اردو
Thursday 27th of June 2019
  1719
  0
  0

فزكس اور ميكانيات

56

3_ فزكس اور ميكانيات:

ميكانيات كا علم مسلمانوں كے ہاں '' علم الحيل'' كہلاتا تھا '' علم حيل'' قديم علماء كے نزديك آلات كا علم ہے اور ان تمام آلات كا تعارف كرواتا ہے جو كہ جو مختلف كام انجام ديتے ہيںاگر چہ بعض نظريات جو كہ علم الحيل سے متعلقہ كتب ميں ملتے ہيں ان كى جڑيں مشرق بعيد (چين جاپان و غيرہ ) اور ايران كے خطے ميں پائي جاتى ہيں_

يہ بات قطعى طور پر كہى جاسكتى ہے كہ اسلامى انجي نرنگ مشرق وسطي( عرب ممالك ، ايران، و افغانستان ...) اور بحيرہ روم كے خطے كے نقش قدم پر رواں دواں تھى ، مصرى اور روميوں نے ميكانيات ميں بہت ترقى كى تھى ليكن اس حوالے سے يونانى لوگوں كا كردار سب سے زيادہ تھا ، بغداد ميں بنى عباس كے بڑے خلفاء كے دور ميں بہت سى يونانى اور كچھ سريانى كتب كا عربى ميں ترجمہ ہوا تھاكہ جن ميں فيلون بيزانسى (بوزنطى ) كى كتاب پيونميٹك، ہرون اسكندرانى كى كتاب مكينكس اور پانى والى گھڑيوں كے بارے ميں ارشميدس كے رسالے كا نام ليا جاسكتا ہے _

مسلمان انجينئروں كى استعداد و لياقت كا تجزيہ كرنا سادہ كام نہيں ہے، مسطحہ ہندسہ plane geometry ميںآلات كو بنانے اور انكى تنصيب كے ليے ، حساب اور پيمائشے ميں مہارت ضرورى تھي، اگر چہ آلات كو جوڑنے اور انكى تنصيب كے ليے كوئي منظم معيار موجود نہيں تھا، مگر اسكے باوجود مسلمان انجينرز كا جديد آلات ( جيسے خودكار مجسمہ اور مكينكل فوارہ) كو بنانے ميں كاميابى كى وجہ يہ تھى كہ وہ ان آلات كو بنانے كے ليے statics كے علم سے استفادہ كرتے تھے اور اسى وجہ سے مطلوبہ پارٹس كو كاٹ بھى سكتے تھے اور انكى ڈھلائي كے بعد انكى تنصيب بھى كرليتے تھے(1)

عالم اسلام كے سب سے پہلے انجنيرحضرات تين بھائي بنام احمد، محمد اور حسن كہ جو موسى بن شاكر كے


1) ڈونالڈر ہيل، ملينك انجيڑنگ مسلمانوں كے درميان ص 5،4_

 

57

بيٹے تھے اور بنو موسى كے عنوان سے مشہور تھے ،بنو موسى كى كتاب الحيل سب سے پہلى تدوين شدہ كتاب تھى كہ جو عالم اسلام ميں مكينك كے حوالے سے جانى پہچانى تھى ، اس كتاب ميں سوكے قريب مشينوں كى تفصيل بيان ہوئي ہے كہ جن ميں سے اكثر خودكار سيسٹم اور سيال مكينكى خواص كے ساتھ كام كرتى تھيں، ان مشينوں ميں مختلف انواع كے خودكار فوارے ، پانى والى گھڑياں ، مختلف انواع كے پانى كو اوپرلانے وا لے وسائل، كنويں كے رہٹ اور خودكار لوٹے و غيرہ شامل ہيں ، ان تين بھائيوں كى تحقيقات كے حوالے سے قابل توجہ نكتہ يہ ہے كہ ان لوگوں نے يورپ سے پانچ سو سال پہلے اور فنى علوم كى تاريخ ميں پہلى بار crank shaft پہيے كے دھرے (كا وہ پرزہ جو اسكو عمودى اور دورى دونوں حركتيں دے سكتاہے) كو استعمال كيا (1)

دوسرے مشہور اسلامى انجنيئركہ جو ميكانيات ميں شہرہ آفاق تھے جناب ''جزرى ''تھے وہ چھٹى صدى ہجرى كے دوسرے اواخر يا ساتويں صدى كے آغاز ميں شہر'' آمد'' جسے آج كل '' ديار بكر'' كہا جاتاہے، ميں رہا كرتے تھے انكى ميكانيات كے بارے ميں مشہور كتاب كا نام ''كتاب فى معرفة الحيل الہندسية يا الجامع بين العلم و العمل النافع فى ضاعة الحيل'' ہے كہ جسے انہوں نے دياربكر كے امير كى درخواست پر لكھا، جزرى كى كتاب علم و عمل كا مجموعہ ہے يعنى يہ كتاب نظرى ہونے كے ساتھ ساتھ عملى ہونے كے ناطے سے بھى پہچانى جاتى ہے _

جناب جزرى '' رئيس الاعمال'' يعنى انجنيرؤں كے سر براہ كے مقام پر بھى فائز تھے اوررسم فنى ( مختلف اشياء كے قطعات اور تصاوير كے ذريعے رياضياتى قواعد كى روشنى ميں خوبصورتى اور آرائشے كا فن ) كے ہنر ميں مہارت ركھتے تھے اسى طرح وہ اپنے ذہن ميں آنے والے تمام موضوعات كى تشريح اور آسان يا پيچيدہ ہر قسم كے آلات كى توصيف كرنے ميں استاد تھے، انكى كتاب مكينيكل اورہائيڈرولك (Hydroallque) وسائل و آلات كے حوالے سے قرون وسطى كى بہترين تاليف ہے ،اس ميں انہوں نے واقعا علم و عمل كے مابين نظرى مباحث اور عملى طريقوں كو بيان كيا ہے يہ كتاب چھ ابواب پر مشتمل ہے :


1) دانشنامہ جہان اسلام ،ج 4 ذيل بنى موسي_

 

58

(1) آبى اور شمعى گھڑياں (2) تفريحى آلات (3) ہاتھ پاؤں دھونے اور وضو كرنے كے وسائل (4) دائمى چلنے والے فوارے (5) پانى كو اوپر كى طرف كھينچے والى مشينيں(6) ديگر مختلف اقسام كے وسائل اور آلات جو روزمرہ كے معمولى كاموں ميں استعمال ہوتے ہيں ،اس كتاب كى قدرو قيمت صرف اس ميں بيان شدہ مختلف روشوں اور طريقوں كى اہميت كے پيش نظر نہيں ہے بلكہ ہر آلے كى ايجاد كا طريقہ تمام تفصيلات كے ساتھ اور ايك ماہر شخص كى زبان سے بيان ہوا ہے(1)

ابوالفتح عبدالرحمان خازى ايك اور اسلامى ماہر ميكانيات اور طبيعيات ہيں وہ شہر ''مرو ''ميں پيدا ہوئے سلجوقى حكمرانوں كے اداروں ميں امور علمى ميں مشغول تھے، انكى مشہورترين تاليف'' ميزان الحكمة '' ( 515 ہجرى قمرى ميں لكھى گئي) ہے كہ جو علم الحيل كى اہم ترين كتابوں ميں سے ہے ہايڈورلك ، ہايڈروسٹيٹك بالخصوص مركز ثقل كے بارے ميں انكے نظريات، اجسام كا توازن اور مخصوص كثافت پيمائي (كسى چيز كے گاڑھے پن كى پيمائشے) اوپر اٹھانے كے آلات ، ترازو، وقت كى پيما ئشے كے آلات ، چيزوں كے بنانے اور ان سے بہتر استفادہ كرنے كے تمام فنون ميں انكى آراء و نظريات انكى مكانيات ميں بے پناہ مہارت و استعداد كو ظاہر كرتے ہيں _

اس حوالے سے ديگر دانشوروں ميں سے ابن ہيثم بصري، جيانى قرطبى اور ابوريحان بيرونى كا نام ليا جاسكتا ہے كہ ابوريحان كى پانچ مواد اور معدنيات كى مخصوص كثافت سمجھنے كيلئے تحقيقات اس قدر بيسويں صدى كے قواعد و معيار كے قريب ہے كہ سب حيرت زدہ رہ گئے ہيں _

جب بھى ہم اسلامى انجنيروں كى اختراعات پر ايك محققانہ نگاہ ڈاليں توكھيل، شعبدہ بازى اور پانى كو اوپر لانے والے انواع و اقسام كے آلات كے علاوہ علم حيل كے ميدان ميں مسلمانوں كا اہم ترين كارنامہ يورپ والوں كو بارود اور آتشى اسلحہ سے آشنا كرواناہے، آتشى اسلحہ كے استعمال كا ذكر چھٹى صدى ہجرى ميں خصوصاً


1) ابوالعز جزرى ، الجامع بين العلم و العمل ، النافع فى ضاعة الحيل، ترجمہ محمد جواد ناطق ،ص 43،41_

 

59

شہروں كے محاصرہ كے دوران ملتاہے، ابن خلدون نے كتاب '' العبر'' ميں آتشى اسلحہ كى مختلف اقسام كے استعمال اور وہ بھى تو پوں اور ابتدائي دستى توپوں يا بندوقوں كے استعمال كى حد تك نہيں بلكہ افريقا كے مسلمان بادشاہوں كے دور ميں مختلف انواع كى پھينكنے والى مشينوں كا بھى ذكر كيا ہے_

اس قسم كے مشينوں كے حوالے سے بعض اسلامى دانشوروں كى تحقيقى آراء مثلاً ، شہاب الدين بن فضل اللہ العمرى ، ابن ارنبخاء اور حسن الرماح كى تاليفات ہميں آتشى اسلحہ كى عجيب و غريب دنيا سے آشنا كرواتى ہيں(1)

4 ) طب

علم طب ان سب سے پہلے علوم ميں سے ہے كہ جو مسلمانوں ميں رائج ہوئے اس علم كى اہميت اس حد تك تھى كہ ابدان كے علم كو اديان كے علم كے ہم پلہ شمار كيا جاتا تھا، اسلامى تمدن ميں طبى علوم كے تجزيہ و تحليل ميں ايك اہم نكتہ علم طب كا بہت جلد علاقائي رنگ اختيار كرنا ہے ، اسميں شك نہيں كہ ميڈيكل اور طب كے حوالے سے كلى حيثيت كى نظرى معلومات مسلمانوں تك يونانى تاليفات كے ترجمہ بالخصوص بقراط اور جالينوس كى تاليفات كے ترجمہ سے پہنچيں، ليكن بہت سے ايسے مسائل كہ جنكا مسلمان اطباء كو اپنے مريضوں كے حوالے سے سامنا كرنا پڑتا تھا وہ اسلامى مناطق اور انكى خاص آب و ہوا سے متعلق تھے كہ ان مسائل كا ذكر يونانى كتابوں ميں موجود نہيں تھا اور يہ واضح سى بات ہے كہ گذشتہ لوگوں كى كتابوں ميں انكے ذكر كى عدم موجودگى كى بنا پر اسلامى اطباء ہاتھ پر ہاتھ ركھ كر نہيں بيٹھ سكتے تھے، لہذا ان مسائل كے حوالے سے نئي آراء اور روشيں سامنے آئيں_

رازى كى كتاب ''الحاوي'' ميں جن بيماريوں كا تجزيہ كيا گيا ہے ان بيماريوں كى تعداد كى نسبت كہيں زيادہ ہے كہ جنكا تذكرہ جالينوس اور بقراط اور ديگر يونانى دانشوروں كى تاليفات ميں موجود ہے اسلامى طبى تاريخ ميں ايك اور اہم اور برجستہ سنگ ميل ابن سينا كى كتاب ''قانون ''ہے_


1)دانشنامہ جہان اسلام ج 1 بارود كے ذيل ميں_

 

60

اہل مغرب كى تمام طبى تاريخ ميں اسطرح طب كے تمام موضوعات پر مشتمل جامع اور انسائيكلوپيڈيا طرز كى كتاب ابھى تك وجود ميں نہيں آئي تھى بلادليل نہيں ہے كہ كتاب قانون لاطينى زبان ميں ترجمہ كے بعد بہت ہى سرعت سے اہل غرب كے دانشوروں اور ڈاكٹروں كى مورد توجہ قرار پائي اور انكے ميڈيكل كالجوں ميں ايك درسى مضمون كے عنوان سے تدريس ہونے لگي_ (1)

ليكن اسلامى طب ميں ترقى اور نئي اختراعات صرف يہيں نہيں رك گئيں اسلامى طب ميں اہم ترين نتائج اسوقت سامنے آئے كہ جب كچھ اسلامى اطباء نے جالينوس كے آراء اور اپنے تجربات كے نتائج ميں اختلاف كا مشاہدہ كرنے كے بعد اسے بيان كيا لہذا اسلامى دانشوروں ميں سب سے پہلے ابونصر فارابى نے جالينوس پر تنقيد كي، انہوں نے اپنے رسالہ بہ عنوان ''الرد على الجالينوس فيما نقض على ارسطا طالين لاعضاء الانسان'' ميں كلى طور پر انسانى بدن كے اعضاء كى تشكيل و ترتيب كے حوالے سے جالينوس اور ارسطو كى آراء ميں موازنہ كيا اور اپنى رائے كو ارسطو كے حق ميں ديا ، احتمال ہے كہ فارابى كى يہ طرز فكر ان تمام اعتراضات كا سرچشمہ بنى كہ جنہيں انكے بعد بوعلى سينا نے جالينوس پر تنقيد كرتے ہوئے پيش كيے _

اسى طرح جناب رازى كہ جو طب ميں عظيم مقام كے حامل تھے اور طب ميں جامع نظر ركھتے ہوئے صاحب رائے تھے انہوں نے بھى طب ميں جالينوس كے نظريات پر اہم تنقيد كى ہے ،رازى كے جالينوس كى آراء پر اہم ترين اعتراضات ديكھنے ، سننے اور نورانى سايوں اور لہروں كا جسم سے آنكھ تك پہنچے كے حوالے سے سامنے آئے جناب رازى ديكھنے كے عمل كو جالينوس كى رائے كے بالكل برعكس سمجھتے تھے كہ نورانى سايے آنكھ تك پہنچتے ہيں نہ يہ كہ آنكھ سے نور پھوٹتاہے جيسا كہ جالينوس نے كہا اسى تنقيد و اعتراض كے سلسلے ميں بو على سينا نے جالينوس كى طبى آراء كو واضح طور پر مہمل اور بے معنى كہا _

ليكن جالينوس كى طبى آراء پر سب سے اہم اعتراضات كہ جو مشہور ہونے كہ ساتھ ساتھ اسلامى طب ميں قابل فخر مقام ركھتے ہيںوہ ابن نفيس دمشقى نے چھٹى صدى ہجرى ميں پيش كيے جناب ابن نفيس اہل تجربہ اور

 

61

صاحب نظر تھے اور اسلامى طب ميں ايك عظيم ترين انكشاف كا باعث بنے اسى ليے گذشتہ صديوں ميں انہيں اسلامى مصنفين كے درميان جالينوس عرب (اسلامي)كا لقب ملاكر جو مختلف جگہوں پر رازى كو بھى ديا گيا ہے ، انہوں نے اپنى دو كتابوں (1) ''شرح تشريح قانون ''كہ جوكہ كتاب قانون كے پہلے سے تيسرے باب كى كى شرح كے عنوان سے لكھى گئي (2) شرح قانون كہ جو قانون ميں پيش كيے گئے تمام موضوعات كى شرح ہے ان دو كتابوں ميں اپنے اہم ترين انكشاف يا دريافت :بہ عنوان ''گردش ريوى خون ''Pupmonary blood circupationكى تشريح كى ہے، انيسوں صدى ميں آكرجديد سائنس ابن نفيس كى اس اہم دريافت سے آشنا ہوئي ، جالينوس كى رائے كے مطابق خون كى گردش كى صورت يہ ہے كہ خون شريان كے ذريعے دل كى دائيں حصے ميں داخل ہوتاہے اور دل كى دائيں اور بائيں سائيڈوں كے درميان پائے جانے والے سوراخوں سے خون دل كے بائيں حصے ميں داخل ہوكر پھر بدن ميں گردش كرتاہے ليكن ابن نفيس نے يہ لكھاكر خون دل كے دائيں حصے سے اور وريدكے ذريعے پھيپھڑوں ميںجاتاہے كہ اور جب وہ پھيپھڑوں ميں ہوا كے ساتھ مخلوط ہوتاہے پھر ايك اور وريدكے ذريعے دل كے بائيں حصے ميں جاتاہے اور وہاں سے پورے بدن ميں پہنچتاہے، بلا شبہ ابن نفيس نے يہ معلومات انسانى بدن كى چيرپھاڑ كے بعد سے حاصل كيں ،قبل اسكے كہ اٹلى كے طبيب '' ميگل سروٹو'' اسى بات كى وضاحت كرتے وہ تين صدياں قبل ہى سب كچھ روشن كرچكے تھے لہذا ضرورى ہے كہ اس انكشاف كو سروٹوسے منسوب كرنے ميں شك و ترديد كى جائے _

سروٹونے اسلامى طب كى تاليفات كے لاطينى زبان ميں ترجمہ كے ذريعے ابن نفيس كى آراء سے آگاہى حاصل كى يا پہلے سے اس كشف سے بے خبر خود وہ اس راز تك پہنچے اس حوالے سے دنيا كى طبى تاريخ ميں بہت سى مباحث ہوئيں ابن نفيس، فارابي، ابن سينا اور چند ديگر اسلامى دانشوروں كے نظريات كو اكٹھا كرنے سے معلوم ہوتاہے كہ اسلامى طب ، طب كے غير جالينوسى ماڈل كو بنانے ميں بہت سنجيدہ تھى (1)


1)دائرة المعارف بزرگ اسلامى ج 4 ابن نفيس كے ذيل ميں_

 

62

طب سے وابستہ علوم كى اقسام ميںبنيادى اور تخليقى ترين تحقيقات آنكھ كى طبى حيثيت كے متعلق ہے آنكھ كے مسلمان اطباء نے آنكھ كى بيماريوں اور انكے علاج كے حوالے سے يونانى ڈاكٹروں اور آنكھ كے يونانى طبيبوں كى آراء ميں اضافے كےساتھ ساتھ خود بھى بہت سى بيماريوں كى تشخيص اور انكے علاج كى مختلف صورتيں پيش كيں ، آنكھ كے مختلف اقسام كے آپريشن، موتيا نكالنا يا آنكھ كے قرينہ ميں اكھٹا ہونے والا اضافى پانى نكالنا اسى طرح آنكھ كيلئے مختلف قسم كى نباتاتى ، معدنياتى اور حيواناتى ادويات و غيرہ انہى تخليقات كا حصہ ہيں_

آنكھ كے علاج كے حوالے سے تمام مسلمان اطباء ميں دو افراد كا كردار سب سے زيادہ اور واضح ہے ان ميں سے ايك حنين بن اسحاق كہ جو كتاب '' العشر مقالات فى العين'' كے مصنف ہيں اور دوسرے على بن عيسى جو كتاب '' تذكرة الكحالين '' كے مصنف ہيں_

ان دونوں ميں سے ہر ايك كتاب آنكھ كے علاج ميں بہت سى اختراعات اور جدت كا باعث بنى اور ان كتابوں كے مصنفين آنكھ كے علاج كے سب سے پہلے مسلمان اطباء ميں سے كہلائے ،اس بات كو مان لينا چاہيئے كہ اسلامى دنيا ميں آنكھ كے علاج رائج ہونے كے سات صديوں كے بعد يورپ اس قابل ہوا كہ آنكھ كے مسلمان اطباء كى تمام اختراعات كو كراس كرسكے_

جڑى بوٹيوں كى تشخيص اور نباتاتى ادويات كے ميدان ميں بھى كم و بيشى يہى كيفيت ہے كہ يونان كى اس حوالے سے اہم ترين كتاب كہ جو جڑى بوٹيوں كے اسلامى ماہرين كے ہاتھوں پہنچى وہ كتاب ''الحشائشے'' تھى كہ جيسے وسطى ايشاء كے ايك مصنف ڈيوسكوريڈس نے پہلے صدى عيسوى ميں تحرير كيا يہ كتاب حنين بن اسحاق اور تحريك ترجمہ كے كچھ دوسرے مترجمين كے قلم سے عربى ميں ترجمہ ہوئي اس سارى كتاب ميں تقريبا پانچ سو جڑى بوٹيوں كے ادوياتى خواص بيان ہوئے تھے، حالانكہ رازى كى كتاب '' الحاوي'' ميںنباتاتى دوائيوں كے باب ميں تقريباًسات سوكے قريب جڑى بوٹيوں ادوياتى خواص بيان ہوئے ہيں يہ تعداد ايك اور اہم ترين طبى كتاب كہ جو اسلامى اطباء كى دواشناسى كا واضح ثبوت ہے ،يعنى ابن بيطار كى كتاب '' الجامع لمفردات

 

63

الادوية والاغذية'' ميں يہ تعداد چودہ سو تك جا پہنچى ہے، گويا ڈپو سكوريڈس كى كتاب سے تين گنا زيادہ جڑى بوٹيوں كااسميں تذكرہ ہوا ، جڑى بوٹيوں كى تعداد كے حوالے سےبے مثال ترقى اور سرعت كيساتھ تحقيق بتاتى ہے كہ اطباء اور اسلامى ماہرين نباتات بجائے اسكے كہ وہ ڈپوسكو ريدس كى پيروى تك محدود رہتے بذات خود نئي دريافتوں اور نباتات كے ادوياتى خواص كو جاننے ميں مصروف عمل تھے(1)

5_ كيميا

كيميا كا مقولہ علم، فن اور جادو پر اطلاق ہوتا تھا كہ بتدريج كميسٹرى پر اطلاق ہونے لگا كيميا كا موضوع ايك روحانى قوت كے جسے غالباً '' حجر الفلاسفہ'' كا نام ديا گيا ہے كى موجودگى ميں مواد كو تبديل كرنے سے متعلق تھا، كيميا ان پنہان علوم كى ايك قسم ہے كہ جنہيں اصطلاحاً ''كلُّہ سر ''كہا جاتاہے يہ اصطلاح پانچ علوم كے پہلے حروف سے بنائي گئي ہے وہ پانچ پنہانى علوم يہ ہيں كيميا ، ليميا، ہيميا، سيميا، ريميا _

كيميا ميں اس مادہ كے بارے ميں گفتگو كى جاتى تھى كہجسے استعمال كرنے سے معمولى دھاتيں جيسے لوہا و پيتل و غيرہ كا سونا چاندى ميں تبديل ہوجانا ممكن ہوجاتاہے، اس مادہ كو كيميا گر '' اكسير '' كہتے تھے، اسلامى علم كيميا ميںجو ظہور اسلام كے بعد پہلى صدى ہجرى ميں بہت سرعت سے پيدا ہوا اور آج روايتى طور طريقے كا حامل ہے ان بارہ صديوں ميں بہت سى كتابيں اس حوالے سے تاليف ہوئي ہيں كہ جن ميں اس ہنر پر بحث ہوتى رہى ہے ان ميں سے سب سے اہم ترين مجموعہ جابر بن حيان سے متعلق ہے كہ جو نہ صرف يہ كہ عالم اسلام بلكہ مغربى دنيا ميں بھى علم كيميا كے سب سے بڑے عالم شمار ہوتے ميں انكى ہى وجہ سے مسلمانوں ميں علم كيميا توہماتى ہنر سے تجرباتى سائنس كى صورت ميں سامنے آيا _

جناب جابر خالص مايعات مثلا پانى ، شيرہ ،گھى اور خون و غيرہ كى تقطير (1) كيا كرتے تھے اور وہ يہ سمجھتے تھے


1)دائرة المعارف بزرگ اسلامى ج 4 ابن نفيس كے ذيل ميں_

 

64

كہ ہر بارجب بھى پانى كى تقطير كريں تو سابقہ خالص مادہ پر تازہ مادے كا اضافہ ہوجاتاہے يہانتك كہ يہ عمل تقطير سات سو بارتك جاپہنچے، انكى نظر ميں سونے كو حرارت دينے اور عمل تقطير كے ايك ہزار مراحل سے گزارنے كے بعد اكسير تك پہنچا جاسكتاتھا_

جناب جابر سے منسوب كتابوں كى تعداد اسقدر زيادہ ہے كہ ان ميں بعض كى انكى طرف نسبت مشكوك ہے بعض اہل مغرب كے دانشوروں اور محققين كے نزديك ايسى كتابيں اسماعيلى فرقہ كے پيروكاروں نے چوتھى صدى ہجرى ميں تاليف كيں_

جابر كے بعد مشہور اسلامى كيمياگر بلاشبہ محمد بن زكريا رازى ہيں جناب رازى علم طب سيكھنے سے قبل كيمياگر تھے منقول ہے كہ حد سے زيادہ كميكل تجربات كى بناء پر انكى نظر كمزور ہوگئي تھى اسى ليے مايوس ہوكر انہوں نے كيمياگرى چھوڑ دى ، جناب رازى اپنے آپ كو جابر كے شاگرد شمار كرتے تھے انہوں نے اپنى بيشتر كتب جو كيميا كے حوالے سے تحرير كيںانكے نام بھى جابر كى كتب كى مانند ركھے ہوئے تھے ، ليكن جابر كا علم كيميا فطرت كو بعنوان كتاب تكوين جانتے ہوئے اسكى باطنى تفسير و تاويل پر مبنى تھا كہ يہ چيز شيعہ اور صوفى مذہب ميں عقيدے كا ايك ركن ہے _

جابر كے نزديك ہر علم بالخصوص كيميا كے تمام اشياء كے باطنى معنى كى تاويل كى روش كا استعمال اسكى ظاہرى نمود سے بھى ربط ركھتاہے اور اسكے رمزى و باطنى پہلو سے بھى مربوط ہے ، رازى نے روحانى تاويل كا انكار كرتے ہوئے كيميا كے رمزى پہلو سے چشم پوشى كى اور اسے كميسٹرى كى صورت ميں پيش كيا ، رازى كى كيميا ميں اہم ترين كتاب '' سرّ الاسرار'' اصل ميں ايك كيمسٹرى كى كتاب ہے كہ جو كيميا كى اصطلاحات كے ساتھ بيان ہوئي ہے(2) اس كتاب ميں كيمسٹرى كے طريقہ كار اور تجربات كا ذكر ہوا ہے كہ


1)كيميا بمعنى سونا بنانے كا علم اور كميسٹرى بمعنى اشياء كے اجزا اور انكى بناوٹ كا علم _

2)تقطير ايك كيميائي عمل ہے كہ جسميں حرارت كے ذريعے قطرہ قطرہ نكالا جاتاہے_

 

65

جسے خود رازى نے انجام ديا ہے ان كو كيميكل كى جديد صورتوں مثلا تقطير،تكليس (ہوا كے ساتھ گرم كرنے كا عمل (calcination) تبلور (كسى مايع يا گيس ميں شيشہ بنانے كا عمل (crystalization)كے مطابق سمجھا جاسكتاہے رازى نے اس كتاب اور اپنى ديگر كتب ميں بہت سے آلات مثلا قرع (Retort) بڑے پيٹ والا شيشے كا ظرف تقطير جيسے اعمال كے ليے(1) ، انبيق (مايعات كى تقطير اور عرق نكالنے كا آلہ يا ظرف) (2) ديگ اور تيل سے چلنے والے چراغ كے بارے ميں تشريح كى ان ميں سے بعض چيز يں ابھى تك استعمال ہورہى ہيں_

چوتھى صدى ہجرى ميں بوعلى سينا اور فارابى نے اكسيرات اور كيميا سے مربوط بعض موضوعات پر لكھا، ليكن ان دونوں ميں سے كسى نے كيميا كے حوالے سے جدا كوئي رسالہ يا كتاب نہيں لكھى ، اس دور اور اسكے بعد كے ادوار ميں ديگر كيمياگران ميں سے جناب ابوالحكيم محمد بن عبدالمالك صالحى خوارزمى كہ جنكى كتاب كا نام '' رسالہ عين الصنعة و عون الصناع'' ہے انكے بعد ابوالقاسم عراقى كہ جو ساتويں صدى ہجرى ميں موجود تھے انہوں نے كتاب '' المكتب فى زراعة الذہب '' كو تحرير كيا اسى طرح ساتويں صدى ہجرى اور آٹھويں صدى ہجرى كے آغاز كے كيميا دان جناب عبداللہ بن على كاشانى بھى معروف ہيں _

اسلامى ادوار ميں آسمان كيميا پر آخرى درخشندہ ستارہ جناب عز الدين جلد كى ہيں كہ انكى تاليفات انكے زمانہ اور بعد ميں درسى مضمون اور معلومات كا منبع شمار ہوتى تھيں كتاب '' المصباح فى اسرار علم المفتاح اور البدر المنيرفى اسرار الاكسير '' انكے كيميا كے حوالے سے كتابوں كے چند نمونے ہيں(3)


1)كسى چيز كو 950 درجہ پر حرارت دينا _

2)كوٹ كوٹ كر زرہ زرہ كرنے والا آلہ_

3)عرق نكالنے والا آلہ_

4)سيد حسين نصر، علم و تمدن در اسلام ،ترجمہ احمد آرام ، ج2 ص 234 تہران ،على اصغر حلبى ،تاريخ تمدن اسلام ،ج 1، ص 213 ، 323، 233_

 

  1719
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟
[ فزكس ]    

latest article

      امام کاظم علیہ السلام کی مجاہدانہ زندگی کے واقعات کا ...
      امام جواد علیہ السلام اور شیعت کی موجودہ شناخت اور ...
      حدیث "قلم و قرطاس" میں جو آنحضرت{ص} نے فرمایا هے: ...
      حضرت علی (ع ) خلفاء کے ساتھ کیوں تعاون فر ماتے تھے ؟
      شیعه فاطمه کے علاوه پیغمبر کی بیٹیوں سے اس قدر نفرت ...
      کیا عباس بن عبدالمطلب اور ان کے فرزند شیعوں کے عقیده کے ...
      امام محمد باقر علیہ السلام کی حیات طیبہ کے دلنشین گوشے ...
      اگر کسی دن کو یوم مادر کہا جا سکتا ہے تو وہ شہزادی کونین ...
      قرآن مجید کی مثال پیش کرنے کا دعوی کرنے والوں کی حکمیت ...
      فاطمہ، ماں کی خالی جگہ

 
user comment