اردو
Tuesday 16th of July 2019
  897
  0
  0

استقامت و پايدارى كيلئے نصيحت

231

استقامت و پايدارى كيلئے نصيحت

لشكر اسلام كا مركزى حصہ پہلے كى طرح اب بھى سپاہ دشمن كے قلب ميں جنگ آزما تھا حبيب بن مسلمہ كے سخت حملے كے باعث بائيں بازو كا پَرہ( جناح راست) پسپا ہوكر فرار كرنے لگا تھا اميرالومنين حضرت على (ع) نے جب يہ كيفيت ديكھى تو انہوں نے مالك كو حكم ديا كہ ان فرار كرنے والوں كى طرف جاؤ اور ان سے كہو كہ : موت سے بچ كر كہاں جا رہے ہو كيا اس زندگى كى جانب جو قطعى ناپايدار ہے ؟ مالك فرار كرنے والوں كى جانب لپكے اور كئي مرتبہ پكار كر كہا كہ لوگو ميں مالك ہوں ليكن كسى نے ان كى جانب توجہ نہ كى جس كى وجہ يہ تھى كہ بيشتر لوگ انھيں اشتر كے نام سے جانتے تھے لہذا جس وقت انہوں نے كہا كہ ميں مالك اشتر ہوں تو فرار كرنے والے واپس آنے لگے اور ان كے گرد جمع ہوگئے_

مالك نے اپنے زور بيان سے لوگوں كو دوبارہ جنگ و نبرد كيلئے آمادہ كر ليا اس كے بعد انہوں نے قبيلہ '' مذحج'' كے افراد كو جو اپنے دليرى و جنگجوئي ميں مشہور تھے خاص طور پر نبرد آزمائي كى دعوت دى اور كہا كہ ميدان كارزار ميں اپنى مردانگى كے جوہر ديكھائيں اور دشمن كو پسپائي پر مجبور كرديں ان سب نے ايك زبان ہوكر اپنى آمادگى كا اعلان كرديا اور كہنے لگے كہ ہم آپ كے فرمانبردار ہيں طائفہ ہمدان كے سو افراد اور ان كے علاوہ ديگر چند دانشور جرائتمند اور باوفا لوگ مالك كى جانب واپس آگئے اور اس طرح دوبارہ دائيں جانب كا پرہ مضبوط ہوگيا ان كے جوش و خروش كا يہ عالم تھا كہ جس لشكر پر بھى حملہ آور ہوجاتے اسے نيست و نابود كرديتے (1) چنانچہ ان كے سخت و شديد حملات كا يہ نتيجہ برآمد ہوا كہ دشمن كو مجبور ا پسپا ہونا پڑا_

 

232

فرار كرنے والوں كى تنبيہ و سرزنش

فرار كرنے والے جب واپس آگئے تو اميرالمومنين حضرت على (ع) نے اس پيش بندى كے خيال سے كہ يہ اقدام دوبارہ نہ ہو ان سے خطاب كرتے ہوئے فرمايا كہ : ميں نے تمہارى چابكدستى و دلاورى بھى ملاحظہ كى اور ديگر سپاہ كى صفوں سے تمہيں سرتابى كرتے ہوئے بھى ديكھا_ اہل شام تو جفا كار، پست فطرت اور صحرانشين بدو ہيں مگر افسوس انہوں نے تمہيں راہ فرار دكھا دى جب كہ تم شائستہ و لائق ، برگزيدہ اور سر برآوردہ عرب ہو جو رات كى تاريكيوں ميں قرآن پاك كى تلاوت كرتے تھے لوگ گمراہى ميں بھٹك رہے تھے تم حق كى جانب آنے كى دعوت دے رہے تھے اگر تم فرار كرنے كے بعد واپس نہ آگئے ہوتے تو وہ سخت سزا تمہارے گريبان گير ہوتى جو خداوند تعالى نے مفرورين كيلئے مقرر كى ہے_(2)

... يہ جان لو كہ جو شخص راہ فرار اختيار كرتا ہے وہ خدا كے غضب كو برانگيختہ كرتا ہے اور خود كو ہلاكت كى جانب لے جاتا ہے اور وہ اس پستى و مذلت كى طرف چلا جاتا ہے جو ہميشہ اس كے ساتھ رہتى ہے وہ اس كے ذريعے اپنے لئے ابدى ننگ و رسوائي اور بد بختى كے سامان مہيا كرتا ہے جو شخص فرار كرتا ہے نہ اس كى عمر ميں اضافہ ہوتا ہے اور نہ ہى اسے خداتعالى كى رضاء و خوشنودى حاصل ہوتى ہے اس بناپر ان مذموم صفات كو حاصل كرنے سے موت كہيں زيادہ گوارا ہے_(3)

جنگ ميں مالك كا كردار

مالك اشتر دراز قامت ، مضبوط جسم اور لاغر بدن انسان تھے مگر بہت زيادہ طاقتور و تنومند ايك مرتبہ قيس كے دو فرزند مُنقذ اور حمير ان كے بارے ميں گفتگو كر رہے تھے _ منقذنے كہا كہ اگر مالك كى نيت ان كے عمل كى طرح ہے تو عربوں ميں ان كاثانى نہيں اس پر حمير نے جواب ديا كہ ان كا عمل ان كے خلوص نيت كا آئينہ دار ہے_(4)

مالك سرتاپا ايسے مسلح تھے كہ انھيں پہچانا نہيں جاسكتا تھا شمشير يمانى ان كے ہاتھ ميں تھى جس

 

233

وقت يہ تلوار ان كے ہاتھ ميں گھوم جاتى تھى تو لگتا تھا كہ يہ تلوار نہيں آب رواں ہے اور جس وقت فضا كو چيرتى ہوئي گذرتى تھى تو اس كى چمك سے ديكھنے والوں كى آنكھيں چكا چوند ہوجاتى تھيں_(5)

''ابن جمہان'' نے جب ان كى تلوار سے آگ نكلتى ديكھى اور دشمن پر ان كے شگفت آور حملے كو ديكھا تو ان سے كہا: خداوند آپ كى اس عظيم فداكارى كے بدلے ہيں جزاء خير عطا فرمائے جو آپ مسلمانوں اور اميرالمومنين كے دفاع كيلئے انجام دے ديتے ہيں_

مالك نے ہمدانيوں كے ساتھ ان پانچ صفوں كو اپنے محاصرہ ميں لے ليا تھا كہ جنہوں نے معاويہ سے يہ عہد كيا تھا كہ مرتے دم تك تم پر آنچ نہيں آنے ديں گے ليكن مالك نے چار صفوں كو پسپا كرديا_(6)

مالك جيسے لائق و اہل فرماندار كى موجودگى جہاد ميں سپاہيوں كى حوصلہ مندى اور دل گرمى كا سبب ہوتى وہ جس لشكر پر بھى حملہ آور ہوتے وہ لشكر فرار كرجاتا اور جب كبھى منتشر و پراگندہ سپاہ كے درميان پہنچ جاتے تو انھيں لشكر كى شكل ميں مرتب و منظم كرديتے جس وقت انہوں نے يہ ديكھا كہ سپاہ اسلام كے لشكر كے فرمانداروں اور پرچمداروں ميں سے دو شخص سخت جنگ و نبرد كے بعد شہيد ہوگئے ہيں تو انہوں نے كہا كہ : خدا كى قسم يہى صبر جميل اور كريمانہ عمل ہے اور مرد وہ ہے جو ميدان كارزار ميں يا تو كسى كو قتل كردے يا خود شہيد ہوجائے اور جو اس كے بغير ميدان جنگ سے واپس آتا ہے تو كيا اس كيلئے باعث ننگ و رسوائي نہيں ہے_(7)

دو حجر كى جنگ

صفر كى 7 تاريخ كو جب كہ فريقين كے لشكر ايك دوسرے كے مقابل آگئے تو پہلا شص جو معاويہ كے لشكر سے نكل كر ميدان كارزار ميں آيا اور حريف كو نبرد آزمائي كيلئے للكارا وہ ''حجر شرّ''

 

234

كے نام سے مشہور اور اميرالمومنين حضرت على (ع) كے يار باوفا حضرت حجر بن عدى كا چچازاد بھائي تھا حجر شر كامقابلہ كرنے كے لئے حجربن عدى ميدان جنگ ميں پہنچے اور دو حجر كے درميان سخت نبرد آزمائي ہوئي اسى اثنا ميں '' خزيمہ بن ثابت '' حجر شر كى مدد كے لئے ميدان جنگ ميں آگيا اور حجر بن عدى كو اس نے زخمى كرديا، سپاہ اسلام نے جب يہ منظر ديكھا تو وہ بھى ميدان كارزار كى جانب بڑھے اور خزيمہ بن ثابت كو قتل كرڈالا حجر شر بھى مجاہدان اسلام ميں سے ايك شخص كو قتل كرنے كے بعد اپنے چچازاد بھائي ( حجربن عدى ) كے ہاتھوں ہلاك ہوا اس كى ہلاكت حضرت على (ع) كے لئے باعث مسرت ہوئي اور آپ (ع) بارى تعالى كا شكر بجالائے_(8)

حريث كا قتل

حريث معاويہ كا غلام تھا تنومند ہونے كى وجہ سے اپنے آقا كا بہت محبوب و پسنديدہ تھا اسے ميدان جنگ ميں اسى وقت بھيجا جاتا تھا جب كہ ميدان كارزار سخت گرم ہوا اور جنگ دشوار و حساس لمحات گذر رہى ہوا اس ميں اور معاويہ ميں شباہت بھى بہت زيادہ تھى چنانچہ كبھى كبھى وہ اپنا مخصوص لباس بھى اس غلام كو پہنا ديتا جس كے باعث لوگ يہ سمجھنے لگتے كہ معاويہ بذات خود ميدان جنگ ميں آگيا ہے_

معاويہ نے اس سے يہ فرمائشے كى كہ اميرالمومنين حضرت على (ع) كے علاوہ وہ جس سے بھى چاہے نبرد آزما ہوجائے ليكن عمروعاص نے اسے اپنى باتوں سے يہ ترغيب دلائي كہ موقعہ ملے تو حضرت على (ع) سے بھى مقابلہ آرا ہوجائے چنانچہ وہ حضرت على (ع) كا مقابلہ كرنے كے لئے گيا اور كہنے لگا كہ اگر مجھ سے زور آزمائي كرنا چاہتے ہو تو آجاؤ_ حضرت على (ع) نے ايك ہى وار ميں اس كے دو ٹكڑے كرديئے اس كے قتل سے معاويہ كو سخت صدمہ ہوا اور اس نے عمروعاص كى سخت ملامت كي_(9)

 

235

آخرى تجويز

سرزمين صفين پر دونوں لشكروں كا قيام كافى طويل ہوگيا اس عرصے ميں فريقين كا جانى و ، مالى نقصان بھى بہت زيادہ ہوا ايك روز اس وقت جب كہ ميدان كارزار گرم تھا اور حضرت على (ع) كے ہاتھوں دشمن كے بہت سے جانباز دلاور مارے جاچكے تھے آپ(ع) نے لشكر حريف كو للكارا اور كہا كہ ہے كوئي جو مجھ سے نبرد آزما ہو مگر دشمن كى صفوںميں سے كوئي بھى ميدان جنگ ميں نہ آيا اس وقت حضر ت على (ع) گھوڑے پر سوار تھے چنانچہ آپ (ع) لشكر شام كے سامنے آئے اور معاويہ كو طلب كيا معاويہ نے كہا كہ ان سے پوچھو كہ كيا كام ہے؟ آپ نے فرمايا كيا اچھا ہوتا كہ معاويہ ميرے سامنے ہوتا اور ميں ان سے بات كرتا يہ سن كر معاويہ عمروعاص كى موافقت كے بعد اپنى صف سے نكل كر سامنے آيا_

اميرالمومنين حضرت على (ع) نے فرماياكہ : افسوس تيرے حال پر آخر تو نے كيوں لوگوں كو قتل كرنے پر كمر باندھ ركھى ہے؟ كب تك دونوں لشكر اپنى تلواريں كھينچے رہيں گے كيوں نہ ہم باہم نبرد آزما ہوجائيں تا كہ جو بھى غالب آجائے حكومت اسى كو مل جائے اس پر معاويہ نے عمروعاص سے پوچھا كہ تمہارى كيا رائے ہے؟ كيا ميں على (ع) سے نبرد آزمائي كروں عمروعاص نے كہا كہ تجويز تو معقول و منصفانہ ہے اگر اس وقت اس تجويز سے روگردانى كى تو تيرا خاندان ابد تك ذلت و خوارى ميں گرفتاررہے گا_

معاويہ نے كہا كہ : بھلا ميں اور تمہارى باتوں ميں آجاؤں ميں على بن ابى طالب (ع) كو خوب جانتا ہوں خدا كى قسم اس نے جس سے بھى دست و پنجہ نرم كيا اسى كے خون سے زمين كو سيراب كرديا(10) يہ كہہ كر وہ واپس اپنے لشكر كى جانب چلا گيا اور آخرى صف ميں پہنچ كر پناہ لى يہ منظر ديكھ كر حضرت على (ع) كو ہنسى آگئي چنانچہ آپ بھى اپنى جگہ واپس آگئے_(11)

 

236

بدترين طريقے كا سہارا

حارث بن نضر كا شمار اميرالمومنين حضرت على (ع) كے اصحاب ميں ہوتا تھا عمروعاص كو ان سے خاص دشمنى تھى او ر شايد ہى كوئي ايسى مجلس ہو جس ميں حارث كى برائي نہ كرتا ہو حارث نے بھى عمروعاص كے متعلق كچھ شعر كہے اور اس كے پاس بھيجديئے ان اشعار ميں اسے يہ اشتعال دلايا گيا تھا كہ اگر نيك نام اور كار خير كى تمنا ہے تو على بن ابى طالب كے مد مقابل آجاؤ_

ان اشعار كو پڑھ كر عمروعاص نے قسم كھائي كہ على (ع) سے ضرور زور آزمائي كروں گا چاہے ہزار مرتبہ موت كا سامنا كرنا پڑے يہ كہہ كر وہ ميدان كارزار ميں آيا حضرت على (ع) بھى اس كى جانب بڑھے حضرت على (ع) كو ديكھ كر عمروعاص پر ايسا خوف طارى ہوا كہ اس نے خود كو گھوڑے سے زمين پر گرا ديا اور شرمگاہ كھول دى حضرت على (ع) نے منھ پھير ليا تو عمروعاص نے راہ فرار اختيار كي_ (12)

دشمن كے سرداروں كا اعتراف

عمروعاص ، عُتبہ ،وليد، عبداللہ ابن عامر اور طلحہ كے بيٹے جيسے لشكر شام كے نامور سردار ايك رات معاويہ كے گرد جمع تھے اور گفتگو حضرت على (ع) كے بارے ميں ہو رہى تھى عتبہ نے كہا كہ : على (ع) كا ہمارے ساتھ رويہ بڑا ہى عجيب و حيرتناك ہے كيونكہ ہم ميں سے كوئي بھى ايسا نہيں بچا جو ان كے ستم كا نشانہ نہ بن چكا ہو ميرے دادا عتبہ اور بھائي حنظلہ كو تو انہوں نے قتل ہى كيا تھا ميرے چچا شيبہ كے قتل ميں بھى وہ شريك تھے وليد تيرے باپ كو بھى على (ع) نے ہى قتل كيا ہے اور اے مروان تجھے على (ع) سے دو لحاظ سے صدمہ پہنچا ہے_

اس پر معاويہ نے كہا كہ : يہ جو كچھ تم كہہ رہے ہو تو وہ على (ع) كى شجاعت كا اعتراف ہے تم نے ان كا كيا بگاڑ ليا؟

مروان نے كہا كہ : آپ كيا چاہتے ہيں ميں ان كا كيا كروں؟اس نے كہا كہ اپنے نيزے سے ان كى تكہ بوٹى كردو مروان نے كہا كہ : لگتا ہے كہ آپ كو مذاق سوجھاہے اور ہمارے ذريعہ

 

237

آسودہ خاطر ہونا چاہتے ہيں_

اس موقع پر وليد نے بھى چند اشعار كہے جن كا مفہوم و مضمون يہ تھا كہ : معاويہ كہتا ہے كہ ہے كوئي جو ابوالحسن پر حملہ آور ہو اور اپنے مقتول بزرگوں كا ان (ع) سے انتقام لے گويا فرزند ہند كو دل لگى سوجھى ہے يا وہ كوئي اجنبى ہے جو على (ع ) كو نہ پہچانتا ہو كيا تم ہميں اس سانپ سے ڈسوانا چاہتے ہيں جو صحرا كے بيچ رہتا ہے اگر كاٹ لے تو اس كے ز ہر كا منتر نہ ملے ہم تو على (ع) كے مقابل اس بجو كى طرح ہيں جو كسى وسيع دشت ميں ہيبت ناك شير غراں كے سامنے آگيا ہو_ عمروعاص نے حيلے سے تو اپنى جان تو بچالى مگر ڈركے مارے اس كا دل سينے ميں دھڑك رہا تھا_

وليد كے اشعار سن كر عمروعاص كو غصہ آگيا اس نے جواب ديا كہ : وليد نے تو على (ع) كے رعب دار و وحشت ناك نعروں كى ياد تازہ كردى _ ميدان جنگ ميں شجاعت و دلاورى كے جوہر ان كى ذات سے نماياں ہوتے ہيں جب قريش ان كا ذكر كرتے ہيں تو ان كے دلوں كے پرندے سينوں كے قفس سے پرواز كرنے لگتے ہيں تم مجھے تو تنبيہہ و توبيخ كر رہے درحاليكہ معاويہ اور وليد تك على (ع) سے دہشت كھاتے ہيں_ اور وليد اگر تو سچ كہہ رہا ہے اور كوئي سور ماسوار ہے تو على (ع) كا سامنا كر خدا كى قسم اگر على (ع) كى آواز بھى سن لى تو دل ہوا ہوجائے گا اور رگيں پھول كر كپہ ہوجائيں گى اور عورتيں تيرا سوگ مناتى رہيں گي_(13)

پھر دھوكا

دليرى و جانبازى ، راہ خدا ميں جہاد مقدس اور شرك كے گدى داروں كى بيخ كنى حضرت على (ع) كے ايسے نماياں كار نامے ہيں جن كا شمار آپ كے اہم ترين امتيازات و افتخارات ميں ہوتا ہے ليكن معاويہ رائے عامہ كو بدلنے كى خاطر انہى فضائل كو ايسے نقص سے تعبير كرتا تھا جو اس كے خيال كى روسے امور زمامدارى اور امت كى قيادت ميں مانع ثابت ہوتے ہيں_

ايك روز معاويہ نے عبيداللہ بن عمر كو اس كام پر مقرر كيا كہ وہ حضرت امام حسن (ع) كے پاس

 

238

جائے اور ان سے ملاقات كرے اور ان تك معاويہ كا پيغام پہنچائے جب وہ حضرت امام حسن (ع) كے پاس پہنچا تو اس نے كہا كہ : آپ كے والد نے اول سے آخر تك قريش كا خون بہايا ہے اور اپنے عمل سے ان كے دلوں ميں جذبہ كينہ و دشمنى كو بر افروختہ كيا ہے كيا آپ ان كا ساتھ ترك نہيں كر سكتے تا كہ زمام خلافت آپ كے اختيار ميں دے دى جائے اس پر حضرت امام حسن(ع) نے فرمايا كہ : يہ ہرگز ممكن نہيں خدا كى قسم يہ كام كسى بھى صورت ميں عمل پذير نہيں ہوسكتا لگتا ہے كہ تيرا وقت پورا ہوچكا ہے اور تو آج يا كل ميں قتل ہونے والا ہے شيطان نے تجھے فريفتہ كر ليا ہے اسى لئے اس نے تيرے كاروبار كو رونق بخشى ہے خداوند تعالى تجھے نيست و نابود كرے_

عبيداللہ، معاويہ كے پاس واپس آگيا اور تھوڑى دير نہ گذرى تھى كہ چار ہزار سپاہيوں كا لشكر ميدان ميں حملہ آور ہوا اور طائفہ ہمدان كے ايك شخص كے ہاتھوں قتل ہوا امام مجتبى (ع) نے جوپشين گوئي فرمائي تھى وہ صحيح ثابت ہوئي_

حضرت امام حسن (ع) نے اس كا خون آلود لاشہ جب زمين پر گرا ہوا ديكھا تو آپ كو مسرت ہوئي اور خداوند تعالى كاشكر ادا كيا_(14)

نويںروز جب كہ پرچم، ہاشم مرقال كے ہاتھ ميں تھا سپاہ اسلام ميں خاندان مذحج اور سپاہ شام سے، عك، لخم اور اشعريوں كے درميان شديد جنگ جارى تھى ، حضرت على (ع) كى تلوار سے پانچ سو سے زيادہ عرب كے سربرآورہ اور دلاور قتل ہوئے يہاں تك كہ آپ كى تلوار خميدہ ہوگئي_

راوى كا بيان ہے كہ ہم حضرت على (ع) كى خميدہ تلوار ليتے اور اسے سيدھا كرديتے اور واپس دے ديتے جسے لے كر آپ دشمن كى صفوں ميں اتر جاتے خدا كى قسم ہم نے كوئي ايسا شجاع نہيں ديكھا جو دشمن كے لئے على (ع) سے زيادہ سخت ہو_(15)

اس روز فريقين كے لشكر ايك دوسرے كى جان لينے پر تلے ہوئے تھے پہلے تو تيروں اور پتھروں سے مقابلہ ہوتا رہا اس كے بعد نيزوں سے جنگ ہوئي جب نيزے بھى ٹوٹ گئے تو تلواروں اور لوہے كے گرزوں سے ايك دوسرے پر حملہ آور ہوئے اس دن ميدان كارزار ايسا

 

239

گرم تھا كہ اسلحہ كى چكاچك كے علاوہ كوئي آواز سنائي نہ ديتى تھى _ نعروں كى گونج ، بجلى كى گرج ، پہاڑوں كى چٹانيں ٹكرانے سے كہيں زيادہ ہولناك تھى فضا اس وقت ايسى گرد آلود تھى كہ لگتا تھا كہ سورج غروب ہو رہا ہے اس گردو خاك اور تاريكى كے درميان پرچم و بيرق كہيں نظر نہ آتے تھے مالك اشتر كبھى سپاہ ميمنہ كى طرف جاتے اور كبھى لشكر ميسرہ كى جانب لپكتے چنانچہ وہ جس لشكر يا قبيلے كے پاس پہنچتے جنگ جارى ركھنے كے سلسلے ميں اس كى حوصلہ افزائي كرتے_

جنگ نصف شب تك جارى رہى اس قت نماز پڑھنے كا بھى موقعہ نہ تھا(15) مالك اشتر مسلسل ميدان جنگ كى جانب بڑھے چلے جارہے تھے يہاں تك كہ كار زار، ان كے پيچھے رہ گيا اور وہ آگے نكل گئے_

اس اثنا ميں حضرت امام مجتبى (ع) دشمن پر حملہ آور ہونے كے ارادے سے آگے بڑھے ليكن انھيں (ع) ديكھ كر حضرت على (ع) نے فرمايا كہ : ان كو ميدان جنگ ميں جانے سے روكا جائے كيونكہ ان دو فرزندوں (حضرت امام حسن (ع) و حضرت امام حسين (ع)) كى جانب ميرى خاص توجہ ہے كہيں ايسا نہ ہو كہ نسل پيغمبر روئے زمين سے مفقود و ناپديد ہوجائے_(16)

اميرالمومنين (ع) قلب لشكر ميں پيش پيش تھے مالك دائيں پرے ميں اور ابن عباس سپاہ كے بائيں پرے ميں موجود تھے انجام كار يہ جنگ نويں روز اس دسويں شب جو ليلة الہرير (17) كے نام مشہور ہے اختتام پذير ہوئي جس ميں فريقين كا بہت زيادہ جانى و مالى نقصان ہوا اور دونوں لشكروں (18) كے سپاہى بھى تھك چكے تھے مگر تھكن كے آثار سپاہ شام ميں نظر آتے تھے اور فتح و ظفر كى علامات سپاہ عراق سے ہويدا تھيں_

دو لائق سپہ سالاروںكى شہادت

نويں روز جو دردناك حادثات رونما ہوئے ان ميں حضرت على (ع) كے دو فرمانداروں يعنى عمار ياسر اور ہاشم مرقال كى شہادت تھى اگرچہ عمار كى عمر نوے سال سے تجاوز كر گئي تھى مگر ان ميں اس

 

240

قدر چستى و دليرى تھى اور ايسا جوش و خروش پايا جاتا تھا كہ اس سے جوانوں كو تقويت ہوتى تھي_

عمار جس وقت ميدان كارزار كى جانب روانہ ہوئے تھے اس وقت وہ دست بدعا تھے اور خداوند تعالى سے فرياد كر رہے تھے اے پروردگار اے خدايا تو ناظر و شاہد ہے اگر ميں يہ جان لوں كہ تيرى رضا اسى ميں تھے كہ ميں خود كو سمندر ميں گرادوں تو ميں ايسا ہى كرونگا اگر مجھے يہ معلوم ہوجائے كہ تيرى خوشنودى اس ميں ہے كہ ميں اپنے سينہ و دل كو نوك شمشير پر اس طرح ركھ دوں كہ وہ ميرى كمر سے نكل آئے تو يقينا ميں ايسا ہى كروں گا ليكن اس علم كے مطابق جو تو نے مجھے ديا ہے كہ ميں يہ جانتا ہوں كہ تجھے آج كوئي عمل اس سے زيادہ راضى و خوشنود نہيں كر سكتا كہ تباہ كاروں كے خلاف جہاد كروں_(19)

عمار وہ مخلص دلاور اور ايسے جنگجو سپاہى تھے جو ميدان كارزار ميں تھكنا نہيں جانتے وہ عاشق جانبازى كى مانند جنگ كرتے حق كے دشمنوں كے لئے انكى تلوار موت كا پيغام تھى اور جس كے سرپر پڑجاتى اسے واصل جہنم كرتى مگر حاميان حق كے دلوں كو اس سے تقويت ملتى در حقيقت وہ ميزان حق تھے چنانچہ نبى اكرم (ص) نے انہى كى شان ميں تو فرمايا تھا كہ : عمار حق كے ساتھ زندہ ہے اور حق عمار كے ساتھ ہے (20) جو شخص بھى ان كے محاذ پر جنگ كرتا اسے يہ يقين ہوتا كہ وہ حق كى مدافعت كريں گے اور اسى راہ ميں اگر انھيں قتل بھى كرديا گيا تو انھيں بہشت بريں ميں جگہ ملے گي_

مسلمانوں كے درميان يہ بات مشہور تھى كہ عمار ميزان حق ہيں چنانچہ جب كبھى حق و باطل كے درميان تشخيص كرنا مقصود ہوتا تو عمار كے عمل اور موجودگى كو بطور سند پيش كيا جاتا اس كى ايك مثال يہ ہے كہ : ان كے چچازاد بھائي'' ذى الكلاع حميرى '' شامى سپاہ عراق ميں شامل تھا عمار نے اسے بلايااور كہا ميں نے اس لئے بلايا ہے كہ تمہيں وہ حديث سناؤں جو عمروعاص نے رسول خدا(ص) سے نقل كى ہے اس كى بعد انہوں نے وہ حديث بيان كى جس ميں رسول خدا(ص) نے فرمايا تھا كہ : شام اور عراق كے لشكر ايك دوسرے كے مقابل ہوں گے ان ميں سے ايك حق و ہدايت كا پيشوا ہوگا اور عمار اسى كے ساتھ ہوں گے (21) اس پر ابونوح نے كہا تھا كہ : خدا كى قسم عمار ہمارے ساتھ ہيں

 

241

اور ہم سب سے زيادہ انھيں تم سے جنگ كرنے پر اصرار ہے كتنا اچھا ہوتا كہ تم سب ايك تن ہوتے اور ميں اسے ذبح كرتا اور سب سے پہلے تجھ چچازاد بھائي كو ہى قتل كرتا ... كيونكہ ہم حق پر ہيں اور تم باطل پر ہو_

اس كے بعد ذوالكلاع كى درخواست پر وہ عمروعاص كے پاس گئے تا كہ اس تك بھى يہ اطلاع پہنچائي جاسكے كہ اميرالمومنين حضرت على (ع) كے لشكر ميں عمار بھى موجود ہيں اور شاميوں سے جہاد كرنے كيلئے واقعى وہ سنجيدہ ہيں تا كہ ان كے ضمير كو بيدار كيا جاسكے_

عمروعاص نے بھى گفتگو كے درميان اس حقيقت كا اعتراف كيا كہ : اس نے رسول خدا(ص) سے سن ركھا ہے كہ عمار كو جفاكار اور باغى قتل كريں گے اس كے بعد عمروعاص كى تجويز پر اس كے اور عمار كے درميان ملاقات كا پروگرام مرتب كيا گيا گفتگو عمروعاص كى جانب سے شروع ہوئي اس نے عمار كو پند و نصيحت كرتے ہوئے كہا كہ : وہ جنگ و خونريزى سے باز رہيں اس ضمن ميں يہ بھى كہا كہ : ہمارے اور تمہارے درميان خدا كا فيصلہ قرآن اور رسول مشترك ہيں عمار نے كہا كہ : خدا كا شكر جس نے يہ توفيق دى كہ تم نے وہ سب باتيں اپنى زبان سے كہيں جو مجھے اور ميرے دوستوں كو كہنى چاہيے تھيں نہ كہ تمہيں_ اب ميں تمہيں بتاتا ہوں كہ ميں تم سے كيوں جنگ كر رہاہوں رسول خدا (ص) نے فرمايا تھا كہ : ميں ''ناكثين'' سے جنگ كروں چنانچہ ميں نے ايساہى كيا رسول خدا (ص) نے ہى يہ حكم ديا تھا كہ ميں '' قاسطين'' سے جنگ كروں اور تم وہى ہو اسى لئے تم سے بر سر پيكار ہوں(22)

بالاخر گفتگو كسى فيصلہ كن نتيجے تك نہيں پہنچى اور اب عمار دشمن كى اس فوج كے مقابلے ميں گئے جس كى فرماندارى عمروعاص كے ہاتھ ميں تھى جس وقت ان كى نگاہ عمروعاص كے پرچم پر گئي تو انہوں نے كہا كہ : خدا كى قسم اس پرچم كے خلاف تو ميں تين مرتبہ جنگ كرچكا ہوں اس راہ پر چل كر آدمى كہيں نہيں پہنچے گا اور دوسرے راستوں سے يہ كسى طرح بھى بہتر نہيں_(23)

عمار نے اپنے ساتھيوں كے درميان بآواز بلند كہا كہ : كہاں ہيں وہ لوگ جو رضا خدا كے متمنى ہيں اور جنہيں مال و اولاد سے علاقہ نہيں (24) اس كے بعد انہوں نے ان لوگوں سے خطاب

 

242

كرتے ہوئے جنہوں نے راہ خدا ميں پيشقدمى كى تھى كہا كہ اے لوگو ہمارے ہمراہ ان لوگوں سے جنگ وجدل كيلئے جلد جلد آگئے آؤ جو اپنى دانست ميں عثمان كے خون كا بدلہ لينا چاہتے ہيں_(25)

عمار جس لشكر ميں شامل تھے اس كے پرچمدار ہاشم مرقال تھے وہ اپنے پرچمدار كى حوصلہ افزائي كرتے رہتے كہ دشمن پر حملہ آور ہوں ہاشم مرقال بھى اپنى بے مثال دلاورى كے باعث جنگجو سپاہى كيلئے راستہ ہموار كرتے رہتے جب كبھى ان كا نيزہ ٹوٹ جاتا تو حضرت عمار انھيں دوسرا نيزہ دے ديتے ان دو جانبازوں كى بے پناہ و دليرانہ نبرد آزمائي نے عمروعاص كو ايسا مرعوب كيا اور اس كے دل پر ايسى وحشت طارى ہوئي كہ اس نے بآواز بلند كہا كہ جس شخص نے يہ سياہ پرچم اپنے ہاتھ ميں سنبھال ركھا ہے اگر اسى طرح آگے بڑھتا رہا تو آج يہ تمام عربوں ك ہلاك كر ڈالے گا_(26)

جب يہ پيشوائے حريت يعنى عمار بہت سے شاميوں كو ہلاك كرچكے تو ان پر معاويہ كى فوج كے دو دلاور حملہ آور ہوئے اور ان ميں سے ايك نے اپنے نيزے سے ايسى كارى ضرب لگائي كہ وہ زمين پر آرہے اور دوسرے نے ان كے سرمبارك كو تن سے جدا كرديا(27) اور اس طرح اس جرى و دلير سپاہى نے اپنے اس سركو جس سے وہ اپنے معبود حقيقى كے سامنے جبين سائي كيا كرتا تھا ميدان جہاد ميں اسى كى خاطر قربان كرديا_

اس جنگ كے دوسرے دلير و جانباز ہاشم بن عتبہ تھے جو دو زرہ پہنے ہوئے تھے اميرالمومنين حضرت على (ع) نے جس وقت پرچم ان كے سپرد كيا تو بطور مزاح ان سے كہا كہ : اس كا لے بزدل كا تو ڈر كہيں تمہارے دل ميں نہيں؟(28) اس پر انہوں نے عرض كيا كہ : يہ تو اميرالمومنين (ع) كو جلد ہى معلوم ہوجائے گا قسم خدا كى ميں ان كے سروں كو اس طرح اڑاوں گا كہ جس طرح كوئي اس دنيا سے دوسرى دنيا ميں جانے كا قصد ركھتا ہو_ اس كے بعد انہوں نے نيزہ اپنے ہاتھ ميں لے ليا اور اس زور سے اسے جھٹكا ديا كہ وہ ٹوٹ گيا دوسرا نيزہ لايا گيا وہ چونكہ سوكھ چكا تھا اسى لئے انہوں

 

243

نے اسے دور پھينك ديا بآلاخر انھيں ايك نرم نيزہ ديا گيا جس پر انہوں نے پرچم كا پھريرا باندھا اور اپنے حملے كو اس خيمے پر مركوز كرديا جس ميں عمروعاص ، معاويہ اور ان كے دوست و احباب جمع تھے اس روز كشت كشتار كا ايسا بازار گرم ہوا كہ كسى نے اس سے پہلے ايسى قتل و غارتگرى نہ ديكھى تھى اور نہ ہى كسى كو موت كى ايسى گرم بازارى ياد تھي_(29)

آخرى مرتبہ جب سياہ پرچم امير المومنين حضرت على (ع) نے ہاشم كو ديا تو چاہا كہ اب يہ جنگ ايك طرف ہو چنانچہ آپ نے فرمايا كہ : ہاشم معلوم نہيں اب تمہارا آب و دانہ كب تك كا باقى ہے؟ اس پر انہوں نے عرض كيا كہ اس مرتبہ راہ جہاد ميں ايسا نكلوں گا كہ پھر كبھى واپس نہ آؤں گا آپ نے فرمايا كہ '' تمہارے مقابل ذى الكلاع ہے اور اس كے گرد موت منڈھلا رہى ، سرخ موت''

ہاشم ميدان كارزار كى طرف روانہ ہوئے جب وہ معاويہ كے نزديك پہنچے تو اس نے پوچھا كہ كون شخص ہے جو آگے بڑھا چلا آرہا ہے اسے بتايا گيا كہ ہاشم مرقال ہيں (30) يہ سن كر اس نے كہا كہ وہى بنى زہرہ كا كانا، خدا اسے غارت كرے(31) ہاشم نے اپنے ان ساتھيوں كے ہمراہ جو قارى قرآن اور خدا كے عاشق تھا كتنى مرتبہ دشمن كى صف كو درہم برہم كيا چنانچہ جس وقت وہ طائفہ '' تنوح'' كے پرچم تك پہنچے تقريبا دشمن كے دس دلاوروں (32) كو ہلاك كرچكے تھے انہوں نے معاويہ كے پرچمدار كو جو طائفہ '' عذرہ'' كا فرد تھا قتل كرديا اس كے بعد ذوالكلاع ان سے جنگ كرنے كيلئے ميدان ميں آيا ان كے درميان ايسى زبردست جنگ ہوئي اور ايسى كارى ضربيں ايك دوسرے كو لگائي كہ دونوں ہى قتل ہوگئے (33) اس كے بعد ان كے فرزند عبداللہ نے فورا ہى اپنے والد كا پرچم اٹھاليا اور جہاد كيلئے آمادہ ہوگئے_(34)

حضرت عمار كى شہادت كارد عمل

عمار ياسر اور ہاشم مرقال كى شہادت نے اميرالمومنين حضرت على (ع) اور آپ (ع) كے اصحاب كو بہت زيادہ غمگين و رنجيدہ خاطر كيا چنانچہ ان كى جدائي كا ايسا قلق و صدمہ ہوا كہ آپ نے ان كے سوگ

 

244

ميں گريہ و زارى كرتے ہوئے چند اشعار بھى كہے جن كا مفہوم يہ ہے كہ : اے موت مجھے تجھ سے رہائي تو نصيب نہ ہوگى اور مجھے بھى اس زندگى سے نجات دے كيونكہ تونے تمام دوستوں كو مجھ سے چھين ليا ہے مجھے ايسا محسوس ہوتا ہے كہ تو ميرے دوستوں كو خوب پہچانتى ہے اور ايسا معلوم ہوتا ہے كہ تو كسى راہنما كى مدد سے ان كى تلاش ميں نكلتى ہے_ (35) ليكن اس كے ساتھ ہى اس شہادت نے باطل كے چہرے كو بے نقاب كرديا اور لشكر شام كے بہت سے سپاہيوں كا رادہ متزلزل ہوگيا چنانچہ ان ميں سے بعض افراد كو جن ميں عبداللہ بن سويد بھى شامل تھے رسول خدا (ص) كى وہ حديث ياد آگئي جو آپ(ص) نے عمار كى شان ميں فرمائي تھى اور ان پر يہ ظاہر ہوگيا كہ معاويہ ناحق اور باطل پر ہے اور اس كى يہ جنگ در اصل بغاوت تھى چنانچہ انہوں نے معاويہ كا ساتھ چھوڑ كر امير المومنين حضرت على (ع) كى ہمراہى اختيار كرلي_

عمار كى شہادت نے سپاہ دشمن كو بھى اتنا متاثر كيا كہ اس كا حوصلہ بھى متزلزل ہوگيا چنانچہ عمروعاص نے اس كے اثر كو زائل كرنے كے خيا ل سے ايك بہانہ نكل ہى ليا اور يہ اعلان كرديا كہ '' عمار كے قاتل ہم نہيں بلكہ على (ع) ہيں كيونك انہوں (ع) نے انھيں محاذ جنگ پر بھيجا تھا_(36)

معاويہ نے بھى اس جرم كى پاداش ميں كہ عمروعاص نے وہ حديث نقل كى تھى جو رسول خدا (ص) نے عمار كى شان ميں بيان كى تھى اس كى بہت زيادہ سرزنش كى اور كہا كہ تم نے شام كے لوگوں كو ميرے خلاف شورش پر آمادہ كيا ہے كيا ضرورى تھا كہ تم نے جو رسول خدا (ص) سے سنا تھا اسے يہاں بيان كرتے انہوں نے جواب ديا كہ مجھے كيا معلوم تھا كہ وہ وقت بھى آئے گا جب جنگ صفين بپا ہوگى جس روز ميں نے يہ حديث بيان كى تھى اس وقت عمار ہمارے اور تمہارے ہم خيال تھے اس كے علاوہ جو كچھ ميں نے رسول خدا(ص) سے سن كر بيان كيا تھا تم نے بھى اسے نقل كيا ہے اور اگر اس بات سے تمہيں انكار ہے تو خود ہى شام كے لوگوں سے دريافت كرلو معاويہ كو پہلے سے بھى زيادہ طيش آيا اور اس نے عمروعاص كو بہت زيادہ سخت و سست كہا_(37)

 

245

سوالات

1_ جب بعض سپاہى محاذ جنگ سے فرار كر گئے تو حضرت على (ع) نے كيا اقدام كيا اور انہيں (ع) كس حد تك اپنے مقصد ميں كاميابى ہوئي؟

2_ مالك اشتر كا جنگ صفين ميں كيا كردار رہا مختصر طور پر بيان كيجئے؟

3_ معاويہ كا غلام حريث كس طرح فريفتہ ہوا اور وہ كس كے ہاتھوں ماراگيا؟

4_ جنگ ختم كرنے كے لئے حضرت على (ع) نے معاويہ كے سامنے كونسى تجويز ركھي؟

5_ معاويہ نے حضرت على (ع) كے لشكر ميں تزلزل پيدا كرنے كيلئے محاذ جنگ پر حضرت امام حسن (ع) كے سامنے كيا تجويز پيش كى اس پر حضرت حسن (ع) كا كيا رد عمل ظاہر ہوا؟

6_ سپاہ اسلام كے فرمانداروں پر عمار كو كيا خصوصيت و برترى حاصل تھي؟

7_ شام كى سپاہ پر عمار كى شہادت كا كيا اثر ہوا اس كے بارے ميں ايك تاريخى مثال پيش كيجئے؟

8_ عمار كى شہادت كا اثر زائل كرنے كے لئے عمروعاص نے كيا تركيب نكالي؟

 

246

حوالہ جات

1_ وقعہ صفين ص 253و 250

2_ شايد اس آيت كى جانب اشارہ ہے يا ايہا الذى آمنوا اذا لقيتم الذين كفرو ازحفا فلا تولوا ہم الادبار و من يولہم يومئذ دبرہ الا متحرفا لقتال او منحيزا الى فئة فَقَد باء بغضب من اللہ و ماواہ جہنم و بئس المصير (الے لوگو جو ايمان لائے ہو، جب تم ايك لشكر كى صورت ميں كفار سے دوچار ہو تو ان كے مقابلے ميں پيٹھ نہ پھيرو جس نے ايسے موقعے پر پيٹھ پھيرى مگر يہ كہ جنگى چال كے طور پر ايسا كرے يا كسى دوسرے فوجى دستہ سے جا ملنے كے لئے تو وہ اللہ كے غضب ميں گھر جائے گا اور اس كا ٹھكانہ جہنم ہوگا اور وہ بہت برا ٹھكانہ ہے سورہ انفال آيہ 14_ 15

3_ وقعہ صفين ص 256، كامل ابن اثير ج 3 ص 304 ، تاريخ طبرى ج 5 ص 25 ، شرح ابن ابى الحديد ج 5 ص 204

4 و 5_ وقعہ صفين 255_ 254

6_ وقعہ صفين 255_ 254

7_ كامل ابن اثير ج 3 ص 302 ، تاريخ طبرى ج 5 ص 24

8_ وقعہ صفين ص 254 _ 253 '' الا ليستحيى الرجل ان ينصرف لم يقتل و لم يقتل؟

9_ وقعہ صفين 243 ، شرح ابن ابى الحديد ج 5 ص 195(10) وقعہ صفين ص 272 ، شرح ابن ابى الحديد ج 5 ص 215

11_ و اللہ ما بارز ابن ابى طالب رجلا قط الا سقى الارض من دمہ

12_ وقعہ صفين ص 274_ 275_316 ، شرح ابن ابى الحديد ج 5 ص 218_ 217 ، يہاں يہ بات بھى قابل ذكر ہے كہ تاريخ كے اس حصے ميں حضرت على (ع) اور معاويہ كا اپنى سپاہ كے ساتھ جو رويہ رہا اسے مورخين نے مختلف طوار سے بيان كيا ہے انہوں نے لكھا ہے حضرت على (ع) كتنى ہى مرتبہ محاذ جنگ پر تشريف لے گئے اور آپ(ع) نے اپنے ساتھيوں كى مدد بھى كى مگر اس كے برعكس معاويہ كى يہ پورى توجہ اپنى جان كى حفاظت كى جانب رہى اس واقعے كے ضمن ميں جو اوپر گذرا ہے معاويہ نے عمروعاص سے كہا تھا كہ : كيسى نادانى كى باتيں كرتے ہو قبائل عَكّ اشعريان اور جذام كے ہوتے ہوئے ميں على (ع) سے نبرد آزمائي كروں، وقعہ صفين 275

13_ شرح ابن ابى الحديد ج 6 ص 314_313 ، وقعہ صفين 424_423 ، وقعہ صفين ميں نقل ہے كہ حضرت على (ع) نے

 

247

جب عمروعاص پر ضرب كارى لگائي اور وہ اس كى تاب نہ لاسكا تو اس نے يہ بدترين راہ اختيار كي_

14_ وقعہ صفين 418_ 417

15_ وقعہ صفين ص 297

16_ وقعہ صفين 478_477

17_ وقعہ صفين ص 475 ، ليكن اسى كتاب كے صفحہ 392 پر اور شرح ابن ابى الحديد ج 5 ص 249 ميں درج ہے كہ اس وقت اكثر سپاہ نے نماز اشاروں سے پڑھي_

18_ نہج البلاغہ خ 198 ، ( فيض)

19_ لغت ميں ہرير كے معنى اس آواز كے ہيں جو سردى پڑنے كى وجہ سے كتے سے نكلتى ہے چونكہ اس شب شديد جنگ جارى تھى اور فريقين كے گھڑ سوار ايك دوسرے كے سرپر چيختے تھے اس لئے اس رات كو ليلة الہرير كہتے ہيں ( معجم البلدان ج 5 ص 403 ، مجمع البحرين ج 3 ص 518 مادہ ہرر

20_ نصر بن مزاحم نے وقعہ صفين ص 475 ميں اس دن اور رات كے دوران قتل ہونے والوں كى تعداد ستر ہزار افراد بيان كى ہے_

21_ وقعہ صفين ص 320 ، شرح ابن ابى الحديدج 5 ص 253

22_ حضرت عمار سے متعلق احاديث نبوى كے بارے ميں مزيد معلومات كے لئے ملاحظہ ہوں معجم رجال الحديث ج 12 ص 267 ، طبقات ابن سعد ج 3 ص 187، استيعاب ج 2 ص 436 ،اور وقعہ صفين ص 343_342

23_ '' يلتقى اہل الشام و اہل العراق و فى احد الكتيبيتين الحق و امام لہدى و معہ عمار بن ياسر

24_ وقعہ صفين ص 340_333

25_ و اللہ ان ہذہ الراية قاتلہا ثلاث عركات و ما ہذہ بار شدہَّن ( وقعہ صفين ص 340)

26_ اين من يبتغى رضوان ربہ و لا يؤب الى مال و لا ولد

27_ وقعہ صفين ص 326

28_ وقعہ صفين ص 328

 

248

29_ وقعہ صفين ص 341_340

30_ يہاں حضرت اميرالمومنين (ع) كا اشارہ حضرت مرقال كى جانب تھا كيونكہ وہ ايك آنكھ سے محروم تھے_

31_ وقعہ صفين ص 328

32_ انھيں مرقال اس بنا پر كہا جاتا تھا كہ وہ بہت چست و چالاك اور تيز رفتار تھے چونكہ ان كى آنكھ جاتى رہى تھى اسے لئے انھيں اعور بھى كہا جاتا تھا_

33_ وقعہ صفين 347_ 346

34_ وقعہ صفين 355

35_ الا ايہا الموت الذى لست تاركى ارحنى فقد افنيت كل خليل

اراك بصيرا بالذين احبہمكانك تنحو محوہ بدليل

36_ تاريخ طبرى ج 5 ص 41

37_ وقعہ صفين 345

  897
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      کیا امام حسین علیھ السلام نے عاشورا کے دن جو پانی ان ...
      شیعہ اب کافر نہیں ہیں: سعودی مفتی اعظم الکلبانی
      نوروز عالم اور یوم ولادت علیؑ، آغا حسن کا ہدیہ تہنیت
      غزہ پر بربریت اور جولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کا ...
      ناجائز تحفے کا انجام؛ ٹرمپ گولان کے قضیے کے ناکام ...
      رجب المرجب کا آخری عشرہ اور فتح خیبر
      قرآن مجید میں بیان هوئے سات آسمانوں کے کیا معنی هیں؟
      صاحب بهشت رضوان هونا ملائکه کی شفاعت کے ساتھـ کیسے ...
      حضرت آدم علیه السلام کے فرزندوں نے کن سے ازدواج کیا؟
      کسی گناه کے مرتکب هوئے بغیر نوجوان کا حضر خضر کے هاتهوں ...

 
user comment