اردو
Wednesday 22nd of May 2019
  673
  0
  0

منشاء علوم

 

منشاء علوم

1۔ تعلیم پیغمبر اسلام

467۔ امام علی (ع) ! میں جب رسول اکرم سے کسی علم کا سوال کرتا تھا تو مجھے عطا فرما دیتے تھے اور اگر خاموش رہ جاتا تھا تو از خود ابتدا فرماتے تھے۔( سنن ترمذی 5 ص 637 / 3722 ، ص 640 / 3729 ، مستدرک حاکم 3 ص 135 ، 4630 ، اسدالغابہ 4 ص 104 ، خصائص نسائی 221 ، /119 ، امالی صدوق (ر) 202 /13 روایت عبداللہ بن عمرو بن ہند الحبلی العمدة 283 / 461 ، کافی 1 ص 64 /1 احتجاج 1 ص 616 / 139 ، روضة الواعظین ص 308 ، غرر الحکم 3779 ، 7236، مناقب ابن شہر آشوب 2 ص 45۔

468۔ محمد بن عمر بن علی (ع) ! امام علی (ع) سے دریافت کیا گیا کہ تمام اصحاب میں سب سے زیادہ احادیث رسول آپ کے پاس کیوں ہیں؟ تو فرمایا کہ میں جب حضرت سے سوال کرتا تھا تو مجھے باخبر کردیا کرتے تھے اور جب چپ رہتا تھا تو از خود ابتدا فرماتے تھے۔( الطبقات الکبریٰ 2 ص 338 ، الصواعق المحرقہ ص 123 ، تاریخ الخلفاء ص 202)۔

469۔ ام سلمہ ! جبریل امین جو کچھ رسول اکرم کے حوالہ کرتے تھے حضرت اسے علی (ع) کے حوالہ کردیا کرتے تھے۔( مناقب ابن المغازلی ص 253 /302)۔

470۔ امام علی (ع) ! اصحاب میں ہر ایک کو جرات اور توفیق بھی نہ ہوتی تھی کہ رسول اکرم سے کلام کرسکیں، سب انتظار کیا کرتے تھے کہ کوئی دیہاتی یا مسافر آکر دریافت کرے تو وہ بھی سن لیں، لیکن میرے سامنے جو مسئلہ بھی آتا تھا میں اس کے بارے میں سوال کرلیتا تھا اور اسے محفوظ کرلیتا تھا۔( نہج البلاغہ خطب ص 210)۔

471۔ امام علی (ع)! جب بعض اصحاب نے کہا کہ کیا آپ کے پاس علم غیب بھی ہے؟ تو مسکرا کر اس مرد کلبی سے فرمایا کہ یہ علم غیب نہیں ہے بلکہ صاحب علم سے استفادہ ہے، علم غیب سے مراد قیامت کا علم ہے اور ان کا علم ہے جن کا ذکر سورہ ٴ لقمان کی آیت 14 میں ہے۔

” بیشک خدا کے پاس قیامت کا علم ہے، اور وہی بارش کے قطرے برساتاہے اور وہی پیٹ کے اندر بچہ کے حالات جانتاہے اور کسی نفس کو نہیں معلوم کہ کل کیا حاصل کرے گا اور نہ یہ معلوم ہے کہ کس سرزمین پر موت آئے گی“۔

پروردگار ان تفصیلات کو جانتاہے کہ پیٹ کے اندر لڑکاہے یا لڑکی، پھر وہ حسین ہے یا بدصورت، پھر سخی ہے یا بخیل ، پھر شقی ہے یا نیک بخت ، پھر جہنم کا کندہ بنے گا یا جنت میں انبیاء کا رفیق، یہ وہ علم غیب ہے جسے پروردگار کے علاوہ کوئی نہیں جانتاہے، اس کے علاوہ جس قدر بھی علم ہے اسے مالک نے اپنے نبی کو تعلیم کیاہے اور انھوں نے میرے حوالہ کردیا ہے اور میرے حق میں دعا کی ہے کہ میرے سینہ میں محفوظ ہوجائے۔اور میرے پہلو سے نکل کر باہر نہ جانے پائے۔( نہج البلاغہ خطبہ ص 128)۔

472۔ امام علی (ع) ! اہلبیت (ع) پیغمبر مالک کے راز کے محل ، اس کے امر کی پناہ گاہ، اس کے علم کا ظرف ، اس کے حکم کا مرجع ، اس کی کتابوں کی آماجگاہ، اور اس کے دین کے پہاڑ میں ، انھیں کے ذریعہ اس نے دین کی ہر کجی کو سیدھا کیاہے اور ا س کے جوڑ بند کے رعشہ کو دور کیا ہے۔( نہج البلاغہ خطبہ ص2)۔

473۔ امام باقر (ع) ! ہم اہلبیت (ع) وہ ہیں جنھیں مالک کے علم سے علم ملاہے اور اس کے حکم سے ہم نے اخذ کیا ہے اور قول صادق سے سناہے تو اگر ہمارا اتباع کروگے تو ہدایت پاجاؤگے، (مختصر بصائر الدرجات ص 63 ، بصائر الدرجات 514 / 34 روایت جابر بن یزید)۔

474۔ امام صادق (ع) ! حضرت علی (ع) بن ابی طالب کا علم رسول اللہ کے علم سے تھا اور ہم نے ان سے حاصل کیا ہے۔( اختصاص ص 279 ، بصائر الدرجات 295 /1 روایت ابویعقوب الاحول)۔

 

2۔ اصول علم

475۔ امام علی (ع) ! ہم اہلبیت (ع) کے پاس علم کی کنجیاں، حکمت کے ابواب ، مسائل کی روشنی اور حرف فصیل ہے۔( محاسن 1 ص 316 /629 روایت ابوالطفیل، بصائر الدرجات 364/10)۔

476۔ امام باقر (ع) ! اگر ہم لوگوں کے درمیان ذاتی رائے اور خواہش سے فتویٰ دیتے تو ہم بھی ہلاک ہوجاتے، ہمارے فتاویٰ کی بنیاد آثار رسول اکرم اور اصول علم ہیں جو ہم کو بزرگوں سے وراثت میں ملے ہیں اور ہم انھیں اس طرح محفوظ کئے ہوئے ہیں جس طرح اہل دنیا سونے چاندی کے ذخیروں کو محفو ظ کرتے ہیں۔( بصائر الدرجات 300 / 4 روایت جابر، الاختصاص 280 روایت جابر بن یزید)۔

477۔ امام صادق (ع) (ع)! اگر پروردگار نے ہماری اطاعت واجب نہ کی ہوتی اور ہماری مودت کا حکم نہ دیا

ہوتا تو نہ ہم تم کو اپنے دروازہ پر کھڑا کرتے اور نہ گھر میں داخل ہونے دیتے ، خدا گواہ ہے کہ ہم نہ اپنی خواہش سے بولتے ہیں ور نہ اپنے رائے سے فتویٰ دیتے ہیں، ہم وہی کہتے ہیں جو ہمارے پروردگار نے کہا ہے اور جس کے اصول ہمارے پاس ہیں اور ہم نے انھیں ذخیرہ بناکر رکھاہے جس طرح یہ اہل دنیا سونے چاندی کے ذخیرہ رکھتے ہیں۔(بصائر الدرجات 301 / 10 روایت محمد بن شریح)۔

478۔ محمد بن مسلم ! امام جعفر صادق (ع) نے فرمایا کہ رسول اکرم نے لوگوں کو بہت کچھ عطا فرمایاہے لیکن ہم اہلبیت (ع) کے پاس تمام علوم کی اصل ، ان کا سرا، ان کی روشنی اور ان کا وہ وسیلہ ہے جس سے علوم کو برباد ہونے سے بچایا جاسکتاہے۔( اختصاص ص 308 ، بصائر الدرجات 313 / 6)۔

 

3۔ کتب انبیاء

479۔ امام صادق (ع) ! ہمارے پاس موسیٰ کی تختیاں اور ان کا عصا موجود ہے اور ہمیں تمام انبیاء کے وارث ہیں۔( کافی 1 ص 231 / 2 ، بصائر الدرجات 183 / 34 ، اعلام الوریٰ ص 277 روایت ابوحمزہ الثمالی)۔

480۔ ابوبصیر ! امام صادق (ع) نے فرمایا کہ اے ابومحمد ! پروردگار نے کسی نبی کو کوئی ایسی چیز نہیں دی ہے جو حضرت محمد کو نہ دی ہو ، انھیں تمام انبیاء (ع) کے کمالات سے سرفراز فرمایاہے اور ہمارے پاس وہ سارے صحیفے موجود ہیں جنھیں ” صحف ابراہیم (ع) و موسیٰ (ع) “ کہا گیاہے۔

میں نے عرض کی کیا یہ تختیاں ہیں ؟ فرمایا بیشک۔( کافی 1 ص 225 / 5 ، بصائر الدرجات 136 / 5)۔

481۔ امام کاظم (ع) ! بریہ سے گفتگو کرتے ہوئے جب اس نے سوال کیا کہ آپ کا توریت و انجیل اور کتب انبیاء سے کیا تعلق ہے؟ فرمایا وہ سب ہمارے پاس ان کی وراثت میں محفوظ ہیں اور ہم انھیں اس طرح پڑھتے ہیں جس طرح ان انبیاء نے پڑھاتھا، پروردگار کسی ایسے شخص کو زمین میں اپنی حجت نہیں قرار دے سکتا جس سے سوال کیا جائے تو وہ جواب میں کہدے کہ مجھے نہیں معلوم ہے۔( کافی 1 ص 227 /2 روایت ہشام بن الحکم)۔

482۔ امام صادق (ع)! رسول اکرم تک صحف ابراہیم (ع) و موسیٰ (ع) پہنچائے گئے تو آپ نے حضرت علی (ع) کو ان کا امین بنادیا اور انھوں نے حضرت حسن (ع) کو بنایا اور انھوں نے حضرت حسین (ع) کو بنایا اور انھوں نے حضرت علی (ع) بن الحسین (ع) کو بنایا۔ اور انھوں نے حضرت محمد بن علی (ع) کو بنایا اور انھوں نے مجھے بنایا۔ چنانچہ وہ سب میرے پاس رہے یہاں تک کہ میں نے اپنے اس فرزند کو کمسنی ہی میں امانتدار بنادیا اور وہ سب اس کے پاس محفو ظ ہیں۔( الغیبة النعمانی 325 /2 ، رجال کشی 2 ص 643 / 663 روایت فیض بن مختار)۔

483۔ عبداللہ بن سنان نے امام صادق (ع) سے روایت کی ہے کہ میں نے حضرت سے اس آیت کریمہ ” لقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر“ کے بارے میں دریافت کیا کہ یہ زبور اور ذکر کیاہے؟ تو فرمایاکہ ذکر اللہ کے پاس ہے اور زبور وہ ہے جس کو داؤد پر نازل کیا گیاہے اور ہر نازل ہونے والی کتاب ، علم کے پاس محفوظ ہے اور ہم اہل علم ہیں۔( کافی 1 ص 225 / 6 ، بصائر الدرجات 136 /6)۔

 

4۔ کتاب امام علی (ع)

484۔ ام سلمہ ! رسول اکرم نے علی (ع) کو اپنے گھر میں بٹھاکر ایک بکری کی کھال طلب کی اور علی (ع) نے اس پر اول سے آخر تک لکھ لیا۔( الامامة والتبصرہ 174 /28 مدینتہ المعاجز 2 ص 248 / 529 ، بصائر الدرجات 163 / 4)۔

485 ۔ ام سلمہ ! رسول اکرم نے ایک کھا طلب کرکے علی (ع) بن ابی طالب کو دی اور حضرت بولتے رہے اور علی (ع) لکھتے رہے یہاں تک کہ کھال کا ظاہر ، باطن ، سب پُر ہوگیا۔( ادب الاملاء والاستملاء سمعانی ص 12)۔

486۔ امام صادق (ع)! رسول اکرم نے حضرت علی (ع) کو طلب کیا اور ایک دفتر منگوایا اور پھر سب کچھ لکھوادیا۔( الاختصاص ص 275 روایت حنان بن سدیر)۔

487۔ امام علی (ع) ! علم ہمارے گھر میں ہے اور ہم اس کے اہل میں اور وہ ہمارے پاس اور سے آخر تک سب موجود ہے اور قیامت تک کوئی ایسا حادثہ ہونے والا نہیں ہے جسے رسول اکرم نے حضرت علی (ع) کے خط سے لکھوانہ دیا ہو یہاں تک کہ خراش لگانے کا تاوان بھی مذکور ہے۔( الاحتجاج 2 ص 63 /155 روایت ابن عباس)۔

488۔ امام حسن (ع) ! جب آپ سے تجارت کے معاملہ میں خیار کے ذیل میں حضرت علی (ع) کی رائے دریافت کی گئی تو آپ نے ایک زرد رنگ کا صحیفہ نکالا جسمیں اس مسئلہ میں حضرت علی (ع) کی رائے کا ذکر تھا۔( العلل ابن حنبل 1 ص 346 / 639)۔

489۔ امام باقر (ع) ! کتاب علی (ع) میں ہر وہ شے موجود ہے جس کی کبھی ضرورت پڑسکتی ہے ، یہاں تک کہ خراش کا تاوان اور ارش کا ذکر بھی موجود ہے۔( بصائر الدرجات 164 / 5 ، روایت عبداللہ بن میمون)۔

490۔ امام محمد (ع) باقر ! رسول اکرم نے حضرت علی (ع) سے فرمایا کہ جو کچھ میں بول رہاہوں تم لکھتے جاؤ… عرض کی یا رسول اللہ ! کیا آپ کو میرے بھول جانے کا خطرہ ہے ؟ فرمایا تمھارے بارے میں نسیان کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ میں نے خدا سے دعا کی ہے کہ تمھیں حافظہ عطا کرے اور نسیان سے محفوظ رکھے لیکن پھر بھی تم لکھو تا کہ تمھارے ساتھیوں کے کام آئے۔

میں نے عرض کی حضور یہ میرے شرکاء اور ساتھی کون ہیں ؟ فرمایا تمھاری اولاد کے ائمہ ” جن کے ذریعہ سے میری امت پر بارش رحمت ہوگی اور ان کی دعا قبول کی جائے گی اور بلاؤں کو دفع کیا جائے گا اور آسمان سے رحمت کا نزول ہوگا ، ان میں اول یہ حسن (ع) ہیں، اس کے بعد حسین (ع) اور پھر ان کی اولاد کے ائمہ (ع) ( امالی صدق (ر) 327 / 1 ، کمال الدین 206 / 21 ، بصائر الدرجات167 / 22 ، روایات ابو الطفیل)۔

491۔ عذا فرالصیرفی ! میں حکم بن عتیبہ کے ساتھ امام باقر (ع) کی خدمت میں حاضر تھا تو حکم نے حضرت سے سوالات شروع کردیے اور وہ ان کا احترام کیا کرتے تھے ایک مسئلہ پر دونوں میں اختلاف ہوگیا تو آپ نے اپنے فرزند سے فرمایا کہ ذرا کتاب علی (ع) تو لے کر آؤ۔ وہ ایک لپٹی ہوئی عظیم کتاب لے آئے اور حضرت اسے کھول کر پڑھنے لگے، یہاں تک کہ وہ مسئلہ نکال لیا اور فرمایا یہ حضرت علی (ع) کا خط ہے اور رسول اللہ کا املاء ہے۔

اور پھر حکم کی طرف رخ کرکے فرمایا اے ابومحمد ! تم یا سلمہ یا ابوالمقدام جد ہر چاہو مشرق و مغرب میں چلے جاؤ، خدا کی قسم اس قوم سے زیادہ محکم کہیں نہ پاؤگے جس کے گھر میں جبریل کا نزول ہوتا تھا۔(رجال نجاشی 2 ص 261 /967)۔

492۔ امام باقر (ع) ! ہم نے کتاب علی (ع) میں رسول اکرم کا یہ ارشاد دیکھاہے کہ جب لوگ زکٰوة روک لیں گے تو زمین بھی اپنی برکتوں کو روک لے گی۔(کافی 3 ص 505 /17 روایت ابوحمزہ)۔

493۔ محمد بن مسلم ! مجھے حضرت امام باقر (ع) نے وہ صحیفہ پڑھوایا جس میں میراث کے مسائل درج تھے اور اسے رسول اکرم نے املاء کیا تھا اور حضرت علی (ع) نے لکھا تھا اور اس میں یہ تصریح تھی کہ سہام میں عول واقع نہیں ہوسکتاہے اور حصے اصل مال سے زیادہ نہیں ہوسکتے ہیں۔( تہذیب 9 ص 247/ 5959)۔

494۔ ابوالجارود نے امام باقر (ع) سے روایت کی ہے کہ جب امام حسین (ع) کا آخری وقت آیا تو آپ نے اپنی دختر فاطمہ بنت الحسین (ع) کو بلاکر ایک ملفوف کتاب اور ایک ظاہری و صیت عنایت کی اور اس وقت حضرت علی بن الحسین (ع) شدید بیماری کے عالم میں تھے، اس لئے جناب فاطمہ (ع) نے بعد میں ان کے حوالہ کردیا اور وہ بعد میں ہمارے پاس آگئی۔

میں نے عرض کی میں آپ پر قربان ، آخر اس کتاب میں ہے کیا ؟ فرمایا ہر وہ شے جس کی اولاد آدم کو ابتدائے خلقت سے فناء دنیا تک ضرورت ہوسکتی ہے، خدا کی قسم اس میں تمام حدود کا ذکر ہے یہانتک کہ خراش لگانے کا تاوان لکھ دیا گیا ہے۔( کافی 1 ص 303 / 1 ، بصائر الدرجات 48 / 9 ، الامامة والتبصرہ 197 / 51 ، آخر الذکر و کتابوں میں وصیت ظاہر اور وصیت باطن کا ذکر ہے)۔

495۔ عبدالملک ! امام محمد باقر (ع) نے اپنے فرزند امام صادق (ع) سے کتاب علی (ع) کا مطالبہ کیا تو حضرت جاکر لے آئے ، وہ کافی ضخیم لپٹی ہوئی تھی اور اس میں لکھا بھی تھا کہ اگر کسی عورت کا شوہر مرجائے تو اسے مرد کی جائیداد میں سے حصہ نہیں ملے گا … اور حضرت امام محمد باقر (ع) نے فرمایا کہ واللہ اس کتاب کو حضرت علی (ع) نے اپنے ہاتھ سے لکھا ہے اور رسول اللہ نے املاء کیا ہے۔( بصائر الدرجات 165 / 14)۔

496۔ یعقوب بن میثم التمار( غلام امام زین العابدین (ع)) کا بیان ہے کہ میں امام باقر (ع) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کی ، فرزند رسول ! میں نے اپنے والد کی کتابوں میں دیکھاہے کہ امیر المومنین (ع) نے میرے والد میثم سے فرمایا تھا کہ میں نے محمد رسول اکرم سے سناہے کہ آپ نے آیت مبارکہ ان الذین آمنوا و عملوا لصالحات اولئک ھم خیر البریہ کے ذیل میں میری طرف رخ کرکرے فرمایا تھا کہ یا علی (ع) ! یہ تم اور تمھاری شیعہ ہیں اور تم سب کا آخری موعد حوض کوثر ہے، جہاں سب روشن پیشانی کے ساتھ سرمہٴ نورلگائے، تاج کرامت سر پر رکھے ہوئے حاضر ہوں گے۔

تو حضر نے فرمایا کہ بیشک ایسا ہی کتاب علی (ع) میں بھی لکھاہے۔ (امالی طوسی (ر) 405 /909 تاویل الآیات الظاہرہ ص 801 ، البرہان 4 ص 490 /2)۔

497۔ امام صادق (ع) ! ہمارے پاس وہ علمی ذخیرہ ہے کہ ہم کسی کے محتاج نہیں ہیں اور تمام لوگ ہمارے محتاج ہیں، ہمارے پاس ایک کتاب ہے جسے رسول اکرم نے املاء کیا ہے اور حضرت علی (ع) نے لکھاہے۔ یہ وہ صحیفہ ہے جس میں سارے حلال و حرام کا ذکر ہے اور تم ہمارے سامنے کوئی امر بھی لے آؤ، اگر تم نے لے لیا ہے تو ہمیں وہ بھی معلوم ہے اور اگر چھوڑ دیا ہے تو اس کا بھی علم ہے۔( کافی 1 ص 241 /6 روایت بکر بن کرب الصیرفی)۔

498۔ امام صادق (ع) ! رسول اکرم نے حضرت علی (ع) کو ایک صحیفہ عنایت فرمایا جس پر بارہ مہریں لگی ہوئی تھیں اور فرمایا کہ پہلی مہر کو توڑو اور اس پر عمل کرو پھر امام حسن (ع) سے فرمایا کہ تم دوسری مہر کو توڑو اور اس پر عمل کرو ، پھر حضرت حسین (ع) سے فرمایا کہ تم تیسری مہر کو توڑ و اور اس پر عمل کرو، پھر فرمایا کہ اولاد حسین (ع) میں ہر ایک کا فرض ہے کہ ایک ایک کو توڑے اور اس پر عمل کرے۔( الغیبتہ النعمانی 54 / 4 روایت یونس بن یعقوب)۔

499۔معلیٰ بن خنیس ! میں امام صادق (ع) کی خدمت میں حاضر تھا کہ محمد بن عبداللہ بن الحسن بن الحسن بن علی (ع) آگئے اور حضرت کو سلام کرکے چلے گئے تو حضرت کی آنکھوں میں آنسو آگئے ، میں نے عرض کی حضور آج تو بالکل نئی بات دیکھ رہا ہوں ؟ فرمایا مجھے اس لئے رونا آگیا کہ انکھوں ایسے امر کی طرف منسوب کیا جاتاہے جو ان کا حق نہیں ہے، میں نے کتاب علی (ع) میں ان کا ذکر نہ خلفاء میں دیکھا ہے اور نہ بادشاہوں میں ۔( کافی 8 ص 395 ، 594 ، بصائر الدرجات 168 / 1) واضح رہے کہ بصائر میں ان کا نام محمد بن عبداللہ بن حسن درج کیا گیا ہے۔

500۔ عبدالرحمان بن ابی عبداللہ ! میں نے امام صادق (ع) سے سوال کیا کہ اگر مرد و عورت دونوں کے جنازے جمع ہوجائیں تو کیا کرنا ہوگا؟ فرمایا کہ کتاب علی (ع) میں یہ ہے کہ مرد کا جنازہ مقدم کیا جائے گا۔( کافی 3 ص ص175 /6 ، استبصار 1 ص 472 /1826۔

501۔ امام صادق ! کتاب علی (ع) میں اس امر کا ذکر ہے کہ کتے کی دیت 40 درہم ہوتی ہے، ( خصال539/9 روایت عبدالاعلیٰ بن الحسین)۔

 

5۔ مصحف فاطمہ (ع)

502۔ ابوبصیر نے امام صادق (ع) کی زبانی نقل کیا ہے کہ ہمارے پا س مصحف فاطمہ (ع) ہے اور تم کیا جانو کہ وہ کیا ہے؟ میں نے عرض کی حضور یہ کیا ہے؟ فرمایا کہ یہ ایک صحیفہ ہے جو حجم میں اس قرآن کا تین گناہے اور اس قرآن کا کوئی حرف اس میں شامل نہیں ہے۔( کافی 1 ص 239 /1)۔

503۔ امام صادق (ع) ! مصحف (ع) فاطمہ (ع) وہ ہے جس میں اس کتاب خدا کی کوئی شے نہیں ہے بلکہ یہ ایک صحیفہ ہے جس میں وہ الہامات الہیہ ہیں جو بعد وفات پیغمبر جناب فاطمہ (ع) کو عنایت کئے گئے تھے۔( بصائر الدرجات 159 / 27 روایت ابو حمزہ)۔

504 ۔ امام صادق (ع) نے ولید بن صبیح سے فرمایا کہ ولید ! میں نے مصحف فاطمہ (ع) کو دیکھا ہے۔اس میں فلاں کی اولاد کے لئے جوتیوں کی گرد سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔( بصائر الدرجات 161/ 32)۔

505۔ حماد بن عثمان ! میں نے امام صادق (ع) سے سناہے کہ 128 ء ھ میں زندیقوں کا دور دورہ ہوگا اور یہ بات میں نے مصحف فاطمہ (ع) میں دیکھی ہے۔

میں نے عرض کی حضور یہ مصحف فاطمہ (ع) کیاہے؟ فرمایا کہ رسول اکرم کے انتقال کے بعد جناب فاطمہ (ع) بے حد محزون و مغموم تھیں اور اس غم کو سوائے خدا کے کوئی نہیں جان سکتا تھا تو پروردگار عالم نے ایک ملک کو ان کی تسلّی اور تسکین کے لئے بھیج دیا جو ان سے باتیں کرتا تھا۔

انھوں نے اس امر کا ذکر امیر المومنین (ع) سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ اب جب کوئی آئے اور اس کی آواز سنائی دے تو مجھے مطلع کرنا ۔ تو میں نے حضرت کو اطلاع دی اور آپ نے تمام آوازوں کو محفوظ کرلیا اور اس طرح ایک صحیفہ تیار ہوگیا۔ پھر فرمایا اس میں حلال و حرام کے مسائل نہیں ہیں بلکہ قیامت تک کے حالات کا ذکر ہے۔( کافی 1 ص 240 /2 ، بصائر الدرجات 157 / 18 ، کافی 1 ص 238 ، باب ذکر صحیفہ و جفر و جامعہ و مصحف فاطمہ (ع) اور بصائر الدرجات، باب صحیفہ جامعہ و باب الکتب و باب اعطاء و جامعہ و مصحف فاطمہ (ع) ، بحار الانوار 26 باب جہالت علوم ائمہ و کتب ائمہ، روضة الواعظین ص 232۔

 

6۔ جامعہ

506۔ابوبصیر امام صادق (ع) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت نے فرمایا اے ابومحمد! ہمارے پاس جامعہ ہے اور تم کیا جانو کہ یہ جامعہ کیاہے ؟ میں نے عرض کی حضور بتادیں کہ کیا ہے؟

فرمایا کہ ایک صحیفہ ہے جس کا طول رسول اکرم کے ہاتھوں سے ستر ہاتھ ہے اور اس میں وہ سب کچھ ہے جسے حضرت (ع) نے فرمایاہے اور حضرت علی (ع) نے اپنے ہاتھ سے لکھا ہے، اس میں تمام حلال و حرام اور مسائل انسانیہ کا ذکر ہے یہاں تک کہ خراش کا تاوان تک درج ہے یہ جان قربان، آپ کو اجازت کی کیا ضرورت ہے ، حضرت نے میرا ہاتھ دیا اور فرمایا کہ اس عمل کا تاوان بھی اس کے اندر موجود ہے۔

میں نے عرض کی حضور یہ تو واقعاً علم ہے!

فرمایا بیشک یہ علم ہے لیکن یہ وہ علم نہیں ہے؟( کافی 1 ص 239 /1 ،بصائر الدرجات 143 / 4)۔

507۔ ابوعبیدہ ! ایک شخص نے امام صادق (ع) سے علم جفر کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ ایک بیل کی کھال ہے جس میں سارا علم بھرا ہوا ہے عرض کی اور جامعہ ؟

فرمایا یہ ایک صحیفہ ہے جس کا طول ستر ہاتھ ہے ، کھال پر لکھا گیاہے اور اس میں لوگوں کے تمام مسائل حیات کا حل موجود ہے یہاں تک کہ خراش بدن کا تاوان تک لکھا ہوا ہے۔( کافی 1 ص 241 /5 ، بصائر الدرجات 153 / 6)۔

508 ، امام صادق (ع) ! جامعہ تک آکے ابن شبرمہ کا علم بھٹک گیا ، یہ رسول اللہ کا املاء ہے اور امیر المومنین (ع) کی تحریر ، جامعہ نے کسی شخص کے لئے مجال سخن نہیں چھوڑ ی ہے اور اس میں سارا حلال و حرام موجود ہے۔

مولف ! مذکورہ روایات میں جامعہ کے جو اوصاف بیان کئے گئے ہیں، یہی اوصاف روایات میں کتاب علی (ع) کے بھی ہیں لہذا عین ممکن ہے کہ جامعہ کتاب علی (ع) ہی کا دوسرا نام ہو۔(واللہ العالم)۔

509۔ ابوبصیر ! امام صادق (ع) نے فرمایا کہ ہمارے پاس جفر ہے اور لوگ کیا جانیں کہ جفر کیا ہے؟ میں نے عرض کی حضور (ع) ! ارشاد فرمائیں فرمایا ایک کھال کا ظرف ہے جس میں تمام انبیاء و اوصیاء کے علوم ہیں اور بنئ اسرائیل کے علماء کا علم بھی ہے؟۔

میں نے عرض کی حضور (ع) یہ تو واقعاً علم ہے ! فرمایا بیشک لیکن یہ وہ علم نہیں ہے جو ہمارے پاس ہے۔( کافی 1 ص 239 / 1)۔

510۔حسین بن ابی العلاء ! میں نے امام صادق (ع) سے سنا کہ ہمارے پاس جفر ابیض ہے۔!

تو میں نے عرض کی کہ حضور (ع) ! اس میں کیا ہے؟

فرمایا زبور داؤد (ع) ، توریت موسی ٰ (ع) ، انجیل عیسیٰ (ع) ، صحف ابراہیم (ع) اور جملہ حلال و حرام جو مصحف فاطمہ (ع) اور قرآن مجید نہیں ہیں ، اس میں لوگوں کے ان تمام مسائل کا ذکر ہے جن میں لوگ ہمارے محتاج ہیں اور ہم کسی کے محتاج نہیں ہیں ، اس میں کوڑا ، نصف ، ربع ، خراش تک کا ذکر ہے۔( کافی 1 ص 240 /3 ، بصائر الدرجات 150 /1)۔

511۔ امام رضا (ع) نے علامات امام کے ذیل میں فرمایا کہ امام کے پاس جفر اکبر و اصغر ہوتاہے جو بکری اور بھیڑ کی کھال پر ہے اور اس میں کائنات کے تمام علوم یہاں تک کہ خراش کے تاوان تک کا ذکر ہے اور کوڑے نصف ، ربع کا بھی ذکر ہے اور امام کے پاس مصحف فاطمہ (ع) بھی ہوتاہے۔( الفقیہ 4 ص 419 / 5914 روایت حسن بن فضال)۔

 

7حقیقت جفر

علم جعفر کی حقیقت اور اس کے مفہوم کے بارے میں علماء اعلام میں سجید اختلاف پایا جاتاہے اور ہر شخص نے ایک نئے اندار سے اسکی تشریح و تفسیر کی ہے جس کے تفصیلات کی یہاں کوئی ضرورت نہیں ہے، خلاصہٴ روایات یہ ہے کہ علم جفر اوصیاء پیغمبر اسلام کے علوی کی بنیادوں میں شمار ہوتاہے اور اس سے مراد وہ صندوق ہے جس میں تمام انبیاء سابقین کے صحیفے، رسول اکرم امیر المومنین (ع) ، جناب فاطمہ (ع) کے کتب و رسائل اور رسول اکرم کے اسلحے محفوظ ہیں، اس کو جفرا بیض اور جفرا حمر بھی کہا جاتاہے اور در حقیقت یہ ایک کتب خانہ اور خزانہ ہے جو اہلبیت (ع) کے خصوصیات میں ہے اور انھیں کو یکے بعد دیگرے وراثت میں ملتاہے، اور آج ام حجت العصر (ع) کے پاس محفوظ ہے۔ (کافی 1 ص 240 / 3 ، بحار 26 ص 18 / 1 ، 26 / 37 /68 ، 47 ص 26 /26 ، 52 ص 313/7)۔

 

  673
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      امام کاظم علیہ السلام کی مجاہدانہ زندگی کے واقعات کا ...
      امام جواد علیہ السلام اور شیعت کی موجودہ شناخت اور ...
      حدیث "قلم و قرطاس" میں جو آنحضرت{ص} نے فرمایا هے: ...
      حضرت علی (ع ) خلفاء کے ساتھ کیوں تعاون فر ماتے تھے ؟
      شیعه فاطمه کے علاوه پیغمبر کی بیٹیوں سے اس قدر نفرت ...
      کیا عباس بن عبدالمطلب اور ان کے فرزند شیعوں کے عقیده کے ...
      امام محمد باقر علیہ السلام کی حیات طیبہ کے دلنشین گوشے ...
      اگر کسی دن کو یوم مادر کہا جا سکتا ہے تو وہ شہزادی کونین ...
      قرآن مجید کی مثال پیش کرنے کا دعوی کرنے والوں کی حکمیت ...
      فاطمہ، ماں کی خالی جگہ

 
user comment