اردو
Tuesday 25th of June 2019
  765
  0
  0

حديث منزلت

24

حديث منزلت

صرف وہ غزوہ جس ميں حضرت على (ع) نے پيغمبر اكرم (ص) كى حكم كے پيروى كرتے ہوئے شركت نہيں كى غزوہ تبوك تھا _ چنانچہ اس مرتبہ آپ جانشين رسول خدا (ص) كى حيثيت سے اور ان واقعات كا سد باب كرنے كى غرض سے جن كے رونما ہونے كا احتمال تھا مدينہ ميں ہى قيام پذير رہے_

جس وقت منافقوں كو رسول خدا (ص) كے ارادے كى خبر ہوئي تو انہوں نے ايسى افواہيں پھيلائيں جن سے حضرت على (ع) اور پيغمبر اكرم (ص) كے تعلقات ميں كشيدگى پيدا ہوجائے اور حضرت على (ع) كو يہ بات باور كراديں كہ اب آپ سے رسول (ص) كو پہلى سى محبت نہيں _ چنانچہ جب آپ كو منافقين كى ان شرپسندانہ سازشوں كا علم ہوا تو ان كى باتوں كو غلط ثابت كرنے كى غرض سے رسول خدا (ص) كى خدمت ميں تشريف لے گئے اور صحيح واقعات كى اطلاع دي_ رسول اكرم (ص) نے على (ع) كو مدينہ واپس جانے كا حكم ديتے ہوئے اس تاريخى جملے سے حضرت على (ع) كے اس مقام و مرتبہ كو جو آپ (ص) كے نزديك تھا اس طرح بيان فرمايا : ''كيا تم اس بات سے خوش نہيں ہو كہ ميرے اور تمہارے درميان وہى نسبت ہے جو كہ موسى (ع) اور ہارون (ع) كے درميان تھي_ مگر يہ كہ ميرے بعد كوئي نبى نہيں ہوگا_ (34)

قرآن مجيد ميں حضرت ہارون كے مقامات ومناصب:

اب ديكھنا يہ ہے كہ قرآن پاك كى نظر ميں حضرت ہارون كے وہ كون سے مناصب و مقامات تھے جو حضرت على (ع) ميں بھى نبوت كے علاوہ (چنانچہ حضرت محمد (ص) نے خود ہى مذكورہ حديث ميں آپ كو اس سے مستثنى قرار ديا ہے) بدرجہ اتم موجود تھے_

چنانچہ جب ہم قرآن كى جانب رجوع كرتے ہيں تو ديكھتے ہيں كہ حضرت موسى (ع) نے حضرت ہارون (ع) كے لئے مندرجہ ذيل مناصب چاہے تھے_ مقام وزارت :''واجعل لى وزيرا من اہلى ہارون اخي'' _ (35) _ ''ميرے كنبے سے ہارون كو وزير مقرر كردے جوكہ ميرے بھائي ہيں''_

 

25

تقويت و تائيد ''واشد بہ ازري''_ اس كے ذريعے ميرا ہاتھ مضبوط كر

مقام نبوت: ''واشركہ فى امري''اور اس كو ميرے كام ميں شريك كردے''_

حضرت موسى (ع) نے جو چيزيں خداوند تعالے سے مانگيں اس نے ان كا مثبت جواب ديا اور مذكورہ تمام مقامات حضرت ہارون كو عطا كرديئے_ چنانچہ اس سلسلے ميں قرآن مجيد فرماتاہے:''قد اوتيت سوالك يا موسي_ ''اے موسى جو تم نے مانگا ہم نے عطا كيا''_

اس كے علاوہ حضرت موسى (ع) نے اپنى غير موجودگى ميں حضرت ہارون (ع) كو اپنا جانشين مقرر كيا _ (وقال موسى لاخيہ ہارون اخلفنى فى قومي)موسى نے حضرت ہارون سے كہا تم ميرى قوم ميںميرے خليفہ اور جانشين ہو ''_

حديث منزلت كے مطابق وہ تمام مناصب و مقامات جو ہارون كےلئے بيان كئے گئے ہيں ، صرف ايك منصب كے علاوہ كہ جسے آيت سے مستثنى قرار ديا ہے، حضرت على (ع) كےلئے ثابت ہيں_

اس لحاظ سے حضرت علي(ع) ہى امت مسلمہ ميں رسول خدا (ص) كے ياور و مددگار اور خليفہ ہيں_ (40)

حديث غدير

ہجرت كے دسويں سال پيغمبر اكرم (ص) جس وقت ''حجة الوداع'' (41) سے واپس تشريف لا رہے تھے تو ماہ ذى الحجہ كى اٹھارہ تاريخ كو آپ نے ''غدير خم '' كے مقام پر فرمان خداوندى كے مطابق حكم ديا كہ سارے مسلمان يہاں توقف كريں اس كے بعد ايك لاكھ سے زيادہ افراد كى موجودگى ميں حمد وستائشے بارى تعالى كے بعد جو خطبہ ديا اسے جارى ركھتے ہوئے آپ نے دريافت فرمايا : اے لوگو تم ميں ايسا كون ہے جسے تمام مومنين پر برترى حاصل ہو ؟

سب نے كہا يہ تو خدااور اس كا رسول (ص) ہى بہتر جانتاہے _ آپ (ص) نے فرمايا خداوند تعالى نے مجھے ولايت سے سرفراز فرمايا ہے اور مجھے تمام مومنين پر ان كے نفسوں سے زيادہ تصرف كا حق حاصل ہے_

 

26

اس كے بعد آپ نے حضرت على (ع) كا ہاتھ اونچا كيا چنانچہ وہ تمام لوگ جو اس وقت وہاں جمع تھے انہوں نے حضرت على (ع) كو پيغمبر اكرم (ص) كے دوش بدوش ديكھا اور آپ (ص) نے فرمايا : جس كا مولا و سرپرست ميںہوں على (ع) اس كا مولا و سرپرست ہے _(42) چنانچہ يہ جملہ آپ نے تين مرتبہ دہرايا_

اس كے بعد مزيد فرمايا : ''اے پروردگار تو اسے دوست ركھ جو على (ع) كو دوست ركھے اور اسے دشمن ركھ جو على (ع) كو دشمن ركھے _ خداوندا ياران على (ع) كى مدد فرما اور اس كے دشمنوں كو ذليل و خواركر_(43)

يہ تھيں وہ سرافرازياں جو حضرت على (ع) نے زندگى كے اس اولين مرحلے ميں حاصل كيں كہ جس كى مدت دس سال سے زيادہ نہ تھى _ اگرچہ ديگر كتب ميں آپ كى سوانح حيات مفصل طور پر بيان كى گئي ہے مگر يہاں اختصار سے كام ليتے ہوئے انہى پر اكتفا كرتے ہيں _

 

27

سوالات

1_ حضرت على (ع) كى زندگى كے مختلف ادوار كے بارے ميں لكھيئے؟

2_ بعثت سے قبل حضرت على (ع) كى زندگى ميں كون سا اہم ترين واقعہ پيش آيا؟آپ كے اقوال كے روشنى ميں اس كى مختصر اً وضاحت كيجئے؟

3_ حضرت على (ع) كے امتيازات وافتخارات ميں سے ان دو كى كيفيت بيان كيجئے جو بعثت كے بعد اور رسول خدا (ص) كى ہجرت سے قبل رونما ہوئے_

4_ جنگ بدر ميں حضرت على (ع) كا كيا كردار رہا اختصار سے لكھ يے_

5_ پيغمبر اكرم (ص) نے غزوہ احزاب كے موقع پر حضرت على (ع) كے بارے ميں كيا فرمايا تھا؟

6_ حضرت على (ع) نے مختلف جنگوں (بالخصوص جنگ بدر ) ميں دلاورى كے جو جوہر دكھائے اورمشركين كو قتل كيا وہ آپ كى سياسى زندگى پر كس طرح اثر انداز ہوئے اور كب منظر عام پر آئے ان كى كوئي مثال لكھيئے

7_ حديث ''يوم الدار'' كى مختصر وضاحت كيجئے اور بتايئے مذكورہ حديث پيغمبر (ص) كے بعد امام (ع) كى جانشينى پر كس طرح دلالت كرتى ہے؟

 

28

حوالہ جات

1_ عام الفيل وہ سال كہلاتا ہے جس ميں ابرہہ ہاتھيوں پر سوار لشكر كے ساتھ كعبہ كو نيست و نابود كرنے كى غرض سے آيا تھا_

2_ حضرت عمران كے چار فرزند تھے جن كے نام طالب ، عقيل ، جعفر اور على تھے وہ ابوطالب كى كنيت سے مشہور تھے_ بعض مورخين نے حضرت على (ع) كے والد كا نام عبدمناف بھى بيان كيا ہے (تفصيل كيلئے ملاحظہ ہو شرح ابن ابى الحديد ج1 ص 11)

3_حضرت على (ع) كى ولادت كو اہل سنت كے محدثين و مورخين نے بھى اپنى كتابوں ميں خانہ كعبہ ميں تحرير كيا ہے منجملہ ان كے مسعودى نے مروج الذہب (ج 2 ص 349 ) حاكم نے مستدرك (ج 3 ص 483) اور آلوسى نے شرح قصيدہ _ عبدالباقى افندى ص 15 مزيد تفصيل كيلئے اہل سنت كے دانشوروں كے نظريات كو جاننے كيلئے ملاحظہ ہو كتاب ''الغدير'' ج 4 ص 23_ 21

4_ سيرت ابن ہشام ج 1 /262 ، كامل ابن اثير ج 2/ 58 كشف الغمہ ج 1 / 79 ، تاريخ طبرى ج 2 / 312 البتہ مورخين كى رائے ميں حضرت على (ع) كے پيغمبر اكرم (ص) كے گھر منتقل ہونے كا سبب وہ قحط سالى تھى جس سے شہر مكہ دوچار ہواتھا اور ابوطالب كى زندگى چونكہ تنگ دستى ميں گزر رہى تھى اس لئے حضرت محمد (ص) كى تجويز پر آپ كے قبيلے كے لوگ ان كے ہر فرزند كو اپنے ساتھ لے گئے اور حضرت على (ع) كو آنحضرت (ص) اپنے ساتھ لے آئے ليكن شہيد مطہرى نے نقل مكانى كى اس وجہ كو مسترد كيا ہے اور اسے مورخين كے ذہن كى اختراع قرار ديا ہے_ جس كا سبب رسول اكرم (ص) كے اس اقدام كى اہميت اور قدر وقيمت كو كم كرنا مقصود ہے اس سلسلے ميں موصوف كا مطمع نظر متن كتاب ميںملاحظہ ہو _

5_ تاريخ طبرى ج 2/ 313 شرح ابن ابى الحديد ج 13/199 _ كشف الغمہ ج 1 / 117 كامل ابن اثير ج 2 /58 وسيرة ابن ہشام ج 1 / 263

6_ نہج البلاغہ خطبہ قاصعہ (192) ولقد كنت اتبعہ اتباع الفصيل اثر امہ يرفع لى كل يوم من اخلاقہ علماً يا مرنى بالاقتداء بہ

7_ سورہ واقعہ آيہ السابقون السابقون اولئك المقربون _ جنہوں نے اسلام قبول كرنے ميں سبقت

 

29

كى وہى افراد خدا كى رضا ورحمت كے حصول ميں سبقت ركھتے ہيں _

8_ سورہ حديد آيہ 10 ( لاَيَستَوى منكُم مَن أَنفَقَ من قَبل الفَتح وَقَاتَلَ أُولَئكَ أَعظَمُ دَرَجَةً من الَّذينَ أَنفَقُوا من بَعدُ وَقَاتَلُوا )''تم ميں سے جو لوگ خرچ اور جہاد كريں گے وہ كبھى ان لوگوں كے برابر نہيں ہوسكتے جنہوں نے فتح سے پہلے خرچ اور جہاد كيا ان كا درجہ بعد ميں خرچ اور جہاد كرنے والوں سے بڑھ كر ہے''_

9_ سيرت ابن ہشام ج 1 / 246 ، كشف الغمہ ج 1/113 ، تاريخ طبرى ج 2/ 310 _ سنن ابن ماجہ ج 1/ 57

10 _''اولكم ورداً على الحوض اولكم اسلاماً على بن ابى طالب _ مستدرك حاكم ج 3/ 136 ، كشف الغمہ ج 1 / 105 _ تاريخ بغداد ج 2/ 81 شرح ابن ابى الحديد ج 3 / 385 وغيرہ مزيد اطلاع كيلئے ملاحظہ ہو الغدير ج 3/ 220

11_ نہج البلاغہ خطبہ 192 _''ولم يجمع بيت واحد يومئذ فى الاسلام غير رسول اللہ وخديجة انا ثالثہما ا رى نورالوحى والرسالة واشم ريح النبوة''_

12_ نہج البلاغہ خ 131 _ اللہم انى اول من اناب وسمع واجاب

13_ روايات سے مزيد آگہى كے لئے ملاحظہ ہو تفسير برہان ج 1 / 206 ، تفسير الميزان ج 2/ 99، مطبوعہ جامعہ مدرسين بحار ج 19 صفحات (56_ 78_ 87)

14_ بقرہ آيہ 207

15_ قبا مدينہ سے دو فرسخ كے فاصلے پر واقع ہے يہاں قبيلہ بنى عمروبن عوف آباد تھا( معجم البلدان) ج 4 / 301

16_ اعيان الشيعہ ج 1/ 377 (دس جلدي) منقول از سيرت حلبى واسد الغابہ

17_ والذى بعثنى بالحق ... الخ ... انت اخى فى الدنيا و الاخرة _ مستدرك حاكم ج 3/ 14

18_ ''غزوہ'' اصطلاح ميں اس جنگ كو كہتے ہيں جس ميں پيغمبر اكرم (ص) بذات خود موجود رہتے تھے _ ايسى جنگوں كى تعداد چھبيس يا ستائيس ہيں اورجن جنگوں ميں رسول خدا (ص) موجود نہ تھے انہيں اصطلاحاً ''سريہ'' كہاجاتا ہے جن كى تعداد پينتيس سے چھياسٹھ تك كے درميان بتائي گئي ہے_

19_ الصحيح من سيرة النبى ج 3/192 ، بحار ج 19/ 225 _ 254 _290

 

30

21_ الصحيح من سيرة النبى ج 3 / 203 _202_ مناقب ج 2/ 68 نيز ملاحظہ ہو بحار ج 19/ 279_ 276_ 291

22_ بحار ج 20/50 _ 51 ،الصحيح من سيرة النبى (ص) ج 4 / 218_ 213_

23_ ملاحظہ ہو تاريخ طبرى ج 2/ 514 كامل ابن اثير ج 2/ 154 وشرح ابن ابى الحديد ج 14/ 250 اس واقعے كا ذكر تمام مذكورہ كتب ميں مختصر سے فرق كے ساتھ موجود ہے _

24_ بحار ج 20 / 70 خصال صدوق (مترجم) ج 2 / 127_

25_ بحار ج 20/ 54 تفسير على ابن ابراہيم سے منقول_

26_ 127 _ بحارج 20 / 216_ 215 _

27_ بحار ج 20 / 205_

28_ ''ا رونيہ ترونى رجلاً يحب اللہ ورسولہ ويحبہ اللہ ورسولہ ( ارشاد مفيد / 66)_

29_ ارشاد مفيد / 67 / 65 بحار ج 21 / 16_ 14_

30 _ شرح ابن ابى الحديد ج 9/ 23_ الصحيح ج 3/ 220_

31_ مقتل خوارزمى 2 /59 _

لستُ من خندف ان لم انتقم من بنى احمد ما كان فعل

لعبت ہاشم بالملك فلا خبر جاء و لا وحى نزل

قد اخذنا من على ثارناوقتلنا الفارس الليث البطل

32_ سورہ شعرا ء 214 _

33_ تاريخ طبرى ج 2/ 321 و 320 كامل ابن اثير ج 2/ 63 _ 62 مجمع البيان ج 8/ 7 الغدير ج 2 / 278 ''فا يكم يؤازرنى على ہذاالامر على ان يكون اخى ووصى وخليفتى فيكم ...؟ ان ہذا اخى و وصيى وخليفتى فيكم فاسمعوا لہ واطيعوہ''_

34_اما ترضى ان تكون منى بمنزلة ہارون من موسى الا انہ لا نبى بعدى _ غاية المرام كے صفحہ 152 سے 107پر ايك سو ستر (170 ) محدثين كے طريق سے ''حديث منزلت'' كو نقل كيا گيا ہے ان ميں سے سو طريق اہل سنت والجماعت كے ہيں_ صاحب المراجعات نے بھى ( 139_ 141) پر مذكورہ حديث كو صحيح

 

31

مسلم ، بخارى ، سنن ابن ماجہ ومستدرك حاكم اور اہل سنت كے ديگر مصادر سے نقل كيا ہے_

35_ سورہ طہ 29_ 30_

36_ _37_ 38 _ سورہ طہ آيات 31_32_ 36_

39_سورہ احزاب آيت 142_

40_ رہبرى امت مصنفہ جعفر سبحانى سے ماخوذ صفحات 168 _ 167_

41_ فرمان خداوندى سورہ مائدہ آيت 67 '' يَاأَيُّہَا الرَّسُولُ بَلّغ مَا أُنزلَ إلَيكَ من رَبّكَ وَإن لَم تَفعَل فَمَا بَلَّغتَ رسَالَتَہُ وَالله ُ يَعصمُكَ من النَّاس''_

42_ من كنت مولاہ فہذا على مولاہ _اللہم وال من والاہ و عاد من عاداہ وانصر من نصرہ واخذل من خذلہ _ ملاحظہ ہو الغدير ج 1/ 11_9

دوسر ا سبق

رسول اكرم (ص) كى رحلت سے خلافت ظاہرى تك

وفات پيغمبر (ص) كو جھٹلانا

غير متوقع حادثہ

پيغمبر (ص) كى جانشينى كا مسئلہ شيعوں كى نظر ميں

لاتعلقي

امت كى پريشانى كا خطرہ

لوگوں كا دور جاہليت كى جانب واپس چلے جانے كا خطرہ

منافقين كا خطرہ

شورى

وصى اور جانشين كا تقرر

سقيفہ ميں رونما ہونے والے حالات

اس خطبے كے اہم نكات

انصار كا رد عمل

على (ع) كى بيعت كے بارے ميں تجويز

سقيفہ كے واقعات كے بعد حضرت على (ع) كا رد عمل

على (ع) نے كيوں عجلت نہيں كي؟

سوالات

حوالہ جات

 

 

35

رسول اكرم (ص) كى رحلت سے خلافت ظاہرى تك(1)

پيغمبر اكرم (ص) كے زمانہ حيات ميں حضرت على (ع) كى زندگى كے تعميرى اور كردار ساز بعض حادثات وواقعات كا جائزہ ترتيب وار گذشتہ فصل ميں ليا جاچكا ہے _ چونكہ ہمارا مطمع نظر تاريخ اسلام كا تجزيہ وتحليل ہے نہ كہ ان بزرگوار شخصيات كے احوال زندگى كو بيان كرنا اسيلئے بہت سے ايسے واقعات جن كا امام (ع) نے ان مراحل ميں سامنا كيا ، ان كا ذكر نہيں كياجاسكا_اب ہم يہاں پيغمبر اكرم (ص) كى رحلت كے بعد تاريخ اسلام كے واقعات كا جائزہ ليں گے_

وفات پيغمبر(ص) كو جھٹلانا

رسول اكرم (ص) كى رحلت كے بعد سب سے پہلا واقعہ جو مسلمانوں كے سامنے آيا وہ عمر كى جانب سے رونما ہوا چنانچہ انہوں نے رسول خدا (ص) كے گھر كے سامنے بآواز بلند كہا كہ جو شخص يہ كہے گا كہ رسول خدا(ص) كى رحلت ہوگئي ميں اسى تلوار سے اس كا سر قلم كردوں گا اگر چہ حضرت ابن عباس و ديگر صحابہ رسول (ص) نے وہ آيت بھى سنائي جس كا مفہوم يہ ہے كہ موت سے پيغمبر(ص) كو بھى مفر نہيں (2) مگر اس كا ان پر اثر نہ ہوا بوقت رحلت ابوبكر مدينہ سے باہر تھے _ چند لحظے گذرنے كے بعد وہ بھى آن پہنچے اور عمر كى داد و فرياد كى جانب توجہ كي ے بغير وہ پيغمبر اكرم (ص) كے گھر ميں داخل ہوگئے اور رسول خدا (ص) كے چہرہ مبارك سے چادر ايك طرف كركے بوسہ ديا اور مسجد ميں واپس آگئے اور يہ اعلان كيا كہ رسول اللہ (ص) رحلت فرماگئے ہيں _ اس كے بعد انہوں نے بھى اسى آيت كى تلاوت كى اس پر عمر نے كہا ايسا لگتا ہے كہ ميں نے آج تك گويا يہ آيت سنى ہى نہيں تھى (3)

 

36

غير متوقع حادثہ

جس وقت حضرت على (ع) پيغمبر اكرم (ص) كو غسل دينے ميں مشغول اور مسلمان تكميل غسل و كفن كا انتظار كر رہے تھے تاكہ نماز جنازہ ميں شركت كرسكيں خبر آئي كہ كچھ لوگ ''سقفيہ بنى ساعدہ'' ميں جمع ہيں او رخليفہ منتخب كئے جانے كے بارے ميں بحث كر رہے ہيںاور قبيلہ خزرج كے سردار سعد بن عبادہ كا نام خلافت كےلئے پيش كيا گيا ہے_

عمر اور ابوبكر نے جيسے ہى يہ خبر سنى فوراً سقيفہ كى طرف روانہ ہوئے_ راستے ميں ابوعبيدہ بن جراح كو بھى مطلع كيا اور تينوں افراد نے سقيفہ (4) كى جانب رخ كيا _

اس وقت تك معاملہ انصار كے ہاتھ ميں تھا ليكن جيسے ہى يہ تينوں مہاجر وہاں پہنچے تو تنازع شروع ہوگيا اور ہر شخص اپنى اہليت وشايستگى كى تعريف كرنے لگا _ بالآخر ابوبكر كو پانچ رائے كے ذريعے سقيفہ ميں خليفہ چن ليا گيا _

برادران اہل سنت نے اس واقعہ كو حقيقت سمجھ ليا اور خليفہ كے انتخاب كو مشاورت اور اجماع مسلمين كا نام دے كر اسے تسليم كرليا_

اس حقيقت كو آشكار كرنے كے لئے ضرورى ہے كہ مندرجہ ذيل عنوانات كا تجزيہ كياجائے تاكہ اصل واقعے كى وضاحت ہوسكے_

پيغمبر (ص) كى جانشينى كا مسئلہ شيعوں كى نظر ميں

شيعوں كا عقيدہ ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) كى جانشينى كا مسئلہ آنحضرت (ص) كے زمانہ حيات ميں ہى فرمان خدا كے ذريعے رسول (ص) نے طے اور واضح كرديا تھا اور جو كچھ سقيفہ بنى ساعدہ ميں پيش آيا وہ فرمان خدا اور حكم رسول (ص) كے خلاف محض ايك تحريك تھي_

گذشتہ فصل ميں ہم نے چند ايسى دليليں اور حديثيں بيان كى تھےں جو مذكورہ دعوے كو ثابت كرتى ہيں _ يہاں اس مسئلے كا تاريخى واقعات كى روشنى ميں جائزہ لياجائے گا_

 

37

پيغمبر اكرم (ص) كے دوش مبارك پر ايك عالمى تحريك كى قيادت تھى يہ بات بھى واضح و روشن ہے كہ اس تحريك كے پروان چڑھنے اور سياسى ، ثقافتى نيز اجتماعى سطح پر گہرى تبديلى لانے كيلئے رسول خدا (ص) كا زمانہ رسالت (بعثت سے رحلت تك) كافى نہ تھا اگرچہ اسلام كے اس عظےم رہبر و پيشوا نے اس مختصر و محدود عرصے ميں ہى انسان كى تكميل اور اسلامى معاشرے كى تشكيل كے لئے بہت عظيم واساسى اقدامات كئے ليكن اس عالمى تحريك كو آپ (ص) كے بعد بھى جارى و سارى رہناتھا_

اس بات كو مد نظر ركھتے ہوئے كہ پيغمبر اكرم (ص) كى رحلت اچانك واقع نہيں ہوئي بلكہ آپ (ص) نے اس كے وقوع پذير ہونے سے كچھ عرصہ قبل محسوس كرليا تھا كہ جلد ہى اس دنيا سے كوچ كر جائيں گے _ چنانچہ آپ نے ''حجةالوداع'' كے موقع پر كھلے لفظوں ميں اس كا اعلان بھى كرديا تھا اس كے بعد آپ كے پاس اسلام كے مستقبل سے متعلق سوچنے كے لئے وقت كافى تھا اور آپ كوئي اصولى روش وتدبير اختيار كركے ان عوامل كى پيش بندى كرسكتے تھے جن سے انقلاب خداوندى كى راہ ميں آئندہ كسى خطرے كے آنے كا امكان ہوسكتا تھا_ان حالات و واقعات كے بارے ميں غيبى عوامل كى مدداور سرچشمہ وحى سے ارتباط كو عليحدہ كركے بھى غور كياجاسكتا ہے ايسى صورت اور ان واقعات كى روشنى ميں رسول اكرم (ص) كے سامنے اسلام كے مستقبل سے متعلق تين ہى ممكن راہيں ہوسكتى تھيں:

لا تعلقي

شوري

اپنے وصى اور جانشين كے بارے ميں وصيت

اب ہم تاريخى حقائق اور ان سياسى واجتماعى حالات كو مد نظر ركھتے ہوئے جو اس وقت اسلامى معاشرہ پر حكم فرما تھے مذكورہ بالا تينوں راہوں كا اجمالى جائزہ ليں گے_

 

38

لاتعلقي

لاتعلقى سے مراد يہ ہے كہ ہم اس بات كے قائل ہوجائيں كہ رسول خد ا(ص) كو اسلام كے مستقبل سے كوئي سرو كار نہ تھا بلكہ آنحضرت (ص) نے اسے نوشتہ تقدير اور آئندہ حالات كے رحم وكرم پر چھوڑ ديا تھا_

پيغمبر اكرم (ص) جيسى شخصيت كے بارے ميں ايسى بے سرو پا باتوں كا فرض كرلينا كسى طرح بھى حقائق وواقعات كے موافق نہيں ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) كى اسلامى رسالت كا مقصد يہ تھا كہ دور جاہليت كے جتنے بھى رگ وريشے اس دور كے انسان ميں ہوسكتے تھے انہيں اس كے دل وجان كے اندر ہى خشك كردياجائے اور اس كے بجائے ايك جديد اسلامى انسان كى تعمير كى جائے _ جب بھى كوئي ہادى و راہنما نہ ہو تو معاشرہ بے سرپرست رہ جائے اور انقلاب ميں ايك ايسا خلاء پيدا ہوجائے گا جس كى وجہ سے اس كو مختلف قسم كے خطرات لاحق ہوجائيں گے _ مثال كے طور پر :

39

لوگوں كا دور جاہليت كى جانب واپس چلے جانے كا خطرہ

اس ميں كوئي شك نہيںہے كہ روح رسالت اور رسول (ص) كى تحريك كے مقاصد كو وہى شخص پايہ تكميل تك پہنچاسكتا تھا كہ جس كو رسول (ص) نے پہچنواياتھا اور امت كے كسى فرد ميں اسكى صلاحيت نہ تھى كہ وہ رسول كے بعد زمام دارى اور رسالت كے مقصد كے درميان كوئي متين تناسب قائم كرسكے اور اسلامى معاشرہ سے ان جاہلى تعصبات كو دور كرسكے جو ابھى تك معاشرہ كى رگ و پے ميں موجود تھے كہ جس نے انہيں مہاجر، انصار ، قريش و غير قريش اور مكى و مدنى وغيرہ ميں تقسيم كر ركھا تھا_

40

تھے آپ(ص) نے فرمايا كہ كاغذ و دوات لے آؤ تاكہ ميں تمہارے لئے ايسا نوشتہ لكھ دوں كہ جس سے تم ( ميرے بعد ) ہرگز گمراہ نہ ہو(5)

رسول خدا(ص) كا يہ فرمانا ہى اس بات كى واضح و روشن دليل ہے كہ آيندہ رونما ہونے والے خطرات كے بارے ميں آپ كو تشويش تھى اور ان كا سد باب كرنے كے لئے آپ(ص) كوشاں تھے _

شورى

شورى سے مراد يہ ہے كہ گويا رسول خدا(ص) نے اپنے بعد مسلمانوں كى رہبرى كو انہى كے وست اختيار ميں دے ديا تھا كہ جسكو چاہيں منتخب كر ليں _

اگرچہ اسلام نے قانون اور اصول شورى ( مشاورت ) كا احترام كيا ہے اور قرآن ميں اس كا شمار اوصاف مومنين ميں ہوتا ہے (6) ليكن اس كا تعلق ان واقعات سے ہے جو مسلم معاشرے كے درميان رونما ہوتے ہيں اور ان كى بارے ميں كوئي نص صريح موجود نہ ہو كيونكہ اسلام كے قوانين و احكام مشوروں سے طے نہيں ہوتے يہى وجہ تھى كہ وہ ذمہ دارياں ( تكاليف) جو وحى كى ذريعے معين كى گئيں تھيں ان كے بارے ميں پيغمبر اكرم(ص) نے كسى سے مشورہ نہ كيا چنانچہ مسئلہ ولايت و امامت كا شمار بھى ايسے ہى مسائل ميں ہوتاہے جو امور مشاورت كى حدود سے خارج ہيں يہى نہيں بلكہ اس كے بارے ميں رسول خدا(ص) بھى اپنى رائے كا اظہار نہيں فرما سكتے تھے _

يہى وجہ ہے كہ جس وقت قبيلہ بنى عامر كى ايك جماعت پيغمبر اكرم(ص) سے ملاقات كرنے كے لئے آئي اور اس نے يہ تجويز پيش كى كہ ہم اس شرط پر ايمان لانے كو تيار ہيں كہ آپ اپنے بعد خلافت ہمارى تحويل ميں دے ديں اگرچہ اس وقت پيغمبر اكرم(ص) انتہائي پر آشوب حالات سے دو چار تھے نيز قريش (7) كى جانب سے آپ پر سخت دباؤ بھى تھا اور آپ(ص) كوخوفزدہ كرنے كى كوشش بھى كى جا رہى تھى مگر اس كے باوجود آپ(ص) نے فرمايا يہ كام خداند تعالى كا ہے ( اور اس ميں مجھے كوئي اختيار نہيں ) وہ جسے بھى مناسب سمجھے گا اسے ہى ميرے بعد ميرا جانشين مقرر كرے گا (8) _

 

41

اس كى علاوہ اسلام كى فلاح و بہبود كى خاطر پيغمبر اكرم(ص) نظام شورى كو سودمند اقدام خيال فرماتے تو آپ يقينا اپنے زمانہ حيات كے دوران ايسے دستورات عمل كا سلسلہ مرتب فرماتے جس كے ذريعے امت مسلمہ خود كو اس اقدام كے لئے تيار كر ليتى كہ شورى كے ذريعے نظام حكومت جارى ركھ سكے كيونكہ دور جاہليت كے نظام حكومت ميں كوئي ايسا ادارہ كار فرمانہ تھا جو شورى كى ذريعے نظام حكومت چلاسكے اگرچہ رسول خدا(ص) نے كسى وقت بھى نظام شورى اور راس كے دائرہ عمل نيز مشخصات كو منفى قرار نہيں ديا اور نہ ہى مسلمانوں كو يہ ہدايت فرمائي كہ وہ اس سے گريز كريں_

اس سے قطع نظر ابو بكر نے جب عمر كو اپنا جانشين مقرر كيا تو يہ اس امر كى واضح دليل تھى كہ اس اقدام كے ذريعے نظام شورى كى نفى كى گئي اور يہ ثابت ہو گيا كہ آنحضرت(ص) نظام شورى كے حامى نہ تھے اور آپ(ص) اسے اپنا حق سمجھتے تھے كہ زمانہ حيات ميں كسى ايسے شخص كو مقرر فرما ديں جو رحلت كے بعد آپ كا جانشين ہو سكے يہى نہيں بلكہ عمر بھى خليفہ مقرر كرنا اپنا حق سمجھتے تھے اور اسے انہوں نے چھ افراد كے درميان محدود كر ديا تھا تاكہ وہ اپنے درميان ميں سے كسى ايك شخص كو خليفہ مقرر كر ليں اور ان افراد كے علاوہ انہوں نے تمام امت مسلمہ كو اس حق سے محروم كر ديا تھا_

وصى اور جانشين كا تقرر

وصايت ( عملى جانشينى ) سے ہمارى مراد يہ ہے كہ تنہا ايك يہى ايسى راہ ہے جو حقائق اور فطرت اور خلافت كى واقعيت سے عين سازگار ہے اور ہم كہہ سكتے ہيں كہ رسول خدا(ص) نے اسلام كى آيندہ فلاح و بہبود كى خاطر يہ مثبت اقدام فرمايا تھا اور خدا عالم كے حكم سے ايك شخص كو جانشين كى حيثيت سے مقرر كر ديا تھا چنانچہ صرف يہى ايك ايسا مثبت اقدام تھا جو مستقبل ميں اسلام كى خير و صلاح اور رسالت كو خطرات سے محفوظ ركھنے كا ضامن ہو سكتا تھا _ اسلام ميں سبقت ، اور دوسرے مسلمانوں كى نسبت علي(ع) كى واضح و امتيازى خصوصيات كى بناء پر كسى دوسرے شخص كو ان كے علاوہ

 

42

پيغمبر اكرم(ص) كى جانشينى كا حق حاصل نہ تھا _

رسول خدا(ص) اور حضرت على (ع) كى باہمى زندگى كے ايسے بہت سے شواہد موجود ہيں جو اس بات پر دلالت كرتے ہيں كہ آنحضرت(ص) اس حيثيت سے حضرت على (ع) كى تربيت فرمارہے تھے كہ آيندہ اسلامى معاشرے كے آپ(ع) ہى قائد و رہبر ہيں پيغمبر اكرم(ص) نے آپ(ع) كو حقائق رسالت كى بہت سے خصوصيات سے نوازا تھا حضرت على (ع) جب كبھى پيغمبر اكرم(ص) سے كوئي بات دريافت فرماتے تو آپكا سوال ختم ہونے كے بعد رسول اللہ(ص) كلام كى ابتدا فرماتے اور تہذيب و افكار كے ہدايا و تحائف كى دولت سے آپ (ع) كو معزز و مفتخر فرماتے چنانچہ روز و شب كا زيادہ وقت باہمى گفتگو اور خلوت مےں گذرتا _

اس كے علاوہ رسول اكرم(ص) نے حضرت على (ع) كى جانشينى كا مختلف مواقع پر اعلان بھى فرما ديا تھا چنانچہ اس ضمن ميں بكثرت احاديث نبوى موجود ہيں جس ميں سے حديث يوم الدرار ' حديث الثقلين ' حديث منزلت اور سب سے اہم غدير ( حضرت على (ع) كے دست مبارك پر مسلمانوں كا بيعت كرنا ) قابل ذكر اور اس دعوے كى شاہد و گواہ ہيں (9) _

مزيد بر آں رسول اكرم(ص) كى وفات كے بعد بہت سے حوادث رونما ہوئے اور آپ نے پورى زندگى جہاد و ذمہ دارى ميں گذارى جس سے يہ بات ثابت ہوتى ہے كہ آپ (ع) ہى رسول (ص) كے جانشين ہيں آپ كى لياقت كا ايك نمونہ يہ ہے كہ جن مسائل كو حل كرنا خلفاء كے لئے ناممكن تھا انھيں آپ (ص) ہى سے حل كرتے تھے ليكن اس كے برعكس ہميں خلفاء كے زمانہ ميں ايك موقعہ بھى ايسا نظر نہيں آتا كہ جس ميں امام(ع) نے كسى مشكل كے حل كيلئے يا اسلام كے نظريہ سے مزيد آگہى كے لئے كسى سے رجوع كيا ہو (10)

سقيفہ ميں رونما ہونے والے حالات

معن بن عدى اور عويم بن ساعدہ نامى دو افراد كے دلوں ميں '' سعد بن عبادہ خزرجى '' كے

 

43

خلاف كدورت تھى ان كے ذريعے عمر اور ابوبكر كو خبر ملى كہ انصار سقيفہ بنى ساعدہ ميں جمع ہو رہے ہيں چنانچہ يہ دونوں حضرات نہايت عجلت كے ساتھ اضطراب و پريشانى كے عالم ميں ابو عبيدہ كے ہمراہ سقيفہ ميں داخل ہوئے عمر گفتگو كا آغاز كر كے ابوبكر كى خلافت كيلئے ميدان ہموار كرنا چاہتے تھے ليكن ابو بكر نے منع كر ديا اور كہا كہ اگر مجھ سے كوئي فرو گذاشت ہو جائے تو تم اس كى تلافى كرو چنانچہ اس كے بعد انھوں نے تقرير شروع كى اور خداوند عالم كى وحدنيت اور رسالت رسول خدا(ص) كى شہادت كے بعد كہا كہ مہاجرين ميں ہم وہ پہلے افراد تھے جنہوں نے دين اسلام قبول كيا اور اس لحاظ سے تمام لوگ ہمارے پيروكار ہيں ہم طائفہ رسول خدا(ص) اور مركز قبائل عرب ميں سے ہيں نيز ان كے درميان نقطئہ ربط و تعلق ہيں آپ انصار بھى خدا و رسول كے ياور و مددگار ہيں پيغمبراكرم(ص) كے پشتيبان اور ہمارے سردار ہيں دين اور اس كے فائدے ميں آپ ہمارے شريك ہيں _ خداوند تعالى كى رضا ميں راضى رہے اور اس پاك پروردگار نے تم سے مہاجر بھائيوں كے لئے جو كچھ چاہا اسے قبول كرنے ميں لائق و شائستہ ترين افراد ثابت ہوئے ليكن تمہيں اس پر حسد نہيں كرنا چاہيے اسلام كى ترقى كى خاطر تم نے مشكلات ميں اپنى طاقت كے جوہر دكھائے اس بنا پر تمہارے لئے يہ زيبا نہيں كہ اپنے ہى ہاتھوں سے اس دين كى بيخ كُنى كرو_ ميں تمہيں ابو عبيدہ اور عمر كى بيعت كى دعوت ديتا ہوں ميں دونوں ہى كو قابل و اہل سمجھتا ہوں (11) ... اس موقعے پر ان دونوں نے كہا : لوگوں ميں سے كسى كو تم پر برترى حاصل نہيں ہے _ تم پيغمبر اكرم(ص) كے يار غار ہو ...

اس خطبے كے اہم نكات

ابو بكر نے جو تقرير كى اس كے بعض نكات كا ذكر كرنا يہاں ضرورى ہے _ (12)

ابوبكر نے پہلے مہاجرين كى تعريف كى تاكہ ان كى عظمت انصار كے ذہنوں پر نقش ہو جائے اس كے بعد جس حد تك ممكن تھا اُس نے انصار كى بھى تعريف و توصيف بيان كى اور خود كو منصف كى حيثيت سے ظاہر كيا جس كا نتيجہ يہ ہوا كہ انصار كو اپنى طرف متوجہ كر ليا اس تردو كے بر خلاف جو

 

44

خلافت كے سلسلہ مےں انصار كے ذہنوں ميں تھا ابوبكر نے يقين كے ساتھ كہا مہاجرين كى خلافت جو خدا كى مرضى كے مطابق ہے اور يہى خدا كا حتمى فيصلہ ہے چنانچہ ہر قسم كا تذبذب ختم ہو گيا ابوبكر نے خلافت كو مہاجرين كا مسلم حق ثابت كرنے كے بعد اس سلسلہ ميں انصار كى كسى بھى فعاليت كو خدا سے عہد شكنى اور دين كو برباد كرنے كے مترادف قرار دے ديا اپنى تقرير كے آخر ميں ابوبكر نے حاضرين كو عُمر و ابوعبيدہ كى بيعت كى دعوت دى وہ طبيعى طور پر ابوبكر كو مقدم سمجھتے تھے گويا وہ پہلے ہى خليفہ كى تعيين كے سلسلہ ميں منصوبہ بنا چكے تھے _ (13)

انصار كا ردّعمل

پروگرام كے تحت ابوبكر كى ہونے والى تقرير سن كر انصار اپنے گذشتہ موقف سے ہٹ گئے اور انہوں نے مہاجرين كے سامنے اپنے سرخم كر ديئے ان ميں '' حباب بن منذر '' ہى ايك ايسے انصار تھے جنہوں نے كھڑے ہو كر يہ دھمكى دى كہ اگر مہاجرين انصار سے مصالحت نہيں كرتے تو ہم عليحدہ مستقل حكومت قائم كر ليں گے ليكن عمر نے فورا ہى اس كى گفتگو كى كمزورى سے فائدہ اٹھاتے ہوئے كہا كہ افسوس دو تلواريں ايك ميان ميں نہےں سماسكتيں خدا كى قسم عرب اس بات پر ہرگز راضى نہےں ہوں گے كہ حكومت تمہارے حوالے كر دى جائے اس كى وجہ يہ تھے كہ پيغمبر اكرم(ص) تم ميں سے نہےں تھے _ (14) مہاجرين اور انصار كے درميان حصول اقتدار كى خاطر بہت سخت كشمكش ہونے لگى چنانچہ انصار كے دو قبيلوں اوس اور خزرج كے درميان شديد اختلاف پيدا ہو گيا قبيلہ اوس كے سردار ''اسيد بن حضير'' كا ميلان مہاجرين كى طرف تھا ، اس نے اظہار رغبت كيا انكى پيروى كرتے ہوئے '' بشير بن سعد خزرجى '' نے لوگوں كو مہاجرين كى بيعت كى جانب رغبت دلانا شروع كى بالاخر اس كشمكش كا نتيجہ يہ ہوا كہ خلافت كا فيصلہ ابوبكر كے حق ميں ہوگيا اور انھيں پانچ رائے كے ذريعے خليفہ منتخب كر ليا گيا _ (15)

اس واقعے كا اگر اجمالى طور پر جايزہ ليں تو اس نتيجے پر پہنچيں گے كہ سقيفہ ميں جو كچھ پيش آيا

 

45

اور اس ميں ابوبكر كو خليفہ منتخب كيا گيا وہ انتخاب كے اصول و ضوابط كے منافى تھا _

اس معاملے مےں فيصلہ اتنى عجلت و جلدى سے كيا گيا كہ كسى صاحب فكر شخص كو اتنا موقعہ ہى نہےں ديا گيا كہ وہ اس مسئلے كے بارے ميں غور و فكر كر سكے اور كسى مخالف كوبھى اتنى مہلت نہ ملى كہ وہ اپنے دعوے كے حق ميں دليل پيش كر سكے اس عجلت و تندى كے باعث روح انتخابات كى اچھى طرح پائمالى كى گئي كہ حتى كہ ان لوگوں سے بھى جو سقيفہ ميں موجود تھے حق رائے دہى سلب كر ليا گيا شروع سے آخر تك ذاتى ميلانات و احساسات كار فرما رہے اس كے علاوہ انتخاب اس طرح كيا گياكہ بيشتر مسلمان قطعى لاعلم و بے خبر رہے اور جنہيں اطلاع بھى ہوئي تو وہ رسول خدا(ص) كے مراسم تجہيز و تكفين ميں منہمك و مشغول تھے وہ سقيفہ والے انتخابات ميں شريك نہيں ہو سكتے تھے _

جانشين رسول خدا(ص) كے انتخاب كے لئے جس مجلس كى تشكيل كى گئي تھى اس ميں كم از كم كوئي ايسا شخص تو اپنے افراد خاندان كے ہمراہ وہاں پيش پيش رہتا جس كى قدر و منزلت پيغمبر اكرم(ص) كى نظروں ميں وہى تھى جو حضرت ہارون كى حضرت موسي(ع) كے نزديك تھى اس واقعے پر جب ہم شروع سے آخر تك نظر ڈالتے ہيں تو ديكھتے ہيں يہ سب اس طرح پيش آيا كہ قبيلہ بنى ہاشم بالخصوص اس كے سردار يعنى اميرالمومنين على (ع) ان واقعات سے قطعى بے خبر اور لاعلم ركھا گيا _

على (ع) كى بيعت كے بارے ميں تجويز

حضرت على (ع) پيغمبر اكرم(ص) كے جسد مبارك كى تجہيز و تدفين ميں منہمك و مشغول تھے كہ ابو سفيان ' جس مےں حس تدبر و سياست فہمى بہت تيز تھى ' پيغمبر اكرم(ص) كے گھر پہنچا تاكہ مسلمانوں كے درميان اختلاف پيدا كرے اور حضرت على (ع) كے سامنے يہ تجويز پيش كى كہ آپ(ع) كے دست مبارك پر بيعت كرے ليكن حضرت على (ع) اسكى نيت كو جانتے تھے لہذا اسكى باتوں كو قطعى اہميت نہ دى اور فرمايا تمہارا مقصد مسلمانوں كے درميان فتنہ پھيلانا ہے_ (16)

جس وقت ابوسفيان نے يہ تجويز پيش كى توعين اس وقت حضرت عباس نے بھى چاہا كہ اپنے

 

46

بھتيجے كے دست مبارك پر بيعت كريں ليكن حضرت على (ع) نے ان كى تجويز كو بھى منظور كرنے سے انكار كر ديا _ (17)

حضرت عباس كى تجويز كو حضرت على (ع) نے كيوں منظور نہےں فرمايا اس كا ذكر بعد مےں كيا جائے گا ، يہاں ابوسفيان كى تجويز كے بارے ميں وضاحت كر دينا ضرورى ہے كہ ابو سفيان كى كى پيشكش حسن نيت پر مبنى نہيں تھى بلكہ اس كا مقصد اختلاف و فتنہ پرپا كرنا تھا اس نے جانشينى پيغمبر(ص) كے بارے ميں مسلمانوں كى رسہ كشى اور اختلاف كو اچھى طرح محسوس كر ليا تھا وہ جانتا تھا كہ ابو بكر و عمر رسول(ص) كى جانشينى كے چكر ميں ہےں اور اسے يہ معلوم تھا كہ سياسى اور معنوى اعتبار سے بنى ہاشم ہى ان كا مقابلہ كر سكتے ہيں لہذا وہ اپنے ناپاك مقصد كے حصول كے غرض سے خدمت امام(ع) مےں آيا اور آپ كو جنگ كيلئے ابھارا _

آپ نے ابوسفيان كى گفتگو سے اس اختلاف كا اندازہ لگا ليا تھا چنانچہ آپ خود فرماتے ہيں ميں ايك طوفان ديكھ رہا ہوں كہ جس كى منھ زوريوں كو خون ہى روك سكتا ہے (18) پھر آپ اپنى رائے مےں صحيح تھے اگر بنى ہاشم اور ان كے سردار حضرت على بن ابيطالب(ع) فداكارى اور صبر سے كام نہ ليتے تو اس طوفانى اختلاف كو كشت و خون كے علاوہ كوئي چيز خاموش نہيں كر سكتى تھى _

سقيفہ كے واقعات كے بعد حضرت على (ع) كا ردعمل

سقيفہ ميں جو اجتماع ہوا تھا وہ اس طرح اختتام پذير ہوا كہ انصار و مہاجرين مےں سے چند افراد نے ابوبكر كے ہاتھ پر بيعت كر لى اس كے بعد يہ مجمع مسجد كى جانب روانہ ہوا تاكہ وہاں عام مسلمان بيعت كر سكيں عمر اس مجمع مےں پيش پيش تھے اور راہ ميں جو بھى ملتا اس سے كہتے كہ وہ ابوبكر كے ہاتھ پر بيعت كر لے _ (19)

حضرت على (ع) ابھى پيغمبر(ص) كے جسد مبارك كے تكفين و تدفين مےں مشغول و منہمك تھے كہ لوگوں كے شورو غل كى صدائيں سنائي ديں اور صحيح واقعے كا اس كے ذريعے علم ہوا خلافت كى اہليت كے

 

47

بارے ميں جب مہاجرين كى يہ حجت و دليل آپ كو بتائي گئي كہ انہوں نے اس بات پر احتجاج كيا كہ خليفہ خاندان قريش اور شجر نبوت كى شاخ ہو تو اس پر آپ (ع) نے فرمايا كہ انہوں نے تكيہ تو درخت پر ہى كيا ليكن اس كے پھل كو تباہ كر ڈالا _ (20)

حضرت على (ع) كا دوسرا رد عمل پيغمبر اكرم(ص) كے جسد مبارك كى تدفين كے بعد ظاہر ہوا _ حضرت على (ع) مسجد مےں تشريف فرما تھے اس وقت بنى ہاشم كے افراد بھى كافى تعداد ميں وہاں موجود تھے بعض وہ لوگ جو ابوبكر كے ہاتھ پر بيعت كر چكے تھے آپ كے اور افراد بنى ہاشم كے گرد جمع ہو گئے اور كہنے لگے كہ طائفہ انصار نيز ديگر افراد نے ابوبكر كے ہاتھ پر بيعت كر لى ہے آپ بھى بيعت كر ليجئے ورنہ تلوار آپ كا فيصلہ كرے گى _

حضرت على (ع) نے فرمايا كہ ميں ان سے زيادہ بيعت كے لئے اہل وقابل ہوں تم لوگ ميرے ہاتھ پر بيعت كرو تم نے رسول خدا(ص) سے قربت كے باعث خلافت انصار سے لے لى اور انہوں نے بھى يہ حق تسليم كر ليا خلافت كے لئے ميرے پاس بھى دلائل موجود ہيں مےں پيغمبر اكرم(ص) كے زمانہ حيات ميں ہى نہےں بلكہ رحلت كے وقت بھى ان كے سب سے زيادہ قريب و نزديك تھا ميں وصى ' وزير اور علم رسول(ص) كا حامل ہوں ... ميں كتاب خدا اور سنت رسول(ص) كے بارے مےں سب سے زيادہ واقف و باخبر ہوں امور كے نتائج كے بارے ميں تم سے زيادہ جانتا ہوں ، ثبات و پائداراى مےں تم سے سب سے بہتر محكم و ثابت قدم ہوں اس كے بعد اب تنازع كس بات پر ہے؟(21)

اس پر عمر نے كہا : آپ مانيں يا نہ مانيں ہم آپ كو بيعت كئے بغير جانے نہيں ديں گے حضرت على (ع) نے انھيں فيصلہ كن انداز ميں جواب ديتے ہوئے فرمايا كہ دودھ اچھى طرح دوہ لو اس مےں تمہارا بھى حصہ ہے آج خلافت كے كمر بند كو ابو بكر كيلئے مضبوط باندھ لو كل وہ تمہيں ہى لوٹا ديںگے _ (22)

اس وقت وہاں عبيدہ بھى موجود تھے انہوں نے حضرت على (ع) سے خطاب كرتے ہوئے كہا كہ اے ميرے چچا زاد بھائي رسول خدا(ص) سے آپ كى قرابت داري، اسلام ميں آپ كے سابق

 

48

الاسلام ،اور اس كے مددگار اور آپ كى علمى فضيلت سے ہميں انكار نہيں ليكن آپ ابھى جو ان ہيں اور ابوبكر آپ ہى كے قبيلے كے معمر آدمى ہيں اس بار خلافت كو اٹھانے كيلئے وہ بہتر ہيں آپ كى اگر عمر نے وفا كى تو ان كے بعد خلافت آپ كو پيش كر دى جائي گى ... لہذا آپ اس وقت فتنہ و آشوب بپانہ كيجئے يہ آپ كو بخوبى علم ہے كہ عربوں كے دلوں ميں آپ كى كتنى دشمنى ہے _ (23)

حضرت على (ع) كا تيسرا رد عمل وہ تقرير تھى جو آپ نے مہاجرين و انصار كے سامنے فرمائي اسى تقرير كے دوران آپ نے فرمايا تھا '' اے مہاجرين و انصار خدا پر نظر ركھو اور ميرے بارے ميں تم نے جو پيغمبر اكرم(ص) سے عہد و پيمان كيا تھا اسے فراموش نہ كرو حكومت محمد(ص) يہ كو ان كے گھر سے اپنے گھر مت لے جاؤ ...

تم يہ بات جانتے ہو كہ ہم اہل بيت اس معاملے مےں تم سے زيادہ حقدار ہيں _ كيا تم كسى ايسے شخص كو نہيں چاہتے جسے مفاہيم قرآن، اصول و فروع دين اور سنت پيغمبر اكرم (ص) پر عبور حاصل ہے تاكہ وہ اسلامى معاشرے كا بحسن و خوبى نظم ونسق برقرار كرسكے ... ميں خدائے واحد كو گواہ كركے كہتا ہوں كہ ايسا شخص ہم ميںموجود ہے اور تمہارے درميان نہيں، نفسانى خواہشات كى پيروى مت كرو اور حق سے دور نہ ہوجائو نيز اپنے گذشتہ اعمال كو اپنى بد اعماليوں سے فاسد و كثيف نہ ہونے دو ''_

بشير بن سعد نے انصار كى ايك جماعت كے ساتھ كہا : اے ابوالحسن اگر انصار نے آپ كى يہ تقرير ابوبكر كے ہاتھ پر بيعت كرنے سے پہلے سن لى ہوتى تو دہ آدمى بھى ايسے نہ ہوتے جو آپ كے بارے ميں اختلاف كرتے_(24)

على (ع) نے كيوں عجلت نہيں كي؟

تاريخ كے اس حصے كا مطالعہ كرنے كے بعد ممكن ہے كہ يہ سوال سامنے آئے كہ اگر حضرت على (ع) بھى دوسروں كى طرح امر خلافت ميں عجلت كرتے اور حضرت عباس و ابوسفيان كى تجويز مان ليتے

 

49

تو شايد يہ منظر سامنے نہ آيا ہوتا اس بات كى وضاحت كے لئے يہاں اس بات كا واضح كردينا ضرورى ہے كہ آپ كى خلافت كا مسئلہ دو حالتوں سے خالى نہ تھا يا تو رسول اكرم (ص) نے آپ كو خداوند تعالى كے حكم سے اس مقام كے لئے منتخب كرليا تھا ( اس پر شيعہ عقائد كے لوگوں كا اتفاق ہے) ايسى صورت ميں عوام كا بيعت كرنا يا نہ كرنا اس حقيقت كو بدل نہيں سكتا اور اگر بالفرض خلافت كے معاملے ميں امت كو اس كے فيصلے پر آزاد چھوڑديا تھا تو پھر كيوں حضرت على (ع) لوگوں كے حق انتخاب كو سلب كرتے_ وہ امت كو اس حال پر چھوڑديتے كہ وہ جسے بھى چاہيں اپنا خليفہ مقرر كريں_

اس سے بھى زيادہ اہم بات يہ ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) كا جسد مبارك ابھى زمين كے اوپر ہى تھا ، حضرت على (ع) پيغمبر (ص) كے وصى كے لئے ايسى صورت ميں يہ كيسے ممكن تھا كہ وہ جسد اطہر پيغمبر اكرم (ص) كو زمين پر ركھے رہنے ديں اور خود اپنے كام كے چكر ميں نكل جائيں_

حضرت على (ع) نے پہلے اپنا فرض ادا كيا پھر لوگوںكے سامنے تشريف لائے _ دوسرے بھى يہ بات جانتے تھے كہ اگر ايسے ميں حضرت علي(ع) تشريف لے آتے تو وہ ہرگز اپنے مقصد و ارادے ميں كامياب نہ ہوتے_ چنانچہ دوسروں نے امر خلافت كے سلسلے ميں عجلت كى اور حضرت على (ع) كو اس وقت اطلاع دى جب كام تمام ہوچكاتھا_(25)

 

50

سوالات

1_ پيغمبر اكرم (ص) كى رحلت كے بعد كيا واقعہ پيش آيا اور وہ كس طرح رفع ہوا؟

2_ زمانہ مستقبل ميں اسلام كى قيادت ورہبرى كے سلسلے ميں پيغمبر اكرم (ص) كى نظر ميں كونسى ممكن راہيں تھيں سب كى كيفيت بتايئے اور ہر ايك كا مقصد بيان كيجئے؟

3_ اگر پيغمبر اكرم (ص) كى جانب سے كوئي شخص جانشين كى حيثيت سے منتخب نہ كيا گيا ہوتا تو مستقبل ميں اسلام كے لئے كيا خطرات لاحق ہوسكتے تھے مختصر طور پر لكھيئے؟

4_ خلافت كے سلسلے ميں جس شورى كى تشكيل كى گئي تھى اسكى نفى كے لئے دو تاريخى شواہد و دلائل بيان كيجئے؟

5_ امر خلافت ميں پيغمبر اكرم (ص) نے وصايت كو پيش نظر ركھا تھا اس ميں تاريخ و احاديث كى بنياد پر دو دليل پيش كيجئے؟

6_ سقيفہ كا واقعہ كس طرح پيش آيا ، مہاجرين ميں سے وہاں كون لوگ موجود تھے وہ وہاں كس لئے پہنچے اور اس كا كيا نتيجہ برآمد ہوا؟

7_ بيعت كے سلسلے ميں حضرت على (ع) پر اپنے چچا عباس اور ابوسفيان كى تجاويز كا كيوں اثر نہ ہوا؟

8_ واقعہ سقيفہ كے بارے ميں حضرت على (ع) كا كيا رد عمل تھا؟

 

51

حوالہ جات

1_ حضرت على (ع) كى زندگى كے دوواقعات جو رسول خدا (ص) كے زمانہ حيات ميں پيش آئے وہ مختصر طور پر تاريخ عصر نبوت ميں بيان كرديئے گئے ہيں _

2_ آل عمران 144 _ وَمَا مُحَمَّدٌ إلاَّ رَسُولٌ قَد خَلَت من قَبلہ الرُّسُلُ أَفَإين مَاتَ أَو قُتلَ انقَلَبتُم عَلَى أَعقَابكُم (محمد اس كے سوا كچھ نہيں كہ بس ايك رسول ہيں ان سے پہلے اور رسول گذر چكے ہيں اگر وہ مرجائيں يا قتل كرديئے جائيں تو تم لوگ الٹے پائوں پلٹ جاؤ گے_

3_ تاريخ طبرى ج 3/200 كامل ابن اثير ج 2/ 323، شرح ابن ابى الحديد ج 1/ 128_

4_ سقيفہ كے لغوى معنى سايبان ہيں _ سقيفہ مدينہ ميں مسجد النبى (ص) سے 600 قدم كے فاصلے پر باب السلام كے راستے ميں واقع ہے _ يہ جگہ بنى ساعدہ بن كعب خزرمى سے متعلق تھى _ لوگ اس سايبان كے نيچے اپنے معاملات كا فيصلہ كرنے كے لئے جمع ہوتے تھے بعد ميں يہ جگہ سقيفہ بنى ساعدہ كے نام سے مشہور ہوگئي_ (معجم البلدان ج 3/ 228)_

5_ شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد ج 6/ 51، المراجعات / 260 _ 259 منقول از صحيح بخارى و مسلم ، تاريخ ابى الفدا ج 1/151 ائتونى بدواة وصحيفة اكتب لكم كتاباً لا تضلون بعدہ _

6_ وامرہم شورى بينہم ( سورہ شورى آيت 38)_

7_ حضرت ابوطالب (ع) و حضرت خديجہ (س) كى وفات كے بعد پيغمبر اكرم(ص) اور قبيلہ بنى عامر كے درميان سخت رنجش پيدا ہوگئي جس كے باعث قريش پہلے كى نسبت اب زيادہ آپ پر دبائو ڈالنے لگے نيز حملات كرنے كى كوشش كرنے لگے تھے_

8_ سيرة ابن ہشام ج 2 / 66 ''الامر الى اللہ يضعہ حيث يشائ''

9_ گذشتہ فصل ميں حديث ثقلين كے علاوہ ديگر احاديث كا مختصر جائزہ لياجاچكا ہے اسى وجہ سے يہاں اس كے دوبارہ نقل كرنے سے گريز كيا گيا ہے_

10 _ تاريخ اس امر كى گواہ ہے كہ خلفاء وقت نے جب كبھى ضرورت محسوس كى حضرت على (ع) سے رجوع كيا اور آپ سے درخواست كى ان كى مشكلات حل كرنے ميں انكى مدد فرمائيں _ ان واقعات كى كيفيت آيندہ ابواب ميں بيان كى جائے گا_

 

52

يہ حصہ كتاب تشيع مولود طبيعى اسلام ترجمہ التشيع والاسلام_ شہيد باقر الصدر سے ماخوذ ہے ص28_

11_ الامامة والسياسة ج 1/ 14_ 31_

12_ يہاں يہ بات بھى قابل ذكر ہے كہ ابوبكر كى تقرير كے بعد عمر نے بھى اپنے خيالات كا اظہار كيا اور كہا كہ ميں نے راستہ طے كرنے كے دوران كسى منصوبے يا لائحہ عمل كے بارے ميں غور و فكر نہيں كيا ہے سوائے اس كے جو ابوبكر نے بيان كيا ہے مجھے اس سے كلى اتفاق ہے اور جو كچھ انہوں نے اپنى زبان سے كہاہے بلكہ اس سے بھى سنے بہتر ما من شى كنت زرتہ فى الطريق الا انا بہ او باحسن منہ _ تاريخ طبرى ج 3/ 219 ، كامل ابن اثير ج 2/ 327 _

13_ طرح ہاى رسالت (ج 1 / 257 _ 255 ) كا خلاصہ_

14_ الامامة والسياسة ( ج 1/ 21_16 ) كامل ابن اثير ج 2/ 329_ 228 ) تاريخ طبرى (ج 3/ 220_ 218)_

15_ ان پانچ رائے ميں سے تين تو ابوبكر، عمر اور ابوعبيدہ كى تھيں اور انصار ميں سے دو رائے بشير ابن سعد واسيد بن حضير كى تھيں _ ان پانچ افراد كے علاوہ باقى لوگ اپنے سرداران قبائل كے تابع تھے_ چنانچہ ہر قبيلے كا سردار جو رائے ديتا اس قبيلے كے تمام افراد اس كى پيروى كرتے اور اپنى مرضى سے كوئي رائے نہ ديتے_

16_ كامل ابن اثير ج 2/ 326 _ تاريخ طبرى ج 3/ 209 ارشاد مفيد 102_

17_ تاريخ طبرى ج 4/ 230 _ شرح ابن ابى الحديد ج 1/ 192_

18_ انى لارى عجاجةلا يطفئہا الالدم_ شرح ابن ابى الحديد ج 12/ 44_ كامل ج 2/ 325 _ تاريخ طبرى ج 3/ 209_

19_ شرح ابن ابى الحديد ج 3/209_

20_ احتجوا بالشجرة واضاعوا الثمرة_ نہج البلاغہ خ 66_

21_ احتجاج طبرى ج 1/95 الامامة والسياسة ج 1 / 18_

22_ احلب حلباً ہناك شطرہ وشد لہ اليوم ليرد عليك غداً_

23_ الامامة والسياسة ج 1 / 18 شرح ابن ابى الحديد ج 6/ 12_11_ احتجاج طبرسى ج 1/ 96 _

24_ الامامة والسياسة ج 19/ 18 _ احتجاج طبرسى ج 1/ 96 _

25_ ماخوذ از كتاب ''خلافت و ولايت'' /63_

  765
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      کیا امام حسین علیھ السلام نے عاشورا کے دن جو پانی ان ...
      شیعہ اب کافر نہیں ہیں: سعودی مفتی اعظم الکلبانی
      نوروز عالم اور یوم ولادت علیؑ، آغا حسن کا ہدیہ تہنیت
      غزہ پر بربریت اور جولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کا ...
      ناجائز تحفے کا انجام؛ ٹرمپ گولان کے قضیے کے ناکام ...
      رجب المرجب کا آخری عشرہ اور فتح خیبر
      قرآن مجید میں بیان هوئے سات آسمانوں کے کیا معنی هیں؟
      صاحب بهشت رضوان هونا ملائکه کی شفاعت کے ساتھـ کیسے ...
      حضرت آدم علیه السلام کے فرزندوں نے کن سے ازدواج کیا؟
      کسی گناه کے مرتکب هوئے بغیر نوجوان کا حضر خضر کے هاتهوں ...

 
user comment