اردو
Sunday 18th of August 2019
  2405
  0
  0

حضرت امام علی علیہ السلام

حضرت امام علی علیہ السلام

تالیف : شعبہ تحقیقات مسجد مقدس جمکران

مترجم : سید بہادر علی زید ی قمی

نقوش اما م اول حضرت علی علیہ السلام

نام : علی

معروف لقب: امیر المومنین

کنیت : ابو الحسن

والد: ابو طالب

والدہ : فاطمہ بنت اسد

ولادت : تیرہ رجب بعثت سے دس سال قبل

جائے ولادت : کعبہ کے اندر

خلافت ظاہرہ کی مدت : ۳۶ /ہجری تا۴۰ / ہجری ( تقریباً چار سال نو ماہ )

مد ت امامت: ۳۰ /سال

شہادت : ۱۹ رمضان ۴۰ / ہجری قمری کو بوقت سحر ابن ملجم نے آپ کے سر اقدس پر کاری ضرب لگائی جس کی وجہ سے ۲۱ رمضان کی شب ۶۳سال کی عمر میں کوفہ میں شہادت پائی ۔

مرقد مطہر : نجف اشرف

کعبہ اما م علی کی جائے ولادت

 حضرت علی ، ۱۳ رجب ، بعثت سے دس سال قبل بروزجمعہ صبح کے وقت مکہ میں خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے اور آپ کی زندگی کے بے نظیر افتخارات و امتیازات میںسے ہے کہ آپ کی ولادت باسعادت مقدس ترین مقام یعنی کعبہ کے اندر ہوئی ہے ۔

امام علی کے والد بزرگوار کی شخصیت  

حضرت بو طالب ، امام علی کے والد بزرگوار تھے ۔

حضرت ابوطالب کی جانب سے بعثت سے قبل یا بعثت کے بعد ۴۲ سال تک مسلسل پیغمبر اکرم  کی مدد اتنی زیادہ اہمیت کی حاصل ہے کہ آپ کے وسیع وعمیق ایمان کے بارے میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں اگر ترازو کی ایک رکات میں ایمان ابو طالب اور دوسری رکاب میں تمام مخلوق کے ایمان کو رکھ دیا جائے تو ایمان ابوطالب سب پر بھاری رہے گا ۔

حضرت علی کی والدہ ماجدہ

حضرت علی کی والدہ ماجدہ فاطمہ بنت اسد سب سے پہلے اسلام کی طرف قدم بڑھا نے والوں میں سے تھیں ۔ جب حضرت ابو طالب پیغمبر اکرم  کی سرپرستی و دیکھ بھال فرمارہے تھے ، فاطمہ بنت اسد ماں کی طرح آنحضرت  پر مہرنان تھیں ۔

پیغمبر اکرم  نے بھی جب ابوطالب بنت اسدکا اتنقال ہوا تو نہایت احترام اور خصوصی آداب کا اظہار کیا اور حضرت علی سے فرمایا: اگر وہ تمہاری والدہ تھیں تو میری بھی والدہ تھیں ۔

سایہٴ پیغمبر میں حضرت علی کی تربیت

بعثت سے چند سال قبل خشک سالی کی وجہ سے پورے حجاز میں قحط پڑگیا تو حضرت علی اس کے بعد پیغمبر اکرم  کے بیت الشرف میں زندگی بسر کرنے لگے اور رات دن پیغمبر اکرم  کی خاص نگرانی و سرپرستی میں تربیت پاتے رہے ۔

امام علی کے بچپن کے چند واقعات

حضرت علی ع کا اسم مبارک رکھنے کے بارے میں روایت کی گئی ہے : ابھی حضرت علی نوراد ہی تھے کہ ایک رات حضرت ابوطالب نے حضرت علی کو ان کی والدہ سے لے کر اپنے سینہ سے لپٹا یا اور ان کی والدہ فاطمہ بنت اسد کے ہمراہ مکہ سے باہر سر زمین ابطح ( مکی ومنیٰ کے درمیان سیلا ب کا راستہ ) کی طرف چلے ، وہاں پہنچ کر حضرت ابو طالب نے خداوندعالم سے اس طرح مناجات کی : اے تاریک رات بنانے والے اے روشنی دینے والے چاند کے بنانے والے ۔ہمیں یہ بتادے کہ ہم اس بچے کا کیا نام رکھیں ؟ اسی وقت بادل کی طرح ایک چیز زمین پر اشکار ہوئی ، حضرت ابو طالب اسے حضرت علی کے ساتھ سینے سے لگاکر گھر واپس پلٹ آئے جب صبح ہوئی اور آل نے اس بادل نما چیز کو دیکھا تو ایک سبز رنگ کی لوح تھی جس پر یہ لکھا ہوا تھا خدا وند عالم نے تم دونو ں کو ایک پاک وپاکیزہ پرہیرگار منتخب شدہ اور لائق بیٹا عطا کیا ہے ۔ اس کانام خدا کے عظیم نام سے ماخوذ ہے ۔ اس کانام علی ہے جو خداوندعالم کی صفت “عالی“ سے لیا گیا ہے ۔ پس حضرت ابو طالب نے یہی ” علی “ نام رکھ دیا اور اس سبز لوح کو کعبہ کے دائیں گوشے میں آویزاں کردیا ۔

امام علی کی کشتی

  حضرت ابوطالب کو کشتی بہت پسند تھی ۔لہٰذا اپنی اور اپن چچا وٴں کی اولاد کو جمع کرکے ان سے کہتے تھے دو دو افراد کشتی لڑیں ۔ اس وقت حضرت علی بالکل نو عمر تھے آپ کی عمر مبارک اس وقت دس سال سے بھی کم تھی ۔ حضرت ابو طالب دیکھ رہے تھے کہ جس سے بھی کشتی لڑتے تو اس پر غالب آجاتے تھے یہ منظر دیکھ کر جوش وولولہ سے بول اٹھتے علی غالب ہوگئے ۔

حضرت علی کا دس سال کی عمر میں آغاز بعثت میں اعلان اسلام

جب حضرت علی کی عمر مبارک ۱۰ سال تھی تو حضرت ابوطالب نے ایک دن دیکھ کہ وہ پیغمبر کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں ۔ انھوں نے محبت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے حضرت علی سے کہا: یہ تم نے جس دین کا انتخاب کیا کیسا ہے ؟ اور تم نے اسے کیسے قبول کیا ہے ؟حضرت علی نے جواب دیا ۔ میں خدا اور رسول خدا پر ایمان لایا ہوں اور جو کچھ پیغمبر اپنے ساتھ لائے ہیں میں اس کی تصدیق کرتا ہوں اس لئے ان کے ساتھ نما پڑھ رہا ہوں اور ان کی اطاعت کررہا ہوں ۔ یہ سن کر جناب ابو طالب محمد تمہیں خیر وسعادت ہی طرف دعوت دیںگے لہٰذاان کے ساتھ ساتھ رہو اور ہر گز ان سے جدا نہ ہونا۔

حضرت علی اسلام میںپیش قدم

اس دوران حضرت علی کا اولین افتخار اسلام کے قبول کرنے میں سب پر سبقت کرنا ہے بلکہ صحیح الفاظ میںیوں کہا جائے کہ اپنے دیرینہ اسلام کا اظہار و اعلان ہے ۔کیونکہ آپ بچپن ہی سے یکتا پرست تھے ۔ اپ نے کبھی بھی بتوں کے سامنے سر نہیں جھکایا کہ آپ کا اسلام پر ایمان لانا بت پرستی سے کنارہ کشی کہلائے ۔( جب کہ پیغمبر اکرم  کے دیگر اصحاب ایسے نہ تھے )

شب ہجرت حضرت علی کی فداکاری

 حضرت علی کی زندگی کے افتخارات میں سے ایک افتخار مدینے کی جانب پیغمبر اکرم  کی ہجرت کی رات آنحضرت کے بستر مبارک پر سونا ہے ، مشرکین مکہ نے اس رات یہ طے کیا تھا کہ ہر قبیلے سے ایک شجاع ترین فرد منتخب کر کے رات کو پیغمبر اکرم  کے گھر کا محاصرہ کر لیا جائے اور ان کے بستر پر حملہ کر کے انھیں قتل کر دیا جائے ۔ اور اگر نبی ہاشم خون بہا مانگنے لگیں تو تمام قبائل مل کر اداکردیں ۔

 ۲۵ افراد نے آنحضرت کے گھر کا محاصرہ کر لیا ، جب حملہ کا وقت آیا تو سب تلوار کھیچ کر پیغمبر اکرم  کے گھر میں داخل ہوگئے اور آپ کے بستر کے پاس گئے جب چادر ہٹی کو پیغمبر کی بجائے حضرت علی وہاں موجود تھے ، انھیں دیکھ کر مشرکین حیرت زدہ ہوگئے اور کہنے لگے محمد کہاں ہیں ؟ امام علی نے جواب دیا : کیا تم انھیں میرے سپردکرکے گئے تھے جو مجھ سے پوچھ رہے ہو؟

حضرت فاطمہ سے شادی

ہجرت کے پہلے سال کے واقعات میں سے ایک واقعہ جو امیر المومنین کی زندگی کے افتخارات میں سے سب سے افضل وبرترین ہے پیغمبر اکرم  سے حضرت زہرا کی خواستکار ی ہے ۔ جسے پیغمبر اسلام  اور حضرت فاطمہ زہرا نے بخوشی قبول فرمایا اور ہجری کے دوسرے سال یہ شادی انجام پذیر ہوئی ۔

مسجد میں کھلنے والے حضرت علی کے گھر کے دروازے کے علاوہ دیگر دروازوں کا بند ہونا

ہجرت کے پہلے سال کے واقعات میںسے ایک واقعہ یہ ہے کہ مدینہ میں جب مسجد تعمیر کی گئی تو لوگوں نے مسجد کے اطراف میں اپنے گھر بنالئے اور ان میں زندگی بسر کرنے لگے ، ہر صاحب خانہ نے مسجد میں آنے جانے کے لئے ایک ایک خصوصی دروازہ بنا لیا اور ہر صاحب خانہ اسی دروازے سے مسجد میں آتا تھا ۔

خدا وند عالم کی طر ف حکم آیا کہ پیغمبر اسلام  اور حضرت علی کے گھروں کے دروازوں کے علاوہ کے دروازے بند کردیئے جائیں ۔

اس کے بعد یہ واقعہ حدیث ِ ”سد الابواب“ کے نام سے مشہور ہوگیا ۔

پیغمبر اسلام نے حضرت علی کو بھائی بنایا

ہجرت کے چند سال گذر چکے تھے اور مختلف علاقوں اور قوم قبیلوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان مدینہ میں آہستہ آہستہ پر چم اسلام کے سائے تلے جمع ہورہے تھے لہٰذا نئی حکومت اسلامی کی تشکیل ، اس کے استحکام اور مسلمانوں میں باہمی اتحاد واتفاق کو مستحکم اور استوار رکھنے کے لئے ایک مضبوط ومنسجم رابطہ قائم کرنے کی ضرورت تھی لہٰذا آنحضرت نے خدا کے حکم سے مسلمانوں میں بھائی چارہ قائم کرنے کا اقدام کیا پیغمبر اکرم  نے ۳۰۰ مہاجروانصاری کو ایک دوسرے کا بھائی بنا یا جب سب افراد کو ایک دوسرے کا بھائی بنا چکے تو حضرت علی نے اشکبار آنکھوں کے ساتھ پیغمبر اکرم  سے عرض کیا :  یا رسول اللہ آپ نے تمام اصحاب کو ایک دوسرے کا بھائی بنادیا ،مجھے کسی کا بھائی نہیں بنا یا ۔ اس موقع پر پیغمبر اکرم  نے حضرت علی سے فرمایا : اے علی تم دنیا واخرت میںمیرے بھائی ہو۔ اور جابر عبد اللہ انصاری سے روایت نقل کی گئی ہے کہ پیغمبر اکرم  نے حضرت علی سے فرمایا :” تم میرے بھائی ہو اور میں تمہارا بھائی ہوں ، جو بھی اس بات کا انکار کرے تو کہہ دو میں اللہ بندہ اور رسول خدا  کا بھائی ہوں تمہارے علاوہ جو بھی اس بات کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے “۔

 میدان جنگ میں

  رحلت پیغمبر تک حضرت علی کی زندگی میں بہت سے اہم واقعات رونما ہوئے ہیں خصوصاً میدان جنگ میں آپ فدا کاری کے لئے پیش پیش رہے ۔

پیغمبر اسلام    نے ہجر ت کے بعد مشرکوں ۲۷ جنگیں کی ہیں جنھیں غزوات کہتے ہیں اور غزوہ اس جنگ کو کہاجاتا ہے جس میں خود پیغمبر اکرم  نے شرکت فرمائی خود لشکر کی سالاری فرمارہے تھے ۔حضرت علی نے ان ۲۷ غزوات میںسے ۲۶ غزوات میں شرکت فرمائی ۔ اور صرف غزوہ تبوک میں آپ نے شرکت نہیں کی ۔کیونکہ اس وقت مدینہ میںرہنے والے منافقین سے حکومت اسلامی کو خطرہ لاحق تھا اس لئے آنحضرت  نے حضرت علی کو مدینہ ہی میں مقرر فرمایا تھا ۔

حضرت علی جنگ خندق میں

۵/ ہجری کے واقعات میں سے ایک اہم واقعہ جنگ خندق ہے ۔

پیغمبر اکرم  کے خبررساں اور اطلاعات پہنچانے والے سپاہیوں نے آنحضرت  کو یہ خبردی کہ مختلف قبائل پر مشتمل تقریبا ً دسن ہزار فوج کا لشکر اسلام اور مسلمانوں کے خاتمہ کے لئے مکہ سے ارہاہے ۔ پیغمبر  نے فوراً اپنے بزرگ اصحاب کو مشور ے کے لئے جمع کیا ۔ انہی اصحاب میںسے جناب سلمان فارسی نے یہ مشور ہ دیاکہ مدینہ میں داخل ہونے والے تمام راستوں پر خندق کھوددی جائے ۔ جناب سلما ن کے اس مشورے کو بہت پسند کیا گیا ( خندق اس عمیق و طولانی گہرائی کو کہا جاتا ہے جسے دشمن کے حملو ں سے بچنے کے لئے علاقے کے چاروں طرف کھودا جاتا ہے ) جب شہر کا محاصرہ کئے ہوئے کچھ وقت کذرگیا اور دشمن کوئی کاروائی نہ کر سکا تو دشمن کا ایک سپاہی جس کا نام عمر بن عبدود تھا ، خندق عبور کرنے میں کامیاب ہو گیا اور فوج اسلام کے روبرو آکر کھڑ اہوگیا عمر بن عبد ود عرب بہت مشہور نامی گرامی پہلوان تھا جو ہزار ہزار آدمیوں سے تنہا جنگ کرلیتا تھا اور مد مقابل کو للکار للکار کر حملہ کرتا تھا ۔

حضرت علی ،پیغمبر اکرم  سے اجازت حاصل کرنے کے بعد میدان کار زار میں پہنچے ! جب حضرت علی عمر بن عبد ود کے سامنے آئے تو دونوں میں شدید جنگ ہوئی کہ زمین سے اٹھنے والے غبار میں دونوں چھپ گئے ۔

جابر عبد اللہ انصاری کہتے ہیں : ناگہاں میںنے حضرت علی کی تکبیر کی آواز سنی تو میں سمجھ گیا کہ انھوں نے عمر کو قتل کر دیا ۔

حضرت علی کے یاتھوں اس پہلوان کے قتل کے ذریعہ سپاہ اسلام کو دشمن کے مقابلے میں کامیابی نصیب ہوئی۔ پیغمبر اکرم    نے اس موقع پر فرمایا خند ق کے دن دشمن پر علی کی ایک ضربت جن وانس کی عبادتوں سے افضل ہے ۔

حدیث خاصف النعل

صلح حدیبیہ کے بعد سہیل ابن عمر مشرکین کے دوتین نمایندوں کے ساتھ صلح نامہ میں ایک شرط بڑھانے کی پیشکش لے کر آنحضرت کی خدمت میں آئے اور وہ شرط یہ تھی کہ ہمارے پست وخائن افراد ہمارا دین وآئین سے نکل کر آپ کے پاس آگئے ہیں لہٰذا انھیں ہمارے حوالے کر دیا جائے ۔

پیغمبر اکرم  یہ بات سن کر سخت ناراض ہوئے اور ان سے فرمایا: اے قریش والو! اپنی اس بات سے باز آتے ہو یا میں تمہاری گردنیں آرانے کے لئے اسے تمہاری طرف بھیج دوں خدا نے جس کے قلب وایمان کاامتحان لے رکھا ہے ۔

وہاں موجود لوگوں نے آنحضرت  سے پوچھا : وہ شخص کون ہے ؟

پیغمبر اکرم  نے فرمایا : وہ اس وقت میری جوبی میں سلائی کررہا ہے ،

حضرت علی فرماتے ہیں : میں اس وقت ایک گوشہ میں بیٹھا رسول خدا کی جوتی سی رہاتھا ۔پھر پیغمبر اکرم  نے فرمایا :” مَنْ کَذَّبَ عَلِیا ً متعمداً فَلْیَتَبَّوءَ مَقعَدُہ فی النّار“” جس نے جان بوجھ کر علی کو جھٹلا یا تو اس کا ٹھا نہ جہنم ہے “۔

غدیر خم میںامام علی کی ولایت کا اعلان

 سن ۱۰/ ہجری کو ذی الحجہ کے مہینہ میں پیغمبر اکرم  اپنے اصحاب کے ہمراہ مراسم حج تمام کرنے کے بعد جب مدینہ کی طرف رواں دواں ہوئے تو غدیر خم کے چلتے ہوئے لق ودق صحرا میں پہنچے ۔

اس آنحضرت  کے ہمراہ حاجیوں کی تعدا د ۹۰ ہزار سے ایک لاکھ چوبیس ہزار تک بیان کی گئی ہے ۔

اس مقام پر پیغمبر اکرم  کے پاس فرشتہ وحی نازل ہوا اور اس نے سورہ مائدہ کی ۶۷ ویں آیت کی تلاوت کی < یَااٴَیُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا اٴُنزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ>”اے پیغمبر !پروردگار کی جانب سے جو آپ کو حکم دیا جا چکا ہے اسے لوگوں تک پہنچادیجئے اگر آپ نے یہ کام انجام نہ دیا تو تو گویا رسالت کا کوئی کام ہی انجام نہ دیا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا“۔

نماز ظہر کے پیغمبر اکرم  کے حکم سے اونٹوں کے کجاووٴں کا منبر تیار کیا گیا پھر آنحضرت  منبر پر تشریف لائے اور ایک عظیم خطبہ دیا پھر فرمایا : مسلمانوں کی جانوں پر سب سے زیادہ کس کا حق ہے ؟

سب سے ایک زبان ہوکر کہا : خد ا اور اس کا رسول  بہتر جانتا ہے ۔

آنحضرت  نے فرمایا: خدا میرا مولی اور رہبر ہے اور میں مومنین کا مولیٰ اور رہبر ہوں اور مسلمانو ں پر خود ان سے زیادہ میرا حق ہے پھر آپ نے حضرت علی کا ہاتھ پکڑکر بلند کیا اور اتنا بلند کیا کہ سب لوگ انھیں اچھی طرح پہنچان لیں پھر فرمایا: ” من کنت مولاہُ فھذا علیٌ مولاہ “ میں جس جس کا مولیٰ اور رہبر ہوں یہ علی بھی اس کے مولا اور رہبر ہیں ۔

حضرت علی کے بارے میں پیغمبر کی آخری وصیت

پیغمبر اکرم  شدید مریض ہوگئے پھر جب طبیعت کچھ بہتر ہوئی تو آپ نے اپنے گرد جمع لوگوں سے فرمایا: ذرا میرے بھائی وہمدم کو بلا لاوٴ پیغمبر اکرم  کی نیک دل زوجہ جناب ام سلمہ نے کہا : علی کو بلا لاوٴ کیونکہ پیغمبر اکرم  صرف علی ہی بلانا چاہتے ہیں ۔

حضرت علی کو بلایا گیا تو آپ تشریف لے آئے آنحضرت  مولاعلی کو دیکھ کر قریب آنے کا اشارہ کیا جب مولارقریب آئے تو آنحضرت  نے مولاعلی کو سینہ سے لگالیا اور بہت دیر تک گفتگو کرتے رہے جب گفتگو ختم ہوگئی تو حاضرین نے حضرت علی سے پوچھا : پیغمبر  نے آپ سے کیا کہا ہے ؟ آپ نے فرمایا : پیغمبر اکرم  نے مجھے علم کے ہزار باب تعلیم کئے ہیں ۔

شہادت حضرت علی

حضرت علی معمول کے مطابق گھر سے مسجد کے لئے  علی الصادق نکلے ،مسجدمیں داخل ہوئے اور محراب میں پہنچ کر صبح کی نافلہ نما ز میں مشغول ہوگئے ابھی آل رکعت اول کے سجد ے سے سر اٹھا نا ہی چاہتے تھے کہ ابن ملجم تاریکی سے فائدہ اٹھا تے ہوئے محراب کے قریب آگیا اور حضرت علی کے سر مبارک پر اتنی زور سے تلوار ماری کہ پیشانی تک اپ کا سر مبارک کٹ گیا ۔

اس موقع پر حضرت علی نے فرمایا: ”بسم اللہ وباللہ وعلیٰ ملة رسول اللہ فزت ورب الکعبہ“ شروع کرنا ہوں اور اللہ کے نام سے ، اللہ کے لئے اور دین رسول خدا پر قائم رہتے ہوئے رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا پھر آپ نے محراب سے خاک اٹھا کر اپنے زخم پر چھڑکی اور اس آیت کی تلاوت فرمائی <منھا خلقنکم وفیھا نعیدکم نخرجکم تارة اخری ٰ > ”ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ہے ، اسی میں لوٹا دیں گے اور پھر دوبارہ مٹی سے واپس پلٹائیں گے اس طرح امام خون میں غرق ہوگئے ،اصحاب وانصار نے سہار ا دیکر گھر تک پہنچا یا اور مولاکو اہستہ سے بستر پر لٹادیا گیا ۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ مولانے اتنے بڑے بڑے کارنامے انجام دیئے لیکن کبھی آپ نے یہ نہیں فرمایا :” فزت ورب الکعبہ “ لیکن جب ندائے خوشنودی خدا اور عاقبت بخیر سنائی دی تو آپ نے فوراً فرمایا: ” رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا آپ شدید درد کے باوجود آہ و فریاد تک نہیں کی بلکہ یہی فرمایا : کعبہ کے رب قسم میں کامیاب ہوگیا ۔

درود ہو اس قوم وملت پر جس کا اتنا عظیم رہبر ورہنما ہو ۔

 منابع

بحار الانوار  علامہ مجلسی

سیرہٴ چہاردہ معصومین  مہدی پیشوائی

تاریخ امیرا لمومنین  عباس صفائی حائری

 

بچوں کے لئے انمول تحفہ

مجموعہ ٴ زندگانی چہاردہ معصومین( علیہم السلام )

  2405
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      امام کاظم علیہ السلام کی مجاہدانہ زندگی کے واقعات کا ...
      امام جواد علیہ السلام اور شیعت کی موجودہ شناخت اور ...
      حدیث "قلم و قرطاس" میں جو آنحضرت{ص} نے فرمایا هے: ...
      حضرت علی (ع ) خلفاء کے ساتھ کیوں تعاون فر ماتے تھے ؟
      شیعه فاطمه کے علاوه پیغمبر کی بیٹیوں سے اس قدر نفرت ...
      کیا عباس بن عبدالمطلب اور ان کے فرزند شیعوں کے عقیده کے ...
      امام محمد باقر علیہ السلام کی حیات طیبہ کے دلنشین گوشے ...
      اگر کسی دن کو یوم مادر کہا جا سکتا ہے تو وہ شہزادی کونین ...
      قرآن مجید کی مثال پیش کرنے کا دعوی کرنے والوں کی حکمیت ...
      فاطمہ، ماں کی خالی جگہ

 
user comment