اردو
Monday 25th of March 2019
  815
  0
  0

علوم كى درجہ بندي

علوم كى درجہ بندي

45

علوم كى درجہ بندي:

كلى طور پر ديكھا جائے تو اسلامى دانشوروں كى آغاز ميں عالم طبيعت بالخصوص انسان كے حوالے سے علم طب ميں انہى حدود كے اندر نگاہ تھى كہ جو يونانى علماء نے متعين كى تھيں اسى طرح علم فلكيات كے حوالے سے وہى بطلميوس كا زمين كو مركز قرار دينے والا نظريہ ركھتے تھے، ليكن اسلامى دانشوروں كى تحقيق و مطالعہ نے انہيں ان نظريات سے مختلف حقائق سے آشنا كيا، لہذا طب، علم فلكيات ، رياضى ، فزكس كے حوالے سے عالم اسلام ميںايسے نكات اور قواعد سامنے آئے كہ جنكے بارے ميں كہا جاسكتا ہے كہ وہ كسى بھى طرح سے يونان سے نہيں ليے گئے بلكہ وہ اساسا اسلامى مفكرين كى كاوشوں كا نتيجہ ہيں ، اس حوالے سے مزيد تجزيہ و تحليل كيلئے ضرورى ہے كہ سب سے پہلے ہم اسلامى تمدن ميں علوم كى درجہ بندى پر نگاہ ڈاليں ،يو ںان تمام علوم كى اقسام ميں اسلامى دانشوروں اور انكى تحقيقات سے آشنا ہونے كے ساتھ ساتھ ان حقيقى نكات اور مسائل كا تجزيہ كريں كہ جو يونانى علوم كى حدود اور معيار سے ہٹ كر سامنے آئے _

اسلام ميں علوم كى درجہ بندى كے حوالے سے مختلف روشيں موجود ہيں اوريہ روشيں عام طور پر اپنے بانيوں كى اپنے ارد گرد كے جہان پر انكى خاص نگاہ سے وجود ميں آتى رہيں ، پہلى درجہ بندى ميں علوم كود و اقسام نظرى اور عملى ميں تقسيم كيا گيا ، البتہ يہاں ابھى ان علوم عملى كى كيفيت اور انجام كے طريقہ كار كو مد نظر نہيں ركھا گيا، علوم نظرى كہ جنہيں حكمت نظرى سے بھى تعبير كيا گياہے ان ميں اصول شناخت و معرفت زير بحث ہيں اور بحث كا موضوع وجود اور اسكا مادے سے تعلق كى حالت ہے ،يہ علوم پھر تين اقسام ميں تقسيم ہوئے ہيں علم الہى (علم اعلي) وہ امور جو مادہ سے جدا ہيں ،علم حساب و رياضى (علم اوسط) ان علوم كى بحث مكمل طور پر ذہنى اور مادہ

 

46

سے ہٹ كرہے اور علم طبيعى (علم ادني) جو مادہ كے بارے ميں بحث كرتا ہے خواہ وہ ذہنى صورت ميں ہو ں يا ذہن سے باہر كى دنيا ميں _

اسى طرح علوم عملى بھى تين اقسام ميں تقسيم ہوتے ہيں :

''علم اخلاق ''كہ جو انسان كى انفرادى و ذاتى زندگى سے مربوط ہے ،علم'' تدبير منزل'' كہ جوگھرانے سے متعلق ہے اور علم سياست كہ جو معاشرہ كے مسائل سے متعلق ہے ،يہ درجہ بندى يونانى فلسفہ بالخصوص ارسطو كے فلسفہ كے زير اثر تشكيل پائي_

دوسرى درجہ بندى علوم كے اپنے حقيقى ہدف كے ساتھ بلاواسطہ تعلق كى بنا پر ہے يعنى ان مختلف علوم سے ايك معين ہدف تك پہنچے كيلئے فائدہ اٹھا يا جا تا ہے ، مثلا حكمت نظرى يا شرعى علوم ميںشناخت و معرفت كومركزيت حاصل ہے جبكہ ديگر علوم مثلا صرف ونحو(گرائمر كے قواعد) ان كو سمجھنے ميں مدد ديتے ہيں_

تيسرى درجہ بندى ميں علوم دو قسموں اسلامى اور غير اسلامى ميں تقسيم ہوتے ہيں ، علوم اسلامى وہ علوم ہيں كہ جنكا سرچشمہ مكمل طور پر مسلمانوں كى فكر و نظر ہے ، جبكہ علوم غير اسلامى وہ علوم ميں كہ جنكے اصول ديگر تہذيبوںں سے اسلام ميں پہنچے اور مسلمانوں نے اپنى تحقيقات ميں انہيں وسعت دى اور مختلف شاخوں ميں تقسيم كيا_

چوتھى درجہ بندى ميں علوم دو قسموں شرعى اور غير شرعى ميں تقسيم ہوتے ہيں علوم شرعى سے مراد وہ چيزيں ہيں كہ جو پيغمبر اكرم(ص) اور ائمہ اطہار سے ہم تك پہنچيںكہ جن ميں اصول و فروع دين مقدمات اورمتممات دين شامل ہيں جبكہ علوم غير شرعى سے مراد فقط علوم عقلى ہيں مثلا رياضيات و غيرہ _

پانچويں درجہ بندى ميں علوم دو قسموں عقلى اور نقلى (منقول )ميں تقسيم ہوتے ہيں يہاں علوم عقلى سے مراد حكمت ، كلام اور فلسفہ و غيرہ ہے جبكہ علوم نقلى سے مراد شرعى اور وہ معلومات كہ جو مختلف علوم مثلا علم فلكيات اور طب و غيرہ سے حكايت ہوئي ہيں_

 

47

وہ اسلامى دانشور حضرات كہ جنہوں نے علوم كى درجہ بندى كے موضوع پر تحقيق كى ان ميں دو افراد كى رائے بہت اہميت كى حامل ہے ، ابونصر فارابى (متوفي329 قمري)اور محمد بن يوسف خوارزمى (متوفى 387 قمري)

جناب فارابى وہ پہلے اسلامى دانشور ہيں جنہوں نے علوم كى درجہ بندى پر خصوصى توجہ كى انہوں نے اپنے خاص فلسفى ذوق كے ساتھ اپنى اہم كتاب '' احصاء العلوم'' ميں علوم كى درجہ بندى كو كلى طور پر'' آگاہي'' يا انكى اپنى تعبير ميں'' معرفت ''كو انہوں نے پانچ ابواب ميں تقسيم كيا ہے : علم زبان ، منطق ، رياضيات ، علوم طبيعى و الہى اور حكمت عملى يااخلاق ، فارابى نے علوم طبيعى اور الہى كو چوتھے باب ميں اس ليے پيش كيا كيونكہ دونوں علم طبيعى موجودات كے بارے ميں گفتگو كرتے ہيں فقط اس فرق كے ساتھ كہ ايك ميں موجودات وجود مطلق يا واجب الوجود كے ساتھ متصل ہوتے ہيں جبكہ دوسرے ميں خود ''واجب الوجود'' مورد توجہ قرار پاتاہے_

اگر چہ جناب خوارزمى نے فارابى كى مانند علوم كو منطقى اور فلسفى نظم كے ساتھ مرتب نہيں كيا ليكن ہر علم كے دوسرے علوم كى نسبت موضوع اور ہدف كى بنياد پر فرق كو مد نظر ركھا ہے ، خوارزمى كى نگاہ ميں بعض علوم بذات خودہدف ہيں جبكہ بعض ديگر علوم مقصدتك پہنچے كا وسيلہ ہيں لہذا پہلے والے علوم ديگر علوم كى نسبت برترى كا مقام ركھتے ہيں انہوں نے اپنى كتاب'' مفاتيح العلوم' ' ميں علوم كى ايك جديد درجہ بندى پيش كرنے كى كوشش كى يعنى علوم كو دو اقسام ميں تقسيم كيا پہلى قسم '' علوم شرعى '' اور دوسرى قسم اغيار كے علوم يا علوم عجمى ہيں ،انہوں نے اپنى كتاب كے پہلے حصہ ميں ان علوم اسلامى كے بارے ميں بحث كى كہ جنہوں نے اسلامى تہذيب و تمدن كى حدود ميںجنم ليا اور ارتقاء پايا جبكہ دوسرے حصہ ميں ان مختلف علوم پر بحث كى كہ جنہوں نے ايران ، يونان يا ہند ميں جنم ليا اور مسلمانوں نے انكى پيش رفت اور ارتقاء ميں موثر كردار كيا(1)


1) بواوسل '' دائرة المعارفہاى فارسى '' تہران ، ص 40 ، 20_

 

48

الف) غير اسلامى علوم:

1) رياضيات:

ترجمہ كى تحريك كے دور ميں يونانى رياضى دانوں كى بہت سى كتابوں كو عربى ميں ترجمہ كيا گيا اوربہت جلد ہى اسلامى رياضى دانوں نے يونانى رياضى دانوں كى سطح علمى پرسبقت حاصل كرلى ،انكى كتابوں كى بہت سى شروحات لكھى گئيںاور انہوں نے علوم رياضى كو بہت وسعت بخشى اس دور ميں رياضى كى اہم ترين يونانى كتاب كہ جسكا عربى ميں ترجمہ ہوا اور اس كى بہت سى شروحات لكھى گئيں اقليدس كى كتاب ''اصول'' تھي، ليكن مسلمان رياضى دانوں كا اہم ترين كردار علم رياضى كے فقط ارتقاء ميں ہى نہ تھا بلكہ يہ كردار مشرق و مغرب يعنى يونان و ہند كى رياضيات كے بہترين امتزاج يعنى اسلامى رياضيات كى شكل ميں سامنے آيا اور بنى نوع انسان كيلئے اسلامى رياضيات ايك قيمتى ترين دريافت كى حيثيت ركھنے لگى _

يہ اسلامى رياضيات كا ہى كارنامہ تھا كہ اس نے ہندسى رياضيات كى معلومات كو جس ميں اہم ترين يعنى اعشارى عدد نويسى كى روش كو رياضى كے ديگر يونانى قواعد كے ساتھ مخلوط كر كے ايك وحدانى شكل وصورت ميں ممكن كرتے ہوئے اہل مغرب كے سامنے پيش كيا، اگر چہ يونانى رياضيات اپنى چند ديگر شاخوں ميں مثلا مثلثات اوركروى علوم (spherical Seiences) ميں كافى ترقى كر چكى تھيں ليكن ايك سادہ عددنويسى كى روش نہ ہونے كى بناء پر يونان ميں علم اعداد ترقى نہ كرسكا تھا_

كلى طور پر اسلامى رياضى دانوں كے علم رياضى كى مختلف اقسام ميں ثمرات كو يوں بيان كيا جا سكتا ہے: اعشارى نظام كى تكميل كے ذريعہ ہندى عدد نويسى كے نظام كى اصلاح مثلاً اعشارى كسور كى اختراع ،اعداد كى تھيورى ميں جديد مفاہيم لانا،علم الجبرا كى ايجاد، علم مثلثات اور علوم كروي(spherical Sciences) ميں اہم اور جديد انكشافات كرنا، درجہ 2 اور 3 كے عددى معادلات اور مسائل كا جواب پانے كيلئے مختلف روشوں كى تخليق_

 

49

مسلمان ، مسلم رياضى دان رياضى دان محمد بن موسى خوارزمى كى كتاب'' الجمع و التفريق بالحساب الہند'' كے ذريعے ہند كى عددنويسى كى روش سے آشنا ہوئے ،خوارزمى كى يہ كتاب عالم اسلام ميں علم حساب پر لكھى جانے والى كتابوں ميںسے قديم ترين كتاب ہے اب صرف اسكا لاطينى زبان ميں ترجمہ باقى رہ گيا ہے ،خوارزمى كى اہميت كو اس لحاظ سے بھى جانچا جا سكتا ہے كہ يہ حساب كى پہلى كتاب ہے كہ جو عربى سے لاطينى زبان ميں ترجمہ ہوئي ، آج كے اہل مغرب رياضيات اور كمپيوٹر كے حوالے سے اشياء كے حساب و كتاب ميں معين روش بتانے كے ليے خوارزمى كا نام تحريف شدہ شكل ميں يعنى '' لاگر تھم (legarithms)'' كى صورت ميں ان پر اطلاق كرتے ہيں_

جناب خوارزمى نے علم الجبرا كو وجود ميں لانے ميں اہم كردار ادا كيا ، اگرچہ اسلامى دانشوروں سے پہلے يونان ميں علم الجبرا موجودتھا اور يونانى دانشورمثلا فيثاغورث ، ارشميدس اور ڈائفنٹس اپنى كتب ميں مسائل الجبرا كے حل كے قريب پہنچ چكے تھے مگر مسلمان علماء اور دانشور حضرات اپنى منطقى روش اور يونانى رياضى دانوں كى تنقيدى اصلاح كے سبب اس علم كے بانيوں ميں شمار ہوئے لہذا ، اسلامى دانشور حضرات كے نزديك علم الجبرا علم حساب كے فارمولوں كا دائرہ كار اعداد تك بڑھانے اور اعداد كى جگہ حروف كے استعمال كے ذريعے اعداد كے مابين تعلقات كى تحقيق شمار ہوتاہے ، بعض مقداروں كو متوازن كركے مجہول مقادير كو معلوم كرنا اور پھر انكو حل كرنا علم الجبرا كى اہم ترين دريافت شمار ہوتى ہے_

بلا شبہ علم الجبرا كى پہلى اور اسلامى دانشوروں كى اہم ترين كتاب ''الجبر والمقابلہ'' جسے جناب محمد بن موسى خوارزمى نے تحرير كيا ، اس نام سے معنون كرنا بلا سبب نہيں ہے كيونكہ اس نام ميں علم الجبرا پر چھائي ہوئي كيفيت پنہا ن ہے يہاں '' جبر'' سے مراد ايك مسئلہ اور سوال كو منفى جملے كى صورت ميں استعمال كرنااور'' مقابلہ'' يعنى سوالات كو حل كرنے كيلئے مثبت جملات كو استعمال كرناہے ، اسلامى دانشوروں نے الجبراكو ايك علم كى شكل دى اور اسے ايك علم كى صورت ميں اور ايك علمى روش كے لحاظ سے مورد تحقيق قرار ديا ، مسلمان رياضى دانوں كا يہ

 

50

گروہ كہ جسكا جناب خوارزمى سے آغاز ہوا تھا، خيام ، ماہانى ، ابوكامل شجاع بن اسلم ، ابوالوفاى بوزجانى ، خجندي، ابوسہل كوہى ... و غيرہ ، كى كوششوں اور فعاليت سے اس كا م كو آگے بڑھا تا رہا_

الجبرا كے قواعد اور سوالات كى درجہ بندى بالخصوص درجہ اول ، دوم اور سوم كے كى مساواتوںكى تنظيم اسلامى دانشوروں كا علم الجبرا كو منظم كرنے اور اسے سائنس كا نام عطا كرنے ميں اہم قدم تھا، بالخصوص جناب خيام كہ جنہوں نے تيسرے درجہ كى مساواتوں كو حل كرنے ميں اہم كردار ادا كيا اور چونكہ اس حوالے سے پہلى بار انہوں يہ قدم اٹھا يا لہذا انكا كام كافى مركز توجہ قرار پايا، اسى طرح اسلامى رياضى دان وہ پہلے افراد ہيں كہ جنہوں نے الجبرا كو جيوميٹرى ميں داخل كيا اور الجبرا كى مساواتوںكے ذريعے جيوميٹرى كے مسائل كو حل كيا اس علم كى آشنائي اور تشريح كے حوالے سے اسلامى رياضيات كے مغرب ميں گہرے اثرات ہيں اور سب سے اہم يہ كہ الجبرا (algebra) كا لفظ مغرب ميں پايا جاتاہے جو كہ عربى كے كلمہ كى لاطينى شكل ہے (1)

خوارزمى كے كچھ عرصہ كے بعد ابوالحسن احمد بن ابراہيم اقليدسى جو كہ دمشق كے رياضى دان تھے وہ اپنى ہندسى رياضيات (geometric math) كے حوالے سے كتاب '' الفصول فى الحساب الہندسي'' ميں اعشارى نظام كو وجود ميں لائے، علم اعداد كى دنيا ميں ايك اور بہت اہم قدم عالم اسلام ميں پہلى دفعہ ابوالوفا بوزجانى نے اپنى بہت اہم كتاب '' كتاب فى مايحتاج اليہ الكتاب و العمال'' كے دوسرے حصہ ميں منفى اعداد كو وضع كرتے ہوئے اٹھايا،انہوں نے اس قسم كے كلمات كو '' دين '' كے نام سے استعمال كيا_

علم رياضى كے ديگر ابواب مثلا مثلثات اور ہندسہ (geometry) و غيرہ ميں بھى اسلامى دانشوروں نے انتہائي قيمتى آراء يادگار كے طور پر چھوڑيں ، ان ابواب ميں اسلامى دانشوروں نے مثلثات پر يونانى سليقہ سے بڑھ كہ جديد حقائق كو دريافت كيا كہ ان ميں سے كچھ انكشافات خواجہ نصير الدين طوسى كى كتاب'' شكل القطاع'' ميں موجود ہيں ، اس كتاب ميں جناب طوسى نے اپنى ذہانت سے علم مثلثات كے دونوں حصوں كے تقابل سے صحيح فائدہ اٹھايا ہے _


1) ابوالقاسم قربانى ، زندگينامہ رياضيدانان دورہ اسلامى ، تہران ، ص 246 ، 238_

 

51

علم مثلثات كے دونوں حصوں ميں سے ايك تومثلثاتى جدولوں كا زاويوں كى تبديلى اور ہندسى اشكال كے سائز ميں كردار سے اور دوسرا ان مفروضوں ہے جو كہ يونانى مثلثات سے ہے ماخوذ تھے، ان ہندسى اشكالshapes geometricalكى وضاحت كے حوالے سے خواجہ نے '' شكل القطاع'' ميں اپنے پيش رو رياضى دانوں كى كوششوں اور كام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہندسى اشكال ميں زاويوں كے با ہمى روابط پر قوانين كى دقيق وضاحت كرتے ہوئے، ان مثلثات كے جدولوں كو ترقى دي_

مثلثات كى پيش رفت كا بہترين نمونہ ، بالخصوص علوم كروى spherical Seiences ميںجنكے بارے ميں خواجہ نصير نے بھى اپنى كتاب'' شكل القطاع'' كا كچھ حصہ خاص كياہے، سہ بعدى جيوميٹرى كے اوصاف كو دوبعدى جيوميٹرى ميں تبديل كرنے ميں نظرآتاہے اور يہ كام بالخصوص مختلف اقسام كے اصطرلاب asterlabe كے بنانے ميں بہت اہميت كا حامل ہے_(1)

رياضياتى اسلامى تاريخ (دوسرى صدى ہجرى سے اب تك)نے بہت سے رياضى دانوں كو كائنات كى علمى تاريخ كو ہديہ ميںديے ہيں ان افراد كے ناموں كى ايك بڑى فہرست پيش كى جاسكتى ہے مثلاً:

احمد بن عبداللہ مروزى جنكا لقب '' حبش حاسب ''تھا صاحب كتاب فى معرفة الكرة و العمل ، ابوالعباس فضل بن حاتم نيريزى معروف كتاب'' شرح اصول اقليدس '' كے مضف ، موسى بن شاكر ان تين بھائيوں ميں سے ايك كہ جو '' بنو موسى '' كے نام سے مشہور ہيں كتاب'' معرفہ مساحة الاشكال البسيطة والكروية كے مصنف ، ابوالحسن ثابت بن قوة حرانى كہ جنكى رياضيات ميں بہت سى تاليفات ہيں مثلا كتاب ''فى الاعداد المتحابة''، ابوالفتح محمدبن قاسم اصفہانى كى كتاب ''تلخيص المخروطات ، ابوجعفر محمد بن حسين صاغانى خراسانى صاحب تفسير'' صدر المقالہ العاشرة من كتاب اقليدس''، ابوسعيد احمد بن محمد بن عبدالجليل سجزى صاحب كتاب فى مساحة الاكر بالاكر ، ابوالحسن على بن احمد نسوى صاحب كتاب '' الاشباع فى شرح الشكل القطاع،


1) زندگينامہ رياضيدانان دورہ اسلامى ، ص 508 ، 486_

 

52

ابوحاتم مظفر بن اسماعيل اسفزارى صاحب كتاب اختصار فى اصول اقليدس ، غياث الدين جمشيد كاشانى بہت بڑے محقق اور بہت سى تصنيفات كے مالك مثلا مفتاح الحساب و رسالہ محيطيہ ، علاء الدين على بن محمد سمرقندى كہ جو ملا على قوشجى كے نام سے مشہور تھے رسالہ محمديہ كے مصنف ہيں ... اور بہت سے افراد ہيں كہ جنكا نام اختصار كے پيش نظر ذكرنہيں كيا گيا_

2) نجوم

اسلامى علم نجوم كے حوالے سے اسلامى دانشوروں كى معلومات كا آغاز يونانى علم نجوم كى كتب كے ترجمہ بالخصوص بطليموس كى تاليفات كے ترجمہ سے ہوا، اسكى تاليفات كى شروحات لكھنے سے يہ معلومات بڑھتى رہيں پھر اسكے نظريات پر تنقيد شروع ہوئي اور آخر كار اسكے نظريے اور رائے كے خلاف كئي نظريات پيش ہوئے_ ان اسلامى دانشوروں كے يہ نظريات بعد ميں پيش كوپرينك كے نظريات كى شكل ميں شہرت پاگئے كيونكہ اس پولينڈ كے دانشور كوپرينك كى بطليموس كى تھيورى پر تنقيد سے كئي صديوں قبل يہ تمام اعتراضات اسلامى دانشور پيش كرچكے تھے_

اسلامى نجوم ميں ابتدائي اہم ترين معلومات چاہے نظرى ہوں يا رصد گاہوں كے ذريعہ حاصل شدہ بطليموس كى كتاب '' مجسطى ''كے ترجمہ سے حاصل ہوئيں عالم اسلام ميں اس كتاب كے كم از كم تين تراجم اور متعدد شروحات سے ہم واقف ہيں كتاب مجسطى كا عالم اسلام ميں مطالعہ ايسے مكتب كو وجود ميں لانے كا باعث بنا كہ جسكا كام ستاروں كا جائزہ لينے كيلئے رصد گاہوں ميں فعاليت كرنا اور علم نجوم كے مخصوص جدول (فلكياتى جنتري) كہ جنہيںعربى ميں ''زيج'' كہا جاتاہے تيار كرنا تھا، عالم اسلام ميں دوسرى صدى سے بارہويں صدى ہجرى تك لكھى جانے والى فلكياتى جنتريوںكى تعداد 220 تك ہے، علم نجوم كے ان تمام اسلامى ماہرين نے ان جنتريوںميں كوشش كى ہے كہ دقيق انداز سے ستاروں كى خصوصيات اور انكے متعلقہ حقائق كو دريافت كريں ان كى كوششوں كى بدولت فلكى اجرام كے متعلق دقيق و عميق معلومات سامنے آئيں ،ان ميں ايك اہم

 

53

ترين فعاليت شمسى سال كى مدت كو معين كرنا تھا _

شمسى سال كى مدت كے تعين كے ليے اسلامى ماہرين فلكيات كے بہت زيادہ فلكياتى مشاہدات كے باعث ''كبيسہ'' يعنى سال كے آخرى ماہ ميں ايك دن كے اضافے سے متعلق مختلف محققانہ طريقے اور روشيں سامنے آئيں ، جو كہ عالم اسلامى ميں بنائي جانے والى انواع و اقسام كى تقاويم اور جنتريوں ميں استعمال كے ليے تجويز كى گئيں_

اسلامى ماہرين كے فلكياتى تقاويم كى تيارى كے ليے مسلسل فلكياتى مشاہدات كى بدولت '' تقديم اعتدالين'' كے مفہوم تك رسائي ممكن ہوئي تقديم اعتدالين يعنى كئي سالوں ميں زمين كى محورى حركت كى بدولت ہر سال دائرة البروج كے طول ميں 50 سيكنڈ قوسى كا اضافہ ، اسلامى ماہرين فلكيات نے بتدريج اپنے مشاہدات كے دوران ستاروں كے دائرة البروج كى خصوصيات كے بارے ميں اپنى حاصل كردہ معلومات اور بطليموس كى فراہم كردہ معلومات ميں فرق كو محسوس كرليا اور تقريبا سبھى نے اپنى اپنى فلكياتى تقويم ميں تقديم اعتدالين كے فرق كو تحرير كيا ہے ، ان سے سے ايك اہم ترين كوشش جابر بن عبداللہ بتّانى نے انجام دى انہوں نے تقديم اعتدالين كى مقدار2/50 سكينڈ قوسى تك دريافت كى _ (1)

بطليموس كى زمين كو محور او ر مركز عالم قرار دينے والى تھيورى كہ جسے اسلامى ماہرين فلكيات كى پہلى نسل نے بھى قبول كيا تھا اسكى اساس يہ ہے كہ زمين جہان كے مركز ميں ہے اور سورج و چاند اور ديگر چارسيارے زمين كے گرد دائروں ميں چكر لگارہے ہيں ليكن اس تھيورى كے مطابق زمين كے نزديك دو سيارے يعنى عطارد اور زہرہ قدماء كے مشاہدات فلكى كے مطابق سورج سے كچھ معين مراتب دور ہوچكے ہيں اور 360 درجہ كا راستہ '' دايرة البروج'' كے خطوط پر طے نہيں كرتے ، بطليموس كى زمين كو مركز قرار دينے والى تھيورى كے مطابق يہ دونوں سيارے ان خاص خطوط پر رواں ہيں كہ جو سورج كے مركز سے خارج ہوكر ان سياروں كے مركز كو اپني


1) كرلو آلفونسو ناليف، تاريخ نجو م اسلامي، ترجمہ احمد آرام، تہران 1349 ص 220_200_

 

54

لپيٹ ميں لے ليتے ہيں اور سورج كے ساتھ زمين كے گرد حركت كرتے ہيں، اس روش سے بظاہر يہ ہوا كہ آسمان ميں ان دو سياروں كى حركت نظام شمسى كے حقائق سے مطابقت كر جائے ليكن اسلامى ماہرين فلكيات كے دقيق مشاہدات نے اس تھيورى ميں شك و ترديد كا بيچ بوديا ، ان مشاہدات فلكى كا اہم ترين ثمرہ ابن سينا كى ''مجسطي'' پر شرح ہے_

ساتويں صدى ہجرى ميں خواجہ نصيرالدين طوسى نے كتاب ''مجسطي'' پر نئے سرے سے تجزيرو تحليل ميں ذكر كياہے كہ :ابن سينا نے تحرير كيا ہے كہ ''سيارہ زہرہ سورج كى سطح پر تل كى مانند ديكھا گيا ہے'' ابن سينا كى اس تحرير نے بطليموس كے زمين كو مركز قرار ديے نظريہ ميں بہت زيادہ شكوك و شبہات پيدا كيے، كيونكہ اس نظريہ كے مطابق زہرہ سيارے كا سورج كى سطح پر ديكھا جانا يعنى گويا اسكا سورج كى سطح سے عبور كا ممكن نہ ہونا ہے، يہيں سے خواجہ نصيرالدين طوسى نے بعنوان شارح كتاب مجسطى بطليموس كے زمين كو مركز قرار دينے والے نظريہ پر بہت اہم اعتراضات كيے، انكى نگاہ ميں گويا بطليموس كى نظر كے مطابق ستاروں كازمين كے گرد گھومنا حقائق سے مطابقت نہيں ركھتا تھا جب جناب طوسى عالم اسلام كے مشرقى علاقے ميں ان شبہات كا اظہار كر رہے تھے تو اسى زمانہ ميں جناب بطروحى اشبيلى اندلس كے مسلمان ماہر فلكيات ، عالم اسلام كے مغربى علاقے يعنى ہسپانيہ كى اسلامى مملكت ميں ايسے ہى اعتراضات اور ترديد كا اظہار فرما رہے تھے _

اس كے علاوہ ديگر بہت سے اسے موارد ہيں كہ جن ميں ہم ديكھتے ہيں كہ اسلامى ماہرين فلكيات نے بطليموس كے نظريات پر ترديد اور شك و شبہہ كا اظہار كيا _

فلكيات اور فزكس كے مشہور اسلامى د انشور جناب ابن ہيثم نے اپنى كتاب '' الشكوك على بطليموس'' ميں بطليموس كى زمين كے گرد سيارات كى حركت كو ثابت كرنے كى رياضياتى روش اور اسكے ان حركات كى وضاحت كيلئے بنائے گئے پيچيدہ سيسٹم پر حقائق كو ديكھتے ہوئے تفصيلى اعتراضات اور تنقيد كى ہے_

ابوريحان بيرونى نے كتاب قانون مسعودى ميں '' مجسطي'' كے پيش كردہ فلكى قواعد اور قوانين پر تتفيد كى ،

 

55

اور بطروحى اشبيلى نے سرے سے زمين كے گرد سيارات كى گردش كے نظم و ترتيب كے حوالے سے بطليموس كى رائے كى مخالفت كى _ زمين كو مركز قرار دينے والے نظريہ بطليموس پر تنقيدات اور اعتراضات خواجہ نصير كے زمانہ ميں عروج پر پہنچ گئے ، جناب طوسى نے اپنى شہرہ آفاق كتاب'' التذكرة فى الہيئة '' ميں بطليموس كى رائے پر دقيق انداز سے اپنے اساسى ترين اعتراضات بيان كيے ہيں_

يہ اعتراضات زمين كے گرد سيارات كى گردش كى ترتيب كے علاوہ سيارات كى گردش كى رياضياتى كيفيت كے اثبات كے طريقے پر بھى كيے گئے ہيں،جناب طوسى بطليموس كے زمين كو مركز قرار دينے والے نظريہ كى بناء پر سيارات كى حركت كے بارے ميں ديے جانے دلائل كى كمزورى سے آگاہ تھے، لہذا انہوںنے تہہ در تہہ كرات كى صورت ميں سياروں كى حركت كے مختلف ماڈلز پيش كر كے كہ جو علم نجوم كى تاريخ ميں '' جفت طوسي'' كے نام سے معروف ہوئے ، بطليموس كى رائے پر قوى ترين اعتراضات اٹھائے ، طوسى كے كچھ مدت بعد ابن شاطر نے بھى طوسى كى مانند بطليموس كے نظريہ ميں سيارات كى رياضياتى حركت كو ثابت كرنے كے طريقہ پر تنقيد كى ، انكے بعد مويد الدين عرضى دمشقى نے بھى بطليموس پر نقادانہ نگاہ ڈالي_

آج تقريباً ثابت ہوچكا ہے كہ كپلر اور كوپرنيك كہ جنہوں نے علم فلكيات كے اہم ترين انكشاف يعنى سورج كو نظام شمسى كا محور قرار دينے كے نظريہ كى بنياد ركھى وہ اسلامى دانشوروں كى آراء بالخصوص خواجہ نصير كے نظريات سے بہت زيادہ متاثرتھے، يہ چند افراد كہ جنكا نام ليا گيا ہے ان كے علاوہ بھى اسلامى علم فلكيات نے بہت سے ماہرين عالم بشريت كو عطا كيے ہيں، مثلا محمدبن موسى خوارزمى كہ جنكى تاليف زيج السند ہے ، بنو صباح تين ماہرين فلكيات كہ جنكا نام ابراہيم ، محمد اور حسن ہے انہوں نے كتاب'' رسالة فى عمل الساعات المبسوطة بالہندسة فى ايّ اقليم اردت'' تحرير كى ، ابن يونس كہ جو'' زيج كبير حاكمى ''كے مصنف ہيں الغ بيگ كہ جو مشہور دانشور اور سياست دان تھے اور كتاب زيج الغ بيگ كے مصنف ہيں اور نظام الدين عبدالعلى بيرجندى كہ جو فاضل بير جندى كے عنوان سے معروف ہيں اور كتاب ابعاد و اجرام كے مصنف ہيں_

 

  815
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      امام جواد علیہ السلام اور شیعت کی موجودہ شناخت اور ...
      حدیث "قلم و قرطاس" میں جو آنحضرت{ص} نے فرمایا هے: ...
      حضرت علی (ع ) خلفاء کے ساتھ کیوں تعاون فر ماتے تھے ؟
      شیعه فاطمه کے علاوه پیغمبر کی بیٹیوں سے اس قدر نفرت ...
      کیا عباس بن عبدالمطلب اور ان کے فرزند شیعوں کے عقیده کے ...
      امام محمد باقر علیہ السلام کی حیات طیبہ کے دلنشین گوشے ...
      اگر کسی دن کو یوم مادر کہا جا سکتا ہے تو وہ شہزادی کونین ...
      قرآن مجید کی مثال پیش کرنے کا دعوی کرنے والوں کی حکمیت ...
      فاطمہ، ماں کی خالی جگہ
      تیرہ جمادی الاول؛ شہزادی کونین کے یوم شہادت پر ایران ...

 
user comment