اردو
Wednesday 26th of June 2019
  659
  0
  0

پیغمبر اسلام کے محبوب ترین

6۔ پیغمبر اسلام کے محبوب ترین

203۔ جناب ام سلمہ کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اکرم تشریف فرما تھے کہ اچانک فاطمہ (ع) ایک مخصوص غذا لے کر حاضر ہوگئیں، آپ نے فرمایا کہ علی (ع) اور ان کے فرزند کہاں ہیں ؟ جناب فاطمہ (ع) نے عرض کی کہ گھر میں ہیں۔

فرمایا انھیں طلب کرو ! اتنے میں علی (ع) و حسن (ع) و حسین (ع) آگئے اور آپ نے سب کو دیکھ کر اپنی خیبری چادر کو اٹھایا اور سب کو اوڑھا کر فرمایا خدا یا یہ میرے اہلبیت (ع) اور ” تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ محبوب “ ہیں ، لہذا ان سے ہر رجس کو دور رکھنا اور انھیں کمال طہارت کی منزل پر رکھنا جس کے بعد آیت تطہیر نازل ہوگئی ۔( کشف الغمہ 1ص 45)۔

204۔ امام علی (ع) ! ایک شخص رسول اکرم کی خدمت میں حاضرہوا اور دریافت کیا کہ حضور سب سے زیادہ محبوب آپ کی نظر میں کون ہے؟ فرمایا کہ یہ (علی(ع)) اور اس کے دونوں فرزند اور ان کی ماں(فاطمہ(ع)) یہ سب مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں اور یہ جنت میں میرے ساتھ اسی طرح ہوں گے جس طرح یہ دونوں انگلیاں۔(امالی طوسی ص 452 / 100 از زید بن علی (ع))۔

205۔ جمیع بن عمیر التیمی! اپنی پھوپھی کے ساتھ حضرت عائشہ کے پاس حاضر ہوا اور میری پھوپھی نے سوال کیا کہ رسول اکرم کے سب سے زیادہ محبوب شخصیت کون تھی؟ تو انھوں نے فرمایا فاطمہ (ع) ! پھوپھی نے پوچھا اور مردوں میں ؟ فرمایا، ان کے شوہر، وہ ہمیشہ دن میں روزے رکھتے تھے اور رات بھر نمازیں پڑھا کرتے تھے( سنن ترمذی 5 ص 701 / 3874)۔

206۔ جمیع بن عمیر ! میں ایک مرتبہ اپنی ماں کے ساتھ حضرت عائشہ کے پاس حاضرہو اور میری ماں نے یہی سوال تو انھوں نے فرمایا کہ تم محبوب ترین خلائق کے بارے میں دریافت کررہی ہو تو ان کے محبوب ترین بیٹئ کا شوہر ہے، میں نے خود حضور کو دیکھا ہے کہ انھوں نے علی (ع) ، فاطمہ اور حسن (ع) و حسین (ع) کو جمع کرکے ان پر چادر اوڑھاکر یہ دعا کی تھی کہ خدایا یہ سب میرے اہلبیت (ع) میں ان سے رجس کو دور رکھنا اور انھیں پاک پاکیزہ رکھنا، جس کے بعد میں بھی قریب گئی اور دریافت کیا ، کیا میں بھی اہلبیت (ع) میں شامل ہوں؟ تو فرمایا دو ر رہو تم خیر پر ہو۔( مناقب امیر المومنین (ع) الکوفی 2 ص 132 / 617)۔

 

7 ۔ افضل خلائق

207 ۔ رسول اکرم ! تمھارے بزرگوں میں سب سے بہتر علی (ع) بن ابی طالب (ع) ہیں، تمھارے جوانوں میں سب سے افضل حسن (ع) و حسین (ع) ہیں اور تمھاری عورتوں میں سب سے بالاتر فاطمہ (ع) بنت محمد ہیں۔(تاریخ بغداد 4 / 392 / 2280)۔

208۔ رسول اکرم ! میں اور میرے اہلبیت(ع) سب اللہ کے مصطفی اور تمام مخلوقات میں منتخب بندہ ہیں۔( احقاق الحق 9/483)۔

209۔ رسول اکرم نے جناب فاطمہ (ع) سے فرمایا۔ فاطمہ (ع) ! ہم اہلبیت (ع) کو پروردگار نے وہ سات خصال عطا فرمائے ہیں جو نہ ہم سے پہلے کسی کو عطا کئے ہیں اور نہ ہمارے بعد کسی کو عطا کرے گا، مجھے خاتم النبین اور تمام مرسلین میں سب سے بزرگ تر اور تمام مخلوقات میں سب سے محبوب تر قرار دیا ہے میں تمھارا باپ ہوں اور میرا وصی جو تمام اوصیاء سے بہتر اور نگا ہ پروردگار میں محبوب تر ہے وہ تمھارا شوہر ہے، ہمارا شہید بہترینِ شہداء ہے اور خدا کے نزدیک محبوب ترین ہے جو تمھارے باپ اور شوہر کے چچا ہیں، ہمیں میں سے وہ شخصیت ہے جسے پروردگار نے فضائل جنّت میں ملائکہ کے ساتھ پرواز کرنے کے لئے دو سبز پر عنایت فرمادیے ہیں اور وہ تمھارے باپ کے ابن عم او ر تمھارے شوہر کے حقیقی بھائی ہیں اور ہمیں میں سے اس امت کے سبطین ہیں یعنی تمھارے دونوں فرزند حسن (ع) و حسین (ع) ہیں جو جوانان جنت کے سردار ہیں اور پروردگار کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے ان کا باپ ان سے بھی بہتر ہے ، فاطمہ (ع) ! خدائے برحق کی قسم انھیں دونوں کی اولاد میں اس امت کا مہدی بھی ہوگا ( المعجم الکبیر 3 ص 57 / 2675 از علی المکی الہلالی ، امالی طوسی (ر) ص 154 ، 256 ، الخصال ص 412 ، /16 ، الغیبة طوسی (ر) ص 191 ، 154 ، کشف الغمہ 1 ص 154 ، کفایة الاثر ص 63)۔

210 ۔ رسول اکرم ، میں سید النبیین ہوں علی (ع) بن ابی طالب (ع) سید الوصیین ہیں حسن (ع) و حسین (ع) سردار جوانان جنت ہیں، ان کے بعد کے ائمہ سردار متقین ہیں ، ہمارا دوست خدا کا دوست ہے اور ہمارا دشمن خدا کا دشمن ہے، ہماری اطاعت اللہ کی اطاعت ہے اور ہمارا دشمن خدا کا دشمن ہے، ہماری اطاعت اللہ کی اطاعت ہے اور ہماری نافرمانی اللہ کی نافرمانی ہے۔خدا ہمارے لئے کافی ہے اور وہی ہمارا ذمہ دار ہے( امالی صدوق (ر) ص 448 ) ۔

211۔ رسول اکرم ، علی (ع) بن ابی طالب (ع) اور ان کی اولاد کے ائمہ سب اہل زمین کے سردار اور روز قیامت روشن پیشانی لشکر کے قائد ہیں۔(امالی صدوق (ر) 466 / 24 از عمرو بن ابی سلمہ )

212۔ رسول اکرم ! یا علی (ع) ! تم اور تمھاری اولاد کے ائمہ سب دنیا کے سردار اور آخرت کے شہنشاہ ہیں جس نے ہمیں پہچان لیا اس نے خدا کو پہچان لیا اور جس نے ہمارا انکار کردیا اس نے خدا کا انکار کردیا ۔( امالی صدوق (ع) ص 523 /6 از سلیمان بن مہران ص 448 از حسن بن علی (ع) بن فضال، عیون اخبار الرضا (ع) 2 ص 57 / 210 ملوک فی الارض)۔

213۔ ابن عباس راوی ہیں کہ رسول اکرم نے عبدالرحمٰن بن عوف سے فرمایا کہ تم سب میرے اصحاب ہو اور علی (ع) بن ابی طالب مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں، وہ میرے علم کا دروازہ اور میرے وصی ہیں، وہ فاطمہ (ع) ، حسن(ع) اور حسین (ع) سب اصل و شرف اور کرم کی اعتبار سے تمام اہل زمین سے افضل و برتر ہیں( ینابیع المودة 2 ص 333 / 973 ، مائتہ منقبہ ص 122 ، مقتل خوارزمی 1 ص 60)۔

214۔ امیر المؤمنین (ع) رسول اکرم کی توصیف کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ کی عترت بہترین عترت ، آپ کا خاندان بہترین خاندان اور آپ کا شجرہ بہترین شجرہ ہے۔( نہج البلاغہ خطبہ 94)۔

 

8۔ مباہلہ میں شرکت

315۔ عبدالرحمان بن کثیر نے جعفر بن محمد، ان کے والد بزرگوار کے واسطہ سے امام حسن (ع) سے نقل کیا ہے کہ مباہلہ کے موقع پر آیت کے نازل ہونے کے بعد رسول اکرم نے نفس کی جگہ میرے والد کو لیا، ابنائنا میں مجھے اور بھائی کولیا، نساء نامیں میری والدہ فاطمہ (ع) کو لیا اور اس کے علاوہ کائنات میں کسی کو ان الفاظ کا مصداق نہیں قرار دیا لہذا ہمیں ان کیا اہلبیت (ع) گوشت و پوست اور خون و نفس ہیں، ہم ان سے ہیں اور وہ ہم سے ہیں۔(امالی (ع) طوسی (ر) 564 / 1174 ، ینابیع المودة 1 ص 165 / 1)۔

216۔ جابر ! رسول اکرم کے پاس عاقب اور طیب ( علماء نصاریٰ) وارد ہوئے تو انھیں اسلام کی دعوت دی ، ان دونوں نے کہا کہ ہم تو پہلے ہی اسلام لاچکے ہیں ، آپ نے فرمایا کہ بالکل جھوٹ ہے اور تم چار ہو تو میں بتا سکتاہوں کہ تمھارے لئے اسلام سے مانع کیا ہے؟ ان لوگوں نے کہا فرمائیے؟

فرمایا کہ صلیب کی محبّت ، شراب اور سور کا گوشت اور یہ کہہ کر آپ نے انھیں مباہلہ کی دعوت دیدی اور ان لوگوں نے صبح کو آنے کا وعدہ کرلیا، اب جو صبح ہوئی تو رسول اکرم نے علی (ع) ، حسن (ع) ، حسین (ع) کو ساتھ لیا اور پھر ان دونوں کو مباہلہ کی دعوت دی لیکن انھوں نے انکار کردیا اور سپر انداختہ ہوگئے۔

آپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم جس نے مجھے نبی بنایاہے کہ اگر ان لوگوں نے مباہلہ کرلیا ہوتا تو یہ وادی آگ سے بھر جاتی ، اس کے بعد جابر کا بیان ہے کہ انھیں حضرات کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی ہے فقل تعالو ندع ابنائنا و ابنائکم و نسائنا و نسائکم و انفسنا و انفسکم…

شعب نے جابر کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ انفسنا میں رسول اکرم تھے اور حضرت علی (ع) ، ابنائنا میں حسن(ع) و حسین (ع) تھے اور نسائنا میں فاطمہ (ع) (دلائل النبوة ابونعیم 2 ص 393 / 244 ، مناقب ابن المغازلی ص 263 / 310 العمدة 190 / 191 ، الطرائف 46 / 38)۔

217۔ زمخشری کا بیان ہے کہ جب رسول اکرم نے انھیں مباہلہ کی دعوت دی تو انھوں نے اپنے دانشور عاقب سے مشورہ کیا کہ آپ کا خیال کیاہے؟ اس نے کہا کہ تم لوگوں کو معلوم ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور انھوں نے حضرت مسیح (ع) کے بارے میں قول فیصل سنادیا ہے اور خدا گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے کسی نبی بر حق سے مباہلہ کیا ہے تو نہ بوڑھے باقی رہ سکے ہیں اور نہ بچے نپپ سکے ہیں اور تمھارے لئے بھی ہلاکت کا خطرہ یقینی ہے ، لہذا مناسب ہے کہ مصالحت کرلو اور اپنے گھروں کو واپس چلے جاؤ۔

دوسرے دن جب وہ لوگ رسول اکرم کے پاس آئے تو آپ اس شان سے نکل چکے تھے کہ حسین (ع) کو گود میں لئے تھے، حسن (ع) کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے فاطمہ (ع) آپ کے پیچھے چل رہی تھیں اور علی (ع) ان کے پیچھے۔ اور آپ فرمارہے تھے کہ دیکھو جب میں دعا کروں تو تم سب آمین کہنا۔

اسقف نجران نے یہ منظر دیکھ کر کہا کہ خدا کی قسم میں ایسے چہرے دیکھ رہاہوں کہ اگر خدا پہاڑ کو اس کی جگہ سے ہٹانا چاہے تو ان کے کہنے سے ہٹا سکتا ہے، خبردار مباہلہ نہ کرنا ورنہ ہلاک ہوجاؤگے اور روئے زمین پر کوئی ایک عیسائی باقی نہ رہ جائے گا۔

چنانچہ ان لوگوں نے کہا یا ابا القاسم ! ہماری رائے یہ ہے کہ ہم مباہلہ نہ کریں اور آپ اپنے دین پر رہیں اور ہم اپنے دین پر رہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ اگر مباہلہ نہیں چاہتے ہو تو اسلام قبول کرلو تا کہ مسلمانوں کے تمام حقوق و فرائض میں شریک ہوجاؤ!

ان لوگوں نے کہا یہ تو نہیں ہوسکتاہے!

فرمایا پھر جنگ کے لئے تیار ہوجاؤ، کہا اس کی بھی طاقت نہیں ہے، البتہ اس بات پر صلح کرسکتے ہیں کہ آپ نہ جنگ کریں نہ ہمیں خوفزدہ کریں، نہ دین سے الگ کریں، ہم ہر سال آپ کو دو ہزار حلّے دیتے رہیں گے، ایک ہزار صفر کے مہینہ میں اور ایک ہزار رجب کے مہینہ میں اور تیس عدد آہنی زر ہیں !

چنانچہ آپ نے اس شرط سے صلح کرلی اور فرمایا کہ ہلاکت اس قوم پر منڈ لارہی تھی، اگر انھوں نے لعنت میں حصہ لے لیا ہوتا تو سب کے سب بندر اور سور کی شکل میں مسخ ہوجاتے اور پوری وادی آگ سے بھر جاتی اور اللہ اہل نجرات کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیتا اور درختوں پر پرندہ تک نہ رہ جاتے اور ایک سال کے اندر سارے عیسائی تباہ ہوجاتے ۔

اس کے بعد زمخشری نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ آیت شریف میں ابناء و نساء کو نفس پر مقدم کیا گیا ہے تا کہ ان کی عظیم منزلت اور ان کے بلندترین مرتبہ کی وضاحت کردی جائے اور یہ بتادیاجائے کہ یہ سب نفس پر بھی مقدم ہیں اور ان پر نفس بھی قربان کیا جاسکتاہے اور اس سے بالاتر اصحاب کساء کی کوئی دوسری فضیلت نہیں ہوسکتی ہے۔( تفسیر کشاف 1 ص 193 ، تفسیر طبری 3 ص 299 ، تفسیر فخر الدین رازی ص8 ص 88 ، ارشاد 1 ص 166 ، مجمع البیان 2 ص 762 ، تفسیر قمی 1 ص 104۔

واضح رہے کہ فخر رازی نے اس روایت کے بارے میں لکھا ہے کہ اس کی صحت پر تقریباً تمام اہل تفسیر و حدیث کا اتفاق و اجماع ہے۔

 

9۔ اولو الامر

یا ایہا الذین امنوا اطیعو اللہ و اطیعو الرسول و اولی الامر منکم۔( نساء آیت 59)

218۔ امام علی (ع) ! رسول اکرم نے فرمایا کہ اولو الامر وہ افراد ہیں جنھیں خدا نے اطاعت میں اپنا اور میرا شریک قرار دیا ہے اور حکم دیا ہے کہ جب کسی امر میں اختلاف کا خوف ہو تو انھیں سب کی طرف رجوع کیا جائے۔ تو میں نے عرض کی کہ حضور وہ کون افراد ہیں ؟ فرمایا کہ ان میں سے پہلے تم ہو ( شواہد التنزیل 1 ص 189 / 202 ، الاعتقادات 5 ص 121 ، کتاب سلیم 6 ص 626)۔

219۔ امیر المؤمنین (ع) نے کوفہ میں وارد ہونے کے بعد فرمایا اہل کوفہ ! تمھارا فرض ہے کہ تقوائے الہی اختیار کرو اور تمھارے پیغمبر کے اہلبیت (ع) جو اللہ کے اطاعت گذار ہیں ان کی اطاعت کرو کہ یہ اطاعت کے زیادہ حقدار ہیں، ان لوگوں کی بہ نسبت جوان کے ماقبلہ میں اطاعت کے دعویدار ہیں اور انھیں کی وجہ سے صاحبان فضیلت بن گئے ہیں اور پھر ہمارے فضل کا انکار کردیاہے اور ہمارے حق میں ہم سے جھگڑا کر کے ہمیں محروم کرنا چاہتے ہیں ، انھیں اپنے کئے کامزہ معلوم ہوچکاہے اورعنقریب گمراہی کا انجام دیکھ لیں گے۔( امالی مفید 127 / 5 ، ارشاد 1 / 260)۔

220۔ ہشام بن حسان، امام حسن (ع) نے لوگوں سے بیعت لینے کے بعد خطبہ ارشاد فرمایا کہ ہماری اطاعت کرو یہ اطاعت تمھارا فریضہ ہے، یہ اطاعت خدا و رسول کی اطاعت سے ملی ہوئی ہے” اطیعو اللہ و اطیعوا الرسول و اولی الامر منکم“ … ( امالی مفید ص 349 ، امالی طوسی (ر) 122 / 188 ، احتجاج 2 ص 94 ، مناقب ابن شہر آشوب 4 ص 67)۔

221۔ امام حسین (ع) نے میدان کربلا میں فوج دشمن سے خطاب کرکے فرمایا ” ایھا الناس“ اگر تم تقویٰ اختیار کرو اور حق کو اس کے اہل کے لئے پہچان لو تو اس میں رضائے خدا زیادہ ہے، دیکھو ہم پیغمبر کے اہلبیت (ع) ہیں اور ان مدعیوں سے زیادہ امر رسالت کے حقدار ہیں جو ظلم و جور کا برتاؤ کررہے ہیں اور اگر اب تم ہمیں ناپسند کررہے ہو اور ہمارے حق کا انکار کررہے ہو تو یہ تمھاری نئی رائے ہے،اس کے خلاف جو تمھارے خطوط میں درج ہے اور جس کا اشارہ تمھارے رسائل نے دیا ہے اور اس بنیاد پر ہیں واپس بھی جاسکتاہوں۔( ارشاد 2 ص 79 ، وقعة الطف ص 170 ، کامل 2 ص 552)۔

222۔ امام زین العابدین (ع) اپنی دعا میں فرماتے ہیں، خدایا اپنی محبوب ترین مخلوق محمد اور ان کی منتخب عترت پر رحمت نازل فرما جو پاکیزہ کردار ہیں اور ہمیں انکی باتوں کا سننے والا اور ان کی اطاعت کرنے والا قرار دیدے جس طرح تو نے ان کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔( صحیفہ سجادیہ دعاء ص 34 ، ینابیع المودہ 3 ص 417)۔

223 ۔ امام محمد باقر (ع) نے اطیعو اللہ و اطیعو الرسول کے ذیل میں فرمایا کہ اولی الامر صرف ہم لوگ ہیں جن کی اطاعت کا حکم قیامت تک کے صاحبان ایمان کو دیا گیاہے۔( الکافی 1 ص 276 / 1 از برید العجلی)۔

224۔ ابوبصیر ! میں نے آیت اطاعت کے بارے میں امام صادق (ع) سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ حضرت علی (ع) ، امام حسن (ع) ، امام حسین (ع) کے بارے میں نازل ہوئی ہے ! میں نے عرض کی کہ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ خدا نے ان کا نام کیوں نہیں لیا؟ فرمایا کہ جب خدا نے نماز کا حکم نازل کیا جب بھی تین رکعت اور چار رکعت کا نام نہیں لیا اور رسول اکرم ہی نے اس کی تفسیر کی ہے، اسی طرح جب زکٰوة کا حکم نازل کیا تو چالیس میں ایک کا ذکر نہیں کیا اور رسول اکرم نے اس کی تفسیر کی ہے، یہی حال حج کا ہے کہ اس میں طواف کے سات چکر کا ذکر نہیں ہے اور یہ بات رسول اکرم نے بتائی ہے تو جس طرح آپ نے تمام آیات کی تفسیر کی ہے، اسی طرح اولی الامر کی بھی تفسیر کردی ہے اور وقت نزول جو افراد موجود تھے ان کی نشاندہی کردی ہے۔ ( الکافی 1 ص 276 ، شواہد التنزیل 1 ص 191 ، 203 ، تفسیر عیاشی 1 ص 229 / 169)۔

225 ۔ امام صادق (ع) نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ اولو الامر ائمہ اہلبیت (ع) ہیں اور بس ( ینابیع المودة 1 ص 341 / 2 ، مناقب ابن شہر آشوب 3 /15 ) ۔

226۔ ابن ابی یعفور ! میں امام صادق (ع) کی خدمت میں حاضر ہوا جب آپ کے پاس بہت سے اصحاب موجود تھے … تو آپ نے فرمایا ، ابن ابی یعفور ! پروردگار نے اپنی، رسول اور صاحبان امر کی اطاعت کا حکم دیا ہے جو صیاء رسول اکرم ہیں، دیکھو ہم بندوں پر خدا کی حجت ہیں اور مخلوقات پر اس کی طرف سے نگراں ہیں ، ہمیں زمین کے امین ہیں اور علم کے خزانہ دار، اس کی طرف دعوت دینے والے ہیں اور اس کے احکام پر عمل کرنے والے، جس نے ہماری اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی اور جس نے ہماری نافرمانی کی اس نے خدا کی نافرمانی کی ۔( الزہد للحسین بن سعید ص 104 / 286 ، الکافی 1 ص 185 ، بحار الانوار 23 / 283 ، احقاق الحق ص 224 ، 14 ص 348)۔

 

10 ۔ اہل الذکر

227۔ رسول اکرم ! فاسئلوا اہل الذکر کے ذیل میں فرمایا کہ ذکر سے مراد میں ہوں اور اہل ذکر ائمہ ہیں ( الکافی 1 ص 210)۔

228 ۔ اما م علی (ع) ! ہم میں اہل ذکر ۔( ینابیع المودہ 1 ص 357 ، مناقب ابن شہر آشوب 3 ص 98 ، العمدة ص 288 / 468 )۔

229 ۔ حارث ! میں نے امام علی (ع) سے آیت اہل الذکر کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم ہم ہی اہل ذکر ہیں اور ہمیں اہل علم اور ہمیں معدن تنزیل و تاویل ہیں، میں نے خود رسول اکرم کی زبان سے سناہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں شہر علم ہوں اور علی (ع) اس کا دروازہ ہے، جسے بھی علم لیناہے اسے دروازہ سے آنا ہوگا(شواہد التنزیل 1 ص 432 / 459 ، مناقب ابن شہر آشوب 4 ص 179)۔

230 ۔ امام علی (ع) ! آگاہ ہوجاؤ کہ ذکر رسول اکرم ہیں اور ہم ان کے اہل میں اور راسخون فی العلم ہیں اور ہمیں ہدایت کے منارہے اور تقویٰ کے پرچم ہیں اور ہمارے ہی لئے ساری مثالیں بیان کی گئی ہیں۔( مناقب ابن شہر آشوب 3 ص 89)۔

231۔ امام محمد باقر (ع) نے آیت اہل الذکر کی تفسیر میں فرمایا کہ اہل ذکر ہم لوگ ہیں ۔( تفسیر طبری 10 / 17 ص 5 ، مناقب ابن شہر آشوب 4 ص 178 ، تفسیر فرات کوفی ص 235 ، 315 ، تاویل الآیات الظاہرہ ص 259 ، تفسیر قمی 2 ص 68)۔

232 ۔ امام باقر (ع) ۔ اہل ذکر عترت پیغمبر کے ائمہ ہیں ۔( شواہد التنزیل 1 ص 437 / 466)۔

233 ۔ ہشام ، میں نے امام صادق (ع) سے آیت اہل الذکر کے بارے میں دریافت کیا ہے کہ یہ کون حضرات ہیں تو فرمایا کہ ہم لوگ ہیں ۔

میں نے عرض کی تو ہم لوگوں کا فرض ہے کہ آپ سے دریافت کریں ؟ فرمایا بیشک ۔

تو پھر آپ کا فرض ہے کہ آپ جواب دیں ؟ فرمایا کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے۔(امالی طوسی 664 / 1390 ، کافی 1 ص 211)۔

234۔ امام صادق (ع) ! ذکر کے دو معنی ہیں ، قرآن اور رسول اکرم اور ہم دونوں اعتبار سے اہل ذکر ہیں، ذکر قرآن کے معنی میں سورہ نحل 24 میں ہے۔( ینابیع المودہ 1 ص 357 / 14)۔

235۔ امام صادق (ع) مالک کائنات کے ارشاد فاسئلوا اہل الذکر … میں کتاب ذکر ہے اور اہلبیت (ع) و آل محمد اہل ذکر ہیں جن سے سوال کرنے کا حکم دیا گیاہے اور جاہلوں سے سوال کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔( کافی 1 ص 295)۔

236 ۔ امام صادق (ع) ، ذکر قرآن ہے اور ہم اس کی قوم ہیں اور ہمیں سے سوال کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔( کافی 1 ص 211 ، تفسیر قمی 2 ص 286)۔(بصائر الدرجات 1 ص 37)۔

237۔ ابن بکیر نے حمزہ بن محمد الطیار سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے امام صادق (ع) کے سامنے ان کے پدر بزرگوار کے بعض خطبوں کو پیش کیا تو ایک منزل پر پہنچ کر آپ نے فرمایا کہ اب خاموش رہو!۔

اس کے بعد فرمایا کہ جس بات کے بارے میں تم نہیں جانتے ہو۔مناسب یہی ہے کہ خاموش رہو اور تحقیق کرو اور آخر میں ائمہ ہدی ٰ کے حوالہ کردو تا کہ وہ تمھیں صحیح راستہ پر چلائیں اور تاریکی کو دور کریں اور حق سے آگاہ کریں جیسا کہ آیت فاسئلوا اہل الذکر میں بتایا گیاہے۔( کافی 1 ص 50 ، محاسن 1 ص 341 ، تفسیر عیاشی 2 ص 260)۔

238۔ امام صادق (ع) نے اپنے اصحاب کے نام ایک خط لکھا، اے دو گروہ جس پر خدا نے مہربانی کی ہے اور اسے کامیاب بنایاہے، دیکھو ! خدانے تمھارے لئے خیر کو مکمل کردیاہے اور یہ بات امر الہی کے خلاف ہے کہ کوئی شخص دین میں خواہش، ذاتی خیال اور قیاس سے کام لے، خدا نے قرآن کو نازل کردیاہے اور اس میں ہر شے کا بیان موجود ہے، پھر قرآن اور تعلیم قرآن کے اہل بھی مقرر کردئے ہیں اور جنھیں اس کا اہل قررا دیا ہے انھیں بھی اجازت نہیں ہے کہ وہ اس میں خواہش، رائے اور قیاس کا استعمال کریں اس لئے کہ اس نے علم قرآن دے کر اور مرکز قرآن بناکر ان باتوں سے بے نیاز بنادیاہے، یہ مالک کی مخصوص کرامت ہے، جو انھیں دی گئی ہے اور وہی اہل ذکر ہیں جن سے سوال کرنے کا امت کو حکم دیا گیا ہے( کافی 8 ص 5 ص 210 ، بحار 23 ص 172 ، امالی طوسی 664 ، / 1290 ، روضة الواعظین ص 224 ، بصائر الدرجات 5 / 37 1 ص 40 ، 23 / 511 ، کامل الزیارات ص 54 ، احقاق الحق 2 ص 482 ، 483 ، 14 ص 371 375)۔

 

11۔ محافظین دین

239۔ رسول اکرم نے امام علی (ع) سے فرمایا، یا علی (ع) ! میں ، تم تمھارے دونوں فرزند حسن (ع) و حسین (ع) اور اولاد حسین (ع) کو نو فرزند دین کے ارکان اور اسلام کے ستون ہیں ، جو ہمارا اتباع کرے گا نجات پائے گا اور جو ہم سے الگ ہوجائے گا اس کا انجام جہنم ہوگا ۔( امالی مفید ص 217 ، بشارة المصطفی ص 49)۔

240 ۔ رسول اکرم میری امت کی ہر نسل میں میرے اہلبیت (ع) کے عادل افراد رہیں گے جو اس دین سے غالیوں کی تحریف ، اہل باطل کی تزویر اور جاہلوں کی تاویل کو رفع کرتے رہیں گے، دیکھو تمھارے ائمہ خدا کی بارگاہ کی طرف تمھارے قائد ہیں لہذا اس پر نگاہ رکھنا کہ تم اپنے دین اور نماز میں کس کی اقتدار کررہے ہو۔( کمال الدین ص 221 ، قرب الاسناد 77/ 250 مناقب ابن شہر آشوب 1 ص 245 ، کنز الفوائد 1 ص 330)۔

241 ۔ امام صادق (ع) ! علماء انبیاء کے وارث ہوتے ہیں کہ انبیاء و درہم و دینار جمع کرکے اس کا وارث نہیں بناتے ہیں بلکہ اپنی احادیث کا وارث بناتے ہیں لہذا جو شخص بھی اس میراث کا کوئی حصّہ لے لے گویا اس نے بڑا حصّہ حاصل کرلیا لہذا اپنے علم کے بارے میں دیکھتے رہو کہ کس سے حاصل کررہے ہو، ہمارے اہلبیت (ع) میں سے ہر نسل میں ایسے عادل افراد رہیں گے جو دین سے غالیوں کی تحریف ، باطل پر ستوں کی جعل سازی اور جاہلوں کی تاویل کو دفع کرتے رہیں گے ۔( کافی 1 ص 32 ، بصائر الدرجات 10/1)۔

242۔ امام رضا (ع) ! امام بندگان خدا کو نصیحت کرنے والا اور دین خدا کی حفاظت کرنے والا ہوتاہے۔( کافی 1 ص 202 از عبدالعزیز بن مسل)۔

 

12۔ ابواب اللہ

243 ۔ رسول اکرم ، ہم وہ خدائی دروازے ہیں جن کے ذریعہ خدا تک رسائی ہوتی ہے اور ہمارے ہی ذریعہ سے طالبان ہدایت ہدایت پاتے ہیں۔( فضائل الشیعہ 50 / 7 ، تاویل الآیات الظاہرہ ص 498 از ابوسعید خدری)۔

244 ۔ امام علی (ع) ، ہمیں دین کے شعار اور اصحاب ہیں اور ہمیں علم کے خزانے اور ابواب میں اور گھروں میں دروازہ کے علاوہ کہیں سے داخلہ نہیں ہوتا اور جو دوسرے راستہ سے آتاہے اسے چور شمار کیا جاتاہے۔( نہج البلاغہ خطبہ ص 154)۔

245۔ امام علی (ع) ، پروردگار اگر چاہتا تو وہ براہ راست بھی بندوں کو اپنی معرفت دے سکتا تھا لیکن اس نے ہمیں اپنی معرفت کا دروازہ اور راستہ بنادیاہے اور ہمیں وہ چہرہ حق ہیں جن کے ذریعہ اسے پہچانا جاتاہے لہذا جو شخص بھی ہماری ولایت سے انحراف کرے گا یا غیروں کو ہم پر فضیلت دے گا وہ راہ حق سے بہکا ہوا ہوگا اور یاد رکھو کہ تمام وہ لوگ جن سے لوگ وابستہ ہوتے ہیں سب ایک جیسے نہیں ہوتے ہیں بعض گندے چشمے کے مانند ہیں جو دوسروں کو بھی گند

ہ کردیتے ہیں اور ہم وہ شفاف چشمے میں جواہر خدا سے جاری ہوتے ہیں اور ان کے ختم ہونے یا منقطع ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔( کافی 1 ص 184 ، مختصر بصائر الدرجات ص 55 ، تفسیر فرات کوفی ص 142 / 174)۔

246 ۔ امام صادق (ع) ! اوصیاء پیغمبر وہ دروازہ ہیں جن سے حق تک پہنچا جاتا ہے اور یہ حضرات نہ ہوتے تو کوئی خدا کو نہ پہچانتا پروردگار نے انھیں کے ذریعہ مخلوقات پر حجت تمام کی ہے۔( کافی 1 /193 از ابی بصیر )۔

  659
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      امام کاظم علیہ السلام کی مجاہدانہ زندگی کے واقعات کا ...
      امام جواد علیہ السلام اور شیعت کی موجودہ شناخت اور ...
      حدیث "قلم و قرطاس" میں جو آنحضرت{ص} نے فرمایا هے: ...
      حضرت علی (ع ) خلفاء کے ساتھ کیوں تعاون فر ماتے تھے ؟
      شیعه فاطمه کے علاوه پیغمبر کی بیٹیوں سے اس قدر نفرت ...
      کیا عباس بن عبدالمطلب اور ان کے فرزند شیعوں کے عقیده کے ...
      امام محمد باقر علیہ السلام کی حیات طیبہ کے دلنشین گوشے ...
      اگر کسی دن کو یوم مادر کہا جا سکتا ہے تو وہ شہزادی کونین ...
      قرآن مجید کی مثال پیش کرنے کا دعوی کرنے والوں کی حکمیت ...
      فاطمہ، ماں کی خالی جگہ

 
user comment