اردو
Friday 19th of April 2019
  1221
  0
  0

اھل بیت علیھم السلام توریت و انجیل کی نگاہ میں

اھل بیت علیھم السلام توریت و انجیل کی نگاہ میں

قرآن مجید اپنی بعض آیات میں اس بات کی خبر دیتا ھے کہ پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله و سلم) کے اوصاف اور آپ کی نبوت کی نشانیاں گزشتہ (آسمانی) کتابوں مخصوصاً توریت و انجیل میں بیان ھوئے ھیں، اور یھود و نصاریٰ آنحضرت (صلی الله علیه و آله و سلم) کی بعثت سے پھلے توریت و انجیل کی آیات کی بنا پر آنحضرت (صلی الله علیه و آله و سلم) کو پہچانتے تھے اور آپ کے ظھور کے منتظر تھے تاکہ آنحضرت (صلی الله علیه و آله و سلم) سے ملحق ھونے اور آپ کی حکومت و معنویت کے زیر سایہ دشمنوں پر کامیاب ھوجائیں۔[1]

<الَّذِینَ یَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِیَّ الْاٴُمِّیَّ الَّذِی یَجِدُونَہُ مَکْتُوبًا عِنْدَہُمْ فِی التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِیلِ۔۔۔>[2]

”جو لوگ رسول نبی امی کا اتباع کرتے ھیں جس کا ذکر اپنے پاس توریت اور انجیل میں لکھا ھوا پاتے ھیں۔۔۔۔“

حضرت امیر الموٴمنین علیہ السلام سے ایک حدیث کے ضمن میں منقول ھے کہ ایک یھودی شخص نے حضرت رسول اکرم (صلی الله علیه و آله و سلم) سے کہا: میں نے توریت میں آپ کے اوصاف اس طرح پڑھے ھیں:

”محمد بن عبد اللہ، جائے پیدائش مکہ، جائے ہجرت مدینہ طیبہ، جو بد اخلاق، گرم مزاج، جنگجو اور فحاشی کرنے والا نھیں ھے، میں گواھی دیتا ھوں کہ خدائے وحدہ لاشرک کے علاوہ کوئی خدا نھیں ھے اور آپ اسی خدا کے بھیجے ھوئے رسول ھیں، اور یہ میرا مال ھے ، لہٰذا آپ اس میں خدا کے فرمان کے مطابق حکم فرمائیں“۔[3]

<وَإِذْ قَالَ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ یَابَنِی إِسْرَائِیلَ إِنِّی رَسُولُ اللهِ إِلَیْکُمْ مُصَدِّقًا لِمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ یَاٴْتِی مِنْ بَعْدِی اسْمُہُ اٴَحْمَد۔۔۔>[4]

”اور اس وقت کو یاد کرو جب عیسیٰ بن مریم نے کہا کہ اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ھوں اپنے پھلے کتاب توریت کی تصدیق کرنے والا اور اپنے بعد کے لئے ایک رسول کی بشارت دینے والاھوں جس کا نام احمد ھے ۔۔۔۔“

حضرت مسیح اور ظھور پریکلیطوس[5]

انجیل یوحنا

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یوحنا کی فصل ۱۴، ۱۵،اور ۱۶کی نقل کے مطابق اپنے بعد ایک شخص بنام ”پارقلیطا“ پریکلیطوس کے ظھور کی بشارت دی ھے، اور اس کو سردار کائنات اور اس کی شریعت کو ابدی کے عنوان سے بیان کیا ھے:

(یوحنا ، ۱۴: ۱۶) میں ارشاد فرمایا:

”واَنَا بِتْ طالبِن مِنْ بِبِی وَخیٖنَ پارقَلیطا بِتْ یَبِلْ لُوخُونْ ھَلْ اَبَدْ“۔

”اور میں باپ سے درخواست کروں گا اور وہ تمھیں دوسرا فارقلیطا عطا کرے گا جو ھمیشہ کے لئے تمہارے ساتھ رھے گا“۔

اور (یوحنا ، ۱۵: ۲۶) میں ارشاد فرمایا:

”ایْنَ اِیْمِنْ داتَیِ پارقَلیطا ھُودِ اَنَا شادوِرِون لِکِسْلَوْخُوْن مِنْ لِکِسْ بَبِیْ رُوخادِ سَرَ سْتُوتا ھُوْ دِمِنْ لِکِس بِبِّی پالِتْ ھَوْبِتْ یَبِل شَھُدوتْ بِسْ دِیّی“۔

”اور جب وہ فارقلیطا آئے گا جب باپ کی طرف سے تمہاری طرف بھجواؤں گا، حقیقی روح جو باپ کی جانب سے آئے گی، وہ میرے بارے میں گواھی دے گا“۔

لفظ ”پارقلیطا“(جو سریانی لفظ ھے) اور اصل یونان ”پریکلیطوس“ کا ترجمہ ھے جس کے معنی بہت زیادہ تعریف کیا ھوا اور بے نہایت نامدار کے معنی میں ھے، جس کا عربی زبان ترجمہ : محمد اور احمد ھے۔

کتاب ادریس

کتاب ادریس[6] میں بھی حضرت پیغمبر اسلام (صلی الله علیه و آله و سلم) کی فارقلیطا کے نام کی بشارت دی گئی ھے اور اس بزرگ آسمانی شخصیت اور علی علیہ السلام، فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور حسنین علیھما السلام کو کائنات کا محور و مرکز اور کائنات کی خلقت کا مقصد قرار دیا ھے ، جیسا کہ بیان ھوتا ھے:

جس وقت حضرت ادریس علیہ السلام ”بابل“ کی عبادتگاہ میں تھے، ایک روز اپنے اصحاب کے سامنے اس وحی الٰھی کی حکایت فرمائی:

ایک روز فرزندان آدم (تمہارے سب کے باپ) اور ان کی اولاد کے درمیان یہ اختلاف ھوا کہ مخلوقات میں افضل کون ھے، بعض افراد نے کہا:ھمارے باپ آدم  افضل ھیں، کیونکہ خداوندعالم نے ان کو اپنے دست قدرت سے خلق فرمایا اور اپنی روح پھونکی، فرشتوں کو ان کے احترام و تعظیم کا حکم دیا اور ان کو ملائکہ کا استاد قرار دیا، ان کو زمین کی خلافت دی اور تمام مخلوقات کو ان کا مطیع قرار دیا۔

بعض لوگوں نے کہا: ملائکہ ھمارے باپ حضرت آدم سے افضل ھیں کیونکہ انھوں نے کبھی بھی حکم خدا کی مخالفت نھیں کی اور نہ کرتے ھیں، جبکہ جناب آدم (علیہ السلام) نے حکم خدا سے سرپیچی کی[7]، اور ان کو اپنی زوجہ کے ساتھ جنت سے نکالا گیا ، آخر میں جناب آدم پر خدا نے اپنا رحم و کرم فرمایا اور ان کی توبہ قبول فرمائی، اور ان کی باایمان اولاد کو جنت کا وعدہ دیا۔

ایک گروہ نے کہا: سب سے عظیم فرشتہ جناب جبرئیل اشرف المخلوقات ھیں جو ربّ العالمین کے امین ھیں۔

ان کے درمیان یہ اختلاف بڑھتا گیا، اور ہر ایک نے جناب آدم علیہ السلام کے بارے میں اپنا اپنا نظریہ پیش کیا۔

انھوں نے فرمایا: اے فرزندان عزیز! سنو، میں تم کو بتاتا ھوں کہ اشرف مخلوقات کون لوگ ھیں:

جب خداوندعالم نے مجھے پیدا کیا اور اپنی روح میرے بدن میں پھونکی، میں اس وقت بیٹھا ھوا تھا میں نے الٰھی عرش اعظم کو دیکھا تو میں نے دیکھا پانچ نور عرش الٰھی پر جلوہ فگن ھیں اور ان کی عظمت، جلال و جمال و کمال و حُسن و ضیاء اور ان کے نور نے مجھے حیرت میں ڈال دیا۔

میں نے عرض کی: پالنے والے! یہ باعظمت نور کس کے ھیں؟

خطاب ھوا: یہ اشرف المخلوقات ھیں اور میرے اور دوسری مخلوقات کے درمیان واسطہ ھیں۔

”اِنّی لَھِوْیَوْہْ اَنا لِبْریْن وٰارَخْ لا شِمایْ وَلاٰ اَلْ اَرْعَا وَلاَ الْپِردِسْ وَلاَ الکَیھِنْ وَلاَ الْشَّمِشْ وَلاَ السَّعْرْ“۔[8]

”اگر یہ (حضرات) نہ ھوتے میں تمھیں (بھی) خلق نہ کرتا، اور نہ زمین و آسمان ، نہ جنت و دوزخ اور نہ آفتاب و مہتاب کو خلق کرتا“۔

میں نے عرض کیا: پروردگارا! ان کے نام کیا کیا ھیں؟

خطاب ھوا: عرش کے نیچے دیکھو۔

جب میں نے دیکھا تو دیکھا ان حضرات کے نام اس طرح لکھے ھوئے ھیں:

”پارَقْلیطا (محمد) ایلیٰا (علی) طیطِہ (فاطمة) شِپَّرْ(حسن) شُپَّیْرْ (حسین)“۔

”محمد، علی، فاطمہ، حسن و حسین (علیھم السلام)“۔

اور یہ بھی لکھا ھوا دیکھا:

”ھَلیلُوہْ لِتْ اَلَہَ شُوقْ مِنّی (محمد) اِنِوّی دِاَلَہَ“۔

”اے میری مخلوقات! میری تسبیح پڑھوکہ میرے علاوہ کوئی خدا نھیں ھے اور محمد، اللہ کے    رسول ھیں“۔

 

انجیل برنابا

گزشتہ آیات کے مطابق (برنابا ۳۹: ۱۴ تا ۲۷ میں) تحریر ھے:

”(۱۴) پس جب آدم (علیہ السلام) اپنے پیروں پر کھڑے ھوئے تو انھوں نے ھوا میں سورج کی طرح چمکتے ھوئے الفاظ میں لکھا دیکھا: لا الہ الاّ اللہ، محمد رسول اللہ۔

(۱۵) اس موقع پر جناب آدم نے اپنا منھ کھولا اور کہا کہ میں تیرا شکر کرتا ھوں اے میرے پروردگار، اے میرے خدا، کیونکہ تو نے مجھ پر اپنا لطف و کرم کیا اور مجھے خلق فرمایا۔

(۱۶) لیکن میں تیری بارگاہ میں درخواست کرتا ھوں کہ مجھے ”محمد رسول اللہ“ کے معنی بتادے۔

 (۱۷) پس خداوندعالم نے جواب دیا: اے میرے بندہ آدم، مرحبا، بے شک میں تمھیں بتاتا ھوں کہ تم کو میں نے پھلا انسان خلق فرمایا ھے، اور جس کو تم نے دیکھا یہ تمہاری اولاد میں سے ھے، اور یہ جلد دنیا میں نھیں آئے گا بلکہ تمہارے بہت سال بعد اسے دنیا میں بھیجا جائے گا۔

(۲۰) اور ابھی جلدی ھے کہ وہ میرے رسول بن کر بھیجے جائیں، میں نے تمام چیزوں کو انھیں کے لئے خلق کیا ھے۔

(۲۱) وہ عنقریب کائنات کو نورانی کردیں گے۔

(۲۲) یہ وہ ھے جس کی روح کو ساٹھ ہزار سال ہر چیز کو خلق کرنے سے پھلے پیدا کی ھے۔

(۲۳) پس جناب آدم نے خدا کی بارگاہ میں (دوبارہ)درخواست کی اور کہا: پروردگارا! اس تحریر کو مجھے عنایت کر، میرے ہاتھوں کی انگلیوں کے ناخونوں پر۔

(۲۴) پس خداوندعالم نے پھلے انسان کے دونوں انگوٹھوں پر وہ لکھی ھوئی تحریر عطا کی۔

(۲۵)داہنے ہاتھ کے انگوٹھے پر یہ لکھا: لا الہ الا اللہ۔

(۲۶)اور بائےں ہاتھ کے انگوٹھے پر لکھا: محمد رسول اللہ، پس اس کے بعد انسان اول نے محبت پدری کے عنوان سے ایک لفظ کو چوما اور بوسہ دیا۔

(۲۷)اور اپنی آنکھوں کو ان پر ملا اور کہا: مبارک ھو وہ دن جو جلد نھیں آئے گا کائنات میں“۔

اور فخر اسلام کتاب انیس الاعلام[9] میں فرماتے ھیں:

میں نے اسلام سے پھلے اپنے مدرسہ کے پروٹسنٹ عیسائیوں کے کتابخانہ میں ایک قلمی انجیل جو کھال پر لکھی ھوئی تھی ، اس میں دیکھا:

حضرت عیسیٰ مسیح نے شمعون پطرس کو وصیت کرتے ھوئے لکھا:

اے شمعون! خداوندعالم نے مجھ سے فرمایا ھے کہ میں تمھیں وصیت کروں سید المرسلین اور اپنے حبیب احمد کی، جو سرخ اونٹ کے مالک اور چاند کی طرح چمکتی ھوئی صورت ، پاک و پاکیزہ دل، مستحکم دلیل کہ جو اولاد آدم میں سب سے عظیم، تمام اھل کائنات کے رحمت، اور پیغمبر امی عربی ھے۔

اے عیسیٰ! بنی اسرائیل سے کہہ دو کہ ان کی تصدیق کریں اور اس پر ایمان لائیں۔

میں نے عرض کی:

”یا اَلَہَ مَنی لی آہَ؟مِری اَلَہ یٰا یَشوُعْ مُحَمَّد نِوَّیْ دِاَلَہَ لِکُلِّہْ عالَم،طُووٰا عٰالُّہْ مِنْ نَبِّی وِطُووالِشَمِعْیان دِقَلُو بِخْتَتُورٰا بٰاوَبِرُونُو حَتْجٰا اِشْتُمِہُ وَاِسْراشِنّی بٰارْ دِیْوخُ بِتْ شٰادْرِنّی“۔(سریانی)

”پرودگارا! وہ بزرگوار کون ھیں؟ خداوندعالم نے جواب دیا: اے عیسیٰ! وہ محمد  تمام عالمین کے لئےمیرے رسول ھیں، خوش نصیب ھے یہ میرا رسول، اور خوش نصیب ھیں وہ افراد جو ان کے حکم پر عمل کرے، ۶۱۰ سال بعد ان کو مبعوث برسالت کروں گا“۔

 



[1] سورہٴ بقرہ (۲)، آیت ۸۹۔

[2] سورہٴ اعراف (۷)، آیت ۱۵۷۔

[3] امالی صدوق، ص ۴۶۵، مجلس نمبر ۷۱، حدیث ۶؛ بحار الانوار، ج ۱۶، ص ۲۱۶، باب ۹، حدیث ۵؛ تفسیر صافی، ج ۱، ص ۶۱۶۔

[4] سورہٴ صف (۶۱)، آیت ۶۔

[5] اس باب کے مطالب کتاب ”بشارت عہدین “سے کچھ اختصار اور اضافہ کے ساتھ بیان کئے گئے ھیں۔(موٴلف)۔

[6] یہ کتاب  ۱۸۹۵ء میں لندن میں سریانی زبان میں چھپی ھے اور ابھی تک موجود بھی ھے۔

[7] اگر کوئی کھے کہ جناب آدم علیہ السلام نے خداوندعالم کے کس حکم سے سرپیچی کی تھی؟ اس سوال کے جواب عرض ھے کہ حکم کی دو قسمیں ھوتی ھیں: ایک حکم مولوی کھلاتا ھے جس کی مخالفت گناہ ھوتی ھے، لیکن دوسرا حکم ارشادی ھوتا ھے کہ جس کی مخالفت گناہ نھیں ھوتی، جیسے ڈاکٹر کے کہنے پر عمل نہ کرنا۔ قرآن مجید کی دیگر آیات اور معتبر روایات کے پیش نظر یہ ثابت ھے کہ وہ حکم خدا جس کی مخالفت جناب آدم علیہ السلام نے کی تھی وہ دوسری قسم سے تھا لہٰذا کوئی گناہ نھیں تھا، بلکہ وہ صرف جنت سے باہر آنے کا سبب بنا۔(مترجم)

[8] نقل از اصل سریانی۔

[9] انیس الاعلام، ج ۲، ص ۱۹۹۔

  1221
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      امام جواد علیہ السلام اور شیعت کی موجودہ شناخت اور ...
      حدیث "قلم و قرطاس" میں جو آنحضرت{ص} نے فرمایا هے: ...
      حضرت علی (ع ) خلفاء کے ساتھ کیوں تعاون فر ماتے تھے ؟
      شیعه فاطمه کے علاوه پیغمبر کی بیٹیوں سے اس قدر نفرت ...
      کیا عباس بن عبدالمطلب اور ان کے فرزند شیعوں کے عقیده کے ...
      امام محمد باقر علیہ السلام کی حیات طیبہ کے دلنشین گوشے ...
      اگر کسی دن کو یوم مادر کہا جا سکتا ہے تو وہ شہزادی کونین ...
      قرآن مجید کی مثال پیش کرنے کا دعوی کرنے والوں کی حکمیت ...
      فاطمہ، ماں کی خالی جگہ
      تیرہ جمادی الاول؛ شہزادی کونین کے یوم شہادت پر ایران ...

 
user comment