اردو
Monday 25th of March 2019
  674
  0
  0

نمائندگان كى روانگي

209

نمائندگان كى روانگي

جب اس راستے پر قبض ہوگيا جو لب دريا تك جاتا تھا تو حضرت على (ع) نے دو روز تك توقف فرمايا اس كے بعد آپ(ع) نے اپنى سپاہ كے سرداروں ميں سے بشير بن عمرو ، سعيد بن قيس اور شبث بن ربعى كو معاويہ كے پاس بھيجا_ اور فرمايا كہ تم ان كے پاس جاؤں اور انہيں اطاعت خدا ، ميرے ہاتھ پر بيعت نيز جماعت كى طرف آنے كى دعوت دو_(1)

حضرت على (ع كے نمائندے ماہ ذى الحجہ كى پہلى تاريخ كو معاويہ كے پاس پہنچے اور اس كے ساتھ مذاكرات شروع كئے سب سے پہلے بشير نے كہا كہ :اے معاويہ دنيا ختم ہوا چاہتى ہے اور آخرت تم پر آشكار ہونے لگى ہے_ خداوند تعالى تجھے تيرے اعمال كى جزاء دے_ اب تو امت كے درميان تقرفہ اندازى اور خون ريزى سے باز رہو معاويہ نے ان كى گفتگو كو درميان ميں ہى قطع كرديا اور كہا كہ : يہى مشورہ تم نے اپنے آقا كو كيوں نہيں ديا؟ بشير نے جواب ديا كہ وہ تمہارے جيسے نہيں ہيں وہ دين ، فضيلت ، اسلام ميں سابقہ زندگى اور رسولخدا(ص) كے ساتھ قرابت دارى كے اعتبار سے اور اس امر و قصد كيلئے بہترين اور اہل ترين فرد ہيں_

اس كہ بعد شبث نے گفتگو شروع كى معاويہ نے جب اس كى مدلل گفتگو سنى تو وہ حيران رہ گيا اور جب كوئي جواب بن نہ پڑا تو طيش ميں اس كى زبان سے كچھ ناشايستہ الفاظ نكل گئے _ اس نے حضرت على (ع) كے نمائندوں سے كہا كہ يہاں سے اٹھو اور چلے جاؤ_ ميرے اور تمہارے درميان فيصلہ اب تلوار ہى كرے گي_ اس پر شبث نے كہا كہ تم ہميں تلوار سے ڈرا رہے ہو خدا كى قسم ہم جلدى ہى تمہيں گرداب بلا ميں گرفتار ديكھيں گے_ يہ كہہ كر يہ نمائندے وہاں سے اٹھ گئے اور حضرت على (ع) كے پاس چلے آئے(2)_

 

210

اس كے بعد حضرت على (ع) نے اپنى سپاہ كو حكم ديا كہ وہ چند دستوں ميں تقسيم ہوجائے اور با رى بارى اپنے ان حريفوں اور ہم پلہ قبائل كے ساتھ جو معاويہ كى سپاہ ميں ہيں نبرد آزما ہوں اور اس طرح طرفين نے ماہ ذى الحجہ كو جنگ و نبرد ميں گذارا ديا_(3)

دوبارہ وفود كى روانگي

ماہ محرم كى آمد جنگ و جدال كو روكنے كا ايك عمدہ بہانہ تھا _ اور فريقين ميں اس امر پر معاہدہ ہوگيا كہ ماہ محرم كے آخر تك جنگ نہ كى جائے_ حضرت على (ع) نے اس وقت كو صلح پسندانہ اقدامات كے لئے بہترين موقع جانا_ چنانچہ آپ (ع) نے اس مقصد كے تحت ايك وفد جو عدى بن حاتم ، يزيد بن قيس ، شبث بن ربعى اور زياد بن خَصَفَہ پر مشتمل تھا معاويہ كے پاس بھيجا_

ہر نمائندے نے جو لازم سمجھا وہ كہا_ ليكن معاويہ كى منطق ہميشہ كى طرح اب بھى وہى تھى اس نے پہلے كى طرح اب بھى يہى كہا كہ : ميں جنگ سے دست بردار نہيں ہوسكتا ميرے اور على (ع) كے درميان صرف تلوار ہى فيصلہ كر سكتى ہے_ اس ضمن ميں اس نے مزيد كہا كہ : تم ہميں كيوں اس جماعت كى اطاعت و فرمانبردارى كى دعوت دے رہے ہو_ خلافت كے اصل حقدار ہم ہيں نہ كہ تمہارا پيشوا كيونكہ تمہارے پيشوا نے ہمارے خليفہ كو قتل كيا ہے_ ہمارى منظم جماعت كو منتشر كرديا ہے_ اس گفتگو كے بعد حضرت على (ع) كے نمائندے كوئي نتيجہ حاصل كئے بغير واپس آگئے_ (4)

معاويہ كے نمائندے

معاويہ نے بھى ايك وفد جو حبيب بن مسلمہ ، شرحبيل اور معن بن يزيد پر مشتمل تھا حضرت على (ع) كى خدمت ميں روانہ كيا _ انہوں نے گفتگو كا آغار عثمان كے قتل سے كيا اور كہا كہ : اگر تم صادق ہو اور تم نے عثمان كو قتل نہيں كيا تو ان كے قاتلوں كو ہمارے حوالے كرو اس كے بعد خلافت سے دست

 

211

بردار ہوجاؤ اور مسئلہ خلافت كو رائے عامہ پر چھوڑ دو تا كہ لوگ باہمى مشورے اور اتفاق رائے سے جسے چاہيں اپنا خليفہ منتخب كريں_

حضرت على (ع) نے اس سے سخت برتاؤ كے ضمن ميں شائستگى سے مذكورہ مسائل كى ترديد كى اور قتل عثمان، اپنى بيعت اور بنى اميہ خصوصا معاويہ كى پہلى زندگى اور حق سے ان كى عداوت كو بيان فرمايا_ معاويہ كے نمائندوں كے پاس چونكہ امام (ع) كى باتوں كا كوئي جواب نہيں تھا اسلئے وہ اٹھكر چلے گئے_(5)

دغہ بازى كمزور كا حربہ

معاويہ كے لشكر كا سپاہ اسلام كے ساتھ پہلا معركہ پانى پر ہوا اور اس كے لشكر كو شكست ہوئي اس شكست اور اس طرز گفتگو سے جو اميرالمومنين(ع) سے براہ راست نيز آپ (ع) كے نمائندگان كے ذريعے ہوئي اس نے سپاہ اسلام كى قوت ، ان كے جذبہ ايثار اور فوج كے بعض سردار و كمانڈروں كى مددگارى كا اندازہ لگايا اور جان ليا كہ جو لوگ ايمان و عقيدت سے سرشار ہوركر جنگ كرنے كے لئے آئے ہيں اگر بالفرض ان كے ساتھ جنگ ہوئي بھى تو پنجہ كشى كركے سنگين خسارے كے باوجود نصرت و فتح حاصل نہيں كى جاسكتي_ بالخصوص ان حالات ميں جب كہ ان كے چاروں طرف خطرہ ہى خطرہ ہے_ چنانچہ انہوں نے يہ ارادہ كيا كہ حضرت على (ع) كى سپاہ كے بعض سرداروں سے ملاقات كى جائے اور انھيں لالچ كے ذريعے شوق و ترغيب ولا كر نيز سپاہ كے درميان شك و شبہ پيدا كر كے ان ميں تفرقہ پيدا كيا جائے تا كہ اس كے باعث عساكر اسلام ميں كمزورى و ناتوانى پيدا ہوجائے اور بالاخرہ شكست و پسپائي سے دوچار ہوں_

اس راہ ميں انہوں نے جو عملى تدابير اختيار كيں ہم ان كے يہاں چند نمونے پيش كريں گے_

 

212

لشكر كے سرداروں سے ملاقات

حضرت على (ع) كا وفد جب معاويہ سے رخصت ہوكر چلا گيا تو اس نے اس وفد كے ايك ركن زيادبن خَصَفَہ سے دوبارہ ملاقات كرنے كى خواہش ظاہر كي_ چنانچہ حضرت على (ع) سے متعلق گفتگو كرتے ہوئے اس نے زياد سے كہا كہ وہ اپنے قبيلے كے ہمراہ اس كام ميں ميرى مدد كرے اور ان سے يہ وعد كيا كہ وہ اپنے مقصد ميں كامياب ہوگيا تو شہر بصرہ يا كوفہ كى حكومت اس كو دے دى جائے گي_

ليكن معاويہ كو اس سے مدد و تعاون ميں مايوسى ہوئي تو اس نے عمروعاص سے كہا كہ ہم على (ع) كے لشكر كے سرداروں ميں سے جس كے ساتھ بھى گفتگو كرتے ہيں وہ ہميں اطمينان بخش لگتا ہے وہ سب دل سے باہمى طور پر متحد ہيں(6)_

2_ قاريوں، زاہدوں كى جماعت سے ملاقات

معاويہ جب حضرت على (ع) كے لشكر كے سرداروں اور فرمانداروں كو فريفتہ كرنے ميں نااميد ہوگيا تو اس نے ان قاريوں اور زہد فروشوں كى جانب توجہ كى جن كى ظاہرى زندگى ہى اسلام سے متاثر ہوئي تھي_

شام اور عراق كى سپاہ ميں دونوں لشكروں كے درميان تيس ہزار سے زيادہ قارى قرآن موجود تھے يہ قارى دونوں لشكروں كى صفوں سے نكل كر باہر آگئے اور انہوں نے عليحدہ جگہ پر اپنے خيمے نصب كئے اور يہ فيصلہ كيا كہ فريقين كے درميان ثالث كے فرائض انجام ديں_

اس مقصد كے پيش نظر ان كے نمائندے دونوں سپاہ كے فرمانداروں سے ملاقات كرنے كى غرض سے گئے اور ہر ايك نے اپنے نظريات دوسرے كے سامنے بيان كيئے ان كى طرز گفتگو سے يہ اندازہ ہوتا تھا كہ ان پر معاويہ كى جاد و بيانى كا اثر ہوگيا ہے_

جب يہ جماعت حضرت على (ع) كى خدمت ميں حاضر ہوئي تو آپ (ع) نے انھيں آگاہ كيا كہ وہ كسى كى پر فريب گفتگو سے متاثر نہ ہوں_ اور فرمايا كہ : اس بات كا خيال رہے كہ معاويہ كہيں دين كے

 

213

معاملے ميں تمہارى جانوں كو مفتون و فريفتہ نہ كرلے_ (7)

ليكن ابھى كچھ عرصہ نہ گذرا تھا كہ انہى لوگوں كى كثير تعداد اشعث اور چند ديگر افراد كى سركردگى ميں معاويہ كى جادو وبيانى پر فريفتہ ہوگئے اور جنگ كے معاملے ميں انہوں نے عہد شكنى كى _ اور حضرت على (ع) كے خلاف صف بستہ ہوگئے چنانچہ حضرت على (ع) نے مجبورا معاويہ كى جانب سے مسلط كردہ شرط جنگ بندى كو قبول كرليا_

3_ سپاہ كے درميان خلل اندازي

معاويہ نے حضرت على (ع) كى سپاہ كے دلوں ميں تذبذب و تزلزل پيدا كرنے اور ذہنوں پر خوف و ہراس طارى كرنے كى غرض سے اس دوران جب كہ فريقين كے درميان جنگ جارى تھى حكم ديا كہ خط لكھا جائے جسے تير پر باندھ كر حضرت على (ع) كے لشكر ميں پھينك ديا گيا_

اس خط كا مضمون يہ تھا كہ : خدا كے ايك خير انديش بندے كى طرف سے لشكر عراق كو پيغام _ آگاہ كيا جاتا ہے كہ معاويہ نے تم پر دريائے فرات كا كنارہ كھول ديا ہے وہ چاہتا ہے كہ تمام لشكر عراق كو اس ميں غرق كردے_ جس قدر ممكن ہوسكے فرار كر جاؤ_

اہل كوفہ ميں سے ايك شخص نے يہ خط اٹھاليا اور پڑھ كر دوسرے كو دے ديا_ اور اسطرح يہ خط دست بدست ايك جگہ سے دوسرى جگہ پہنچ گيا چنانچہ جس شخص نے بھى يہ خط پڑھا لكھنے والے كو خير انديش ہى سمجھا_

معاويہ نے اس اقدام كے بعد دو سو آدميوں كو بيلچے اور كداليں دے كر اس پشتے كى جانب روانہ كرديا جو دريائے فرات پر بنا ہوا تھا اور ان سے كہا كہ تم اپنے كام پر لگ جاؤ_

حضرت على (ع) كو جب اس خط كے بارے ميں علم ہوا تو آپ(ع) نے اپنے سپاہيوں سے كہا كہ : معاويہ كا يہ اقدام عملى نہيں وہ چاھتا ہے كہ اپنى سازش سے تمہيں پسپائي كيلئے مجبور كرے اور تمہارے درميا ن آشفتگى و سراسيمگى پيدا كردے اس پر سپاہيوں نے جواب ديا كہ ہم كيسے اس بات پر يقين نہ كريں_ہم ديكھ ہى رہے ہيں كہ ان كے مزدور نہر كھودنے ميں لگے ہوئے ہيں_

 

214

ہم تو يہاں سے كوچ كرتے ہيں_ يہ آپكى مرضى ہے كہ آپ بھى چليں يا يہيں قيام كريں چنانچہ اس فيصلے كے بعد حضرت على (ع) كے سپاہى پيچھے ہٹنے لگے اور لشكر سے دور جاكر انہوں نے پڑاؤ كيا_ جس جگہ سے حضرت على (ع) كى سپاہ نے كوچ كيا تھا اس پر معاويہ كى سپاہ نے قدم جماديئے)_

فيصلہ كن جنگ

ماہ محرم كے ختم ہوتے ہى مذاكرات كا بھى خاتمہ ہوگيا اور فريقين جنگ كيلئے تيار ہوگئے اميرالمومنين فرماتے ہيں: ميں نے تمہيں مہلت دى كہ شايد تم حق كى طرف واپس آجاؤں كلام اللہ كے ذريعے تمہارے لئے حجت و دليل پيش كى ليكن تم شورش و سركشى سے باز نہ آئے _ تم نے دعودت حق سے روگردانى كي_ اس لئے اب تم جنگ و جدال كے لئے تيار ہوجاؤ كيونكہ خداوند تعالى خيانت كاروں كو پسند نہيں كرتا_

اس كے بعد آپ نے لشكروں كى صفوں كو منظم كيا معاويہ نے بھى اپنى سپاہ كو آرستہ كيا_(9)

اميرالمومنين نے اپنى سپاہ كو مرتب كرتے ہوئے فرمايا كہ : جب تك دشمن پيشقدمى نہ كرے تم جنگ شروع نہ كرنا كيونكہ تمہارے پاس حجت و دليل موجود ہے ان كا جنگ شروع كرنا تمہارے لئے دوسرى حجت و دليل ہے جب انہيں شكست دے چكو تو فرار كرنے والوں كو قتل نہ كرنا _ زخميوں پر حملہ آور نہ ہونا، برہنہ نہ كرنا مردہ لوگوں كے ناك ،كان نہ كاٹنا جس وقت تم ان پر غالب آجاؤ تو تم ان كے گھروں ميں اس وقت تك داخل نہ ہونا جب تك ميں اجازت نہ دوں اس مال كے علاوہ جو ميدان جنگ ميں رہ گيا ہے تم انكى كسى چيز كو ہاتھ نہ لگانا اگر چہ عورتيں تمہيں ، تمہارے سرداروں اور تمہارے نيك بزرگوں كو ناشائستہ الفاظ سے ياد كر رہى ہيں مگر تم انہيں تكليف نہ پہنچانا كيونكہ وہ جسمانى طور پر كمزور اور عقل كے اعتبار سے ناقص ہيں_(10)

سپاہ كو مرتب كرنے كے بعد آپ (ع) نے مالك اشتر كو كوفہ سے سواروں كا اور سھل بن حنيف كو

 

215

بصرہ كے دستہ كا فرماندار مقرر كيا_ كوفہ كى پيادہ فوج كى فرماندارى عمار ياسر كو تفويض كى گئي اور بصرہ كى پيادہ فوج كا فرماندار قيس بن سعد كو مقرر كيا كوفہ و بصرہ كے قاريوں كو آپ (ع) نے '' مسعر بن فد كى '' كى تحويل ميں ديا اور پرچم ہاشم مرقال ك سپرد كيا_(11)

يكم صفرہ 37 ھ دونوں فوجوں كے درميان جنگ شروع ہوئي كوفہ كى فوج نے مالك كى كمانڈرى اور شام كى فوج نے حبيب بن مسلمہ كى كمانڈرى ميں شديد جنگ كا آغاز كيا يہ معركہ ظہر تك جارى رہا_

اگلے دين ہاشم مرقال ميدان ميں اترے اور شام كے اس لشكر كے ساتھ جو ابوالاعور كى زير فرماندارى ميدان جنگ ميں آيا تھا نبرد آزمائي كى اور شاميوں كے ساتھ سخت جنگ كے بعد وہ واپس اپنى لشكر گاہ ميں آئے_

تيسرے روز عمارياسر مہاجر و انصار بدريوں كے ساتھ ميدان جنگ ميں اترے اور عمرو عاص سے مقابلہ كيا عمار نے اپنى سپاہ سے خطاب كرتے ہوئے كہا كہ : كيا تم ان دشمنوں كو ديكھنا چاہتے ہو جنہوں نے خدا اور اس كے رسول(ص) كے خلاف جنگ كى اور دشمنوں كو مدد پہنچائي خداوند تعالى كو چونكہ اپنا دين عزيز تھا اسى لئے اس نے اسے كاميابى عطا كى اور بالاخر اس دشمن نے خوف كى وجہ سے اپنا سر اسلام كے سامنے خم كرديا پيغمبر اكر م(ص) كے رحلت كے بعد اس دشمن كى مسلمانوں كے خلاف دشمنى و عداوت آشكارا ہوگئي_مسلمانو تم دشمن كے لشكر سے جنگ كرو كيونكہ انكے سردار ان لوگوں ميں سے ہيں جو نور الہى كو خاموش كرنے كا ارادہ كئے ہوئے ہيں_

اس كے بعد انہوں نے پيادہ فوج كے فرماندار زياد بن نَضر كو حكم ديا كہ حملہ كريں اور خود بھى حملہ آور ہوئے اور عمروعاص كو پسپا كرديا_

چوتھے دن حضرت على (ع) كے فرزند محمد حنفيہ ميدان جنگ ميں گئے اور عبيداللہ بن عمر سے جنگ كى _ دونوں جانب سے مقابلہ سخت رہا_ بالاخرہ عبيداللہ نے محمد حنفيہ كو جنگى كشتى كى دعوت دى محمد حنفيہ نے پيشقدمى كى مگر حضرت على (ع) نے منع كرديا اور خود ان كى جگہ كشتى گيرى كيلئے تشريف لے گئے _مگر

 

216

عبيداللہ بن عمر اس كے لئے تيار نہ ہوا_

پانچويں دن عبداللہ بن عباس كا '' وليد بن عقبہ'' سے مقابلہ ہوا سخت نبرد آزمائي كے بعد انہوں نے وليد بن عقبہ كو جنگى كشتى كى دعوت دى مگر اس كے دل پر خوف طارى ہوگيا اور بالاخر لشكر اسلام فتح و كامرانى كے ساتھ واپس آيا_(12)

چھٹے دن قيس بن سعد اور '' ذى الكلاع'' كے درميان سخت معركہ ہوا سخت نبرد آزمائي كے بعد واپس آيا_

ساتويں دن مالك اشتر كا اپنے سابقہ رقيب سے مقابلہ ہوا اورظہر كے وقت لشكر گا واپس آئے_

عام جنگ

اميرالمومنين حضرت على (ع) نے ديكھا كہ جنگ كو ايك ہفتہ ہوگيا ہے اگرچہ دونوں طرف سے بہت سے سپاہى قتل كئے جاچكے ہيں مگر اس كے باوجود لشكر اسلام كو فتح نصيب نہيں ہو رہى ہے اسى لئے آپ نے عام حملے كا حكم ديا اور فرمايا كہ : ہم كيوں اپنى پورى فوجى طاقت كو حريف كے خلاف جنگ ميں بروئے كار نہ لائيں؟

اسى لئے آپ نے 8 صفر شب چہارشنبہ ( بدھ كى رات) اپنى سپاہ كے سامنے تقرير كى اور فرمايا كہ : جان لو كہ كل تمہيں دشمن كے روبرو ہونا ہے اس لئے تمام رات عبادت ميں گزارو اور قرآن مجيد كى كثرت سے تلاوت كرو خداوند تعالى سے دعا كرو كہ ہميں صبر و نصرت عطا فرمائے دشمن كے مقابل مكمل پايدارى ، ثابت قدمى سے آنا اور پورى جد و جہد و استوارى سے اس كا مقابلہ كرنا اور ہميشہ راستگو رہنا_

حضرت على (ع) كى جيسے ہى تقرير ختم ہوئي آپ (ع) كى سپاہ نے اپنے اسلحہ اور تلوار نيزہ و زوبين و غيرہ كو سنبھالا اور اسے جلا دينى شروع كى _ حضرت على (ع) صبح كے وقت تك اپنے لشكر كو آراستہ كرتے

 

217

رہے_ آپ كے حكم كے مطابق منادى كے ذريعے دشمن كو اعلان جنگ سنايا اور كہا كہ : اے شاميو كل صبح تم سے ميدان كارزار ميں ملاقات ہوگى _(13)

منادى كى آواز جب دشمن كے كانوں ميں پہنچى تو اس كى صفوں ميں كہرام مچ گيا سب نے بيم و ترس كى حالت ميں معاويہ كى جانب رخ كيا اس نے تمام سرداروں اور فرمانداروں كو بلايا اور حكم ديا كہ اپنى فوجوں كو تيار كريں_

حضرت على (ع) نے جب اپنے لشكر كو آراستہ كر ليا تو آپ (ع) اپنى جگہ سے اٹھے اور سپاہ ميں جوش و خروش پيدا كرنے كيلئے ان كے سامنے تقرير كى اور فرمايا كہ : اے لوگو خداوند تعالى نے تمہيں اس تجارت كى جانب آنے كى دعوت دى ہے جس ميں عذاب سے نجات دلائي جائے گى اور خير و فلاح كى جانب بلايا ہے_يہ تجارت خدا اور اس كے رسول(ص) كى صداقت پر ايمان اور راہ خدا ميں جہاد ہے_ اس كا معاوضہ تمہيں يہ ملے گا كہ تمہارے گناہ بخش دئے جائيں گے اور خُلد بريں ميں تمہيں رہنے كيلئے پاكيزہ مكان مليں گے اور اس كا انتہائي اجر يہ ہے كہ تمہيں خدا كى رضا نصيب ہوگى جو ہر اجر سے كہيں عظيم ہے_ قرآن كا خدا كے محبوب بندوں سے ارشاد ہے كہ : خداوند تعالى ان مجاہدين حق كو دوست و عزيز ركھتا ہے جو محكم ديور كى طرح دشمن كے مقابل آجاتے ہيں اور اس سے جنگ و جدال كرتے ہيں(14)_اپنى صفوں كو سيسہ پلائي ہوئي بنيادوں كى طرح محكم كرلو اور ايك دوسرے كے دوش بدوش رہو_ زرہ پوش سپاہ پيشاپيش رہيں اور جن كے پاس زرہ نہيں انہيں زرہ پوش سپاہ كے عقب ميں ركھا جائے اپنے دانت بھينچے ركھو كيونكہ اس كے باعث شمشير كى ضرب سے كاسہ سر محفوظ رہتا ہے_ اس سے قلب كو تقويت اور دل كو آسودگى حاصل ہوتى ہے_ اپنى آوازوں كو خاموش ركھو اس لئے كہ اس كى وجہ سے سستى و شكست سے نجات ملتى ہے اورچہرہ پر متانت و وقار كى كيفيت پيدا ہوتى ہے ... اپنے پرچموں كو يكجا ركھو اور انہيں باحميت دلاوروں كے سپرد كرو جو لوگ مصائب و مشكلات ميں صبر كرتے ہيں اور پرچم پر مسلط رہتے ہيں_ وہ اس كى ہر طرف سے حفاظت ميں كوشاں رہتے ہيں_(15)

 

218

حضرت على (ع ) كا خطبہ ختم ہونے كے بعد آپ كے اصحاب ميں سے بھى ہر شخص نے اپنے قبيلے كے لشكر ميں جوش و خروش پيدا كرنے كى خاطر تقرير كى _ انہى مقررين ميں سعيد بن قيس بھى شامل تھے چنانچہ وہ اپنے ساتھيوں كے درميان سے اٹھے پہلے تو انہوں نے حضرت على (ع) اور آپ (ع) كے اصحاب كى قدر و منزلت كا ذكر كيا اس كے بعد انہوں نے معاويہ كا تعارف كرايا_(16) اس كے ساتھ ہى انہوں نے اپنے دوستوں كو جنگ كرنے كيلئے ترغيب دلائي_

فريقين كے لشكر چونكہ جنگ كيلئے آمادہ تھے اس لئے بدھ كے دن سخت معركہ ہوا _ رات كے وقت دونوں لشكر بغير فتح و نصرت واپس اپنے خيموں ميں آگئے(17)_

اميرالمومنين حضرت على (ع) نے جمعرات كى صبح نماز فجر جلدى پڑھ لى سپاہ سے خطاب كرنے اور جنگ كى ترغيب دلانے كے بعد آپ (ع) نے گھوڑا طلب فرمايا (18) اس پر سوار ہونے كے بعد آپ قبلہ رخ كھڑے ہوگئے انكے دونوں ہاتھ آسمانكى طرف تھے اور خداوند تعالى سے يوں راز و نياز كر رہے تھے: خداوند ا يہ قدم تيرى راہ ميں بڑھ رہے ہيں بدن خستہ و ناتواں ہيں دلوں پر لرزہ و وحشت طارى ہے اور يہ ہاتھ تيرى بارگاہ ميں اٹھے ہوئے ہيں اور آنكھيں تيرى طرف لگى ہوئي ہيں اس كے بعد آپ نے ايك آيت پڑھى جس كا ترجمہ يہ ہے ( اے رب ہمارى قوم كے درميان ٹھيك ٹھيك فيصلہ كردے اور تو بہترين فيصلہ كرنے والا ہے_(19)

آخر ميں آپ نے سپاہ سے خطاب كرتے ہوئے فرمايا كہ سيرو على بركة اللہ ((20) آگے بڑھو خدا تمہارى پشت و پناہ ہے)_

اميرالمومنين حضرت على (ع) نے نبرد آزما ہونے سے قبل شام كے ہر قبيلے كا نام دريافت فرمايا اس كے بعد آپ (ع) نے اپنى سپاہ كے قبائل كو حكم ديا كہ تم ميں سے ہر سپاہى اپنے ہم نام اور ہم پلہ و شان قبيلے كے ہراس شخص سے جنگ كرے جو دشمن كى صفوں ميں شامل ہے(21)_

سپاہ اسلام كى علامت وہ سفيد رنگ كا كپڑا تھا جو انہوں نے اپنے سرو ںاور بازووں پر باندھ ركھتا تھا_ اور ان كا نعرہ ياللہ، يا احد ، يا صمد ، يا رب محمد يا رحمت اور يا رحيم تھا_

 

219

اس كے برعكس معاويہ كى سپاہ كا نشان زرد پٹى تھى جسے انہوں نے بھى اپنے سروں اور بازووں پر باندھ ركھا تھا_ اور ان كا نعرہ يہ تھا نحن عباداللہ حقا حقا يا لثارات عثمان(22)

قرآن كى طرف دعوت

اس سے قبل كہ حضرت على (ع) كے سامنے عمروعاص كا مكر و فريب ظاہر ہو آپ (ع) نے اپنى جمعيت كو بيدار كرنے اور دشمن پر اتمام حجت كى خاطر اس وقت بھى جب كہ آپ (ع) نے اپنى فوج ميں ذرہ برابر زبونى و ناتوانى محسوس نہيں كى ، يہ تجويز پيش كى اور فرمايا كہ : كوئي شخص قرآن شريف اپنے ہاتھ ميں اٹھالے اور دشمن كے نزديك پہنچ كر اسے قرآن كى طرف آنے كى دعوت دے ايك شخص جس كا نام '' سعيد'' تھا اٹھا اور اس نے سپاہ دشمن كى جانب جانے كا اظہار كيا حضرت على (ع) نے دوبارہ اپنى اس تجويز كو زبان مبارك سے ادا كيا اسى نوجوان نے آپ (ع) كى اس تجويز پر لبيك كہا كيونكہ اكثر و بيشتر افراد كا خيال تھا جو شخص بھى اس راہ ميں پيشقدمى كرے گا اس كا مارا جانا يقينى ہے_

حضرت '' سعيد'' نے قرآن مجيد ہاتھ ميں ليا اور سپا ہ دشمن سے خطاب كرتے ہوئے كہا كہ : اے لوگو شورش و سركشى سے باز آؤ اميرالمومنين حضرت على (ع) قرآنى حكومت اور عدل الہى كى دعوت دے رہے ہيں سيدھا راستہ اختيار كرو سيدھا راستہ وہى ہے جو مہاجرين و انصار نے اختيار كيا ليكن اہل شام نے اس كو اپنے نيزوں اور تلواروں سے ٹكڑے ٹكڑے كرديا_(23)

معاويہ كہاں ہے؟

فريقين كے لشكر كے درميان جنگ جيسے جيسے شديد تر ہوتى جاتى تھي، مالك اشتر ، عمار اور عبداللہ بديل جيسے اميرالمومنين حضرت على (ع) كے يار و مددگار شير كى طرح غراتے اور دشمن پر حملہ آور ہوتے حضرت على (ع) بھى ميدان كارزار ميں داخل ہوئے دشمن كى سپاہ نے جيسے ہى آپ (ع) كو ديكھا اس

 

220

پر خوف و ہراس طارى ہوگيا بعض قبائل كو تو اپنى جان كے لالے پڑگئے اور يہ فكر ستانے لگى كہ كس طرح نجات پائيں چنانچہ قبيلہ خثعم كے سردار عبداللہ خنش نے خثعم قبيلہ عراق كے سرگروہ كعب سے پيغام كے ذريعے يہ درخواست كى كہ صلہ رحم كى خاطر اور ايك دوسرے كے حقوق كا پاس كرتے ہوئے جنگ سے كنارہ كشى اختيار كر لے ليكن مخالفت سے دوچار ہوا_(24)

اسى اثناء ميں سپاہ اسلام كے فرماندار ميمنہ عبداللہ بديل جو بہت ہى شجاع و دلير شخص اور دو زرہ پہن كر جنگ كرتے تھے دونوں ہاتھوں ميں تلواريں لئے دشمن كى سپاہ كے ميسرہ كى جانب بڑھے اور اسے چيرتے ہوئے ان لوگوں تك پہنچ گئے جو معاويہ كے فدائي كہلاتے تھے يہ لوگ معاويہ كے ايسے جانثار و با وفا دوست تھے جنہوں نے يہ عہد كيا تھا كہ جب تك ہمارے دم ميں دم ہے اس كى حفاظت كرتے رہيں گے معاويہ نے ان فدائيوں كو حكم ديا كہ عبداللہ كے بمقابل آجائيں اور خفيہ طور پر اسے اپنے ميسرہ كے فرماندار حبيب بن مسلمہ سے كہا كہ وہ ابن بديل كو آگے بڑھنے سے روكے ليكن وہ آگے بڑھتے ہى گئے معاويہ نے ناچار مصلحت اس امر ميں سمجھى كہ اپنى جگہ بدل دے اور وہ پيچھے كى طرف بھاگ گيا ليكن عبداللہ پكار پكار كر كہہ رہے تھے يا لثارات عثمان ( عثمان كے خون كا بدلہ ) معاويہ كى سپاہ نے جب يہ نعرہ سنا تو اس نے انہيں اپنا ہى سپاہى سمجھ كر انہيں راستہ ديا_

معاويہ كو چونكہ دوسرى مرتبہ اپنى جگہ سے ہٹ كر پيچھے آنا پڑا تھا اس لئے اس نے دوبارہ حبيب بن مسلمہ سے كہا كہ ميرى مدد كرو چنانچہ اس نے بڑا سخت حملہ كيا اور دائيں جانب كے لشكر ( جناح راست) كو چيرتا ہوا عبداللہ بن بديل تك پہنچ گيا_ عبداللہ سو قاريوں ميں سے اكيلے رہ گئے تھے ( باقى سب پسپا ہو چكے تھے) چنانچہ وہ پورى دليرى سے جنگ كرتے رہے اور زبان سے بھى كہتے رہے كہ : معاويہ كہاں ہے_ معاويہ نے جب عبداللہ كو اپنے نزديك ديكھا تو اس نے پكار كر كہا كہ اگر تلوار سے ان پر حملہ نہيں كر سكتے تو انھيں آگے بھى نہ آنے دو ان پر سنگبارى شروع كردو چنانچہ ہر طرف سے اس جانباز اسلام پر اس قدر پتھر برسائے گئے كہ وہ وہيں شہيد ہوگئے_

 

221

معاويہ نے حكم ديا كہ انكے ناك، كان كاٹ لئے جائيں ليكن ان كى عبداللہ بن عامر سے چونكہ سابقہ دوستى تھى اسيلئے وہ مانع ہوئے اور معاويہ نے بھى اس خيال كو ترك كرديا_(26)

حضرت على (ع) ميدان كارزار ميں

اميرالمومنين حضرت على كمانڈر انچيف كے فرائض انجام دينے كے علاوہ بہت سے مواقع پر بالخصوص حساس ترين لمحات ميں خود بھى ميدان كارزار ميں پہنچ جاتے اور دشمن كے حملوں كا مقابل كرتے اگرچہ آپ كے اصحاب و فرزند آپ (ع) كے دشمن كے درميان حائل ہوجاتے اور آپكى پورى حفاظت كرتے اور ان كى يہ خبرگيرى آپكے ليئے جنگ كرنے ميں مانع ہوتي_

بطور مثال ايك موقع پر ميان كارزار ميں بنى اميہ كے '' احمر'' نامى غلام جو بڑا جرى و دلاور شخص تھا آگے بڑھا _جس وقت حضرت على (ع) كى نگاہ اس پر گئي تو آپ بھى اسكى طرف بڑھے اسى اثناء ميں حضرت على (ع) كا غلام جس كا نام '' كيسان'' تھا آگے بڑھ آيا _ دونوں كے درميان كچھ دير تك نبرد آزمائي ہوتى رہى _ بالاخر وہ احمر كے ہاتھوں ماراگيا اب احمر حضرت على (ع) كى جانب بڑھا تا كہ آپ كو شہيد كردے_ حضرت على (ع) نے اس سے قبل كہ دشمن وار كرے ہاتھ بڑھا كر اس كا گريبان پكڑا اور اسے گھوڑے پر سے كھينچ ليا_ اور اسے سر سے اوپر اٹھا كر زمين پر دے مارا كہ اس كے شانہ و بازو ٹوٹ كر الگ ہوگئے اور ايك طرف كھڑے ہوگئے_ اتنے ميں فرزندان على (ع) (حضرت امام حسين (ع) اور حضرت محمد حنفيہ) وہاں پہنچ گئے اور تلوار كے وارسے اسے ہلاك كرديا_

راوى مزيد بيان كرتا ہے كہ : احمر كے قتل كے بعد شاميوں نے جب حضرت على (ع) كو اكيلا ديكھا تو وہ آپ (ع) كى طرف بڑھے اور جان لينے كا ارادہ كيا اگرچہ وہ حضرت على (ع) كى جانب بڑھتے رہے مگر آپ(ع) كى رفتار ميں ذرا بھى فرق نہ آيا اور پہلے كى طرح آہستہ آہستہ قدم بڑھاتے رہے ، حالانكہ اپنے لشكر كى طرف پلٹنے كا ارادہ نہيں تھا_

يہ كيفيت ديكھ كر حضرت امام حسن (ع) نے اپنے والد محترم سے عرض كى كيا حرج ہے كہ آپ (ع) اپنى

 

222

رفتار تيز كرديں اور اپنے ان دوستوں سے آن مليں جو دشمن كے روبرو كھڑے ہيں اس پر حضرت على (ع) نے جواب ديا كے اے ميرے فرزند تيرے والد كا اس جہان سے كوچ كرنے كے لئے خاص وقت معين ہے اس ميں ذرا بھى پس و پيش نہيں ہوسكتى _ تيرے والد كو اس بات كا ذرا بھى غم نہيں كہ موت كو اپنى آغوش ميں لے لے يا موت خود ہى آكر گلے لگ جائے_(27)

ايك موقع پر سعيد بن قيس ميدان كارزار ميں موجود تھا اس نے بھى ايك مرتبہ حضرت على (ع) كى خدمت ميں عرض كيا : يا اميرالمومنين آپ دشمن كى صف كے نزديك حد سے زيادہ آگے آجاتے ہيں كيا آپ كو اس بات كا ذرا بھى خوف نہيں كہ دشمن آپ پر وار كر سكتا ہے اس پر آپ (ع) نے فرمايا تھا كہ خداوند تعالى سے بڑھ كر كوئي كسى كا نگہبان نہيں اگر كوئي كنويں ميں گرجائے يا اس پر ديوار گر رہى ہو يا كوئي اور بلا نازل ہو رہى ہو تو خدا كے علاوہ اس كى كوئي حفاظت كرنے والا نہيں اور جب موت آجاتى ہے تو تمام تدابير بيكار ہوجاتى ہيں_(28)

دوستوں كى حمايت و مدد

حضرت على (ع) ميدان جنگ ميں عين اس وقت بھى جب كہ ميدان كارزار ميں پيش قدمى فرما رہے ہوتے تھے اگر ضرورت پيش آجاتى تو اپنى جان كو خطرہ ميں ڈال كر وہ اپنے ساتھيوں كى مدد كيلئے تيزى سے پہنچتے_

غرار بن ادہم شامى لشكر كا مشہور سوار تھا ايك روز اس نے عباس بن ربيعہ (28) كو جنگى كشتى كيلئے للكارا عباس گھوڑے سے اتر كر نيچے آگئے اور غرار سے كشتى ميں نبرد آزما ہوگئے سخت زور آزمائي كے بعد عباس نے شامى كى زرہ كو چاك كرديا اس كے بعد آپ نے تلوار نكال كر اس كے سينے پر وارد كيا يہاں تك كہ وہ زخمى ہوكر مارا گيا يہ منظر ديكھ كر لوگوں نے نعرہ تكبير بلند كيا_

ابوالاغَرّ سے يہ واقعہ منقول ہے كہ ميں نے اچانك سنا كہ ميرے پيچھے كوئي شخص يہ آيت تلاوت كر رہا ہے'' قاتلوہم يعذبہم اللہ بايديكم و يخزہم و ينصركم على ہم و

 

223

يشف صدور قوم مومنين'' ( انھيں قتل كر ڈالو خدا تمہارے ذريعہ انہيں عذاب ميں مبتلا كرتا ہے اور ذليل كرتا ہے اور تمہارى مدد كرتا ہے مومنوں كے دلوں كو شفا بخشتا ہے اور ان سے كدورت دور كرتا ہے(29))

جب ميں نے پلٹ كرديكھا تو وہاں اميرالمومنين حضرت على (ع) كو پايا_ اس كے بعد آپ (ع) نے مجھ سے فرمايا ہم سے كس شخص نے دشمن سے جنگ كى ؟ ميں نے عرض كيا كہ آپ كے بھتيجے نے_ اس پر آپ(ع) نے فرمايا كيا ميں نے تمہيں اور ابن عباس كو جنگ كرنے سے منع نہيں كيا تھا؟ انہوں نے جواب ديا كہ جى ہاں آپ نے منع فرماياتھا_ مگر دشمن نے خود ہى مجھے للكارا_ اس پر آپ نے كہا كہ اگر تم نے اپنے پيشوا كى اطاعت كى ہوتى تو وہ اس سے كہيں زيادہ بہتر تھا كہ تم دشمن كى للكار كا جواب ديتے _ اس كے بعد آپ نے بارگاہ خداوندى ميں دعا كى كہ وہ عباس كى لغزش كو معاف كرے اور جہاد كى انہيں جزا دے_

غرّار كے قتل ہوجانے كى وجہ سے معاويہ بہت زيادہ مضطرب و آشفتہ خاطر ہوا چنانچہ اس كے حكم كے مطابق اور انعام كے وعدے پر قبيلہ '' لخم'' كے دو افراد نے عباس بن ربيعہ كو پيكار كى غرض سے للكارا_ ليكن حضرت على (ع) نے انھيں نبرد آزمائي كى اجازت نہيں دى اور فرمايا كہ معاويہ تو يہ چاہتا ہے كہ بنى ہاشم ميں سے ايك شخص بھى زندہ نہ رہے ...

اس كے بعد آپ (ع) نے عباس كے لباس اور اسلحہ سے خود كو آراستہ كيا اور انہى كے گھوڑے پر سوار ہو كر ان دونوں افراد كى طرف روانہ ہوئے اور انہيں وہيں ہلاك كرديا_ ميدان كارزار سے واپس آكر آپ نے عباس كا اسلحہ انہيں واپس كيا اور فرمايا كہ جو كوئي تمہيں نبرد آزمائي كے لئے للكارے پہلے تم ميرے پاس آؤ ...(30)

اس واقعے سے يہ بات واضح ہوجاتى ہے كہ حضرت على (ع) كى بنى ہاشم بالخصوص خاندان رسالت كى جانب خاص توجہ و عنايت تھى اور انكى جان كى حفاظت كيلئے آپ (ع) ہر ممكن كوشش فرماتے_ چنانچہ بحران جنگ ميں جب كہ آپ (ع) كى جانب تيروں كى بارش ہو رہى تھى اور آپ كے فرزندوں كو دشمن

 

224

اپنے تيروں كا نشانہ بنائے ہوئے تھا، اس وقت بھى آپ (ع) كو اپنى جان كى پروانہ تھى چنانچہ خود آگے بڑھ كر جاتے اور اپنے ہاتھ سے تيروں كے رخ كو كبھى ايك طرف اور كبھى دوسرى جانب منتشر كرديتے_(31)

 

225

سوالات

1_ حضرت على (ع) نے اپنے نمائندے معاويہ كے پاس كس مقصد كے تحت روانہ كئے؟

2_ معاويہ نے اپنے لشكر كى كمزورى كى تلافى كس طرح كرنا چاہى اور لشكر اسلام كو كمزور و ناتوان كرنے كيلئے اس نے كيا اقدامات كئے؟ اس كى دو مثاليں پيش كيجئے؟

3_ نبرد آزمائي سے قبل حضرت على (ع) نے اپنے سپاہيوں كے لئے كيا احكامات صادر كئے؟

4_ پہلى اور دوسرى عام جنگوں كا آغاز كن تاريخوں سے ہوا؟ فريقين كے لشكروں كى علامات و نعرے كيا تھے؟

5_ حضرت على (ع) نے جنگ سے قبل اتمام حجت كے طور پر اور مسلمانوں كى خون ريزى كو روكنے كيلئے كيا اقدامات كيئے؟

6_ جنگى پہلو كو مد نظر ركھتے ہوئے حضرت على (ع) كے سپاھيانہ كردار كو مختصر طور پر بيان كريں_

 

226

حوالہ جات

1_ ائتوا ہذا الرجل و ادعوہ الى اللہ و الى الطاعة و الى الجماعة

2_ وقعہ صفين ص 188_ 187، كامل ابن اثير ج 3 ص 285

3_ كامل ابن اثير ج 3 ص 286، وقعہ صفين ص 195

4_ وقعہ صفين ص 198_ 197

5_ كامل ابن اثير ج 3 ص 293 _ 291 ،تاريخ طبرى ج 5 ص 7 ، وقعہ صفين ص 202_ 201

6_ كامل ابن اثير ج 3 ص 290 ، وقعہ صفين ص 200 _199 ، معاويہ كى اس گفتگو سے اندازہ ہوتا ہے كہ اس نے حضرت على (ع) كے ديگر سرداران سے بھى اس قسم كى بات كى تھي_

7_ وقعہ صفين ص 190_ 188

8 _ وقعہ صفين 490_489 ، اس واقعہ كى تفصيل بعد ميں آئے گي_

9_ وقعہ صفين ص 190

10_ وقعہ صفين ص 204_203

11_ كامل ابن اثير ج 3 ص 294 ، تاريخ طبرى ج 5 ص 11 ، ليكن وقعہ صفين ميں صفحہ 205 پر منقول ہے كہ سوار دستے كى كمانڈرى عمار كو اور پيادہ فوج كى عبداللہ بديل كو دى گئي_

12_ كامل ج 3 ص 294 ، ليكن وقعہ صفين ميں درج ہے كہ فريقين كے لشكر فتح و كامرانى كے بغير واپس آئے ملاحظہ ہو وقعہ صفين ص 222_

13_ مروج الذہب ج 2 ص 379 ، كامل ج 3 ص 295_ 294 ، وقعہ صفين ص 223_214

14_ سورہ صف آيہ 4 ان اللہ يحب الذين يقاتلون فى سبيلہ صفا كانہم بنيان مرصوص_

15_ نہج البلاغہ كے خطبہ 124 كا اقتباس، وقعہ صفين ص 235

16_ وقعہ صفين ص 236

17 _ كامل ابن اثير ج 3 ص 296

18_ اس سے قبل حضرت على (ع) كى سوارى ميں جانور خچر تھا اس روز آپ (ع) نے تنومند و دراز دم گھوڑا لانے كے لئے حكم

 

227

ديا_ يہ گھوڑا اس قدر تنومند و طاقتور تھا كہ اسے قابو ميں ركھنے كے لئے دو لگا ميں استعمال كرنى پڑتى تھيں اور وہ اپنى اگلى ٹانگوں سے زمين كھودتا رہتا تھا_

19_ سورہ اعراف آيہ 88 ''رَبَنا افتَح بيننا و بين قومنا بالحق و انت خير الفاتحين''_

20_ وقہ صفين ص 230 ، شرح ابن ابى الحديد ج 5 ص 176

21_ وقعہ صفين ص 229 ،كامل ابن اثير ج 3 ص 298 ، تاريخ طبرى ج 5 ص 14، شرح ابن ابى الحديد ج 5 ص 186

22_ وقعہ صفين ص 332

23_ وقعہ فين ص 244 ، شرح ابن ابى الحديد ج 5 ص 196 ، اس پورے قضيے ميں يہ نكتہ قابل توجہ ہے كہ حضرت على (ع) نے خير خواہى كا جو يہ اقدام كيا تھا اس كے پيش نظر معاويہ كے كسى سپاہى نے اپنے فيصلہ جنگ پر ترديد نہيں كى وہ اس نوجوان كو ديكھتے رہے ليكن جب معاويہ كى صفوں ميں شكست كے آثار نمودار ہوئے تو اس كے سپاہيوں نے اس شكست كى تلافى كے لئے قرآن كو نيزے پر چڑھا ليا اور وہ بھى سپاہ عراق كو قرآن كى دعوت دينے لگے حضرت على (ع) كى سپاہ ميں سے كچھ لوگوں پر اس كا اثر ہوگيا چنانچہ انہوں نے حضرت على (ع) سے كہا كہ حكم صادر كيجئے كہ مالك اشتر واپس آجائيں ورنہ ہم آپ (ع) كو قتل كرديں گے_

25_ حضرت عبداللہ بن بديل كے بھائي كا نام بھى عثمان تھا_ وہ بھى دشمن كے ہاتھوں قتل ہوئے تھے_ يہاں عثمان سے مراد ان كے بھائي ہيں_

26_ وقعہ صفين ص 248 _ 245، شرح ابن ابى الحديد ج 5 ص 196، اگرچہ تاريخ كى كتابوں ميں ايسے كئي دلير جانبازوں كا ذكر ملتا ہے مگر اس كتاب كے اختصار كو مد نظر ركھتے ہوئے ان كى كيفيات بيان كرنے سے چشم پوشى كى گئي ہے تفصيل كيلئے ملاحظہ ہو شرح ابن ابى الحديد ج 5 ص 214 وقعہ صفين ص 258

27_ وقعہ صفين ص 250_ 249 ، شرح ابن ابى الحديد ج 5 ص 198 ، تاريخ طبرى ج 5 ص 19، كامل ابن اثير ج 3 ص 299

28 _ وقہ صفين ص 250 ، شرح ابن ابى الحديد ج 5 ص 199

29_ عباس بن ربيعہ بن حارث بن عبدالمطلب

30_ سورہ توبہ آيہ 14

31_ شرح ابن ابى الحديد ج 5 ص 219

32_ وقعہ صفين ص 249 ، شرح ابن ابى الحديد ج 5 ص 198، تاريخ طبرى ج 5 ص 19

  674
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      قرآن مجید میں بیان هوئے سات آسمانوں کے کیا معنی هیں؟
      صاحب بهشت رضوان هونا ملائکه کی شفاعت کے ساتھـ کیسے ...
      حضرت آدم علیه السلام کے فرزندوں نے کن سے ازدواج کیا؟
      کسی گناه کے مرتکب هوئے بغیر نوجوان کا حضر خضر کے هاتهوں ...
      حضرت خضرعلیه السلام کے هاتھوں نوجوان کے قتل کئے جانے ...
      نیک اور برے لوگوں کا ایک دوسرے کی نسبت سے حب و بغض کیسا ...
      شیطان کی پہچان قرآن کی نظر میں
      خلفا کے کارستانیاں
      اسلام میں جھادکے اسباب
      امامت کے بارے میں مکتب خلفاء کا نظریہ اور استدلال

 
user comment