصول میں سے ھے کہ انسان کی عمر کے لئے کوئی حد معین نھیں کی جاسکتی، یھاں تک کہ طول عمر  کے لئے بھی کوئی حد معین نھیں کی جاسکتی“۔([3])

پر وفیسر ”اٹینگر“ کا قول:

”ھماری نظر میں عصر حاضر کی ترقی اور ھمارے شروع کئے کام کے پیش نظر اکسویں صدی کے لوگ ہزاروں سال عمر کرسکتے ھیں“۔([4])

لہٰذا بوڑھاپے پر غلبہ پانے اور ایک طولانی عمر کے سلسلہ میں دانشوروں کے لئے کچھ راستے ھموار ھوئے ھیں جن سے اس بات کا اندازہ ھوتا ھے کہ اس طرح (طولانی عمر پانے ) کا امکان پایا جاتا ھے، چنانچہ اس سلسلہ میں کچھ مثبت قدم اٹھائے گئے ھیں، اور اس وقت بھی دنیا میں بھت سے افراد ایسے موجود ھیں جو مناسب کھانے پینے اور آب و ھوا اور دوسری بدنی و فکری سر گرمیوں کی بنا پر ۱۵۰/ سال یا اس سے بھی زیادہ عمر پاتے ھیں، اس کے علاوہ سب سے اھم بات یہ ھے کہ تاریخ میں بھت سے ایسے افراد پائے گئے ھیں جنھوں نے ایک طولانی عمر پائی ھے، اور آسمانی اور تاریخی کتابوں میں بھت سے افراد کا نام اور ان کی زندگی کے حالات بیان کئے گئے ھیں جن کی عمر آج کل کے انسان سے کھیں زیادہ تھی۔

اس سلسلہ میں بھت سی کتابیں اور مضامین لکھے گئے ھیں ھم ذیل میں چند نمونے بیان کرتے ھیں:

۱۔ قرآن کریم میں ایک ایسی آیت ھے جو نہ صرف یہ کہ انسان کی طولانی عمر کی خبر دیتی ھے بلکہ عمر جاویداں کے بارے میں خبر دے رھی ھے، چنانچہ حضرت یونس علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ھوتا ھے:

<فَلَوْلاَاٴَنَّہُ کَانَ مِنْ الْمُسَبِّحِینَ# لَلَبِثَ فِی بَطْنِہِ إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ>([5])

”اگر وہ (جناب یونس علیہ السلام) شکم ماھی میں تسبیح نہ پڑھتے تو قیامت تک شکم ماھی میں رھتے“۔

لہٰذا مذکورہ آیہٴ شریفہ بھت زیادہ طولانی عمر (جناب یونس علیہ السلام کے زمانہ سے قیامت تک) کے بارے میں خبر دے رھی ھے جس کو دانشوروں اور ماھرین کی اصطلاح میں ”عمر جاویداں“ کھا جاتا ھے، لہٰذا انسان اور مچھلی کے بارے میں طولانی عمر کا مسئلہ ایک ممکن چیز ھے۔([6])

۲۔ قرآن کریم میں جناب نوح علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ھوتا ھے:

”بے شک ھم نے نوح کو ان کی قوم میں بھیجا جنھوں نے ان کے درمیان ۹۵۰ / سال زندگی بسر کی“۔([7])

مذکورہ آیہ شریفہ میں جو مدت بیان ھوئی ھے وہ ان کی نبوت اور تبلیغ کی مدت ھے، کیونکہ بعض روایات کی بنا پر جناب نوح علیہ السلام کی عمر ۲۴۵۰ سال تھی۔([8])

قابل توجہ بات یہ ھے کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے منقول ایک روایت میں بیان ھوا ھے:

”امام مھدی علیہ السلام کی زندگی میں جناب نوح علیہ السلام کی سنت پائی جاتی ھے اور وہ ھے ان کی طولانی عمر“۔([9])

۳۔ اور اسی طرح جناب عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ھوتا ھے:

”بے شک ان کو قتل نھیں کیا گیااور نہ ھی ان کو سولی دی گئی ھے بلکہ ان کو غلط فھمی ھوئی، بے شک ان کو قتل نھیں کیا گیا ھے بلکہ خداوندعالم نے ان کو اپنی طرف بلا لیا ھے کہ خداوندعالم صاحب قدرت اور حکیم ھے“۔([10])

تمام ھی مسلمان قرآن و احادیث کے مطابق اس بات پر عقیدہ رکھتے ھیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ھیں اور وہ آسمانوں میں رھتے ھیں، اور حضرت امام مھدی علیہ السلام کے ظھور کے وقت آسمان سے نازل ھوں گے اور آپ کی نصرت و مدد کریں گے۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ھیں:

”ان صاحب امر (امام مھدی علیہ السلام) کی زندگی میں چار انبیاء (علیھم السلام) کی چار سنت پائی جاتی ھیں۔۔۔ ان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سنت یہ ھے کہ ان (امام مھدی علیہ السلام) کے بارے میں (بھی) لوگ کھیں گے کہ وہ وفات پاچکے ھیں، حالانکہ وہ زندہ ھیں“۔([11])

قرآن کریم کے علاوہ خود توریت اور انجیل میں بھی طولانی عمر کے سلسلہ میں گفتگو ھوئی ھے، جیسا کہ توریت میں بیان ھوا ھے:

” ۔۔۔ جناب آدم کی پوری عمر نو سو تیس سال تھی جس کے بعد وہ مرگئے۔۔۔ ”انوش“ کی عمر نو سو پانچ تھی، ”قینان“ کی عمر نو سو دس سال کی تھی، ”متوشالح“ کی عمر نو سو انتھر سال تھی “۔([12])

اس بنا پر خود توریت میں متعدد حضرات کی طولانی عمر (نو سو سال سے بھی زیادہ) کا اقرار کیا گیا ھے۔

انجیل میں بھی کچھ ایسی تحریریں ملتی ھیں جن سے اس بات کی عکاسی ھوتی ھے کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام سولی پر چڑھائے جانے کے بعد دوبارہ زندہ ھوئے اور آسمانوں میں اوپر چلے گئے([13]) اور ایک زمانہ میں آسمان سے نازل ھوں گے، چنانچہ اس وقت جناب عیسیٰ علیہ السلام کی عمر دو ہزار سال سے بھی زیادہ ھے۔

قارئین کرام! اس بیان سے یہ بات واضح ھوجاتی ھے کہ ”یھود و نصاریٰ“ مذھب کے ماننے والے چونکہ اپنی مقدس کتاب پر ایمان رکھتے ھیں لہٰذا ان کے لحاظ سے بھی طولانی عمر کا عقیدہ صحیح ھے۔

ان سب کے علاوہ طولانی عمر کا مسئلہ عقل اور سائنس کے لحاظ سے قابل قبول ھے، اور تاریخ میں اس کے بھت سے نمونے ملتے ھیں، خداوندعالم کی نا محدود قدرت کے لحاظ سے بھی قابل اثبات ھے۔ تمام ھی آسمانی ادیان کے ماننے والوں کے عقیدہ کے مطابق کائنات کا ذرہ ذرہ خداوندعالم کے اختیار میں ھے اور تمام اسباب و علل کی تاثیر بھی اسی کی ذات سے وابستہ ھے، اگر وہ نہ چاھے تو کوئی بھی سبب اور علت اثرانداز نہ ھو، لیکن وہ بغیر سبب اور علت کے پیدا کرسکتا ھے۔

وہ ایسا خدا ھے جو پھاڑوں کے اندر سے اونٹ نکال سکتا ھے اور بھڑکتی ھوئی آگ سے جناب ابراھیم علیہ السلام کو صحیح و سالم نکال سکتا ھے، نیز جناب موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ماننے والوں کے لئے دریا کو خشک کرکے راستہ بنا سکتا ھے، اور وہ دو دیواروں کے درمیان آرام سے نکل سکتے ھیں۔([14]) تو کیا تمام انبیاء اور اولیاء کے خلاصہ، آخری ذخیرہ الٰھی اور تمام نیک حضرات کی تمناؤں کے مرکز نیز قرآن کریم کے عظیم وعدہ کو پورا کرنے والے کو اگر طولانی عمر عطا کرے تو اس میں تعجب کیا ھے؟!

حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام فرماتے ھیں:

”خداوندعالم ان (امام مھدی علیہ السلام) کی عمر کو ان کی غیبت کے زمانہ میں طولانی کردے گا اور پھر اپنی قدرت کے ذریعہ ان کو جوانی کے عالم میں (چالیس سال سے کم) ظاھر کرے گا تاکہ لوگوں کو یہ یقین حاصل ھوجائے کہ خداوندعالم ھر چیز پر قادر ھے“۔([15])

لہٰذا ھمارے بارھویں امام حضرت مھدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی طولانی عمر مختلف طریقوں جیسے: عقل، سائنس اور تاریخی لحاظ سے ممکن اور قابل قبول ھے، اور ان سب کے علاوہ خداوندعالم اور اس کی قدرت کے جلووں میں سے ایک جلوہ ھے۔

 

 

چھٹا حصہ

انتظار

جس وقت سیاہ بادلوں نے سورج کے رخِ انور کو چھپا دیا ھو ، دشت و جنگل سورج کی قدم بوسی سے محروم ھوں ، اور درخت و گل اس آفتاب کی محبت کی دوری سے بے جان ھوگئے ھوں تو اس وقت کیا کیا جائے؟ جس وقت خلقت اور خوبیوں کا خلاصہ اور خوبصورتیوں کا آئینہ اپنے چھرہ پر غیبت کی نقاب ڈال لے اور اس کائنات میں رہنے والے اس کے فیض سے محروم ھوں، تو ایسے موقع پر کیا کرنا چاہئے؟

چمن کے پھولوں کو انتظار ھے کہ مھربان باغباں ان کو دیکھتا رھے اور اس کے محبت بھرے ھاتھوں سے آب حیات نوش کریں، دل مشتاق اور آنکھیں بے تاب ھیں تاکہ اس کے جمال پُر نور کا دیدار کریں، اور یھیں سے ”انتظار“ کے معنی سمجھ میں آتے ھیں، جی ھاں، سبھی منتظر ھیں تاکہ وہ آئے اور اپنے ساتھ نشاط اور شادابی کا تحفہ لے کر آئے۔

واقعاً ”انتظار“ کس قدر خوبصورت اور شیریں ھے اگر اس کی خوبصورتی کو نظر میں رکھا جائے اور اس کی شیرینی کو دل سے چکھا جائے۔

انتظار کی حقیقت اور اس کی عظمت

”انتظار“ کے مختلف معانی بیان ھوئے ھیں، لیکن اس لفظ پر غور و فکر کے ذریعہ اس کے معنی کی حقیقت تک پہنچا جاسکتا ھے،انتظار کے معنی کسی کے لئے آنکھیں بچھانا ھے، اور یہ انتظار حالات اور موقع و محل کے لحاظ سے اھمیت پیدا کرتا ھے جس سے بھت سے نتائج ظاھر ھوتے ھیں، انتظار صرف ایک روحی اور اندرونی حالت نھیں ھے بلکہ اندر سے باھر کی طرف اثر کرتی ھے جس سے انسان اپنے باطنی احساس کے مطابق عمل کرتا ھے، اسی وجہ سے روایات میں ”انتظار“ کو ایک عمل بلکہ تمام اعمال میں بھترین عمل کے عنوان سے یاد کیا گیا ھے، انتظار ”منتظر“ کو حیثیت عطا کرتا ھے اور اس کے کاموں اور اس کی کوششوں کو ایک خاص طرف ھدایت کرتا ھے، انتظار وہ راستہ ھے جو اسی چیز پر جاکر ختم ھوتا ھے جس کا انسان انتظار کرتا ھے۔

لہٰذا ”انتظار“ کے معنی یہ نھیں ھے کہ انسان ھاتھ پر ھاتھ رکھے بیٹھا رھے، انتظار اسے نھیں کھتے کہ انسان دروازہ پر آنکھیں جمائے اور حسرت لئے بیٹھا رھے، بلکہ در حقیقت ”انتظار“ میں نشاط اور شوق و جذبہ پوشیدہ ھوتا ھے۔

جو لوگ کسی محبوب مھمان کا انتظار کرتے ھیں، وہ خود اور اپنے اطراف کو مھمان کے لئے تیار کرتے ھیں، اور اس کے راستہ میں موجود رکاوٹوں کو دور کرتے ھیں۔

گفتگو اس بے نظیر واقعہ کے انتظار کے بارے میں ھے جس کی خوبصورتی اور کمال کی کوئی حد نھیں ھے، انتظار اس زمانہ کا ھے کہ جس کی خوشی اور شادابی کی مثال گزشتہ زمانہ میں نھیں ملتی، اور اس دنیا میں اب تک ایسا زمانہ نھیں آیا ھے، اور یہ وھی حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی عالمی حکومت کا انتظار ھے جس کو روایات میں ”انتظار فرج“ کے نام سے یاد کیا گیا ھے اور اس کو اعمال و عبادت میں بھترین قرار دیا گیا ھے، بلکہ تمام ھی اعمال قبول ھونے کا وسیلہ قرار دیا گیا ھے۔

حضرت پیغمبر اکرم (ص)  نے فرمایا:

”میری امت کا سب سے بھترین عمل ”انتظار فرج“ ھے“۔([16])

حضرت امام صادق علیہ السلام نے اپنے اصحاب سے فرمایا:

”کیا تم لوگوں کو اس چیز کے بارے میں آگاہ نہ کروں جس کے بغیر خداوندعالم اپنے بندوں سے کوئی بھی عمل قبول نھیں کرتا؟ سب نے کھا: جی ھاں، امام علیہ السلام نے فرمایا: خدا کی وحدانیت کا اقرار، پیغمبر اسلام (ص) کی نبوت کی گواھی، خداوندعالم کی طرف سے نازل ھونے والی چیزوں کا اقرار، اور ھماری ولایت اور ھمارے دشمنوں سے بیزاری (یعنی مخصوصاً ھم اماموں کے دشمنوں سے بیزاری) اور ائمہ (علیھم السلام) کی اطاعت، تقویٰ و پرھیزگاری اور کوشش و بردباری اور قائم (آل محمد) علیھم السلام کا انتظار“۔([17])

پس ”انتظار فرج“ ایسا انتظار ھے جس کے کچھ خاص خصوصیات اور منفرد  امتیازات ھیں جن کی ؟صحیح پھچان ضروری ھے تاکہ اس کے بارے میں بیان کئے جانے والے تمام فضائل اور آثار کا راز معلوم ھوسکے۔



[1] اس وقت ۱۴۲۵ /ھجری قمری ھے اور چونکہ امام زمانہ علیہ السلام کی تاریخ پیدائش ۲۵۵ /ھجری قمری ھے لہٰذا اس وقت آپ کی عمر شریف ۱۱۷۰ / سال ھے۔

[2] اگرچہ بعض لوگ سو سال سے زیادہ بھی عمر پاتے ھیں لیکن بھت ھی کم ایسے افراد ملتے ھیں۔

[3] راز طول عمر امام زمان علیہ السلام، علی اکبر مھدی پور ص ۱۳۔

[4] مجلہ دانشمند، سال ۶، ش۶، ص ۱۴۷۔

[5] سورہ صافات،آیات ۱۴۳،۱۴۴۔

[6] خوش قسمتی سے مڈگاسکر کے ساحلی علاقہ میں ۴۰۰ ملین سال (پرانی عمر والی) ایک مچھلی ملی ھے جو مچھلیوں کے سلسلہ میں اتنی طولانی عمر پر ایک زندہ گواہ ھے، (روزنامہ کیھان، ش ۶۴۱۳۔ ۲۲/ ۸/ ۱۳۴۳ ہ ق۔)

[7] سورہ عنکبوت،آیت ۱۴۔

[8] کمال الدین، ج۲، باب ۴۶، ح۳، ص ۳۰۹۔

[9] کمال الدین، ج۱، باب ۲۱، ح،۴، ص۱ ۵۹۔

[10] سورہ نساء، آیت ۱۵۷۔

[11] بحار الانور ج ۵۱، ص ۲۱۷۔

[12] زندہٴ روزگاران، ص ۱۳۲، (نقل از توریت ، ترجمہ فاضل خانی، سفر پیدائش باب پنجم، آیات ۵ تا ۳۲)

[13] زندہٴ روزگاران، ص ۱۳۴، (نقل از عھد جدید، کتاب اعمال رسولان، باب اول آیات ۱ تا ۱۲)

[14] مذکورہ حقائق قرآن کریم میں بیان ھوئے ھیں، دیکھے سورہ انبیاء،آیت ۶۹ ، اور سورہ شعراء، آیت۶۳۔

[15] بحار الانوار، جلد ۵۱، ص ۱۰۹۔

 

[16] بحار الانوار، جلد ۵۲، ص ۱۲۲۔     

[17] غیبت نعمانی، باب ۱۱، ح۱۶، ص ۲۰۷۔

  1247
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      امام علی علیه السلام کی امامت اور خلافت کو کیسے ثابت ...
      مسئلہ فلسطین کے بنیادی فقہی اصول امام خامنہ ای کی نگاہ ...
      سیرت رسول اکرم (ص) میں انسانی عطوفت اور مہربانی کے ...
      ہم امریکہ کی عمر کے آخری ایام سے گذر رہے ہیں: چالمرز ...
      شفاعت کی وضاحت کیجئے؟
      دین اسلام کی خاتمیت کی حقیقت کیا ھے۔ اور جناب سروش کے ...
      کیا تقلید کے ذریعھ اسلام قبول کرنا، خداوند متعال قبول ...
      امام کے معصوم ھونے کی کیا ضرورت ھے اور امام کا معصوم ...
      کیا پیغمبر اکرم (صل الله علیه وآله وسلم) کے تمام الفاظ ...
      عورتوں کے مساجد میں نماز پڑھنے کے بارے میں اسلام کا ...

 
user comment