اردو
Saturday 20th of April 2019
  752
  0
  0

خلافت ظاہرى سے شہادت تك 4

 

167

خلافت ظاہرى سے شہادت تك 4

حضرت علي(ع) كى بصرہ كى آمد

جنگ جمل ختم ہونے كے بعد حضرت علي(ع) نے تين روز تك معركہ گاہ پر قيام فرمايا متقولين كى نماز جنازہ پڑھائي حكم ديا كہ دشمن كے مقتولين كو جمع كر كے انھيں دفن كيا جائے شہداء كو حضرت على (ع) كے فرمان كے مطابق ان كے لباس ميں ہى دفن كيا گيا (1) جسموں سے جو اعضاء الگ ہو گئے تھے انھيں يك جا ايك بڑى قبر مےں دفن كياگيا _

مال غنيمت كو ( سوائے اس اسلحہ كے جس پر مہر خلافت ثبت تھى ) سپاہ ميں مساوى تقسيم كيا خود بھى ايك حصہ اس مےں سے ليا باقى مال جو جنگ مےں ہاتھ آيا تھا اور اس كا شمار مال غنيمت مےں نہےں ہوتا تھا مسجد مےں لے جايا گيا تاكہ ان كے مالك يا وارثين كى تحويل ميں دے ديا جائے _ (2)

بصرہ پہنچنے كے بعد حضرت على (ع) سيدھے مسجد مےں تشريف لے گئے جہاں آپ نے مفصل تقرير كى اہل بصرہ سے خطاب كرتے ہوئے آپ نے ان كى سرزنش كى اور فرمايا كہ اے كاہل لوگو اے وعدہ خلاف انسانوں تم نے تين مرتبہ اپنوں سے ہى خيانت كى اور چوتھى مرتبہ تم نے خدا پر اتہام لگايا تم نے پيروى بھى كى تو ايك عورت اور بے زبان جانور كى تم نے اس كى ايك آواز پر غوغا و فتنہ بپا كرديا اور جب اس حيوان كے پيروں كى رگيں كاٹ دى گئيں تو تم بھاگ نكلے اخلاقى اعتبار سے تم پست ہو تمہارے اعمال منافقانہ ہيں اور تمہارا دين و آئين باطل اور تفرقہ اندازى ہے_(3)

اس كے بعد تمام افراد حتى مجروحين نے بھى آپ كے دست مبارك پر بيعت كي_ حضرت على (ع)

 

168

نے ابن عباس كو بصرہ كى صوبہ دارى اور زياد كو امور مالى وخراج كى وصول يابى كے عہدوں پر مقررومامور فرمايا _ (4)

اس كے بعد حضرت على (ع) خزانہ بيت المال تشريف لے گئے جس وقت آپ كى نظر مبارك سونے اور چاندى پڑى تو آپ (ع) نے فرمايا كہ :يا صفرا ء يا بيضا غريا غيري( اے زرد سونے اور سفيد چاندى كے سكو تم اپنى يہ دلربائي كسى اور كو دكھانا كسى اور كو تم اپنے دام فريب ميں لانا اس كے بعد آپ نے حكم ديا كہ جو مال موجود ہے اس كو پانچ سو اعداد ميں تقسيم كريں جس وقت سكوں كا شمار كيا گيا تو انكى تعداد كم و بيش ساٹھ لاكھہ درہم تھى چنانچہ آپ كے ساتھيوں ميں سے ہرشخص كے حصے ميں پانچ سو سكے آئے _ اسى وقت وہاں ايك شخص آپ كى خدمت ميں حاضر ہوا _ اس نے عرض كيا يا اميرالمومنين (ع) مجھے بھى كچھ عطا فرمايئے اگر چہ ميں كسى وجہ سے جنگ ميں شركت نہ كرسكا ليكن ميرى نيك خواہشات آپ كے ساتھ تھيں _ حضرت على (ع) نے اپنا حصہ اسے ديديا_ (5)

جنگ جمل كے ناخوشگوار نتائج

جنگ جمل كے جو اثرات و نتائج رونما ہوئے وہ نہايت ہى ناخواشگوار تھے ان ميں سے بعض كا ہم يہاں ذكر كرتے ہيں _

1_ اس جنگ ميں دس ہزار سے زيادہ مسلمان قتل ہوئے _(6) درحقيقت يہ افراد ''ناكثين'' كے حسد اور ان كے جذبہ جاہ طلبى پر قربان ہوئے _ مورخين نے لكھا ہے كہ دو لشكروں كے اتنے سپاہى زمين پر گرے كہ اگر ان كى لاشوں پر گھوڑے دوڑائے جاتے تو گھوڑوں كے سم ان كى لاشوں كے علاوہ كسى اور چيز نہ پڑتے _ لاشوں كے يہ انبار اس عظےم جنگ كا حاصل و ثمرہ تھا جو جمل كے نام سے مشہور ہوئي اس سے قبل بھى بيان كياجاچكا ہے كہ بيشتر افراد ناكثين كے ہاتھوں ہى مارے گئے_

 

169

مقتولين كى اس كثير تعداد نے بہت سى اقتصادى مشكلات نيز جسمانى و نفسياتى دشوارياں مسلمانوں كے لئے پيدا كرديں_

2_ اس جنگ كے بعد مسلمانوں ميں سے جذبہ اخوت و برادرى قطعى مفقود ہوگيا اور امت مسلمہ پر فتنہ وفساد كے دروازے كھل گئے اور جنگ صفين بھڑك اٹھى در حقيقت يہ دو جنگيں اس مضبوط رسى سے بندھى ہوئي تھيں جس كا پہلا سرا بصرہ ميں تھا اور دوسرا صفين ميں اگرچہ عائشےہ كى عثمان سے قرابت دارى نہ تھى ليكن جنگ جمل نے معاويہ كے لئے اس بناپر شورش وسركشى كا راستہ ہموار كرديا كہ وہ خاندان اميہ كے فرد اور عثمان كے رشتہ دار تھے چنانچہ اس جنگ كے باعث معاويہ كے لئے يہ بہانہ پيدا ہوگيا كہ اس نے اميرالمومنين حضرت على (ع) كى حكومت كے خلاف جنگ و جدل كرنے كے علاوہ خلافت كوا پنے خاندان ميں منتقل كرديا درحاليكہ يہ مقتول خليفہ كا ہى خاندان تھا اور يہيں سے خلافت نے موروثى شكل اختيار كرلى _

3_جنگ جمل كے ضرر رسان نتائج جنگ صفين كے بعد بھى باقى رہے اور جنگ نہروان درحقيقت دو پہلى جنگوں (جنگ جمل و جنگ صفين ) كا ہى نتيجہ تھى كيونكہ ان دو جنگوں كے باعث بعض تنگ نظر اور كوتاہ فكر لوگوں كے دلوں ميں بدگمانى كے جذبات ابھرنے لگے _ چنانچہ عملى طور پر وہ تشويش و اضطراب اور حالت تردد كا شكار ہو كر رہ گئے نيز معاشرے كى طرف سے وہ ايسے بدبين و بدظن ہوئے كہ ہر شخص دوسرے كو عداوت و دشمنى كى نگاہ سے ديكھنے لگے_

بعض وہ لوگ جو ''خوارج '' كہلائے اس رائے كے حامى و طرفدار تھے كہ چونكہ ''ناكثين'' كے سرداروں نے اپنے پيشوا يعنى حضرت على (ع) كے خلاف شورش و سركشى كى ہے اس لئے ان كا شمار كفار ميں ہے اس كے بعد ان كے دلوں ميں يہ گمان پيدا ہوگيا كہ حضرت على (ع) نے چونكہ اپنى حكومت كے استحكام كى خاطر يہ جنگ كى اس لئے وہ بھى آئين دين اسلام سے خارج ہوگئے_

بعض لوگوں كى يہ رائے تھى كہ جنگ جمل ميں اگر چہ حضرت على (ع) حق بجانب تھے ليكن آپ (ع) نے چونكہ اہل بصرہ كى تمام دولت كو بطور مال غنيمت جمع نہيں كيا اور ان كى عورتوں كو قيد نہيں كيا اسى

 

170

لئے يہ آپ سے غلطى سرزد ہوئي چنانچہ اسى بناپر وہ آپ (ع) كو ناشايستہ الفاظ سے ياد كرنے لگے_

انہيں ميں سے تيسرا گروہ ايسا بھى تھا جو ان دونوں گروہوں كو كافر سمجھتا تھا اور اس كا يہ عقيدہ تھا كہ يہ لوگ ہميشہ جہنم ميں رہيں گے _ (7)

كوفہ دارالحكومت

جنگ جمل كے مسائل اور بصرہ كى حكومت كے معاملات حل و منظم كرنے كے بعد حضرت على (ع) نے مدينہ اور بصرہ كے لوگوں كو خطوط لكھے جن ميں آپ (ع) نے جنگ جمل كے واقعات مختصر طور پر بيان كئے وہ خط جو اہل كوفہ كو لكھا تھا اس ميں آپ (ع) نے مزيد يہ بھى مرقوم فرمايا تھا كہ ميں جلدى ہى كوفہ كى جانب آؤںگا (8) اس ارادہ كے تحت آپ (ع) جنگ جمل كے ايك يا دو ماہ بعد بصرہ سے كوفہ كى جانب روانہ ہوئے_

بصرہ كے بعض سربرآوردہ لوگ بھى حضرت على (ع) كے ہمركاب تھے كوفہ كے لوگ بالخصوص قاريان قرآن حضرت على (ع) كے استقبال كے لئے شہر سے باہر نكل آئے او رآپ (ع) كے حق ميں انہوں نے دعائے خير كى _

حضرت على (ع) بتاريخ 12 رجب سنہ 36 ھ ميں اس مقام پر فروكش ہوئے جو ''رحبہ(9)'' كے نام سے مشہور تھا وہاں سے آپ سيدھے جامع مسجد تشريف لے گئے اور وہاں آپ نے دو ركعت نماز ادا كى _ (10)

كوفہ كے واقعات بيان كرنے سے قبل يہاں لازم ہے كہ ہم ان اسباب و علل كا جائزہ ليں جن كے باعث كوفہ كو اسلامى حكومت كا مركز قرار ديا _

كوفہ كو اسلامى حكومت كا مركز قرار ديئے جانے كے سلسلے ميں مورخين نے بہت سے اسباب وعلل بيان كئے ہيں _ ان ميں ايك وجہ يہ تھى كہ مالك اشتر او كوفہ كے ديگر سربرآوردہ لوگوں كا يہ اصرار تھا كہ اس شہر كو اسلامى حكومت كا مركز بنايا جائے دوسرى وجہ يہ تھى كہ جنگ جمل كے بعد بعض

 

171

لوگ فرار كركے كوفہ كى جانب چلے آئے تھے اور اس بناء پر حضرت على (ع) نے مجبوراً فيصلہ كيا كہ ان كے فتنے كى سركوبى كے لئے كوفہ كى جانب روانہ ہوں _(11)

ليكن جب ہم ان حوادث اور مسائل كا جائزہ ليتے ہيں جو اميرالمومنين حضرت على (ع) كے سامنے اس وقت موجود تھے جب آپ (ع) نے زمام حكومت سنبھالى تو ہم اس نتيجہ پر پہنچتے ہيں كہ وہ ديگر مسائل تھے جو حضرت على (ع) كے لئے مركز حكومت منتقل كرنے كے محرك ہوئے_

اس سے پہلے بتايا جا چكا ہے كہ ''فتنہ ناكثين'' سے قبل حضرت على (ع) كا خيال تھا كہ ايسى عسكرى طاقت منظم ہوجائے جس كے ذريعے معاويہ كا مقابلہ كياجاسكے مگر ناكثين كى شورش نے اس معاملے ميں تاخير پيدا كردى چنانچہ فطرى طور پر معاويہ نے اس معاملے كو غنيمت جانا اور اس نے حضرت على (ع) كى حكومت كے خلاف جنگ كرنے كى غرض سے كافى فوجى طاقت نيز اور ديگر وسائل فراہم كرليئے_ معاويہ نے شام كے لوگوں كو مطيع و فرمانبردار كرنے كے علاوہ اس نے عثمان كے خون كا بدلہ لينے كے بہانے سے لوگوں كے جذبات مشتعل كئے چنانچہ عراق كى جانب جو خطوط بھيجے اور جن صاحب اثر و رسوخ افراد كو روانہ كيا ان كا اصلى سبب يہ تھا كہ سرداران قبائل اور فرمانداران لشكر كو وہ اپنى جانب متوجہ كرلے_

معاويہ جانتا تھا كہ فتوحات اور اسلامى قلمرو كے وسعت پذير ہونے كے باعث شام كوفہ و بصرہ تين اہم مركز بن گئے ہيں اور حجاز فوجى طاقت كے اعتبار سے خاصا دور ہوگياہے_

يمن ميں بھى قابل توجہ و اعتنا عسكرى طاقت موجود نہ تھى چنانچہ جس وقت ''بسر بن ارطاة''نے اس منطقے ميں شورش و سركشى كى تو حضرت على (ع) كا كارپرداز اس كے مقابل اپنا دفاع نہ كرسكا اور يا يہ كہ جنگ جمل ميں تقريبا سات سو افراد ہى حضرت على (ع) كى مدد كےلئے ربذہ پہنچے اور اسى لئے حضرت على (ع) نے ''ذى قار'' ميں توقف فرمايا تاكہ لشكر كوفہ وہاں آجائے_

يہى وہ مسائل تھے جو حضرت على (ع) كى تيز بين و دور انديش نظروں سے پنہاں نہ رہ سكے آپ (ع) كو علم تھا معاويہ نے شام ميں اس موقع سے فايدہ اٹھايا ہے _ چنانچہ عسكرى طاقت كے علاوہ اس

 

172

نے ديگر وسائل جنگ بھى فراہم كرلئے ہيں اس بنا پر حضرت على (ع) كے لئے ضرورى تھا كہ وہ بھى عظےم مسلح لشكر تيار كريں تاكہ معاويہ سے نبرد آزمائي كى جاسكے اس كے علاوہ يہ بھى ضرورى تھا كہ دشمن كى نگرانى نزديك سے كى جائے كيونكہ اس سے كسى وقت بھى زور آزمائي ہوسكتى ہے_

ان دو مقاصد كے پيش نظر بصرہ اور كوفہ ميں سے كسى ايك شہر منتخب كيا جاسكتا تھا_ اب بصرہ بھى ايسى جگہ نہيں تھى جہاں زيادہ دن تك قيام كياجاسكے كيونكہ فتنہ جمل كى آگ سرد كرنے كے لئے وہاں بہت زيادہ خون بہايا گيا تھا اور جنگ كے بعد جو لوگ زندہ رہ گئے تھے انكے دلوں ميں حضرت على (ع) كى حكومت كيلئے جوش وخروش نہيں تھا_ بلكہ وہ ايك اعتبار سے پست ہمت و كم حوصلہ ہوچكے تھے اسى بناپر وہ حضرت على (ع) كے لئے بھى قابل اعتماد نہ تھے _ چنانچہ ان وجوہات كى بناء پر بہترين اور مناسب ترين شہر كوفہ ہوسكتا تھا _

چنانچہ معاويہ كى طرف سے جب تك خطرے كا امكان ہوسكتا تھا اس وقت تك حكومت كى مصلحت كا تقاضا يہى تھا كہ اميرالمومنين حضرت على (ع) كوفہ ميں ہى تشريف فرما رہيں _

كوفہ پہنچنے پر على (ع) كے اقدامات

كوفہ پہنچنے كے بعد حضرت على (ع) سہر كى مسجد ميں تشريف لے گئے جہاں آپ نے لوگوں سے خطاب كيا اس موقع پر آپ نے اہل كوفہ كى قدر كرتے ہوئے ان كى حوصلہ افزائي كى كہ انہوں نے آپ (ع) كى دعوت كو قبول كيا _ اپنے خطبے ميں آپ نے ہوا وہوس نيز لمبى لمبى آرزوں سے گريز كرنے كى ہدايت فرمائي اور ان لوگوں كو تنبيہہ كى جو آپ (ع) كى مدد كرنے سے روگردان ہوگئے تھے_

اس كے بعد آپ نے ''جعدہ بن غيبرہ '' مخزومى كے مكان پر قيام فرمايا _(13) بتاريخ 16 رجب بروز جمعہ آپ مسجد ميں تشريف لے گئے جہاں پہلى مرتبہ آپ نے نماز جمعہ كى امامت فرمائي _ (14)

 

173

اس كے بعد آپ نے امور حكومت كى جانب توجہ فرمائي ، اپنے اقدامات ميں حاكم آذربائيجان ''اشعث بن قيس'' اور ہمدان كے عامل و كار پرداز ''جرير ابن عبداللہ'' كو انكے مناصب سے برطرف كيا جو كہ عثمان كے مقرر كردہ واليان حكومت تھے ان دونوں كو اپنے پاس (15) بلايا ،ا پنے ديگر كار پردازوں كو مختلف مناطق كى جانب روانہ كيا چنانچہ ''يزيد ابن قيس '' كو حكومت مدائن ، ''مخنف بن سليم'' كو حكومت اصفہان و ہمدان اور مالك اشتر كو موصل كى منصب دارى عطا كى _ (16)

قاسطين

ناكثين كا فتنہ دب جانے كے بعد ايسے ناہنجار حالات پيدا ہونے لگے كہ جن ميں خالص نسلى اور قبائلى محركات كارفرماتھے _ اب اس اسلامى فكر كو پيش كرنے كى كوشش كى جانے لگى جس ميں سے روح تو مفقود ہوچكى تھى بس ظاہرى خول باقى رہ گيا تھا _ اب اسلام كى قدرت كو بچانے كيلئے خليفہ مسلمين كى روز افزوں طاقت مسئلہ تھى اس لئے حضرت على (ع) كى حكومت كے راستے ميں جو دوسرا خطرہ تھا وہ ''قاسطين'' كا وجودتھا قاسطين كا مجمع در حقيقت ان عاملين اور جماعتوں كى منظم شكل تھى جنہيں حضرت على (ع) كى حكومت سے كسى نہ كسى طرح گزند پہنچى تھى اور انہيں يہ خطرہ لاحق تھا كہ اگر حضرت على (ع) كى حكومت بر سر اقتدار رہى تو وہ اپنى نفسانى خواہشات كو پورا كرنے ميں كامياب نہ ہوسكيں گے_

ان تمام گروہوں اور جماعتوں كا سربراہ معاويہ تھا _ اس نے اپنے سياسى و اجتماعى موقف كى بناپر اپنے گرد بہت سے پيروكار جمع كرلئے تھے_

معاويہ ابن ابى سفيان نے فتح مكہ كے بعد دين اسلام قبول كيا تھا وہ ان افراد ميں شامل تھا جو جنگ كے دوران مسلمانوں كى حراست ميں آگئے تھے اور جنہيں پيغمبر اكرم (ص) نے يہ فرمايا كر آزاد كرديا تھا جاؤ تم سب آزاد ہو _ (17) سنہ 12ھ ميں جس وقت ابوبكر نے ''يزيد ابن ابى سفيان'' كى

 

174

قيادت و فرماندارى ميں روميوں سے جنگ كرنے كے لئے لشكر روانہ كيا تھا ، تو معاويہ پرچمدار كى حيثيت سے لشكر شام كے ہمراہ تھا جب اس كے بھائي كا انتقال ہوگيا تو خليفہ وقت نے اسے سپاہ كا فرماندار مقرر كرديا_ عثمان كے دور خلافت ميں بہت سے نئے علاقے اسلامى حكومت كى قلمرو ميں شامل ہوئے چنانچہ يہى وجہ تھى كہ معاويہ انيس سال تك خاطر جمعى كے ساتھ شام پر حكومت كرتا رہا_

جس وقت حضرت على (ع) نے زمام حكومت سنبھالى تو معاويہ نے آپ (ع) كا فرمان قبول كرنے سے روگردانى كى اور عثمان كے خون كا بدلہ لينے كو بہانہ بناكر حضرت على (ع) سے برسر پيكار ہوگيا اورجنگ صفين كيلئے راہ ہموار كى ، آخرى لمحات ميں جب كہ حضرت على (ع) كے لشكر كى فتح و پيروزى يقينى تھى ، اس نے عمرو عاص كى نيرنگى سے قرآن مجيد كو نيزوں كى نوك پر اٹھاليا اور حضرت على (ع) كو حكميت قرآن كى جانب آنے كى دعوت دى اور اس طرح اس نے كوفہ كے سادہ لوح سپاہيوں كو تقدس نمائي سے اپنا گرويدہ كرليا _ يہاں تك كہ انہوں نے حضرت على (ع) كو مجبور كيا كہ وہ جنگ كرنے سے باز رہيں _

قرآن مجيد كى ''حكميت'' كا فائدہ بھى معاويہ كو ہى ہوا ( اس كى تفصيل بعد ميں بيان كى جائے گى ) چنانچہ پہلى مرتبہ اس كا نام لوگوں كى زبانوں پر خليفہ كى حيثيت سے آنے لگا اور سنہ 40 ھ ميں جب حضرت على (ع) كو شہيد كرديا گيا تو خليفہ بن كر ہى مسند خلافت پر آيا اور اس نے انيس سال سے زيادہ مسلمانوں پر حكومت كى اور بالآخر ماہ رجب ميں اس كا انتقال ہوا_

معاويہ كى تخريب كاري

اميرالمومنين حضرت على (ع) كى حكومت كے خلاف معاويہ نے جس قدر مخالفت و تخريب كارى كى اس كى طرح اندازى عمرو عاص كرتا تھا جيسے ہى يہ اطلاع ملى كہ لوگ حضرت على (ع) كے دست مبارك پر بيعت كر رہے ہيں تو اس نے درج ذيل مضمون پر مشتمل خط زبير كو لكھا:

 

175

''معاويہ كى جانب سے بندہ خدا زبير كى خدمت ميں عرض ہے كہ اے اميرالمومنين ميں نے شام كے لوگوں سے كہا كہ وہ آپ كے لئے ميرے ہاتھ پر بيعت كريں انہوںنے ميرے ہاتھ پر بيعت كرلى ہے وہ سب متفقہ طور پر آپ كے مطيع و فرمانبردار ہيں انہوں نے ہى مجھ پر دباؤ ڈالا كہ آپ كے حق ميں ، ميں ان سے بيعت لوں ، آپ كوفہ و بصرہ كى حفاظت كيجئے كہيں ايسا نہ ہو كہ يہ دو شہر على بن ابى طالب (ع) كے ہاتھ لگ جائيں كيونكہ ان دو شہروں پر قبضہ ديگر سرزمينوں كو حاصل كرنے كے لئے خاص اہميت كا حامل ہے _ آپ كے بعد ميں نے طلحہ كے حق ميں بھى لوگوں سے بيعت لے لى ہے اب آپ يہ كہہ كر شورش و سركشى كريں كہ عثمان كے خون كا بدلہ لينا ہے اور لوگوں كو بھى اسى عنوان سے دعوت ديجئے اس مقصد كى برآورى كے لئے پورى متانت و سنجيدگى اور سرعت عمل سے كام ليجئے _(18)

معاويہ نے اپنى جدو جہد كا آغاز اسى روش سے كيا اگر چہ كسى بھى تاريخ كى كتاب ميں يہ واقعہ نہيں ملتا كہ انہوں نے شام ميں زبير كى حق ميں بيعت لى ہو _

امام على (ع) كا نمايندہ معاويہ كى جانب

اميرالمومنين حضرت على (ع) نے معاويہ كيساتھ جنگ كرنے سے قبل اتمام حجت كى غرض سے ''جرير ابن عبداللہ'' كو خط ديكر روانہ كيا (19) اور اس سے بيعت كا مطالبہ كرتے ہوئے طلحہ اور زبير كى عہد شكنى كا بھى ذكركيا ، خط كے آخر ميں آپ(ع) نے مزيد تحرير فرمايا كہ اگر تمہارا خودكو بلاؤں ميں گرفتار كرنا مقصد ہے تم سے جنگ كروں گا تم ان آزاد شدہ لوگوں ميں سے ہو جن ميں نہ تو خلافت كى اہليت وشايستگى ہے او رنہ ہى امور خلافت ميں انكو مشير بنايا جاسكتا ہے _(20) جب جرير نے خط معاويہ كو ديا وہ اس خط كو پڑھ كر حيرت زدہ رہ گيا اور جرير سے كہا كہ ميرے جواب كا انتظار كرو اس مسئلہ كا حل تلاش كرنے كى غرض سے عمرو عاص كو اپنے پاس بلايا اور كہا كہ اگر اس مشكل كا حل نكال لو تو مصر كى حكومت ميں تمہارے حوالے كردوں گا _ معاويہ نے ان كى تجويز پر

 

176

شام كے سربرآوردہ لوگوں كو مسجد ميں جمع كيا اور ان كے سامنے مفصل تقرير كى اس نے اہل شام كى تحسين و قدر دانى كرتے ہوئے ان كے جذبات كو عثمان كے خون كا بدلہ لينے كيلئے مشتعل كيا اور حاضرين جلسہ كى اس بارے ميں رائے جاننا چاہي، اس بات پر حاضرين اٹھ كھڑے ہوئے اور انہوں نے عثمان كے خون كا بدلہ لينے كے لئے اپنى آمادگى و رضامندى كا اظہار كيا چنانچہ اس غرض كے تحت انہوں نے معاويہ كے ہاتھ پر بيعت كى اور يہ وعدہ كيا كہ جب تك دم ميں دم ہے ، وہ اس عہد پر قائم رہيں گے اور اپنا مال تك اس راہ ميں قربان كرديں گے _

جرير نے جب يہ منظر اپنى آنكھوں سے ديكھا تو وہ اميرالمومنين حضرت على (ع) كے پاس واپس آگئے اور تمام واقعات آپ كے سامنے بيان كئے اور كہا كہ شام كے لوگوں نے معاويہ كے ساتھ گريہ و زارى بھى كى اور آپ سے جنگ كرنے كيلئے سب متفق الرائے ہيں كيونكہ ان كا گمان ہے كہ حضرت على بن ابى طالب (ع) نے انہيں قتل كرايا ہے اور ان كے قاتلوں كو پناہ دى ہے_(21)

سركشى كے اسباب

معاويہ نے اميرالمومنين حضرت على (ع) كى حكومت كے خلاف كيوں سركشى كى نيز اس كے پس پشت كيا اسباب و علل اور محركات كار فرماتھے ان كا مختصر طور پر ہى سہى مگر ذكر كردينابہت ضرورى ہے_

1_ دشمنى اور كينہ

خاندان بنى اميہ كو جس كا سردار معاويہ تھا ، ہاشمى خاندان بالخصوص پيغمبر اكرم (ص) اور اميرالمومنين حضرت على (ع) سے سخت عداوت ودشمنى تھى ، اس دشمنى و كينہ توزى كا آغاز نبى اكرم (ص) كے عہد رسالت اور اس كے بعد پيش آنے والے غزوات كے باعث ہوا_ عداوت اور دشمنى اس حدتك پہنچ چكى تھى كہ جہاںكہيں رسول خدا (ص) كى عظمت كا ذكر ہوتا معاويہ اپنے دل ميںملول ہوتا ذيل كى حكايت اس كى شاہد و گواہ ہے ''مطرف ابن مغيرہ '' سے منقول ہے كہ ميرے والد كى معاويہ كے پاس آمد

 

177

ورفت تھى وہ جب بھى اس كے پاس سے واپس گھر آتے تو اسكى ذہانت و ذكاوت كى بہت تعريف كرتے ايك رات معاويہ كے پاس سے آئے تو ميں نے انہيں اتنا مضطرب وپراكندہ خاطر پايا كہ انہوں نے كھانا تك نہيں كھايا_ ميں نے اپنے والد سے دريافت كيا كہ وہ اس قدر كيوں مضطرب و پريشان خاطر ہيں ، انہوںنے جواب ديا كہ آج ميں انتہائي كافر اور خبيث ترين شخص كے پاس سے واپس آرہا ہوں _ ميں نے پوچھا آخر ہوا كيا؟ انہوں نے كہا كہ معاويہ كے پاس بيٹھا ہوا تھا جب خلوت ہوئي تو ميں نے كہا اے اميرالمومنين آپ كافى عمر رسيدہ ہوچكے ہيں اور عہد پيرى كى منزل تك پہنچ گئے يہاں اچھا ہوگا كہ آپ اب عدل وانصاف سے كام ليں اور اپنے بھائي بنى ہاشم سے صلہ رحمى كے ساتھ پيش آئيں كيونكہ انكے پاس ايسى كوئي چيز نہيں جس كے باعث آپ كو ان سے خطرہ ہو ، اس كے علاوہ اگر آپ حسن سلوك كريں گے تو لوگ آپ كو ياد ركھيں گے اور اس كا آپ كو اجر بھى ملے گا_

اس پر معاويہ نے كہا كہ ہرگز اپنے كام كى بقا كى خاطر كس اميد پر نيك كام كروں ''يتم'' كے بھائي ابوبكر كو خلافت ملى عدل وانصاف كو اپنا شيوہ بنايا اور جو كچھ كرنا تھا انہوں نے كيا ليكن جب ان كى وفات ہوگئي تو لوگ انہيں بھول گئے بس لوگوں كو اتنا ہى ياد رہ گيا ہے كہ ابوبكر كے بعد عدى كے بھائي عمر نے حكومت كى _ دس سال تك وہ خدمت خلق كرتے رہے مگر مرنے كے بعد انكا نام بھى صفحہ ہستى سے محو ہوگيا صرف چند ہى لوگوں كو يہ نام (عمر ) ياد رہ گيا ہے ليكن اس كے برعكس ''ابى كبشہ'' كے فرزند محمد ابن عبداللہ'' كا نام ہر روز پانچ مرتبہ بآواز بلند ليا جاتا ہے اور ''اشہد ان محمد رسول اللہ'' كہا جاتا ہے اس كے بعد ميرى كون سى كاركردگى اور ياد باقى رہ جائے گى خدا كى قسم جيسے ہى ميں خاك كے نيچے جاؤں گا ميرا نام بھى اس كے ساتھ دفن ہوجائے گا_(22)

2_ حكومت كى آرزو

معاويہ جانتا تھا كہ اميرالمومنين حضرت على (ع) اسے اس كے منصب پر قائم رہنے نہيں دےں گے كيونكہ اسے اس بات كا علم تھا كہ حضرت على (ع) نے ظلم واستبداد كى ہميشہ مخالفت كى ہے اور حكومت اسى

 

178

لئے قبول كى كہ اسے عدالت وانصاف سے چلائيں گے_

حضرت على (ع) كے كردار سے وہ چونكہ بخوبى واقف تھا اس لئے اسے يہ بھى علم تھا كہ اميرالمومنين حضرت على (ع) نہ صرف يہ كہ حكومت شام كى جانب سے چشم پوشى نہ كريں گے بلكہ وہاں جو مال انہوں نے عثمان كے دور خلافت ميںجمع كيا تھ اس سے لے كر بيت المال ميں داخل كرديں گے _ اس كے بعد وہ ايك معمولى فرد كى طرح اپنى باقى عمر كسى گوشہ تنہائي ميں گذارلے گا يہ بات اس كے لئے كسى بھى طرح قابل برداشت نہ تھى _

چنانچہ يہى وجہ تھى كہ وہ جب تك شام پر حكم فرما رہا ، اس نے كبھى مركزى حكومت كے كارپردازو و نمايندے كى حيثيت سے عمل نہيں كيا بلكہ وہاں اپنے لئے ايك مستقل سلطنت كى بنياد قائم كردى تھى _ تاكہ اپنى مرضى كے مطابق وہ لوگوں پر حكمرانى كرسكے اور ايسى حكومت كى بنياد ركھ دى جو اس كے خاندان ميں آنے والى نسلوں كى ميراث بن گئي _

3_ ناكثين كى شورش

ناكثين كى شورش نے عثمان كے خون كا بدلہ لينے كى تحريك كے لئے راستہ ہموار كرديا اگر ايسا نہ ہوتا تو معاويہ كے لئے مشكل تھا كہ اس اتحاد كو جو مسلمانوں كے درميان پيدا ہوگيا تھا اور جس كى سرزمين اسلام كے بيشتر علاقوں پر حكم و فرمانروائي تھى اس كو درہم برہم كرسكے اور مسلمانوں ميں ايك دوسرے كے خلاف مقابلے كى ہمت و جرا ت پيدا ہوسكے ليكن جنگ جمل كے جو ناخوشگوار نتائج رونما ہوئے انہوں نے اس سد عظيم كو گراديا اور معاويہ كے واسطے شورش و سركشى كا ميدان صاف كرديا_

4_ گزشتہ خلفاء كى دليل ومثال

اس كے علاوہ معاويہ اپنے اس رويے كى يہ توجيہ پيش كرتا اور كہتا كہ گذشتہ خلفاء نے حضرت على (ع) پر سبقت حاصل كرلى اور مسلمانوں نے بھى ان كى حكومت كو تسليم كرليا اس لئے ميں بھى انہى كے رويے كى پيروى كر رہا ہوں_

 

179

چنانچہ جب اس نے محمد ابن ابى بكر كو خط لكھا تو اس ميں انہوں نے اسى امر كى جانب اشارہ كيا كہ تمہارے والد اورعمرآن اولين افراد ميں سے تھے جنہوں نے خلافت ميں على (ع) كى مخالفت كى اور ان كا حق خود لے ليا وہ خود تو مسئلہ خلافت پر متمكن رہے مگر على (ع) كو انہوں نے امر خلافت ميں شريك تك نہ كيا ... اگر وہ راہ راست پر چل رہے ہيں تو تمہارے والد وہ پہلے شخص تھے جنہوںنے يہ راہ اختيار كى اگر ہم ظلم و ستم كے رستے پر گامزن ہيں تو اس راستے كو بھى تمہارے والد نے سب سے پہلے ہموار كيا تھا اس مقصد ميںہم ان كے شريك كار اور انہى كى پيروى كر رہے ہيں اگر تمہارے والد اس راہ ميں ہم پر سبقت نہ لے جاتے تو ہم على بن ابى طالب (ع) كى ہرگز مخالفت نہ كرتے ليكن ہم نے ديكھا كہ تمہارے والد نے يہ كام انجام ديا ہے چنانچہ ہم ان كى راہ و روش پر گامزن ہيں _ (23)

5_ پروپيگنڈہ

عثمان كے قتل كے بعد طلحہ و زبير نے جو شورش و سركشى كى راہ اختيار كى اس كے باعث معاويہ كو يہ موقع مل گيا كہ وہ حضرت على (ع) كى حكومت كے خلاف پروپيگنڈہ كرسكے اور اس ميں بھى جو چيز كار فرما تھى وہ عثمان كے خون كا بدلہ تھا_

معاويہ نے اہل شام كے جذبات بر افروختہ كرنے كے لئے عثمان كے خون آلود كرتے اور ان كى اہليہ نائلہ كى قطع شدہ انگلى كو جنہيں ''نعمان بن بشير'' اپنے ساتھ صوبہ شام سے لے آيا تھا ، مسجد كى ديوار پر نصب كرديا اور انہوں نے چند عمر رسيدہ لوگوں سے كہا كہ وہ ان چيزوں كے نزديك بيٹھ كر گريہ وزارى كريں ، اس پروپيگنڈہ نے لوگوں كے دلوں پر ايسا گہرا اثر كيا كہ جيسے ہى معاويہ كى ولولہ انگيز تقرير ختم ہوگئي تو لوگ اپنى جگہ سے اٹھ كھڑے ہوئے اور سب نے ايك آواز ہوكر كہا كہ ہم عثمان كے خون كا بدلہ ليں گے اورمعاويہ كے ہاتھ پر يہ كہہ كر بيعت كى كہ جب تك ہمارے دم ميں دم ہے تمہارا ساتھ ديں گے_

 

180

مشہور و معروف اشخاص كواپنانا

معاويہ كا مقصد چونكہ زمام حكومت كو اپنے اختيار ميں لينا تھا سى لئے اسكى مسلسل يہ سعى وكوشش تھى كہ جس طرح بھى ممكن ہوسكے ان لوگوں كى توجہ كو اپنى طرف مائل كريں جو اس كام كے لئے مناسب ہوسكتے ہيں اور ان كے ساتھ يہ عہد وپيمان كريں كہ وہ حضرت على (ع) كے خلاف سرگرم عمل رہيں گے اس كام ميں جو لوگ اس كے ہم خيال رہے ان كے نام درج ذيل ہيں :

1_ عمروعاص : معاويہ نے اس سے كہا كہ تم ميرے ہاتھ پر بيعت كرو اور ميرى مدد كرو اس پر عمرو عاص نے كہا كہ خدا كى قسم دين كى خاطر تو ميں يہ كام نہيں كرسكتا البتہ دنيوى مفاد كى خاطر ميں تيار ہوں معاويہ نے دريافت كيا كہ كيا مانگنا چاہتے ہو اس نے كہا كہ مصر كى حكومت معاويہ نے اس كے اس مطالبے كو منظور كرليا اور لكھ كر دستاويز بھى دى _(24)

2_ طلحہ و زبير جيسا كہ پہلے ذكر كيا جاچكاہے كہ معاويہ نے زبير كو خط لكھا تو اس ميں زبير كو اميرالمومنين كے لقب سے ياد كيا تھا اور ان كى نيز طلحہ كى توجہ كو اپنى جانب مائل كرنے كى غرض سے ايسا ظاہر كياكہ ميں نے تمہارے حق ميں شام كے لوگوںسے بيعت لى ہے اور طلحہ كو وليعہد مقرر كرديا ہے_

3_ شرحبيل _ اس كا شمار شام كے بااثر و رسوخ افراد ميںہوتا تھا معاويہ نے خاص حكمت عملى كے ذريعے اسے اپنى جانب مائل كيا اور وہ بھى اس كا ايسا گرويدہ ہوا كہ معاويہ كا دم بھرنے كے علاوہ عثمان كے خون كا مطالبہ شروع كرديا _ معاويہ نے ضمناً عمرو عاص كا ذكر كرتے ہوئے اسے خط ميں لكھا كہ على (ع) كا جرير نامى نمايندہ ميرے پاس آيا ہے اور اس نے بہت اہم تجويز ميرے سامنے ركھى ہے يہ خط ملتے ہيں آپ فوراً ميرے پاس چلے آئيں_ معاويہ نے شرحبيل كے آنے سے قبل بعض ايسے لوگوں كو جو اس كے نزديك قابل اعتماد تھے اور اس كے ساتھ ہى وہ شرجيل كے قرابت دار بھى يہ ہدايت كہ جب شرحبيل مجھ سے ملاقات كرچكے تو وہ اس سے ملاقات كريں اور اسے اطلاع ديں كہ عثمان كا قتل حضرت على (ع) كے ايماء پر ہى ہوا ہے _ (25)

 

181

شرحبيل كو جيسے ہى معاويہ كا خط ملا تو عبدالرحمن ابن غنم اور عياض جيسے خير خواہ دوستوں كى مرضى و منشاء كے خلاف اس نے معاويہ كى دعوت كو قبول كرليا اگرچہ انہوں نے بہت منع كيا مگر اس كے باوجودوہ حمص سے دمشق كى جانب روانہ ہوگيا _ (26)

شرحبيل جيسے ہى شہر ميں داخل ہوا تو معاويہ كے ہواخواہ اس كے ساتھ بہت عزت واحترام سے پيش آئے اس كے بعد معاويہ نے جرير كے خط كا ذكر كيا اورمزيد يہ كہا كہ اگر على (ع) نے عثمان كو قتل نہ كرايا ہو تا تو وہ بہترين انسان شمار كئے جاتے جب معاويہ كى گفتگو ختم ہوگئي تو شرحبيل نے كہا كہ مجھے اس مسئلے پر سوچنے كا موقع ديجئے تا كہ اس كے بارے ميں غور وفكر كرسكوں _

معاويہ سے رخصت ہوكر جب وہ واپس ہو اتو اس كى كچھ لوگوں سے ملاقات ہوگئي يہ لوگ تو پہلے سے ہى ان سے ملنے كے متمنى و مشتاق تھے _ شرحبيل نے عثمان كے قتل كے بارے ميں ان سے دريافت كيا تو سب نے يہى كہا كہ على (ع) ہى عثمان كے قاتل ہيں _

يہ سننے كے بعد شرحبيل غضبناك حالت ميں معاويہ كے پاس واپس آيا اور كہا كہ لوگوں كا يہ خيال واضح ہے كہ عثمان كو على (ع) نے قتل كيا ہے _ خدا كى قسم اگر تم نے ان كے ہاتھ پر بيعت كى تو ہم لوگ يا تو تمہيں شام سے باہر نكال ديں گے يا يہيں قتل كرڈاليں گے _ معاويہ نے محسوس كرليا كہ اس كا منصوبہ كارگر ثابت ہوا ہے كہا كہ ميں بھى شام كے افراد ميں سے ايك ہوں ميں نے آج تك تمہارى مخالفت نہيں كى ہے اور آيندہ بھى ايسا نہ كروں گا مگر تم كو يہ جاننا چاہئے كہ يہ كام شام كے عوام كى مرضى كے بغير صورت پذير نہيں ہوسكتا تم كو اس منطقے ميں شہرت و نام آورى حاصل ہے اب تم شام كے مختلف شہروں كا دورہ كرو اور لوگوں كو بتاؤ كہ عثمان كو على (ع) نے قتل كياہے اور اب مسلمانوں پر واجب ہے كہ اس خون كا بدلہ لينے كى خاطر شورش وسركشى كريں _ شرحبيل نے ايسا ہى كيا چنانچہ چند زاہد و پارسا و گوشہ نشين افراد كے علاوہ شام كے عام لوگوں نے اس دعوت كو قبول كرليا _(27)

 

182

سوالات

1_ اميرالمومنين حضرت على (ع) نے بصرہ پہنچنے كے بعد كيا اقدامات كئے ؟

2_ جنگ جمل كے كيا نتائج واثرات رونما ہوئے ؟مختصر طور پر وضاحت كيجئے_

3_ جنگ جمل كے بعد كوفہ كو مركز حكومت كيوں قرار ديا ؟

4_ اميرالمومنين حضرت على (ع) كى حكومت كے خلاف معاويہ كا كيا موقف تھا ؟ معاويہ كے عدم تعاون كى ايك مثال پيش كيجئے _

5_ حضرت على (ع) كى حكومت كے خلاف معاويہ نے كيوں شورش و سركشى اختيار كى ؟ مختصر طور پر بيان كيجئے_

6_ معاويہ نے صاحب اثر ورسوخ اور سياستمدار افراد كى توجہ كو اپنى طرف كيسے مبذول كيا اس كى ايك مثال پيش كيجئے ؟

 

183

حوالہ جات

1_ الجمل 211

2_ كامل ابن اثير ج 3/ 255 ، تاريخ طبرى ج 4/ 538

3_ مروج الذہب ج 2ہ 368

4_ تاريخ طبرى ج 4/ 541، كامل ابن اثير ج 3/ 256

5_ مروج الذہب ج 2/ 371 ، شرح ابن ابى الحديد ج 1/ 249

6_ جنگ جمل ميں جو جانى نقصان ہوا اس كے بارے ميں مورخين كے درميان اختلاف رائے ہے _ ابن اثير ج 3/ 255_ اور طبرى ج 4/ 539 نے مقتولين كى تعداد دس ہزار افراد لكھى ہے يعنى ہرطرف سے تقريباً پانچ ہزار افرادقتل ہوئے _ مسعودى ج 2/ 539نے مروج الذہب ميں مقتولين كى تعداد بيان كرتے ہوئے لكھا ہے كہ اصحاب جمل كے تيرہ ہزار افراد مارے گئے اور حضرت على (ع) كى سپاہ ميں سے پانچ ہزار افراد شہيد ہوئے _ بلاذرى نے انساب الاشراف ج 2/ 265 ميں درج كيا ہے كہ صرف اہل بصرہ ميں سے بيس ہزار افراد قتل ہوئے مگر يعقوبى نے اپنى تاريخ كے ج2 /183 پر جانبين كے مقتولين كى تعداد تيس ہزار افراد سے زيادہ بيان كى ہے _

7_ ملاحظہ ہو الملل و النحل شہرستانى ج 1/ 121 ، والتبصير 42_

8_ علامہ مفيد نے حضرت على (ع) كے خطوط اپنى تاليف و تاليف الجمل ميں صفحات 215 ، 211 پر درج كئے ہيں_

9_ رحبہ كوفہ كے محلوں ميں سے ايك محلے كا نام تھا ( معجم البلدان ج 3/ 33)

10_ وقعہ صفين 3_

11_ ملاحظہ ہو كامل ابن اثير ج 3/ 260 و تاريخ طبرى ج 4/ 544 ، 543_

12_ ''جعدہ'' اميرالمومنين حضرت على (ع) بھانجے تھے آپ كى والدہ ام بانى دخترابى طالب تھيں (شرح ابن ابى الحديد ج 10 /77)_

13_ وقعہ صفين / 3_10_

14_ مروج الذہب ج 2/ 272 ، كامل ابن اثير ج 3/ 276_

 

184

15_ وقعہ صفين 12_11_

16_ اذہبو انتم الطلقاء ( اسى وجہ سے معاويہ كا شمار طلقاء ميں ہوتا ہے _

17_ شرح ابن ابى الحديد ج 1/ 231 _ تاريخ التواريخ ج 1/ 38_

18_ بعض مورخين نے لكھا ہے كہ جرير كو انہى كى درخواست پر روانہ كيا گيا تھا اگر چہ مالك اشتر نے انہيں روانہ كئے جانے كى مخالفت كى تھى اور يہ كہا تھا كہ جرير كا دل سے جھكاؤ معاويہ كى جانب ہے ليكن اس پر حضرت على (ع) نے فرمايا تھا كہ ان كا امتحان كئے ليتے ہيں پھر ديكھيں گے كہ وہ ہمارى طرف كيسے آتے ہيں _ ملاحظہ ہو مروج الذہب ج 2/ 372 ، وقعہ صفين 27_

19_ وقعہ صفين /19 ، شرح ابن ابى الحديد ج 3 75 ، كامل ابن اثير ج 3/ 276 اور مروج الذہب ج 2/ 372_

20 _ مروج الذہب ج 2/ 372 ، وقعہ صفين 34 ، 31_

21_ شرح ابن ابى الحديد ج 5/ 129_

22_ وقعہ صفين 120_119 _ شرح ابن ابى الحديد ج 3/ 189_

23_ تاريخ ابوالفداء ج 1/ 171 كامل ابن اثير ج 3/ 192_ 277_

24_ وقعہ صفين 32 شرح ابن ابى الحديد ج 3/ 78_

25_ مروج الذہب ج 2/ 354 _ وقعہ صفين 40/ 38_

26_ وقعہ صفين 44 يہاں اس بات كا ذكر بھى ضرورى ہے كہ شرحبيل اور جرير كے درميان سخت عداوت تھي_

27_ ان كى قرابت دارى ميں يزيد بن اسد بُسر اور ارطاء اور عمر بن سفيان بھى شامل تھے_

28_ وقعہ صفين 45_

29_ وقعہ صفين 50_ 46 شرح ابن ابى الحديد ج 2/ 71_

 

  752
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      Characteristics and Qualities of the Imam Mehdi (A.S)
      Tawheed and Imamate of Imam Mahdi (A.S.)
      The Twelfth Imam, Muhammad ibn al-Hasan (Al-Mahdi-Sahibuz Zaman) (as) (The hidden Imam who is ...
      Sayings of Imam Mahdi (A.T.F.)
      A Supplication from Imam Mahdi (A.T.F.)
      Saviour of Humanity
      Imam Mahdi (A.S.), the Twelfth Imam, the Great Leader and Peace-Maker of the World
      The Deputies of the Imam of the Age Hazrat Hujjat ibnil Hasan al-Askari (a.t.f.s.)
      Imam Mahdi (A.J.)
      A brief biography of Imam Al-Mahdi (pbuh)

 
user comment