اردو
Saturday 23rd of March 2019
  754
  0
  0

عالم اسلام ميں ابويوسف يعقوب بن اسحاق كندى (260 ، 185 ق ) سب سے پہلے فلسفى مسلمان شمار ہوتے ہيں وہ پہلے فرد تھے كہ جنہوں نے سائنس و فلسفہ ميں مطالعہ او رتحقيق شروع كى ، اسى ليے انہيں ''فيلسوف العرب'' كا نام ديا گيا ، دوسرى اور تيسرى صدى ہجر

66

6_ فلسفہ:

عالم اسلام ميں ابويوسف يعقوب بن اسحاق كندى (260 ، 185 ق ) سب سے پہلے فلسفى مسلمان شمار ہوتے ہيں وہ پہلے فرد تھے كہ جنہوں نے سائنس و فلسفہ ميں مطالعہ او رتحقيق شروع كى ، اسى ليے انہيں ''فيلسوف العرب'' كا نام ديا گيا ، دوسرى اور تيسرى صدى ہجرى ميں كوفہ علوم عقلى كى تعليم و تحقيق كا مركز تھا كندى نے ايسى فضا ميں علم فلسفہ پڑھا، يونانى اور سريانى زبان سيكھى اور بہت سى اہم كتابوں كا عربى ميں ترجمہ كيا _ كندى كى كتابيں كہ جنكى تعداد 270 تك شمار كى گئي ہے سات اقسام ميں تقسيم ہوتى ہيں جن ميں سے فلسفہ ، منطق ، رياضى ، فلكيات ، موسيقى ، نجوم اور ہندسہ ہيں كندى پہلا شخص تھا كہ جن نے دين اور فلسفہ ميں مصالحت پيدا كى اور فارابى ، ابوعلى سينا اور ابن رشد كيلئے راستہ ہموار كيا انہوں نے ايك طرف سے اپنے پہلے نظريہ كے مطابق منطقيوں كى روش كو طے كيا اور دين كو فلسفہ كى حد تك تنزل ديا اور دوسرے نظريہ ميں دين كو ايك الہى علم جانتے ہوئے فلسفہ كى حد سے بڑھا ديا گويا كہ يہ علم پيغمبرانہ طاقت سے ہى پہچانا جا سكتا تھا،اسطرح دين كى فلسفى تفسير كرتے ہوئے دين كى فلسفہ سے صلح كروائي(1)

عالم اسلام ميں قرون اولى كے دوسرے عظيم فلسفى محمد بن ذكريا رازى ہيں كہ ابن نديم كى تاليف كے مطابق وہ فلسفہ اور سائنس كو اچھى طرح جانتے تھے انكى تاليفات 47 تك شمار كى گئي ہيں كہ آج كم از كم انكے چھ فلسفى مقالے باقى رہ گئے ہيں جناب رازى اگرچہ فلسفہ ميں مرتب نظام نہيں ركھتے تھے ليكن اپنے دور كى صورت حال كو ديكھتے ہوئے عالم بشريت كى نظرياتى تاريخ ميں ايك مضبوط ترين اسلامى دانشور اور مفكر جانے گئے، وہ عقل كى اصالت كے قائل تھے ، او ر عقلى قوت پر بے پناہ اعتماد ركھتے تھے اور اللہ تعالى كى طرف حركت ميں ايمان ركھتے تھے ، ليكن اصالت عقل كا شدت سے پرچار كرنے ، نظر و قياس كے پيروكاروں اور تجميع دين و فلسفہ كے معتقدين پر شديد حملے كرنے كے سبب ،بعض ايرانى فلسفى اصول اور اارسطو سے پہلے والے فلاسفہ


1) ذبيح اللہ صفا، تاريخ علوم عقلى در تمدن اسلامى تا اواسط سدہ پنجم ج 1 ، ص 5،162_

 

67

بالخصوص ذيمقراطيس كے نظريات پر توجہ كرنے كے باعث اور بعض خاص عقايد كى بناء پر علماء اسلام كا ايك بہت بڑا گروہ انكا شديد مخالف ہوا بعض نے انہيں صرف ايك طبى شخص جانا اور انہيں فلسفى ابحاث ميں داخل ہونے كا حق نہ ديا بہت سے اسلامى محققين اور دانشوروں نے انہيں ملحد ، نادان ، غافل اور جاہل جيسے خطاب ديے اور بہت سے ديگر اسلامى مفكرين مثلا ابونصر فارابى ، ابن حزم اندلسى ، ابن رضوان ، ناصر خسرو اور فخرالدين رازى نے انكى كتابوں پر تنقيد لكھي(1)

رازى كے بعد افلاطون اور ارسطو كے فلسفہ كى تائيد اور ان دونوںكى آراء كو آپس ميں قريب لانے ، جديد افلاطونى حضرات كى پيروى كرنے اور حكمت كے قواعد كو اسلام ميں مطابقت دينے ميں عظيم مقام ركھنے والے جناب ابونصر فارابى ہيں كہ جنہيں ''معلم ثانى '' كا لقب صحيح طور پر ملا(2)

فارابى كا فلسفہ پچھلى تحقيقات سے مختلف تھا اس ليے كہ انہوں نے گذشتہ فلاسفہ كى آراء كے مطالعہ كرتے ہوئے انہيں انكے اس خاص كلچر پرمبنى ماحول ( جسميں وہ زندگى گزار رہے تھے ) كے تناظر ميں ديكھا ہے ،انكا يہ ايمان تھا كہ فلسفہ بنيادى طور پر ايك مفہوم واحد ہے كہ جسكا مقصد حقيقت كى جستجو ہے اسى ليے انكى نظر ميں فلسفى حقيقت اور دينى حقيقت آپس ميں ہماہنگى اور مطابقت ركھتى ہيں لہذا ان دونوں كى تركيب سے ايك نئے فلسفہ كو وجود ميں لايا جائے_

اس دور كے ديگرعظيم فلسفى جناب ابن مسكويہ ہيں كہ حداقل ان سے اس موضوع ميں چودہ رسالے باقى رہ گئے ہيں ، ابن مسكويہ نے اپنے ايك اہم ترين رسالہ بنام '' الفوز الاصغر'' ميں انسان كى خلقت كے حوالے سے اپنا ايك جديد نظريہ پيش كيا اس نظريہ ميں انہوں نے يہ ثابت كرنے كى كوشش كى كہ يہ خلقت عدم سے حقيقت ميں آئي ہے اور صورتيں بتدريج تبديل ہوجاتى ہيں ليكن مادہ اصلى شكل ميں باقى رہتا ہے پہلى صورت


1) محمد بن زكريا رازى ، سيرت فلسفى ترجمہ عباس اقبال_

2)ابن خلكان ، وفيات الاعيان ، قاہرہ ، 1275 ،ج 2، ص114_112_

 

68

مكمل طور پر ختم ہوجاتى ہے جبكہ بعد والى صورتيں عدم سے وجود ميں تبديل ہوتى رہتى ہيں لہذا تمام مخلوقات عدم سے تخليق ہوئي ہيں انسان كے حوالے سے انكا عقيدہ ہے كہ انسان كى خلقت اور كمال تك پہچنے كا سفر چار مراحل '' جمادى ، نباتى ، حيوانى اور انسانى '' پر مشتمل ہے اور انسان ميں روح كے نام كى ايك چيز ہے كہ جو حاضر ، غائب ، محسوس اور معقول امور كودرك كرتى ہے نيز پيچيدہ مادى امور كو بھى درك كر سكتى ہے_(1)

اسى دور ميں بو على سينا بھى ايك عظيم ترين فلسفى كے عنوان سے موجود ہيں كہ جو ايك اہم شخصيت ہونے كے ساتھ ساتھ محكم اور درخشندہ فلسفى نظام كے بھى حامل ہيں انكى اہم اور برجستہ خصوصيت كہ جس كى بناء پر نہ صرف عالم اسلام بلكہ اہل مغرب كے قرون وسطى ميں يگانہ شخصيت بن كر ابھرے يہ تھى كہ فلسفہ كے بعض بنيادى مفاہيم كى دليل كے ساتھ خاص ايسى تعريف پيش كى جو صرف انكى ذات كے ساتھ خاص تھي، بو على سينا نے شناخت ، نبوت ، خدا ، جہان ، انسان اور حيات ، نفس كا بدن سے رابط اور انكى مانند ہر ايك نظريات كے حوالے سے تفصيلى اور جداگانہ معلومات فراہم كيں_

انكے يہ نظريات قرون وسطى كے ادوار ميں شدت كے ساتھ مشرق اور مغرب ميں چھاگئے اور يورپ كے اہم سكولوں اور يونيورسيٹوں ميں پڑھائے جانے لگے انہوںنے ايك لحاظ سے دو دنياؤں يعنى عقلى اور دينى پر كہ جو يونان كے فلسفہ اور مذہب اسلام كو تشكيل ديتے تھے پر تكيہ كيا، عقلى لحاظ سے انہوں نے وحى كى ضرورت اور لازمى ہونے كو دليل سے ثابت كيا كہ عقلى اور روحى بصيرت ايك بلندترين عنايت ہے كہ جو پيغمبر (ص) كو عطا ہوئي ہے اور پيغمبر (ص) كى روح اسقدر قوى اور قدرت كى مالك ہوتى ہے كہ عقلى مفاہيم كو زندہ اور متحرك صورتوں ميں لے آتى ہے جسے ايمان كے طور پرلوگوں كے سامنے پيش كيا جاتا ہے_

چوتھى صدى ہجرى كے دوران ايك مخفى گروپ نے فلسفى ، دينى اور اجتماعى اہداف كے پيش نظر '' اخوان الصفا'' تنظيم تشكيل دى ، اس گروہ كے بڑے اور معروف لوگوں ميں '' زيد بن رفاعہ، ابوالعلاء معري، ابن


1) دائرة المعارف بزرگ اسلامى ج 6 ، ذيل ابو على مسكويہ_

 

69

راوندى اور ابو حيّان توحيدى كا نام ليا جاسكتا ہے '' اخوان الصفا'' ايسے اہل فكر حضرات كا گروہ تھا كہ جو افلاطون ،فيثاغورث اسكے پيروكار وںتصوف كے معتقدين ، مشائي فلسفيوں كے عرفانى افكار اور شيعہ اصولوں پر عقيدہ ركھتے تھے ، يہ گروہ چار دستوں مبتدي، صالح دانا بھائي ، فاضل كريم بھائي اور حكماء ميں تقسيم تھے كوئي بھى ممبران مراحل كو طے كر سكتا تھا انكى محفليں اور ليكچرز مكمل طور پر مخفى تھے اورانكے رسالے مصنف كے نام كے بغير بلكہ ''اخوان الصفا'' كے كلى نام كے ساتھ شائع ہوتے تھے _

اخوان الصفا نے مجموعى طور پر 51 رسالے لكھے، انكى نگاہ ميں الہى علوم پانچ مندرجہ ذيل اقسام ميں تقسيم ہوتے ہيں (1) اللہ تعالى كى معرفت اور اسكى صفات (2)علم روحانيت (3) علم نفسانيات (4)علم معاد يا قيامت شناسي(5)علم سياسيات اور يہ (سياسيات كا علم )بذات خود پانچ دستوں سياست نبوى ، سياست ملوكى ، سياست عامہ ، سياست خاصہ اور سياست ذات ميں تقسيم ہوتا ہے(1)

اس دور كے بعد ہم اسى طرح متعدد فلاسفہ كے عالم اسلام ميں ظہور اور ارتقاء كا مشاہدہ كرتے ہيں كہ جن ميں سے ہر ايك نے اپنا خاص نظريہ دنيا ميں پيش كيا يہاں ہم بعض شہرہ آفاق افراد كا اختصار سے تعارف كرواتے ہيں:

ابوحامد محمد غزالى طوسى كہ جنكى اہم ترين كتاب '' احياء علوم الدين '' كو جو عربى زبان ميں لكھى گئي ہے اور اسميں فلاسفہ كى ديگر آراء كے مقابل دينى عقائد كا دفاع كيا گيا ہے يہ كتاب چار اقسام عبادات ، عادات ،مھلكات( ہلاك كرنے والى اشياء )اور منجيات (نجات دينے والى اشيائ) ميں تقسيم ہوئي ہے_

عمر خيام ان لوگوں ميں سے تھے كہ جو يونانى علوم كى تحصيل ميں بہت سر گرم تھے خيام كے افكار '' اخوان الصفائ'' كے نظريات كے قريب اور انكا طرز بيان بھى انہى كى مانند ہے خيام ايسے خدا كے وجود پر عقيدہ ركھتے تھے كہ جو مطلق خير ہے اور اس سے عقاب اور عذاب صادر نہيں ہوتا_


1) دائرة المعارف بزرگ اسلامى ، ج 7 ، ذيل '' اخوان الصفا'' _

 

70

اسى طرح ابن باجہ ، ابن ميمون قرطبى ، ابن طفيل اور ابن رشد مكتب ہسپانيہ ( اندلس )سے تعلق ركھنے والے بڑے فلاسفہ ميں سے ہيں(1)

جس دور ميں ہسپانيہ ميں يہ فلاسفہ پيدا ہوئے اور ترقى كر رہے تھے اسى دور ميں ايران ميں بھى بہت سے افراد كے عروج كا مشاہدہ كرتے ہيں كہ ان ميں سے ايك شہاب الدين سہروردى ہيں كہ جو شيخ اشراق كے نام سے مشہور ہوئے انہوں نے فارسى اور عربى ميں مختلف كتابيں تصنيف كيں سہروردى كى اہم ترين تاليفات ميں سے حكمة الاشراق ، التلويحات اور ہياكل النور عربى زبان ميں جبكہ پر تو نامہ اور عقل سرخ فارسى زبان ميں ہيں_

انكے علاوہ فخر الدين رازى كہ جو تقريبا سہروردى كے معاصر تھے انكا نام بھى ليناچاہيے،فخرالدين رازى ان فلاسفہ كے گروہ ميں سے ہيں كہ جو آسان نويسى ميں بہت ماہر تھے انہيں حكمت اور كلام ميںبہت مہارت حاصل تھى اسے انہوں نے اپنے شاعرانہ ذوق سے ملا ديا انكا دليل دينے كا انداز بھى مضبوط اور روان تھا_

اس باب ميں وہ جو بطور فلسفى ، دانشور ، سياست دان اور مفكر كے بہت زيادہ توجہ كے مستحق ہيں وہ جناب خواجہ نصير الدين طوسى ہيں كہ جو ايران كى انتہائي سخت سياسى اور اجتماعى صورت حال ميں يعنى جب منگولوں نے حملہ كيا ظہور پذير ہوئے ، جناب طوسى مكمل طور پر فلسفہ ميںبو على سينا كے پيروكار تھے ليكن اپنى خاص نظر و آراء بھى ركھتے تھے_(2)

طوسى كے بعد اہم ترين فلسفى ميرداماد استر آبادى ہيں كہ جو تقريباً صفوى دور ميں تھے انكى مشہور تصنيفات ميں سے ايك '' القبسات '' ہے كہ جس ميں انہوں جہان كے حدوث اور قديمى ہونے كے حوالے سے بحث كى اور اسكے ضمن ميں انہوں نے معقولات مجرد كے جہان كو حادث دہرى ( زمانى ) گردا نا ہے_


1) دائرة المعارف بزرگ اسلامى ، ج 3 ذيل ابن رشد_

2) محمد تقى مدرس رضوى ، احوال و آثار خواجہ نصير الدين طوسى ، 71_40

 

71

اس دور ميں دوسرے مشہور فلسفى ميرفندرسكى ہيں انكى ظاہرى بود و باش سادہ اور درويشوں كے ہم محفل تھے ميرفندرسكى كے افكار و نظريات بو على سينا اور فلسفہ مشاء كے كلمات اور آراء كى حدود كے اندر ہيںميرفندرسكى نے ان تمام موارد ميں كہ جہاں فلسفہ مشاء اور سہروردى كے حاميوں ميں اختلاف نظر تھا وہاں فلسفہ مشاء كا دفاع كيا ، ميرفندرسكى گذشتہ ادوار كے تمام اسلامى فلاسفہ ميں تنہا وہ شخصيت ہيں كہ جو زبان سنسكريت كو جانتے تھے اسى ليے انہوں نے ہند كے فلاسفہ كى ايك اہم ترين فلسفى او ر نظرياتى كتاب يعنى '' مہا بہارات'' كى شرح لكھي_

گيارھويں صدى ہجرى ميں ميرفندرسكى كے فورا بعد ملا صدراى شيرازى كہ جو صدر المتا لہين كے نام سے معروف ہوئے پيدا ہوئے وہ اس صدى كے بالخصوص اشراق كے حوالے سے سب سے بڑے فلسفى ہيں ملا صدرا نے اپنى تعليم كے آغاز سے نظريات كے پختہ ہونے كے زمانہ تك تين :مراحل شاگردى كادور، عبادت اور گوشہ نشينى كا زمانہ اور تاليف اور افكار و آراء بيان كرنے كا دورانيہ گزارے ، ملا صدرا كى اہم ترين فلسفى تاليفات ميں سے الاسفار الاربعہ اور المبداء و المعاد ہيں_

عالم اسلام ميں فلسفہ كے تجزيہ و تحليل كے حوالے سے ايك اہم ترين پہلو اس علم كا مختلف زمانوں ميں تحرك، زندگى او ر بقا ہے، جيسا كہ ملاحظہ ہوا كہ صدرا اسلام بالخصوص كندى كے زمانہ زندگى سے ملاصدرا كے دور تك اسلامى فكرى تحرّك عروج كے مدارج طے كرتا رہا اور كبھى بھى كوئي دور ايك بڑے فلسفى سے خالى نہ تھا يہ ارتقاء ملاصدرا كے بعد بھى جارى رہا ملاصدرا نے اپنى آراء ايك عظيم اور مكمل فلسفى تحريك '' مكتب فلسفى تہران '' كى صورت ميں يادگار كے طور پر چھوڑيں انكے بعد يہ مكتب زنديہ خاندان كے دور اور قاجار حكومت كے دور ميں جارى رہا اور اس مكتب نے بڑى تعداد ميں عظيم فلاسفہ يادگار كے طور پر چھوڑے مكتب فلسفى تہران اب بھى جارى ہے_(1)


1) اكبر دانا سرشت ، سہروردى و ملا صدرا_

 

  754
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      امام جواد علیہ السلام اور شیعت کی موجودہ شناخت اور ...
      حدیث "قلم و قرطاس" میں جو آنحضرت{ص} نے فرمایا هے: ...
      حضرت علی (ع ) خلفاء کے ساتھ کیوں تعاون فر ماتے تھے ؟
      شیعه فاطمه کے علاوه پیغمبر کی بیٹیوں سے اس قدر نفرت ...
      کیا عباس بن عبدالمطلب اور ان کے فرزند شیعوں کے عقیده کے ...
      امام محمد باقر علیہ السلام کی حیات طیبہ کے دلنشین گوشے ...
      اگر کسی دن کو یوم مادر کہا جا سکتا ہے تو وہ شہزادی کونین ...
      قرآن مجید کی مثال پیش کرنے کا دعوی کرنے والوں کی حکمیت ...
      فاطمہ، ماں کی خالی جگہ
      تیرہ جمادی الاول؛ شہزادی کونین کے یوم شہادت پر ایران ...

 
user comment