اردو
Sunday 19th of May 2019
  807
  0
  0

اھل بیت علیھم السلام عارفوں کے لئے سر مشق

اھل بیت علیھم السلام عارفوں کے لئے سر مشق

 

گزشتہ صفحات میں اس بات کی طرف اشارہ ھوا کہ جادہٴ حق پر چلنے والے انسان کو اپنی زندگی میں اھل بیت علیھم السلام کو سر مشق اور نمونہ عمل قرار دینا چاہئے۔

خداوندمہربان نے فضائل حاصل کرنے اور کمالات تک پہنچنے کا راستہ بیان کیا ھے، اس کے بعد حکم دیا ھے کہ تم عارف کے پیچھے پیچھے اور معصوم رہبر کی اقتدا میں اس راہ کو طے کرو تاکہ مقصد تک پہنچ جاؤ۔

البتہ ایسا نھیں ھے کہ قدم بقدم تمام منزلوں میں ان کے ساتھ ھوجاؤ، (کیونکہ) وہ اس منزل پر پہنچ چکے ھیں کہ جبرئیل جیسا فرشتہ بھی وہاں تک نھیں پہنچ سکا، اور یہ کہتا ھوا نظر آتا ھے:

”لَوْ دَنَوْتُ اٴنْمُلَةً لاحْتَرَقْتُ۔“[1]

”اگر انگلی کے ایک پور کے برابر بھی قدم آگے بڑھا تو بے شک جل جاؤں گا“۔

انسان کے لئے نمونہ عمل

خداوندعالم نے اھل بیت علیھم السلام کو انسانوں کے لئے سر مشق اور نمونہ عمل قرار دیا ھے تاکہ ہر شخص اپنی استعداد اور ظرفیت کے مطابق ان سے فیضیاب ھوسکے۔

<اٴَنزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَسَالَتْ اٴَوْدِیَةٌ بِقَدَرِہَا۔۔۔>[2]

”اس آسمان سے پانی برسایا تو وادیوں میں بقدر ظرف بہنے لگا۔۔۔۔“

آیت کی تاویل میں کہا گیا ھے: خداوندعالم نے عالم بالا سے آب حیات اور علم و دانش نازل کیا ھے پس ہر چیز اور ہر شخص اپنی گنجائش کے اعتبار سے فیضیاب ھوتا ھے۔

جو گڑھا اور گھاٹی گہری اور وسیع اور وجودی وسعت کے لحاظ سے بہت بزرگ اور وسیع ھو تو وہ آب حیات سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتا ھے اور خود کو وجودی اور معرفتی لحاظ سے اس مقام پر پہنچا سکتاھے کہ مقام احسان تک پہنچ جاتا ھے۔

 خداوندعالم فرماتا ھے:

<لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللهِ اٴُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔۔۔>[3]

”(اے مسلمانو!) تمہارے لئے رسول اللہ کی زندگی بہترین نمونہٴ عمل ھے۔۔۔۔“

یہ نمونہ عمل ھونا پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله و سلم) سے مخصوص نھیں ھے بلکہ خود خدا اور پیغمبر اسلام (صلی الله علیه و آله و سلم) نے یہ اعلان کیا ھے کہ رسول اللہ (صلی الله علیه و آله و سلم) کے بعد یہ نمونہ عمل ھونا اھل بیت علیھم السلام تک پہنچے گا، کیونکہ یھی حضرات پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله و سلم) کے حقیقی خلفا ، اوصیا، جانشین اور وارث ھیں، اور نمونہ عمل ھونا خود آنحضرت (ص)  کی ذات نھیں ھے بلکہ ایک عہدہ اور مقام ھے جو پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله و سلم) سے اھل بیت علیھم السلام کی طرف منتقل ھوا ھے۔

راہ ولایت پر چلنے والے کو معلوم ھونا چاہئے کہ غیبی فرشتوں کے ساتھ اُنس اور ان کی تسبیح کو سننا پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله و سلم) اور اھل بیت علیھم السلام کی پیروی کے بغیر ممکن نھیں اور ان حضرات کی اقتدا کئے بغیر اس راہ کو طے کرنا غیر ممکن بلکہ محالات میں سے ھے۔

حضرت رسول اکرم (صلی الله علیه و آله و سلم) نے فرمایا:

”الرَّوْحُ وَالرَّاحَةُ، وَالرَّحْمَةَ وَالنُصْرَةُ، وَالیُسْرُ وَالیَسَارُ، وَالرِّضَا والرِّضْوَانُ، وَالمَخْرَجُ وَالفَلْجُ، وَالقُرْبُ وَالمَحَبَّةُ، مِنَ اللّٰہِ وَمِنْ رَسُولِہِ لِمَنْ اٴَحَبَّ عَلِیّاً، وَاٴَنْتُمْ بالاٴَوْصِیَاءِ مِنْ بَعْدِہْ۔“[4]

”آسائش اور راحت، رحمت اور نصرت، توانگری اور کشائش، خوشنودی اور رضوان، مشکلوں سے نجات کا راستہ، کامیابی، خدا اور اس کے رسول کی دوستی صرف اسی شخص کے لئے ھے جو علی (علیہ السلام) کو دوست رکھتا ھے اور ان کے بعد ائمہ کی اقتدا کرتا ھو“۔

حضرت امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:

”مَن سَرَّہُ اٴن یَنْظُرَ اِٴلَی اللّٰہِ بِغَیْرِ حِجَابٍ، وَیَنْظُرَاللّٰہُ اِلَیْہِ بِغَیْرِ حِجَابٍ، فَلیَتَوَلَّ آلَ مُحَمَّدٍ، ولْیَتَبَرَّاٴْ مِنْ عَدِوِّھِمْ، وَلْیَاٴْتَمَّ بِاِٴمامِ المُوٴْمِنِیْنَ مِنْھُمْ، فَاِٴنَّہُ اِٴذَا کاَنَ یَوْمُ الْقِیَامَةِ نَظَرَ اللّٰہِ اِلَیْہِ بِغَیْرِ حِجَابٍ، وَنَظَرَ اِلَی اللّٰہِ بِغَیْرِ حِجَابٍ۔“[5]

”جو شخص اس بات پر خوش ھے کہ خدا کو (دل کی آنکھوںسے) بغیر حجاب کے دیکھے اور خدا بھی اس پر بے حجاب نظر کرے تو اس کو آل محمد(ع) کی ولایت قبول کرنا چاہئے اور ان کی دشمنی سے دور رہنا چاہئے ، اور اگر کوئی ان میں سے کہ مومنین کے رہبر ھیں؛ پیروی کرے تو جب روز قیامت آئے گا تو خداوندعالم اس کو بلا حجاب دیکھے گا اور وہ بھی خدا کو بغیر حجاب کے دیدار کرے گا“!

اھل بیت علیھم السلام نے چونکہ تمام منزلوں اور مقامات اور بندگی و عبودیت کے تمام راستوں نیز معنویت و فضیلت کے تمام راستوں کو مکمل اخلاص کے ساتھ طے کیا ھے، سبھی کے لئے سرمشق اور نمونہ عمل ھیں۔

یہ حضرات اس مقام پر ھیں کہ جس مرحلہ میں قرآن کثیر ھے وہ بھی کثرت پر ناظر ھیں اور جس منزل میں بسیط ھے یہ بھی بساطت کا مشاہدہ کرتے ھیں کیونکہ ان کی حقیقت وھی قرآن کی حقیقت ھے ان کے بغیر قرآن سمجھنا اور مقام قُرب تک پہنچنا ممکن نھیں ھے۔

طالبان دنیا، اھل بیت علیھم السلام کو درک نھیں کرسکتے

جو شخص اپنی زندگی کے ہر پھلو میں اھل بیت علیھم السلام کی طرف رجوع کرے اور اپنے درک و فھم اور گنجائش کے لحاظ سے ان حضرات کی ولایت و حقیقت سے فیضیاب ھو کہ ان کی ولایت اور حقیقت خدا کی ولایت اور قرآن کی حقیقت ھے۔

کم گنجائش والے اور درمیانی قسم کے انسان اور وجودی وسعت رکھنے والا (ہر ایک کسی نہ کسی طرح سے) اھل بیت علیھم السلام کو نمونہ عمل قرار دیتے ھوئے ان کی حقیقت کو درک کرتا ھے اور اس پر ایمان رکھتا ھے اور ان حضرات کی اقتدا کرتا ھے اور اسی ادراک و ایمان اور اقتدا کی بنیاد پر اجر و ثواب پاتا ھے، لیکن مادیت پرستی کے کنویں میں غرق ھونے والے جو اس سے نکلنا بھی نھیں چاہتے :

<۔۔۔کَمَنْ مَثَلُہُ فِی الظُّلُمَاتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِنْہَا ۔۔۔>[6]

”۔۔۔اس کی مثال اس جیسی ھو سکتی ھے جو تاریکیوں میں ھو اور ان سے نکل بھی نہ سکتا ھو۔۔۔۔“

ہر گز رسالت و ولایت کی حقیقت کو درک نھیں کرسکتے اور اس وجہ سے کہ نہ صرف ان کو اپنی زندگی کے لئے سرمشق اور نمونہ عمل قرار نھیں دیتے بلکہ ان کا انکار کرتے ھیں!

اس وجہ سے قرآن مجید نے بیان کیا ھے کہ اس بات کا راز کہ کچھ لوگ پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله و سلم) کو سر کی آنکھوں سے تو دیکھتے ھیں لیکن آپ کی شخصیت اور رسالت و نبوت کو درک نھیں کرتے، یہ ھے ایسے لوگ مادیت پرستی کے کنویں اور ھوا و ھوس کے دردناک گڑھے میں غرق ھوچکے ھیں اور جس طرح انھوں نے صراط مستقیم کو نھیں پہچانا پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله و سلم) او رآپ کے اھل بیت علیھم السلام کو بھی نھیں پہچانا، بالفاظ دیگر: ایسے لوگ قرآن کے باطن کو برداشت نھیں کرسکتے یا یا برداشت کرنا نھیں چاہتے؛ وہ اھل بیت علیھم السلام کے باطن کو بھی نھیں پہچان سکتے کیونکہ ان کی زندگی مخصوصاً ان کے دل پر ایسا پردہ ھے جو اھل بیت  علیھم السلام کی حقیقت ان کی رہبری اور امامت کو درک نھیں کرسکتا۔

یہ پردہ اور حجاب وھی ھے کہ جو گناھوں کی کثرت، فسق و فجور اور ہٹ دھرمی سے پیدا ھوتا ھے اور حقیقت کے مشاہدہ میں رکاوٹ بن جاتا ھے!

<۔۔۔وَتَرَاہُمْ یَنظُرُونَ إِلَیْکَ وَہُمْ لاَیُبْصِرُونَ >[7]

”۔۔۔اور دیکھو گے تو ایسا لگے گا جیسے تمہاری ھی طرف دیکھ رھے ھیں حالانکہ دیکھنے کے لائق بھی نھیں ھیں۔“

دیکھ سکتے ھیں، لیکن بصیرت نھیں رکھتے، ظاہر کو د یکھتے ھیں لیکن حقیقت کو دیکھنے کے لئے اندھے ھیں، یہ وھی ھیں جن کی باطنی آنکھ پر گناھوں کی زیادتی اور جاھلانہ تعصب اور ہٹ دھرمی نے پردہ ڈال دیا ھے:

<۔۔۔ْ اٴَعْیُنُہُمْ فِی غِطَاءٍ عَنْ ذِکْرِی ۔۔۔>[8]

”۔۔۔ جن کی نگاھیں ھمارے ذکر کی طرف سے پردہ میں تھیں۔۔۔۔“



[1] مناقب، ج۱، ص۱۷۸؛ بحار الانوار، ج۱۸، ص۳۸۲، باب۳، حدیث۸۶۔

[2] سورہٴ رعد (۱۳)، آیت۱۷۔

[3] سورہٴ احزاب (۳۳)، آیت۲۱۔

[4] تفسیر العیاشی، ج۱، ص۱۶۹۔

[5] المحاسن، ج۱، ص۶۰، باب۷۸، حدیث۱۰۱؛ بحار الانوار، ج۲۷، ص۹۰، باب۴، حدیث۴۲؛ اھل بیت علیھم السلام در قرآن وحدیث ، ج۲، ص۵۸۰، حدیث۸۸۰۔

[6] سورہٴ انعام (۶)، آیت۱۲۲۔

[7] سورہٴ اعراف (۷)، آیت۱۹۸۔

[8] سورہٴ کہف (۱۸)، آیت۱۰۱۔

  807
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      امام کاظم علیہ السلام کی مجاہدانہ زندگی کے واقعات کا ...
      امام جواد علیہ السلام اور شیعت کی موجودہ شناخت اور ...
      حدیث "قلم و قرطاس" میں جو آنحضرت{ص} نے فرمایا هے: ...
      حضرت علی (ع ) خلفاء کے ساتھ کیوں تعاون فر ماتے تھے ؟
      شیعه فاطمه کے علاوه پیغمبر کی بیٹیوں سے اس قدر نفرت ...
      کیا عباس بن عبدالمطلب اور ان کے فرزند شیعوں کے عقیده کے ...
      امام محمد باقر علیہ السلام کی حیات طیبہ کے دلنشین گوشے ...
      اگر کسی دن کو یوم مادر کہا جا سکتا ہے تو وہ شہزادی کونین ...
      قرآن مجید کی مثال پیش کرنے کا دعوی کرنے والوں کی حکمیت ...
      فاطمہ، ماں کی خالی جگہ

 
user comment