اردو
Tuesday 26th of March 2019
  692
  0
  0

غزوہ بنى قُرَيظَہ

119

غزوہ بنى قُرَيظَہ

بروز بدھ 23 ذى القعدہ 5 ھ بمطابق 17 اپريل 627 ئ

احزاب كا شكست خوردہ لشكر مايوسى كے عالم ميں مدينہ سے بھاگ گيا _ خندق كھودنے اور بيرونى دشمنوں سے مقابلہ كرنے ميں ہفتوں كى مسلسل اور انتھك كوشش كے بعد مسلمان اپنے گھروں كو لوٹے تا كہ آرام كريں _ مدينہ ميں ابھى پورے طريقہ سے امن و امان برقرار نہيںہونے پايا تھا كہ رسول خدا (ص) نے وحى كے ذريعہ اطلاع ملنے كے بعد بلال كو حكم ديا كہ وہ لوگوں كو جمع كرنے كے لئے اس طرح عام اعلان كريں كہ '' جو خدا اور رسول(ص) كا پيروكارہے وہ نماز عصر قلعہ بنى قُريَظہ كے پاس پڑھے''_

اسى دن عصر كے وقت رسول خدا (ص) تين ہزار جاں بازوں كے ساتھ بنى قُريَظہ كے قلعہ كى طرف چل پڑے، لشكر اسلام كے آگے آگے مجاہدين اسلام كا علم اٹھائے ہوئے حضرت على (ع) چل رہے تھے _ چنانچہ آپ(ع) بقيہ مسلمانوں كے پہنچنے سے پہلے ہى چند افراد كے ساتھ قلعہ كے پاس پہنچ گئے _

لشكر اسلام نے قلعہ بنى قُريَظہ كا محاصرہ كرليا _ محاصرہ 15 دن تك جارى رہا (7) اس مدت ميں چند بار تيراندازى كے علاوہ كوئي حملہ نہيں ہوا_ بنى قُريَظہ كے يہودى سمجھ گئے كہ لشكر اسلام سے مقابلہ كرنے كا كوئي فائدہ نہيں ہے، لہذا اپنے نمائندے كو رسول خدا (ص) كے پاس بھيجا اور رسول خدا (ص) سے اس جگہ سے كوچ كرنے اور اپنے مال و اسباب كو اپنے ساتھ لے جانے كى اجازت مانگى رسول خدا (ص) نے ان كى پيش كش كو رد كرديا_انہوں نے دوبارہ در خواست كى كہ ان كو مدينہ ترك كرنے اور اپنے اموال سے صرف نظر كرنے كى اجازت دى جائے_ ليكن رسول خدا (ص) جانتے تھے كہ اگر بنى قُريَظہ كے يہوديوں كو بھى بنى قَينقُاع اور بنى

 

120

نَضير كے يہوديوں كى طرح آزاد چھوڑديا جائے تو وہ مسلمانوں كے چنگل سے نكلتے ہى بدّو اعراب كو بھڑ كا كر مسلمان اور اسلام كے خلاف نئي سازشوں كا آغاز كرديں گے، جس طرح كہ بنى قينقاع كى تحريك پر جنگ احد كى آگ بھڑ كى اور بنى نضير كى تحريك پر غزوہ خندق (احزاب) كى ہمہ جانبہ سازش ہوئي_ لہذا پيغمبراكرم (ص) نے اس پيش كش كو قبول كرنے سے انكار كيا اور فرمايا كہ تم بغير كسى قيد و شرط كے اپنے آپ كو ہمارے حوالے كردو_(8)

ايك خيانت كار مسلمان اور اسكى توبہ كى قبوليت

ايك طرف تو يہودى محاصرے كى وجہ سے تنگ آچكے تھے اور دوسرى طرف ان كے دل ميںخوف و وحشت بيٹھا ہوا تھا_انہوں نے اپنے ديرينہ دوست اور ہمسائے '' ابُولبابہ'' كے متعلق رسول خدا (ص) سے درخواست كى كہ اَبُولباَبہ كو مشورے كے لئے ہمارے پاس بھيجئے_ رسول خدا (ص) نے يہ درخواست قبول كرلى اور ابولبابہ كو اجازت ديدى كہ وہ قلعہ بنى قريظہ جائيں_ جب ابولبابہ وہاں پہنچے تو يہوديوں نے ان كے گرد حلقہ بناليا ، ان كى عورتوں اور بچّوں نے رونا شروع كرديا_ ان كى آہ و زارى نے ابولبابہ كو متاثر كيا _ ان كے مردوں نے ابولبابہ سے سوال كيا كہ ''كيا اس ميں صلاح ہے كہ ہم بلا قيد و شرط خود كو رسول خدا (ص) كے سپرد كرديں يا صلاح نہيں ہے''؟

ابولبابہ اپنے احساسات سے بہت زيادہ متاثر تھے انہوں نے جواب ديا كہ ہاں، ليكن انگلى سے اپنى گردن كى طرف اشارہ كيا كہ اگر تم خود كو ان كے حوالے كردوگے توتمہارى گردن اڑادى جائے گي_

ابولبابہ نے اپنى اس بات سے ''جس كے ذريعہ يہوديوں كو رسول خدا (ص) كے حوالے

 

121

كرنے سے منع كيا تھا''_

خدا اور رسول خدا(ص) كى بارگاہ ميں بہت بڑى خيانت كے مرتكب ہوئے تھے_ ناگہان ان كو احساس ہوا كہ وہ تو بہت بڑے گناہ كے مرتكب ہوچكے ہيں ،لہذا فوراً قلعہ سے باہر آئے، چونكہ رسول خدا (ص) كا سامنا كرتے ہوئے شرم آرہى تھى اس لئے سيدھے مسجد ميں پہنچے اور خود كو مسجد كے ايك ستون سے رسّى كے ذريعے باندھ ديا كہ شايد خدا ان كى توبہ قبول كرلے_ ابولبابہ كے واقعہ كى خبر لوگوں نے رسول خدا (ص) كو دي، آپ(ص) نے فرمايا اگر مسجد جانے سے پہلے وہ ميرے پاس آتے تو ميں خدا سے ان كے لئے استغفار كرتا اب اسى حالت پر رہيں يہاں تك كہ خدا ان كى توبہ قبول كرلے _ابولبابہ كى خيانت كے بارے ميں سورہ انفال كى آيت 27نازل ہوئي كہ :

'' اے ايمان لانے والو دين كے كام ميں خدا اور رسول(ص) سے خيانت نہ كرو اور اپنى امانت ميں خيانت نہ كرو درحالانكہ تم جانتے ہو_''(9)

ابولبابہ چھ دن تك، دن ميں روزہ ركھتے نماز كے وقت ان كى بيٹى ستون سے ان كے ہاتھ پير كھول ديتى _ طہارت اور فريضہ كى ادائيگى كے بعد ان كو دوبارہ مسجد كے ستون سے باندھ ديتى تھيں، يہاں تك كہ فرشتہ وحى بشارت كے ساتھ آن پہنچا كہ ابولبابہ كى توبہ قبول ہوگئي ہے_ان كى توبہ كے بارے ميں سورہ توبہ كى آيت 102نازل ہوئي كہ :

'' ان ميں سے ايك گروہ نے اپنے گناہ كا اعتراف كرليا كہ انہوں نے نيك و بد اعمال كو با ہم ملاديا ہے عنقريب خدا ان كى توبہ قبول كرلے گا بيشك خدا بخشنے والا اور بڑا مہربان ہے_'' (10)

لوگوں نے خوشى ميں چاہا كہ ابولبابہ كى رسّى كو كھول ديں ليكن اس نے كہا كہ رسول خدا (ص)

 

122

ميرى رسيوں كى گرہيں كھوليں گے جب آنحضرت(ص) نماز كے لئے مسجد ميں تشريف لائے تو آپ (ص) نے ان كى رسى كى گرہوں كو كھول ديا_ ابولبابہ تمام عمر نيكى اور اچّھے عمل پر باقى رہے اور پھر كبھى بھى محلہ بنى قريظہ ميں آپ نے قدم نہيں ركھا_(11)

بنى قريظہ كا اپنے آپ كو رسول خدا (ص) كے حوالے كرنا

يہوديوں سے مذاكرات اور گفتگو كسى نتيجے تك نہ پہنچ سكى _ كچھ دن تك انہوں نے اپنے آپ كو رسولخدا(ص) كے حوالے كرنے سے انكار كيا_ رسول خدا (ص) نے لشكر اسلام كو آمادہ رہنے كا حكم ديا تا كہ حملہ كر كے ان كے قلعے كو فتح كيا جائے_ يہوديوں نے سمجھ ليا كہ لشكر اسلا م كا حملہ اور ان كى كاميابى يقينى ہے، بھاگنے كا كوئي راستہ باقى نہيں ہے، مجبوراً قلعے كے دروازوں كو كھول ديا اور بلا قيد و شرط خود كو لشكر اسلام كے حوالہ كرديا_(12)

حضرت على (ع) اپنے لشكر كے ہمراہ قلعے ميں داخل ہوئے اور ان سے مكمل طور پر ہتھيار كھوالئے (13) پھر رسول خدا (ص) نے مردوں كو قيد خانے ميں منتقل كرنے كا حكم صادر فرمايا اور ان كى حفاظت كى ذمہ دارى محمد بن مَسلَمَة كے سپرد كي، عورتوں اور بچّوں كو رسول خدا (ص) كے حكم كے مطابق دوسرى جگہ نگرانى ميں ركھا گيا_ (14)

سعد بن معاذ كا فيصلہ

بنى قُريَظہ كے يہودى چونكہ قبيلہ اَوس كے ہم پيمان تھے لہذا انہوں نے پيش كش كى كہ ان كے بارے ميں سَعدبن مُعاذ فيصلہ كريں وہ لوگ اس فكر ميں تھے كہ شايد گزشتہ دوستى كى بدولت سَعدبن مَعاذ ان كى سزا ميں تخفيف كے قائل ہوجائيں گے_

 

123

قبيلہ اَوس كے لوگوں نے رسول خدا (ص) سے نہايت اصرار كے ساتھ يہ درخواست كى كہ اس گروہ كو آزاد كرديں، وہ لوگ قبيلہ خَزرَج سے رقابت كى بناپر اپنى بات پر اصرار كر رہے تھے اس كى وجہ يہ تھى كہ پيغمبر اسلام (ص) نے بنى قَينقاع كو'' عبداللہ بن اُبّى خَزرجى ''كى خواہش پر آزاد كرديا تھا_ رسول خدا (ص) نے ان لوگوں سے بھى فرمايا كہ '' كيا تم اس بات كے لئے تيار ہو كہ تمہارے بزرگ سَعدبن مُعَاذ ا ن كے بارے ميں فيصلہ كرديں؟'' سب نے كہا كہ ہاں، اے اللہ كے رسول(ص) ہم بھى ان كے فيصلے كے سامنے سرجھكا ديں گے'' (15)

رسول خدا (ص) نے سَعدبن مُعَاذ كو بلانے كے لئے آدمى بھيجا _ اس وقت آپ ہاتھ كى رگ كٹ جانے كى وجہ سے زخمى حالت ميں بستر پر رُفَيْدَہ نامى عورت كے خيمہ ميں پڑے تھے جس نے جنگى مجروحين كى خدمت كے لئے اپنى زندگى وقف كردى تھى _ اَوس كے جوانوں نے ان كو چارپائي پر لٹايا اور رسول خدا (ص) كى خدمت ميں لے چلے راستہ ميں انہوں نے سَعد سے درخواست كى كہ اپنے ہم پيمان كے ساتھ اچّھا سلوك كرنا، انہوں نے جواب ميں فرمايا كہ '' سَعد كے لئے وہ زمانہ آن پہنچا ہے كہ جس ميں كسى ملامت كرنے والے كى ملامت سے سَعد ڈرنے والا نہيں ہے_''

جب سَعد لشكر گاہ ميں پہنچے تو آنحضرت(ص) نے فرمايا كہ تم اپنے بزرگ كے احترام ميں كھڑے ہوجاؤ حاضرين اُٹھ كھڑے ہوئے سَعد نے رسول خدا (ص) كے عدالت پر مبنى حكم كے بعد مہاجر و انصار سے يہ عہد ليا كہ وہ جو حق سمجھيں گے اس كا اجراء ہوگا اور بنى قُريَظہ كے يہوديوں نے بھى اس كو قبول كيا_(16)

اس كے بعد سعد ابن معاذ نے بہ آواز بلند اعلان كيا كہ ''يہوديوں كے مرد قتل كرديئےائيں عورتيں اور بچّے اسير بنا لئے جائيں اور ان كے اموال كو ضبط كرليا جائے''

 

  692
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      قرآن مجید میں بیان هوئے سات آسمانوں کے کیا معنی هیں؟
      صاحب بهشت رضوان هونا ملائکه کی شفاعت کے ساتھـ کیسے ...
      حضرت آدم علیه السلام کے فرزندوں نے کن سے ازدواج کیا؟
      کسی گناه کے مرتکب هوئے بغیر نوجوان کا حضر خضر کے هاتهوں ...
      حضرت خضرعلیه السلام کے هاتھوں نوجوان کے قتل کئے جانے ...
      نیک اور برے لوگوں کا ایک دوسرے کی نسبت سے حب و بغض کیسا ...
      شیطان کی پہچان قرآن کی نظر میں
      خلفا کے کارستانیاں
      اسلام میں جھادکے اسباب
      امامت کے بارے میں مکتب خلفاء کا نظریہ اور استدلال

 
user comment