اردو
Wednesday 20th of March 2019
  587
  0
  0

ناكثين ( حكومت على (ع) كى مخالفت)

چھٹا سبق

خلافت ظاہرى سے شہادت تك (2)

ناكثين ( حكومت على (ع) كى مخالفت)

موقف ميں تبديلي

مكہ ميں مخالفين كا جمع ہونا

سپاہ كے اخراجات

عراق كى جانب روانگي

سپاہ كى جانب عثمان بن حنيف كے نمايندوں كى روانگي

پہلا تصادم

دھوكہ و عہد شكني

جمل اصغر

سردارى پر اختلاف

خبر رساني

سوالات

حوالہ جات

 

127

خلافت ظاہرى سے شہادت تك 2

ناكثين(حكومت على (ع) كى مخالفت)

حضرت على (ع) نے ايك خطبے ميں حكومت كے مخالفين كو تين گروہوں ميں تقسيم كيا ہے _

(1)_ وہ يہ ہيں :

اصحاب جمل : جنہيں آپ (ع) نے ناكثين كے نام سے ياد كيا ہے_

اصحاب صفين : انہيں آپ (ع) نے قاسطين كہا ہے اور

اصحاب نہروان : (خوارج_ جو مارقين كہلائے ہيں )

ناكثين كى ذہنى كيفيت يہ تھى كہ وہ انتہائي لالچى ' زرپرست اور امتيازى سلوك روا ركھنے كے طرفدار تھے _ چنانچہ حضرت على (ع) نے جہاں كہيں عدل و مساوات كا ذكر كيا ہے وہاں آپ (ع) كى توجہ بيشتر اسى گروہ كى جانب رہى ہے_

''قاسطين'' كا تعلق ''طلقائ(2)'' كے فرقہ سے تھا اس گروہ كى تشكيل ميں بعض فراري، بعض حكومت سے ناراض اورعثمان كے كارندے شامل تھے _ يہ لوگ ذہنى طور پر حيلہ گر اور نفاق پسند تھے_ وہ لوگ حضرت على (ع) كى حكومت كا زوال چاہتے تھے تاكہ حكومت ان كے دست اختيار ميں آجائے_

تيسرے گروہ كى اخلاقى حالت يہ تھى كہ وہ ناروا عصبيت كے قائل تھے ، ذہنى خشكى كو تقدس تصور كرتے تھے اور ان كى جہالت خطرناك حد تك پہنچ گئي تھي_

يہاں ہم اختصار كو مد نظر ركھتے ہوئے ان گروہوں كا تعارف كراتے ہوئے انكى حيثيت كا

 

128

جائزہ ليں گے اور يہ بتائيں گے كہ ان ميں سے ہر گروہ نے حضرت على (ع) كى حكومت كے خلاف كيا كيا كارگزارياں كيں_

ناكثين

طلحہ وزبير كى عرصہ دارز سے يہ آرزو تھى كہ وہ اس مقام پر پہنچيں جہاں سے عالم اسلام پر حكمرانى كرسكيں_ عثمان كے قتل كے بعد رائے عامہ حضرت على (ع) كى جانب اس بناپر متوجہ ہوگئي كہ انہوں نے آپ (ع) كو ہى عہدہ خلافت كے لئے شايستہ ترين انسان سمجھا_ چنانچہ جب وہ لوگ اقتدار سے نااميد ہوگئے تو حضرت على (ع) كے دست مبارك پر بيعت كرنے كے لئے پيش پيش رہے اور بظاہر سب پر سبقت لے گئے_

حضرت على (ع) كى بيعت ميں سبقت لے جانے كى وجہ يہ تھى كہ وہ چاہتے تھے كہ اپنے اس اقدام سے خليفہ وقت كو اپنى جانب متوجہ كريں تاكہ اس طريقے سے وہ اپنے مقاصد تك پہنچ سكيں _ ليكن ان كى توقع كے خلاف اميرالمومنين (ع) نے انكے ساتھ ديگر تمام مسلمين كى طرح يكساں سلوك روا ركھا اور اس طرح ان كى تمام حسرتوں پر پانى پھرگيا_

يعقوبى نے لكھا ہے كہ طلحہ اور زبير اميرالمومنين حضرت على (ع) كے پاس آئے اور كہا كہ پيغمبر خدا (ص) كے بعد ہم سے بہت زيادہ ناانصافى كى گئي ہے ، اب آپ ہميں خلافت كى مشينرى ميں شريك كرليجئے_

اس پر اميرالمومنين على (ع) نے فرمايا : قوت و پايدارى ميں تو تم ميرے ساتھ شريك ہوہى شدائد اورسختيوں ميں بھى تم ميرے ساتھ رہو (3)_ حضرت على (ع) كے اس اقدام سے يہ دونوں حضرات ايسے برگشتہ ہوئے كہ انہوں نے دستگاہ خلافت سے عہد شكنى كا فيصلہ كرليا اور آخر كا اس كا انجام جنگ ''جمل'' كى صورت ميں رونما ہوا_

برگشتگى كا دوسرا عامل يہ تھا كہ اميرالمومنين حضرت على (ع) نے بيت المال كو تمام مسلمانوں كے

 

129

درميان مساوى تقسيم كيا _ اميرالمومنين حضرت على (ع) كا يہ رويہ طلحہ اور زبير كے لئے ناقابل برداشت تھا _ انہوں نے زبان اعتراض دراز كى اور بيت المال ميں سے اپنا حصہ بھى نہيں ليا_

حضرت على (ع) نے انہيں اپنے پاس بلايا اور فرمايا : كيا تم ميرے پاس اس مقصد كے لئے نہيں آئے تھے كہ زمام خلافت كو ميں اپنے دست اختيار ميں لے لوں درحاليكہ مجھے اس كا قبول كرنا ناپسند تھا ؟ كيا تم نے اپنى مرضى سے ميرے ہاتھ پر بيعت نہيں كى ؟ اس پر انہوں نے جواب ديا كہ : ہاں اس ميں ہمارى مرضى شامل تھى _ يہ سن كر حضرت على (ع) نے فرمايا تو تم نے مجھ ميں كون سى بات ديكھى جو اعتراض شروع كرديا اور ميرى مخالفت پر اتر آئے ؟ انہوں نے جواب ديا كہ ہم نے اس اميد پر بيعت كى تھى كہ خلافت كے اہم امور ميں آپ كے مشير رہيں گے_ اب ديكھتے ہيں كہ آپ نے ہمارے مشورے كے بغير بيت المال كو مساوى تقسيم كرديا ... جو چيز ہمارى رنجيدگى كا سبب ہوئي ہے وہ يہ ہے كہ آپ عمر كى روش كے خلاف جارہے ہيں وہ بيت المال كى تقسيم ميں لوگوں كے سابقہ كارناموں كو ملحوظ خاطر ركھتے تھے _ ليكن آپ نے اس امتياز سے چشم پوشى كى جو ہميں حاصل ہے آپ نے ہميں ديگر مسلمانوں كے برابر سمجھا ہے جب كہ يہ مال ہمارى جانبازى كے ذريعے شمشير كے بل پر حاصل ہواہے_

يہ سن كر حضرت على (ع) نے فرمايا : امور خلافت ميں جہاں تك مسئلہ مشورت كى بات ہے تو مجھے خلافت كى كب چاہ تھى اس كى جانب آنے كى تم نے ہى مجھے دعوت دى تھى مجھے چونكہ مسلمانوں كے باہمى اختلافات اور ان كے منتشر ہوجانے كا خوف تھا اسى لئے اس ذمہ دارى كو قبول كرليا جب بھى كوئي مسئلہ ميرے سامنے آيا تو ميں نے حكم خدا كو اور سنت پيغمبر (ص) كى جانب رجوع كيا اور اس كا حل تلاش كرليا _ اسى لئے اس معاملے ميں مجھے تمہارے مشورے كى ضرورت پيش نہ آئي _ البتہ اگر كسى روز ايسا معاملہ پيش آيا جس كا حل قرآن اور سنت پيغمبر (ص) كے ذريعے نہ نكل سكے تو مجھے تمہارے مشورے كى ضرورت محسوس ہوگى ، تو تم سے ضرور مشورہ كروں گا_

رہا بيت المال كا مسئلہ تو يہ بھى ميرى اپنى خصوصى روش نہيں ، رسول خدا (ص) كے زمانے ميں ميں

 

130

نے ديكھا ہے كہ آپ (ص) بيت المال كو مساوى تقسيم كيا كرتے تھے_

اس كے علاوہ اس مسئلے كے بارے ميں بھى قرآن نے حكم ديا ہے كہ يہ كتاب اللہ آپ كے سامنے ہے اس ميں كوئي غلط بات درج نہيں ہے يہ كتاب ہميں مساوات و برابرى كى دعوت ديتى ہے اور اس نے ہر قسم كے امتيازى سلوك كو باطل قرار ديا ہے_

يہ كہنا كہ بيت المال آپ كى شمشير كے زور پر ہاتھ آيا ہے تو اس سے پہلے بھى ايسے لوگ گذرے ہيں جنہوں نے جان ومال سے اسلام كى مدد كى ہے_ ليكن رسول خدا (ص) نے بيت المال كى تقسيم ميں كسى كے ساتھ امتيازى سولك روانہ ركھا_ (4)

طبرى لكھتا ہے كہ : جب طلحہ ہر قسم كے امتيازى سلوك سے مايوس و نااميد ہوگيا تو اس نے يہ مثل كہى : ہميں اس عمل سے اتنا ہى ملا ہے جتنا كتے كو سونگھنے سے ملتا ہے_ 5)

ايك طرف تو طلحہ اور زبير اس بات سے مايوس ونااميد ہوگئے كہ انہيں كوئي مقام و مرتبہ ملے گا اور ان كے ساتھ امتيازى سلوك روا ركھا جائے گا اور دوسرى طرف انہيں يہ اطلاع ملى كہ عائشےہ نے حضرت على (ع) كے خلاف مكہ ميں پرچم لہراديا ہے _ چنانچہ انہوں نے فيصلہ كيا كہ مكہ كى جانب روانہ ہوں اسى لئے حضرت على (ع) كے پاس آئے اور كہا كہ ہم عمرہ كى غرض سے آپ كى اجازت كے خواہاں ہيں_

ان كے جانے كے بعد حضرت على (ع) نے اپنے دوستوں سے فرمايا كہ : خدا كى قسم ان كا ارادہ ہرگز عمرہ كا نہيں بلكہ ان كا مقصد عہد شكنى اور خيانت ہے_ (6)

موقف ميں تبديلي

عائشےہ كو پہلے دو خلفاء كے دور ميں جو مراعات حاصل تھيں ان سے وہ عثمان كے عہد آخر خلافت ميں محروم كردى گئيں چونكہ وہ ان كى حكومت سے عاجز و پريشان تھيں اسى لئے انہوں نے عثمان كے خلاف پرچم شورش لہراديا نيز زور بيان اور اپنى رفتار كے ذريعے اس نے مسلمانوں كو

 

131

خليفہ وقت كے خلاف شورش و سركشى كى دعوت دي_(7)

شعلہ شورش كو ہوا دينے كے باعث وہ خود كو اپنے مقصد ميں كامياب محسوس كر رہى تھى اس لئے وہ مكہ كى جانب روانہ ہوگئيں اور ہر لمحہ عثمان كے قتل نيز مسلمين كا طلحہ كے ہاتھ پر بيعت كرنے كا انتظار كرنے لگيں _

جس وقت عثمان كے قتل كى خبر انہيں ملى تو انہوں نے كہا كہ : خدا اس كو غارت كرے اپنے ان كرتوتوں سے ہى تو مارا گيا ، خداوند تعالى اپنے بندوں پر ظلم نہيں كيا كرتا _ (8) عثمان كے قتل كے بعدانہوں نے مسلمانوں سے كہا كہ وہ عثمان كے مارے جانے كے باعث پريشان خاطر نہ ہوں اگر وہ مارے گئے تو كيا ہوا مقام خلافت كے لئے بہترين اور لائق ترين شخص طلحہ تو تمہارے درميان موجود ہيں ان كے ہاتھ پر بيعت كرو اور تفرقہ سے دور رہو_

اپنے اس بيان كے بعد وہ بڑى تيزى سے مدينہ كى جانب روانہ ہوئيں انہيں اطمينان تھا كہ عثمان كے بعد منصب خلافت طلحہ كے ہاتھ آجائے گا ، اسى لئے راستے ميں خود ہى گنگنارہى تھى كہ : ميں گويا اپنى آنكھوں سے ديكھ رہى ہوں كہ لوگ طلحہ كے ہاتھ پر بيعت كر رہے ہيں ميرى سوارى كو تيز ہانكو تاكہ ميں ان تك پہنچ جائوں_ (9)

عبيد بن ام كلاب مدينہ سے واپس آرہے تھے راستے ميں ان سے ملاقات ہوگئي ، انہوں نے مدينہ كى حالت ان سے دريافت كى عبيد نے ان سے كہا كہ عوام نے عثمان كو قتل كرديا ، آٹھ روز تك وہ يہ فيصلہ نہ كرسكے كہ كيا كريں_ عائشےہ نے دريافت كيا كہ اس كے بعد كيا ہوا؟ انہوں نے كہا كہ : الحمدللہ كام بحسن و خوبى تمام ہوا اور مسلمانوں نے ايك دل اور ايك زبان ہوكر على (ع) بن ابى طالب (ع) كو منتخب كرليا _

عائشےہ نے يہ خبر سننے كے بعد كہا خدا كى قسم اگر خلافت كا فيصلہ على (ع) كے حق ميں ہوا ہے تو اب آسمان زير و زبر ہوجائيں گے مجھے يہاں سے واپس لے چلو فوراًمجھے يہاں سے لے چلو(10)

چنانچہ وہ وہيں سے مكہ كى جانب روانہ ہوگئيں ليكن اب انہوں نے اپنا نظريہ بدل ديا تھا اور يہ

 

132

كہہ رہى تھيں كہ : عثمان بے گناہ مارا گيا ميں اس كے خون كا بدلہ لينے كے لئے سركشى كروں گى _ عبيد نے ان سے كہا كہ ان كے خون كا مطالبہ تم كيسے كرسكتى ہو كيونكہ وہ تم ہى تو ہو جس نے سب سے پہلے عثمان كے قتل كيئے جانے كى تجويز پيش كى اور تم ہى تو كہا كرتى تھيں كہ ''نعثل'' كو قتل كردو كيونكہ وہ كافر ہوگيا ہے اور آج تم ہى انہيں مظلوم و بے گناہ كہہ رہى ہو_

عائشےہ نے كہا كہ ہاں عثمان ايسا ہى تھا ليكن اس نے توبہ كرلى تھى اور لوگوں نے ان كى توبہ كى طرف سے بے اعتنائي كى اور انہيں قتل كرديا اس كے علاوہ ميں نے كل جو كچھ كہا تھا تمہيں اس سے كيا سروكار؟ ميں آج جو كہہ رہى ہوں تم اسے مانو كيونكہ ميرى آج كى بات كل سے بہتر ہے_(11)

مكہ پہنچنے كے بعد عائشےہ مسجد الحرام كے سامنے محمل سے اتريں اور پورى سترپوشى كے ساتھ وہ حجر الاسود كے جانب روانہ ہوئيں ، لوگ ان كے چاروں طرف جمع ہوگئے ، عائشےہ نے ان كے سامنے تقرير كى اور كہا كہ عثمان كا خون ناحق ہوا ہے ، انہوں نے اہل مدينہ اور دوسرے لوگوں كے جذبات كو ان كے خلاف جنہوں نے عثمان كے قتل ميں حصہ ليا تھا برافروختہ كيا اور حاضرين سے كہا كہ وہ عثمان كے خون كا بدلہ ليں اور قاتلوں كے خلاف شورش كرنے كى دعوت دى _ (12)

مكہ ميں مخالفين كا جمع ہونا

مكہ ميں عائشےہ نے جيسے ہى حضرت علي(ع) كے خلاف پرچم لہرا ديا آپ كے مخالفين ہر طرف سے ان سے گرد جمع ہوگئے _

طلحہ و زبير بھى حضرت علي(ع) سے عہد شكنى كركے ان كے ہمنوا ہوگئے دوسرى طرف بنى اميہ حضرت على (ع) كے ايك زمانے سے دشمن چلے آرہے تھے اور كسى مناسب موقع كى تلاش ميں تھے اور عثمان كے قتل كے بعد وہ مدينہ سے فرار كرے چونكہ مكہ پہنچ گئے تھے اس لئے وہ بھى عائشےہ كے زير پرچم آگئے _ اس طرح عثمان كے زمانے كے وہ تمام والى و صوبہ دارجنہيں حضرت على (ع) نے معزول

 

133

كرديا تھا وہ سب عائشےہ كے ساتھ ہوگئے مختصر يہ كہ وہ تمام مخالف گروہ جنہيں حضرت على (ع) سے پرخاش تھى مكہ ميں جمع ہوگئے اور اس طرح ناكثين كى تحريك كا اصل بيج يہاں بويا گيا ، مخالف گروہوں كے سردار عائشےہ كے گھر ميں جلسات كى تشكيل كركے شورش و سركشى كى طرح اندازى پر بحث وگفتگو كرتے_

عائشےہ نے كہا كہ : اے لوگو يہ عظےم حادثہ ہے جو رونما ہوا ہے اور جو واقعہ رونما ہوا ہے وہ قطعى ناپسنديدہ ہے ، اٹھو اور اپنے مصرى بھائيو سے مدد طلب كرو شام كے لوگ بھى تمہارا ساتھ ديں گے ، شايد اس طرح خداوند تعالى عثمان اور ديگر مسلمانوں كا بدلہ دشمنوں سے لے_

طلحہ وزبير نے بھى اپنى تقارير كے دوران عائشےہ كى حضرت على (ع) كے خلاف جنگ كرنے ميں حوصلہ افزائي كى اور كہا كہ وہ مدينہ سے رخصت ہو كر ان كے ساتھ چليں_

جب انہوں نے عائشےہ كے جنگ ميں شريك ہونے كى رضامندى حاصل كرلى اور عائشےہ نے بھى اس تحريك كى قيادت سنبھال لى تو يہ گروہ عمر كى دختر اور پيغمبر اكرم (ص) كى زوجہ حفصہ كى جانب گئے ، انہوں نے كہا كہ مجھے عائشےہ سے اتفاق رائے ہے اور ميں ان كى تابع ہوں اگر چہ انہوں نے يہ فيصلہ كرليا تھا كہ عائشےہ كے ہمراہ چليں مگر ان كے بھائي عبداللہ اس روانگى ميں مانع ہوئے_ (13)

سپاہ كے اخراجات

عثمان نے جو رقم اپنے رشتہ داروں ميں تقسيم كردى تھى اور وہ كثير دولت جو ان كے پردازوں كے ہاتھ آئي تھى وہ سب اسى مقصد كے لئے استعمال كى گئي چنانچہ بصرہ كے معزول گورنر عبداللہ بن عامر اور عثمان كے ماموں زاد بھائي نے سب سے پہلے عائشےہ كى دعوت كو قبول كيا اور اپنا بہت سا مال انہيں دے ديا _ عثمان كا معزول كردہ يمن كا گورنر يعلى بن اميہ نے بھى اپنى كثير دولت جس ميں چھ ہزار درہم اور چھ سو اونٹ شامل تھے اس فتنہ پرور لشكر كے حوالے كرديئے _ (14) اور اس لشكر ناكثين كے اخراجات فراہم كئے_

 

134

عراق كى جانب روانگي

''ناكثين'' كى سعى و كوشش سے مسلح لشكر فراہم ہوگيا، سرداران سپاہ نے اس بات پر غور كرنے كے لئے كہ جنگى كاروائي كہاں سے شروع كى جائے آپس ميں مشورہ كيا اور انہوں نے يہ فيصلہ كيا كہ عراق كى جانب روانہ ہوں اور كوفہ وبصرہ جيسے دو عظےم شہروں كے باشندوں سے مدد ليں كيونكہ طلحہ اور زبير كے بہت سے خير خواہ وہاں موجود تھے اور اس كے بعد وہاں سے اسلامى حكومت كے مركز پر حملہ كريں_

اس فيصلہ كے بعد عائشےہ كے منادى نے مكہ ميں جگہ جگہ اعلان كيا كہ ام المومنين اور طلحہ اور زبير كا ارادہ بصرہ جانے كا ہے جس كسى كو اسلامى حريت كا پاس ہے اور عثمان كے خون كا بدلہ لينا چاہتا ہے وہ ان كے ساتھ شريك ہوجائے_

جب ہزار آدمى ضرورى سامان جنگ كے ساتھ جمع ہوگئے تو انہوں نے مكہ سے عراق كى جانب كوچ كيا راستے ميں ان كے ساتھ بہت سے لوگ شامل ہونے لگے يہاں تك كہ ان كى تعداد تين ہزار تك پہنچ گئي _ (15)

عائشےہ اپنے مخصوص ''عسكر'' نامى شتر پرلشكر كے سپاہ كے پيش پيش تھى اور اُميہ ان كے اطراف ميں چل رہے تھے اور سب كا ارادہ بصرہ پہنچنا تھا_

راہ ميں جو حادثات رونما ہوئے ان ميں سے ہم يہاں ايك كے بيان پر ہى اكتفا كرتے ہيں_

راستے ميں انہيں جہاں پہلى جگہ پانى نظر آيا وہاں ان پر كتوں نے بھونكنا اوريھبكنا شروع كرديا ، عائشےہ نے دريافت كيا كہ يہ كونسى جگہ ہے انہيں بتايا گيا كہ يہ ''حَوا ب''ہے _ يہ سن كر عائشےہ كو پيغمبر اكرم (ص) كى وہ حديث ياد آگئي جس ميں آنحضرت (ص) نے يہ پيشن گوئي كى تھى كہ حواب كے كتے ازواج مطہرات ميں سے ايك پر غرائيں گے اور انہيں اس سفر سے باز رہنے كے لئے فرمايا تھا (16)_ عائشےہ اس حادثے سے پريشان ہوگئيں اور فرمايا :''اناللہ و انا اليہ راجعون''

 

135

ميںوہى زوجہ ہوں جنہيں پيغمبر اكرم (ص) نے ان كے مستقبل كے بارے ميں آگاہ كرديا تھااور فوراً ہى واپس چلے جانے كا فيصلہ كيا _ ليكن طلحہ وزبير نے جب يہ ديكھا كہ عائشےہ جنگ كے خيال كو ترك كيا چاہتى ہيں تو انہيں اپنى آرزوئيں خاك ميں ملتى ہوئي نظر آئيں چنانچہ انہوں نے يہ كوشش شروع كردى كہ عائشےہ اپنے فيصلے سے باز رہيں بالآخر جب پچاس آدميوں نے يہ جعلى گواہى دى كہ يہ جگہ ''حَوا ب'' نہيں تو وہ مطمئن ہوگئيں_ (17)

ناكثين كى سپاہ بصرہ كے قريب آكر رك گئي ، عائشےہ نے عبداللہ بن عامر كو بصرہ روانہ كيا اور بصرہ كے كچھ بڑے افراد كے نام خط لكھا اور ان كے جواب كا انتظار كرنے لگي_

سپاہ كى جانب عثمان بن حنيف كے نمايندوں كى روانگي

اميرالمومنين حضرت على (ع) كى جانب سے بصرہ ميں مقرر صوبہ دار عثمان بن حنيف كو جب يہ اطلاع ہوئي كہ عائشےہ كا لشكرشہر ''ابوالاسود دوئلي'' كے گرد نواح ميں پہنچ گيا ہے تو انہوں نے ''عمران بن حصين'' كو سردار لشكر كے پاس بھيجاتاكہ وہ يہ جان سكيں كہ بصرہ كى جانب آنے كا كيا سبب و محرك ہے _ انہوں نے سب سے پہلے عائشےہ سے ملاقات كى اور ان سے دريافت كيا كہ بصرہ كى جانب آپ كے آنے كا كيا مقصد ہے؟ انہوں نے فرمايا كہ عثمان كے خون كا بدلہ اور ان كے قاتلوں سے انتقام لينا_

طلحہ اور زبير سے بھى انہوں نے يہى سوال كيا انہوں نے بھى عائشےہ كى بات دہرادى ، عثمان بن حنيف نے طلحہ سے خطاب كرتے ہوئے كہا كہ كيا تم نے حضرت على (ع) كے دست مبارك پر بيعت نہيں كي؟ انہوں نے كہاں ہاں مگر ميرى بيعت دباؤ كى وجہ سے تھى _(18)

عثمان بن حنيف كے نمايندگان نے تمام واقعات كى انہيں اطلاع دى عائشےہ بھى اپنے لشكر كے ہمراہ ''حفر ابوموسي'' نامى جگہ سے روانہ ہوكر بصرہ ميں داخل ہوگئيں اور ''مربد'' كو جو كبھى بہت وسيع و كشادہ ميدان تھا ''لشكر گاہ'' قرار ديا _

 

136

عثمان بن حنيف نے اپنے نمايندگان سے گفتگو كرنے كے بعد فيصلہ كيا كہ جب تك اميرالمومنين حضرت على (ع) كى جانب سے كوئي حكم نامہ نہيں ملتا وہ سپاہ كو قلب شہر ميں آنے سے روكيں _چنانچہ انہوں نے حكم ديا كہ لوگ مسلح ہوجائيں اور جامع مسجد ميں جمع ہوں _

جب لوگ مسجد ميں جمع ہوگئے تو قيس نامى شخص نے صوبہ دار بصرہ كى جانب سے ان كے سامنے تقرير كى اور كہا كہ وہ عائشےہ كے لشكر كا استقامت و پائيدارى سے مقابلہ كريں_ (20)

ابن قتيبہ كے قبول كے مطابق خود عثمان بن حنيف اور ان كے ساتھيوں نے بھى اس موقع پر تقريريں كى اور اسى دوران كہا ان دو اشخاص (طلحہ اور زبير) نے بھى حضرت على (ع) كے دست مبارك پر بيعت كى تھى مگر يہ بيعت رضائے خداوندى كى خاطر نہ تھى اسى لئے انہوں نے عجلت كى اور چاہا كہ اس سے پہلے كہ بچہ اپنى ماں كا دودھ چھوڑ دے وہ بڑا اور جوان ہوجائے ... ان كا خيال ہے كہ انہوں نے دباؤ كى وجہ سے بيعت كى ہے درحاليكہ ان كا شمار قريش كے زورمند لوگوں ميں ہوتا ہے اگر چاہتے تو بيعت كرتے ... صحيح طريق وہى ہے جو عام لوگوں نے طے كيا ہے اور حضرت على (ع) كے دست مبارك پر بيعت كى اب آپ لوگ بتائيں كيا رائے ہے ؟

يہ سن كر حكيم بن جبلہ عبدى اپنى جگہ سے اٹھے اور كہا كہ ہمارى رائے يہ ہے كہ اگر انہوں نے ہم پر حملہ كيا تو ہم بھى جنگ كريں گے اور اگر وہ حملہ كرنے سے باز رہے تو ہم اس كا استقبال كريں گے ، اگرچہ مجھے اپنى زندگى بہت عزيز ہے مگرراہ حق ميں جان دينے كا مجھے ذرا خوف نہيں _ دوسرے لوگوں نے بھى اس رائے كو پسند كيا _ (21)

پہلا تصادم

جب عائشےہ كا لشكر ''مربد'' ميں داخل ہوگيا تو بصرہ كے بعض وہ لوگ جو ان كے طرفدار تھے ان كى سپاہ مےں شامل ہوگئے ان كے علاوہ بصرہ كے باشندے اور عثمان كے حامى بھى كثير تعداد ميں ان كے گرد جمع ہوگئے_

 

137

سرداران لشكر كى تقارير اور عثمان كى تحريك ''بدلہ خون'' كے باعث عثمان كے حامى و طرفدار دو گروہوں ميں تقسيم ہوگئے ايك گروہ نے عائشےہ ،طلحہ اور زبير كے بيانات كى تائيد كى اور انہوں نے كہا كہ آپ يہاں عمدہ مقصد كے لئے تشريف لائے ہيں _

ليكن دوسرے گروہ نے ان پر دروغگوئي كا الزام لگايا اور كہا كہ خدا كى قسم تم جو كچھ كہہ رہے ہو وہ سراسر فريب ہے اور جو كچھ تم اپنى زبان سے بيان كررہے ہو وہ ہمارے فہم سے باہر ہے_

اس باہمى اختلاف كا نتيجہ يہ ہوا كہ انہوں نے ايك دوسرے پر خاك اچھالنى شروع كردى اور حالات كشيدہ ہوگئے_(22)

سرداران لشكر مروان ، عبداللہ بن زبير اور چند ديگر افراد كے ساتھ صوبہ دار بصرہ كى جانب روانہ ہوئے اور انہوں نے عثمان بن حنيف سے درخواست كى كہ وہ اس جگہ سے چلے جائيں _ ليكن انہوں نے ان كى اس درخواست كى پروا نہ كى _

عثمان بن حنيف كے لشكر اور جارحين كے درميان شديد تصادم ہوا جو غروب آفتاب تك جارى رہا _ مدافعين كے قتل اور جانبين ميں سے بہت سے لوگوں كے زخمى ہوجانے كے بعد بعض لوگوں كى مداخلت كے باعث يہ جنگ بند ہوئي اور طرفين كے درميان عارضى صلح كا عہد نامہ لكھا گيا اس عہد نامہ صلح كى شرايط يہ تھيں كہ :

1_ بصرہ كى صوبہ دارى و مسجد اور بيت المال حسب سابق عثمان بن حنيف كے اختيار ميں رہے گا_

2_ طلحہ اور زبير نيز ان كے آدميوں كو يہ آزادى ہے كہ وہ بصرہ ميں جہاں بھى چاہيں آجاسكتے ہيں _

3_ طرفين ميں سے كس كو بھى يہ حق حاصل نہيںكہ وہ دوسرے كے لئے كوئي پريشانى پيدا كرے_

4_ يہ عہد نامہ اس وقت تك معتبر ہے جب تك حضرت على (ع) يہاں تشريف لے آئيں اس

 

138

كے بعد لوگوں كو صلح يا جنگ كا اختيار ہوگا_

جب عہدنامے پر دستخط ہوگئے اور طرفين كے درميان صلح ہوگئي تو عثمان بن حنيف نے اپنے طرفداروں كو حكم ديا كہ وہ اپنا اسلحہ ايك طرف ركھ ديں اور اپنے گھروں كو واپس جائيں _( 23)

دھوكہ وعہد شكني

لشكروں كے سرداروں نے بصرہ ميں قدم جمانے كے بعد يہاں كے قبائل كے سربرآوردہ اشخاص سے ملاقاتيں كرنا شروع كيں اور سبز باغ دكھا كر انہيں بہت سى چيزوں كا لالچ ديا جس كے باعث بہت سے دنيا اور جاہ طلب لوگوں نے ان كى دعوت كو قبول كرليا _

طلحہ اور زبير نے جب اپنا كام مستحكم كرليا تو وہ اپنے عہد كى پاسدارى سے رو گرداں ہوگئے_ چنانچہ صوبہ دار كے گھر پر شبخون ماركر عثمان بن حنيف كو گرفتار كرليا اور انہےں سخت ايذا پہنچائي ، پہلے تو انہيں سخت زدو كوب كيا اور پھر سر، داڑھى اور دونوں ابروں كے بال نوچے اس كے بعد بيت المال پر حملہ كيا وہاں كے چاليس پاسبانوں كو قتل كركے باقى كو منتشر كرديا اور خزانے ميں جو كچھ مال ومتاع موجود تھا اسے لوٹ ليا_

اس طرح شہر پر جارحين سپاہ كا قبضہ ہوگيا اور جو اہم و حساس مراكز تھے وہ ان كے تحت تصرف گئے _ جارحين نے مزيد رعب جمانے كے لئے ان لوگوں ميں سے پچاس افراد كو جنہيں انہوں نے گرفتار كيا تھا عوام كے سامنے انتہائي بے رحمى كے ساتھ وحشيانہ طور پر قتل كرديا_ (24)

عائشےہ نے حكم ديا كہ عثمان بن حنيف كا بھى خاتمہ كردياجائے مگر ايك نيك دل خاتوں مانع ہوئيں اور انہوں نے كہا كہ عثمان بن حنيف اصحاب پيغمبر (ص) ميں سے ہيں _ رسول خدا كے احترام كا پاس كيجئے اس پر عائشےہ نے حكم ديا كہ انہيں قيد كرليا جائے_ (25)

جمل اصغر

حكيم بن جبلہ كا شمار بصرہ كے سر برآوردہ اشخاص ميں ہوتا تھا انہيںجس وقت عثمان بن حنيف

 

139

كى گرفتارى كے واقعے كا علم ہوا تو انہوں نے اپنے طائفہ ''عبدالقيس '' كے جنگجو جوانوں كو مسجد ميں بلايا اور پر ہيجان تقرير كے بعد تين آور بعض اقوال كے مطابق سات سو افراد كو لے كر حملہ كا اعلان كرديا اور جارحين سپاہ كے مقابل آگئے_

اس جنگ ميں جسے جنگ جمل اصغر سے تعبير كيا گيا ہے حكيم بن جبلہ اور انكے ساتھيوں نے سخت پائمردى سے دشمن كا مقابلہ كيا يہاں تك جس وقت بازار كارزار پورے طور پر گرم تھاجارحين لشكر كے ايك سپاہى نے حكيم بن جبلہ پر حملہ كركے ان كا ايك پير قطع كرديا انہوں نے اسى حالت ميں اس سپاہى پر وار كيا اور اسے مار گرايا وہ اسى طرح ايك پير سے دشمن سے نبرد آزما ہوتے رہے حملہ كرتے وقت يہ رزميہ اشعار ان كى زبان پر جارى تھے_

يا ساق لن تراعى

ان معى ذراعى احمى بھا كر اعي

اے پير تو غم مت كر كيونكہ ابھى ميرے ہاتھ ميرے ساتھ ہيں اور ان سے ہى ميں اپنا دفاع كروں گا_

وہ اسى حالت ميں مسلسل جنگ كرتے رہے يہاں تك كہ نقاہت وكمزورى ان پر غالب آگئي اور شہيد ہوگئے _ ان كے فرزند ، بھائي اور دوسرے ساتھى بھى اس جنگ ميں قتل ہوگئے_ (26)

حكيم بن جبلہ پر غلبہ پانے كے بعد جارحين لشكر كے سرداروں نے دوبارہ فيصلہ كيا كہ عثمان بن حنيف كو قتل كردياجائے مگر انہوں نے كہا كہ تمہيں معلوم ہے كہ ميرا بھائي ''سہل'' مدينہ كا صوبہ دار ہے اگر تم مجھے قتل كرو گے تو وہ تمہارے عزيز واقارب كو مدينہ ميں نيست ونابود كردے گا چنانچہ اس بنا پروہ ان كے قتل سے باز رہے اور انہيں آزاد كرديا_(27)

سردارى پر اختلاف

''ناكثين'' كے لشكر سرداران كو جب ابتدائي جنگوں ميں فتح و كامرانى حاصل ہوئي اور انہوں نے شہر پر بھى قبضہ كرليا تو ان ميں يہ اختلاف پيدا ہوا كہ سربراہ كسے مقرر كياجائے ان ميں سے ہر

 

140

شخص كى يہى كوشش تھى كہ فتح كے بعد اولين نماز جو مسجد ميں ادا كى جائے اس ميں وہى امام جماعت كے فرائض انجام دے يہ باہمى كشمكش اس قدر طولانى ہوئي كہ نزديك تھا كہ آفتاب طلوع ہوجائے چنانچہ لوگوں نے بلند آواز سے كہنا شروع كيا اے صحابہ پيغمبر (ص) ''الصلوة الصلوة ''ليكن طلحہ و زبير نے اس كى جانب توجہ نہ كى ، عائشےہ نے مداخلت كى اور حكم ديا كہ ايك روز طلحہ كے فرزند محمدا ور دوسرے روز زبير كے بيٹے عبداللہ امامت كريں گے _ (28)

خبر رساني

طلحہ اور زبير نے جب بصرہ پر قبضہ كرليا تو وہ كارنامے جو انہوں نے انجام ديئے تھے انكى خبر شام كے لوگوں كو بھيجى گئي _ عائشےہ نے بھى ان خبروں كى تفاصيل اہل كوفہ كو لكھى اور ان سے كہا كہ حضرت على (ع) كى بيعت سے دستكش ہوجائيں اور عثمان كے خون كا بدلہ لينے كے ئے اٹھ كھڑے ہوں_ يمامہ اور مدينہ كے لوگوں كو بھى خط لكھے گئے اور انہيں فتح بصرہ كى اطلاع كے ساتھ يورش و شورش كا مشورہ ديا گيا _ (29)

 

141

سوالات

1_ جس وقت اميرالمومنين حضرت على (ع) نے زمام حكومت سنبھالى تو وہ كون سے گروہ تھے جو آپ كى مخالفت پر اتر آئے؟

2_ وہ كون سے عوامل تھے جن كے باعث طلحہ اور زبير نے اميرالمومنين حضرت على (ع) كے دست مبارك پر بيعت كرنے كے بعد عہد شكنى كى اور مخالفين كى صف ميں شامل ہوگئے_

3_ ناكثين كى تحريك كا اصل مركز كہاں واقع تھا اور اس كى كس طرح تشكيل ہوئي ؟

4_ عثمان كے قتل سے قبل عائشےہ كا كيا موقف تھاا ور انہوں نے اسے كيوں اختيار كيا تھا ؟

5_ جب عثمان قتل ہوئے اور اميرالمومنين حضرت على (ع) بر سر اقتدار آگئے تو عائشےہ نے اپنا موقف كيوں تبديل كرديا تھا؟

6_ جب عثمان بن حنيف كو يہ علم ہوا كہ ''ناكثين'' كا لشكر بصرہ كے نزديك پہنچ گيا ہے تو انہوں نے كيا اقدام كيا ؟

7_ حضرت على (ع) كے لشكر كے بصرہ پہنچنے سے قبل وہاں كيا كيفيت طارى تھى اس كا مختصر حال بيان كيجئے ؟

 

142

حوالہ جات

1_ نہج البلاغہ خطبہ سوم ملاحظہ ہو جس ميں آپ (ع) فرماتے ہيں : ''فلما نہضت بالامر نكثت طائفة ومرقت اخرى وقسط آخرون ''_ حضرت على (ع) سے قبل پيغمبر اكرم (ص) نے بھى دشمنان اسلام كے بارے ميں پيشين گوئي كردى تھى _ چنانچہ حضرت على (ع) سے آپ(ص) نے خطاب كرتے ہوئے ان كے يہ نام بيان كئے تھے : ''يا على ستقاتل بعدى الناكثون والقاسطين والمارقين'' (شرح ابن ابى الحديد ج 1/ 201)

2_ ''طلقاء '' وہ لوگ تھے جو فتح مكہ كے دوران مسلمانوں كے ہاتھوں گرفتار ہوئے تھے ليكن رسول خدا (ص) نے سب كو آزاد كرديا تھا اور فرمايا تھا كہ ''اذہبوا انتم الطلقائ''

3_ تاريخ يعقوبى ج 2/ 180 _179 _''انتما شريكاى فى القوة والاستقامة عوناى اى على العجز الا ود ''

4_ شرح ابن ابى الحديد ج 7/ 42 _ 40

5_ مالنا من ہذالامر الاكحسة انف الكلب (تاريخ طبرى ج 4/ 429 )

6_ واللہ ما اراد العمرة ولكنہما اراد الغدرة (تاريخ يعقوبى ج 2/180)

7_ عثمان كے خلاف عائشےہ كے اقوال واقدامات كے لئے ملاحظہ ہو ( الغدير ج 9/86 _77)

8_ اَبعدہ اللہ بما قدمت يداہ وما اللہ بظلام للعبيد'' _ الغدير ج 9/ 83

9_ الغدير ج 9/ 82 ابومخنف ' لوط بن ےحيى الازدى سے منقول

10_ كامل ابن اثير ج 3/ 206 تاريخ طبرى ج 4/ 448 _ الغدير ج 9 / 82 / 80 انساب الاشراف ج 2/ 217_

11_ عبيد نے عائشےہ كے جواب ميں يہ اشعار پڑھے:

فمنك البدء ومنك الضير

ومنك الرياح ومنك المطر

و انت امرت بقتل الامام

و قلت لنا انہ قد كفر

فہبنا اطعناك فى قتلہ

و قاتلہ عندنا من امر

الامامة والسياسة ج 1/ 51_ تاريخ طبرى ج 4/ 459_458 يعنى ان اختلاف كا سرچشمہ اور تغيرات كا باعث تم ہى تو ہو تمہارى وجہ سے سخت طوفان اور فتنے بپا ہوئے تم نے ہى عثمان كے قتل كا حكم ديا اور كہا كہ وہ كافر ہوگيا

 

143

ہے اب بالفرض ہم نے تمہارى اطاعت كى خاطر اس قتل ميں حصہ ليا اصل قاتل وہ ہے جس نے اس قتل كا حكم ديا _

12_ تاريخ طبرى ج 4/ 448 _ كامل ابن اثير ج 3/ 207 _ انساب الاشراف بلاذرى ج 2/ 218

13_ تاريخ طبرى ج 4/ 452

14_ تاريخ طبرى ج 4/ 451 _ ابن اثير ج 3/ 208 _ تاريخ يعقوبى ج 2/ 181 ليكن طبرى كى تاريخ ج 4/ 450 و 451 پر يعلى بن اميہ كے اونٹوں كى تعداد چھ ہزار چھ سو لكھى ہے _

كامل ابن اثير 3/ 208 تاريخ يعقوبى 2/181

15_ تاريخ طبرى 4/ 452 _451

16_ اس حديث كے متن كو مختلف مورخےن نے بيان كيا ہے _ يعقوبى نے ج 2/181 پر نقل كيا ہے :''لا تكونى التى تنجحك كلاب الحواب'' (عائشےہ تم ان ميں سے نہ ہونا جن پر حواب كے كتے بھونكيں) ليكن ابن اثير تاريخ ج 2/210 ) كامل اور بلاذرى نے انساب الاشراف (ج 2 / 224 ) ميں اس طرح درج كيا ہے ''ليت شعرى ايتكن تبنہا كلاب الحواب '' اور ابن ابى الحديد نے ج 10/ 310 پر يہى حديث دوسرے الفاظ كے ساتھ پيش كى ہے_

17_ مروج الذہب ج 3/ 357 _ انساب الاشراف ج 2/ 224 الامامة والسياسات ج 1/60 ليكن يعقوبى نے (ج 2 /181 ) شہادت دينے والوں كى تعداد چاليس لكھى ہے_

18_ تاريخ طبرى ج 4 ص 461 كامل ابن ايثرج 3/ 211_

19_ شرح ابن ابى الحديد ج 9/ 313 ، تاريخ طبرى ج 4/ 462 ، 461 _ كامل ابن اثير ج 3/211 _الامامة والسياسة ج 1/61 يہ گفتگو اگرچہ بہت مفصل ہے مگر يہاں اس كا خلاصہ ديا گيا ہے_

20 _ مربد شہر كے كنارہ پر ايك ميدان تھا جہاں منڈى لگتى تھي_

21_ تاريخ طبرى ج 4/ 462

22_ الامامة والسياسةج 1 / 61_ 60

23_ تاريخ طبرى ج 4/ 463 _ كامل ابن اثير ج 3/ 213 _ 212

 

144

24_ الجمل للمفيد / 151_ 150 _ تاريخ طبرى ج 4/ 446 _ كامل ابن اثير ج 3/ 214 مروج الذہب ج 2/ 358 شرح ابن ابى الحديد ج 9 /320 الامامة والسياسة 1/65

25_ مروج الذہب ج 2 / 358 شرح ابن ابى الحديد ج 9/ 321

26_ تاريخ طبرى ج 4 / 268 كامل ابن اثير 216 _ 215

27 _ كامل ابن اثير ج 3/ 216 _217 _ تاريخ طبرى ج 4/ 471 _ 470 الجمل للمفيد / 252 _ 151

28_ الجمل للمفيد 153 _ كامل ابن اثير ج 3/ 219 _ تاريخ طبرى ج 4/ 474 _ يہاں يہ بات قابل ذكر ہے كہ عثمان حنيف كے اس قول كے علامہ مفيد نے بصرہ كى ايك خاتون سے نقل كيا ہے_

29_ مروج الذہب ج 2/ 358 _ الجمل للمفيد / 152 _ تاريخ يعقوبى ج 2/ 181

30_ كامل ابن اثير ج 3/ 220 _219 _ تاريخ طبرى ج 4/ 472_ عائشےہ نے جو خط مدينہ اور يمامہ كے لوگوں كو لكھا تھا اس كا متن علامہ مفيد نے اپنى تاليف ''الجمل'' كے صفحہ 160 پر درج كيا ہے_

  587
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      قرآن مجید میں بیان هوئے سات آسمانوں کے کیا معنی هیں؟
      صاحب بهشت رضوان هونا ملائکه کی شفاعت کے ساتھـ کیسے ...
      حضرت آدم علیه السلام کے فرزندوں نے کن سے ازدواج کیا؟
      کسی گناه کے مرتکب هوئے بغیر نوجوان کا حضر خضر کے هاتهوں ...
      حضرت خضرعلیه السلام کے هاتھوں نوجوان کے قتل کئے جانے ...
      نیک اور برے لوگوں کا ایک دوسرے کی نسبت سے حب و بغض کیسا ...
      شیطان کی پہچان قرآن کی نظر میں
      خلفا کے کارستانیاں
      اسلام میں جھادکے اسباب
      امامت کے بارے میں مکتب خلفاء کا نظریہ اور استدلال

 
user comment