اردو
Saturday 20th of July 2019
  888
  0
  0

اوراس سلسلے میں امام باقر فرماتے ہیں

      اوراس سلسلے میں امام باقر فرماتے ہیں :

      لاشفیع للمراةانجح عندربھا من رضازوجھا،ولماماتت فاطمة قام علیھا امیرالمومنین وقال : اللھم انی راض عن ابنة نبیک، اللھم انھا قداوحشت فانسھا [57]۔

      ”بیوی کے لئے پروردگارکے یہاں شوہرکی خوشنودی سے بڑھ کرکوئی سفارش نہیں ہے اورجب حضرت فاطمة دنیاسے رخصت ہوئیں توحضرت علی نے آپ کے پاس کھڑے ہوکرفرمایاتھا ”میرے اللہ میں تیرے نبی  کی بیٹی سے راضی ہوں میرے اللہ یہ وحشت زدہ ہے اسے انس عطافرما“۔

      گذشتہ بحث کاخلاصہ یہ ہوا کہ شوہرکوحاکمیت اورتمکین وتسلط کاحق حاصل ہے اس سے بھی بڑھ کرچونکہ شوہرکے ہاتھ میں گھرکی قیادت ہے لذا جائز حد تک اسے حق اطاعت بھی حاصل ہے پس بیوی اس کی اجازت کے بغیرگھرسے باہرنہیں جاسکتی ہے حدیث میں آیاہے:

      (ولاتخرج من بیتہ الاباذنہ فان فعلت لعنتھا ملائکة السماوات وملائکة الارض، وملائکة الرضا وملائکة الغضب…)۔

      ”بیوی شوہرکی اجازت کے بغیرگھرسے باہرقدم نہیں رکھ سکتی اوراگرایساکرے توزمین وآسمان اوررضاوغضب کے سب فرشتے اس پرلعنت کرتے ہیں“ [58]۔

      کیونکہ عورت ایک ایسی قیمتی شی ٴ ہے جسے پرامن جگہ کی ضرورت ہے اوروہ جگہ گھرہے جواس کی حفاظت کرسکتاہے۔ قرآن عورتوں کومخاطب کرتے ہوئے فرماتاہے:

      وقرن فی بیوتکن ولاتبرجن تبرج الجاھلیة الاولی [59]۔

      اوراپنے گھروں میں بیٹھی رہواورپہلے زمانہ جاہلیت کی طرح اپنابناؤاورسنگھارنہ دکھاتی پھرو“۔

      اس کے علاوہ شوہرکے دیگرحقوق بھی ہیں جیسے اس کی عزت کی حفاظت کرنااس کی عدم موجودگی میں اس کے اموال کاخیال رکھنا اس کے راز کوافشانہ کرنا اور بیوی شوہرکی اجازت کے بغیرمستحب روزہ بھی نہیں رکھ سکتی۔

      عام طورپرازدواجی زندگی کے پھلنے پھولنے کے لئے باہمی رضا،احترام اورخدمت کی ضرورت ہے جیسے پھول کوکھلے رہنے کے لئے روشنی، پانی اورہوا کی ضرورت ہوتی ہے۔

      اس نکتے کی طرف اشارہ کرنابھی ضروری ہے کہ میاں بیوی کاایک دوسرے کے حقوق کاخیال رکھنا فقط ذمہ داری کواداکرنانہیں ہے بلکہ اس پرعظیم ثواب بھی ہے۔

      پس اگرمرد اپنی بیوی کوپانی پلائے تواسے اس کابھی اجرملے گا [60]۔

      اورجوشخص اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک کرے اللہ تعالی اس کی عمرمیں اضافہ کرتاہے  [61]۔

      اوراس کے مقابلے میں جوعورت سات دن تک اپنے شوہرکی خدمت کرے اللہ تعالی اس پرجہنم کے سات دروازے بندکردیتاہے اورجنت کے آٹھ دروازے کھول دیتاہے جس سے چاہے داخل ہوجائے [62]۔

      اورجوعورت شوہرکے گھرکی ایک چیزکوایک جگہ سے اٹھاکردوسری جگہ رکھے مرتب کرنے کی خاطر، اللہ تعالی اس کی طرف نظررحمت سے دیکھتاہے اورجس کی طرف اللہ نظررحمت کرے اسے عذاب نہیں دیتا [63]۔

      نیزاس بات کی طرف اشارہ کرناضروری ہے کہ انسان کے بنائے گئے قوانین کی نسبت الہی قوانین میں کہیں زیادہ حقوق کی ضمانت دی گئی ہے کیونکہ انسان کے بنائے ہوئے قوانین میں کسی بھی شخص کے لئے حیلے، رشوت،دھونس ودھمکی اورزبردستی وغیرہ کے ذریعے حقوق سے بچ نکلنا ممکن ہوتاہے۔

لیکن قوانین الہیہ توان کے نافذکرنے کے لئے نہ فقط خارجی اسباب موجود ہیں جیسے عدالتیں وغیرہ بلکہ داخلی اسباب بھی ہیں جیسے عذاب الہی اورخداکی ناراضگی یہ عوامل انسان کوان حقوق کے اداکرنے پرمجبورکرتے ہیں آورہرمسلمان دوسروں کے حقوق اداکرکے خدائے متعال کی خشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرتاہے اورقرآن کریم دوسروں پرظلم کوآخرکاراپنے پرظلم شمارکرتاہے جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے :

      ولاتمسکوھن ضرارا لتعتدوا ومن یفعل ذلک فقدظلم نفسہ ۔

      ”خبردارنقصان پہنچانے کی غرض سے انہیں (بیویوں) نہ روکناکہ ان پرظلم کروکہ جوایساکرے گاوہ خود اپنے نفس پرظلم کرے گا“۔

      یوں ایک دینی ماحول حقوق وفرائض کی ادائیگی سے مانع ہرقسم کے شیطانی مکرکولگام دینے کاذریعہ ہے لیکن قانون سازانسان کے یہاں اپنے افکارکو لگام دینے کے فقط دوداخلی عوامل ہیں ضمیراوراخلاق اوریہ بھی اکثراوقات مختلف وجوہات کی بناپرسید ھے راستے سے منحرف ہوجاتے ہیں، اس کے یہاں معیار بدل جاتے ہیں اور برائی نیکی بن جاتی ہے اورنیکی بدی۔

      اس کے علاوہ اسلام میں جتماعی اورعبادی پہلوؤں کے درمیان بہت گہرا تعلق ہے لہذا دوسروں کے حقوق کی پروانہ کرکے اجتماعی پہلومیں ہرقسم کی سستی عبادت والے پہلوپربھی منفی اثرڈالتی ہے حدیث نبوی میں اس کی یون وضاحت کی گئی ہے:

      من کان لہ امراة تؤذیہ،لم یقبل اللہ صلاتھا، ولاحسنة من عملھا حتی تعینہ وترضیہ وان صامت الدھر… وعلی الرجل مثل ذلک الوزر، اذا کان لھا مؤذیا ظالما [64]۔

      ”جوبیوی اپنے شوہرکواذیت دے اللہ تعالی اس وقت تک اس کی نماز اورکسی دوسری نیکی کوقبول نہیں کرتاجب تک وہ اس کی مددنہ کرے اوراسے راضی نہ کرے چاہے ساری زندگی روزے رکھتی رہے اوراگرمرد اس پرظلم کرے اوراسے اذیت دے تواس پربھی ایساہی بوجھ ہوگا“۔

      خلاصہ یہ کہ میاں بیوی کے ایک دوسرے پرحقوق ہیں جن میں کسی قسم کی غفلت خاندان پرمہلک اثرات ڈالتی ہے اورانہیں اداکرنا اجتماعی وحدت فراہم کرتاہے۔

خلاصہ  :

      اس کتاب کی پہلی فصل سے مندرجہ ذیل نتائج برآمدہوتے ہیں :

      ۱۔ مکتب اسلام نے دیگرتمام مکاتب سے پہلے حقوق انسانی کوکماحقہ اہمیت دی ہے چنانچہ پیغمبر نے حجة الوداع کے موقع پرانسانوں کے درمیان مساوات کااعلان کیا امیرالمومنین نے اپنے عند حکومت میں مالک اشترکوتاریخی دستاویزتحریرکی اورامام زین العابدین نے پہلی صدی ہجری میں حقوق کے بارے میں ایک جامع رسالہ رقم فرمایا:

      اس سب کامقصد ایسے پرامن معاشرے کاقیام تھا جس کی بنیاد حق وعدالت پرہو۔

      ۲۔ قرآن کریم نے معاشرے کے اجتماعی پہلوکواتنی ہی اہمیت دی ہے جتنی کسی انسان کے اپنے رب کے ساتھ تعلق کواسی لئے افراد کے اوپرایسے بنیادی حقوق عائد کردئیے ہیں جن کاتعلق ان کے وجود اورعزت کے ساتھ ہے۔

      مثال کے طورپرحیات،امن سے استفادہ کرنا،عزت،تعلیم،فکراور اظہاررائے جیسے حقوق جوانسان کی انسانیت اورحریت کوبرقراررکھنے کے لئے ضروری ہیں۔

      ۳۔ مکتب اہل بیت کمزورلوگوں کے مادی اورمعنوی(جیسے عزت واحترام)حقوق اداکرنے پربہت زوردیتاہے۔

      ۴۔ مکتب اہل بیت نے اخلاقی حقوق اداکرنے پربھی بڑا زوردیاہے جیسے استاد، شاگرد، بھائی،ساتھی اورناصح کے حقوق اوریہ ایسے حقوق ہیں کہ جن سے دیگر مکاتب نے تجاہل برتاہے یاانہیں خاص اہمیت نہیں دی ہے۔

      ۵۔ اسلام نے معاشرے کے اندرخاندانی تعلق کے بعدہمسائگی کوسب سے زیادہ اہمیت دی ہے چنانچہ جبرئیل نے پیغمبر کوپڑوسی کے حقوق کے بارے میں مسلسل وصیتیں کیں، اہل بیت کی کثیراحادیث پڑوسی کے حقوق کے بارے میں ہیں اور امام زین العابدین کے رسالہ حقوق میں خاص طورپر۔

      اورحسن جوارکے بارے میں آئمہ کی دقیق نظرکے بارے میں ہم بھی پہلے اشارہ کرچکے ہیں کہ وہ فقط اذیت کاروکنانہیں ہے بلکہ اذیت پرصبرکرنا بھی ہے اورآئمہ نے اسے عملی کرکے دکھایاہے۔

      اوردوسری فصل میں ہم نے تفصیل کے ساتھ خاندانی حقوق کاذکرکیااوراس سے مندرجہ ذیل نتائج برآمدہوتے ہیں :

      ۱۔ اسلام خاندان کے افراد کے درمیان قائم تعلق اوراجتماعی رشتے کومضبوط کرنے کاخواہشمند ہے چنانچہ والدین کاحق ہے کہ ان کے ساتھ حسن سلوک کیاجائے اوران کاحق اللہ تعالی کے حق کے بعد دوسرے درجے میں رکھاگیاہے۔

      ۲۔ آئمہ نے حقوق والدین کوبیان کرے کے لئے کئی محوروں پرکام کیاچنانچہ اس سلسلے میں واردہونے والی قرآن کی آیات کی تفسیرکی۔ اولاد کے لئے والدین کے سامنے اخلاقی فضابرقرارکی، والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی شرعی حدودکوبیان کیااوراسے سب سے بڑا فریضہ قراردیا اوراس کے فلسفے کے طورپردوام نسل اورصلہ رحمی کاقطع نہ کرناذکرکیا، والدین کی نافرمانی کے دنیوی اوراخروی منفی اثرات کوبیان کیااوراس بارے میں اپنی عملی روش کوبہترین نمونے کے طورپرپیش کیا۔

      ۳۔ اسلام نے بچے کی ولادت سے پہلے اوربعد کے حقوق کوبیان کیاہے لذا لڑکیوں کوزندہ درگورکرنے سے ممانعت کرکے انہیں حق وجود کی ضمانت دی، شادی کرنے اورباپ بننے کی ترغیب دلائی اورغیرشادی شدہ رہنے اوررہبانیت اختیارکرنے سے منع کیااورپھرصالح اولادپیداکرنے کے لئے شوہرکوصالح بیوی انتخاب کرنے کاحکمم دیااوربیٹے کے باپ کی طرف منسوب ہونے کے حق کومحفوظ کرنے کے لئے ماں پرتمام رذائل سے دوررہنا لازم قراردیا اسی طرح اسلام نے بچے کوولادت کے بعد کے حقوق کی بھی ضمانت دی ہے جیسے زندہ رہنے کاحق چنانچہ اسلام کسی بھی صورت میں اورکسی بھی ذریعے سے ان کی زندگی ختم کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

      ۴۔ اسلام نے اولاد کویہ حق دیاہے کہ ان کے درمیان عدل ومساوات قائم کی جائے اورلڑکے اورلڑکی کے درمیان امتیاز نہ کیاجائے اورآئمہ کی سیرت بھی اس کی گواہ ہے چنانچہ انہوں نے ہمیشہ لڑکے کے مقابلے میں لڑکی کوکم اہمیت دینے کی فکرکوختم کرنے کے لئے کام کیا۔

      ۵۔ بچے کی تربیت میں اسلام نے دیگرمکاتب پرسبقت کرنے دئے مرحلہ اورتربیت کی روش کواختیارکیااوربچے کی عمرکوتین حصوں میں تقسیم کیااورہرمرحلے میں بچے کی طاقت کے مطابق اس کی خاص قسم کی تربیت کرنے کاحکم دیا۔

      ۶۔ لڑکے اورلڑکی کے درمیان وراثت کے فرق والے شبہے کاآئمہ نے یوں جواب دیاکہ یہ فرق عین دل ہے کیونکہ لڑکی پرنہ جہاد ہے اورنہ نان ونفقہ بلکہ اس کا اپناخرچ بھی مرد کے ذمے ہے۔

      ۷۔ آئمہ نے اولاد کووصیت کرنے کوآنے والی نسلوں تک اپنی روشن افکاراورکامیاب تجارب کے منتقل کرنے کااس مستقل ذریعہ قراردیا۔

اورتیسری فصل جومیاں بیوی کے باہمی حقوق کے بارے میں تھی سے مندرجہ زیل نتائج برآمدہوتے ہیں :

      ۱۔ اسلام نے بڑی دقت کے ساتھ میاں بیوی کے عقد اورباہمی عہد سے پیداہونے والے حقوق وفرائض کوبیان کیاہے۔

      ۲۔ بیوی جواصل خلقت اورذمہ داری کے لحاظ سے مرد کے مساوی ہے بعض بنیادی حقوق کی مالک ہے ان میں سے بعض مادی ہیں جومعشیت سے متعلق ہیں اوربعض معنوی ہیں جوحسن معاشرت سے متعلق ہیں۔

      ۳۔ شوہرکے بھی بیوی پرحقوق ہیں اورسب سے بڑاحق حاکمیت والاہے لیکن اسلام اسے بیوی کوذلیل کرنے کاذریعہ بنانے کوپسند نہیں کرتا اوراجازت نہیں دیتا کہ حاکمیت کے بل بوتے پربیوی کے مقام کوپست کرے اوراس کے حقوق کی پائمالی کرے نیزشوہرکاحق ہے کہ بیوی اس کی اجازت کے بغیرگھر سے نہ نکلے اوراسے اپنے آپ پرکامل تسلط اورتمکین دے۔

      اورآخرمیں ہم نتیجہ کے طورپریہ بات عرض کرناچاہتے ہیں کہ قوانین الہی انسان کے بنائے ہوئے قوانین کی نسبت حقوق کی پاسداری کی ضمانت زیادہ دیتے ہیں کیونکہ انسان کے بنائے ہوئے قوانین سے انسان بچ نکلنے میں کامیاب ہوجاتاہے لیکن الہی قوانین میں افراد کوکنٹرول کرنے کے لئے داخلی عوامل ہیں جسے عذاب الہی اورخدا کی ناراضگی اورخارجی عوامل ہیں جیسے سزاکے قوانین ۔

      نیزہم نے یہ بھی بیان کیاتھا کہ اسلام اجتماعی اورعبادی پہلوؤں کے درمیان گہرے ارتباط کاقائل ہے اوراجتماعی پہلو میں ہرقسم کی غفلت عبادی پہلوپرمنفی اثرڈالتی ہے۔

      والحمدللہ علی ھدایتہ والصلاة والسلام علی اشرف الانبیاء والمرسلین محمد وعلی آلہ الطیبین الطاہرین وصحبہ المخلصین ومن سارعلی نہجھم الی یوم الدین وآخردعوانا ان الحمد للہ رب العالمین



  888
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      دفاعی نظریات پر مشتمل رہبر انقلاب کی ۱۲ کتابوں کی ...
      حسین میراحسین تیراحسین رب کاحسین سب کا(حصہ دوم)
      دکن میں اردو مرثیہ گوئی کی روایت
      دکن میں اردو مرثیہ گوئی کی روایت (حصّہ دوّم )
      دکن میں اردو مرثیہ گوئی کی روایت (حصّہ سوّم )
      مشخصات امام زین العابدین علیہ السلام
      امام حسین علیہ السلام
      اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی کاوشوں سے پرتگال کا اسلامی ...
      شوہر، بيوي کي ضرورتوں کو درک کرے
      بڑي بات ہے

 
user comment