اردو
Monday 27th of May 2019
  827
  0
  0

ائمہ معصومین علیہم السلام نے ایسے دورحکومت-13

۲۵۔ اولاد کے حق میں حضرت کی دعا

                اللہم و من علی ببقا ولدی ، و باصلاحہم لی ، و بامتاعی بہم .الہی امدد لی فی اعمارہم ، و زد لی فی اجالہم ، و رب لی صغیرہم ، و قو لی ضعیفہم ، و اصح لی ابدانہم و ادیانہم و اخلاقہم ، و عافہم فی انفسہم و فی جوارحہم و فی ل ما عنیت بہ من امرہم ، و ادرر لی و علی یدی ارزاقہم .و اجعلہم ابرارا اتقیا بصرا سامعین مطیعین ل ، و لاولیاء محبین مناصحین ، و لجمیع اعداء معاندین و مبغضین ، امین .اللہم اشدد بہم عضدی ، و اقم بہم اودی ، و ثر بہم عددی و زین بہم محضری ، و احی بہم ذری ، و افنی بہم فی غیبتی ، و اعنی بہم علی حاجتی ، و اجعلہم لی محبین ، و علی حدبین مقبلین مستقیمین لی ، مطیعین غیر عاصین و لا عاقین و لا مخالفین و لا خاطئین .و اعنی علی تربیتہم و تادیبہم و برہم ، و ہب لی من لدن معہم اولادا ذورا ، و اجعل ذل خیرا لی ، و اجعلہم لی عونا علی ما سالت .و اعذنی و ذریتی من الشیطان الرجیم ، فن خلقتنا و امرتنا و نہیتنا و رغبتنا فی ثواب ما امرتنا ، و رہبتنا عقابہ ، و جعلت لنا عدوا ییدنا ، سلطتہ منا علی ما لم تسلطنا علیہ منہ ، اسنتہ صدورنا ، و اجریتہ مجاری دمائنا ، لا یغفل ن غفلنا ، و لا ینسی ن نسینا ، یمننا عقاب ، و یخوفنا بغیر .ن ہممنا بفاحش شجعنا علیہا ، و ن ہممنا بعمل صالح ثبطنا عنہ ، یتعرض لنا بالشہوات ، و ینصب لنا بالشبہات ، ن وعدنا ذبنا ، و ن منانا اخلفنا و لا تصرف عنا ئدہ یضلنا ، و لا تقنا خبالہ یستزلنا .اللہم فاقہر سلطانہ عنا بسلطان حتی تحبسہ عنا بثر الدعا ل فنصبح من یدہ فی المعصومین ب .اللہم اعطنی ل سلی ، و اقض لی حوائجی ، و لا تمنعنی الاجاب و قد ضمنتہا لی ، و لا تحجب دعائی عن و قد امرتنی بہ ، و امنن علی بل ما یصلحنی فی دنیای و اخرتی ما ذرت منہ و ما نسیت ، و اظہرت و اخفیت و اعلنت و اسررت .و اجعلنی فی جمیع ذل من المصلحین بسالی ایا ، المنجحین بالطلب الی غیر الممنوعین بالتول علی .المعودین بالتعوذ ب ، الرابحین فی التجار علی ، المجارین بعز ، الموسع علیہم الرزق الحلال من فضل ، الواسع بجود و رم ، المعزین من الذل ب ، و المجارین من الظلم بعدل المعافین من البلا برحمت ، و المغنین من الفقر بغنا ، و المعصومین من الذنوب و الزلل و الخطا بتقوا ، و الموفقین للخیر و الرشد و الصواب بطاعت ، و المحال بینہم و بین الذنوب بقدرت ، التارین لل معصیت ، السانین فی جوار .اللہم اعطنا جمیع ذل بتوفیق و رحمت ، و اعذنا من عذاب السعیر ، و اعط جمیع المسلمین و المسلمات و الممنین و الممنات مثل الذی سالت لنفسی و لولدی فی عاجل الدنیا و اجل الاخر ، ن قریب مجیب سمیع علیہم عفو غفور رف رحیم .و اتنا فی الدنیا حسن ، و فی الاخر حسن و قنا عذاب النار .

ترجمہ

                اے میرے معبود !میری اولاد کی بقا اوران کی اصلاح اوران سے بہرہ مندی کے سامان مہیا کرکے مجھے ممنون احسان فرما اورمیرے سہارے کے لیے ان کی عمروں میں برکت اورزندگیوں میں طول دے اور ان میں سے چھوٹوں کی پرورش فرما اورکمزوروں کو توانائی دے اوران کی جسمانی ، ایمانی اوراخلاقی حالت کو درست فرما اور ان کے جسم وجان اوران کے دوسرے معاملات میں جن میں مجھے اہتمام کرنا پڑے انہیں عافیت سے ہمکنار رکھ ،اورمیرے لیے اورمیرے ذریعہ ان کے لیے زرق فراواں جاری کر اورانہیں نیکو کار ، پرہیز گار، روشن دل ، حق نیوش اور اپنا فرمانبردار اور اپنے دوستوں کا دوست وخیرخواہ اوراپنے تمام دشمنوں کا دشمن وبدخواہ قرار دے۔ آمین ۔ اے اللہ ! ان کے ذریعہ میرے بازوں کو قوی اور میری پریشان حالی کی اصلاح اوران کی وجہ سے میری جمعیت میں اضافہ اورمیری مجلس کی رونق دوبالا فرما اوران کی بدولت میرا نام زندہ رکھ اورمیری عدم موجودگی میں انہیں میرا قائم مقام قرار دے اور ان کے وسیلہ سے میری حاجتوں میں میری مدد فرما اورانہیں میرے لیے دوست ، مہربان ، ہمہ تن متوجہ ، ثابت قدم اورفرمانبردار قرار دے ۔ وہ نافرمان ، سر کش ، مخالف وخطا کار نہ ہوں اور ان کی تربیت وتادیب اوران سے اچھے برتا میں میری مدد فرما۔ اوران کے علاوہ بھی مجھے اپنے خزانہ رحمت سے نرینہ اولاد عطا کر اور انہیں ان چیزوں میں جن کا میں طلب گار ہوں میرا مددگار بنا اور مجھے اور میری ذریت کو شیطان مردود سے پناہ دے ۔ اس لیے کہ تو نے ہمیں پیدا کیا اورامر ونہی کی اور جو حکم دیا اس کے ثواب کی طرف راغب کیا اور جس سے منع کا اس کے عذاب سے ڈریا۔ اور ہما را ایک دشمن بنایا جو ہم سے مکر کرتا ہے اورجتنا ہماری چیزوں پر اسے تسلط دیا ہے اتنا ہمیں اس کی کسی چیز پر تسلط نہیں دیا۔ اس طرح کہ اسے ہمارے سینوں میں ٹھہرا دیا اورہمارے رگ وپے میں دوڑا دیا ۔ ہم غافل ہو جائیں مگر وہ غافل نہیں ہوتا۔ ہم بھول جائیں مگر وہ نہیں بھولتا۔ وہ ہمیں تیرے عذاب سے مطمئن کرتا اور تیرے علاوہ دوسروں سے ڈراتا ہے۔ اگر ہم کسی برائی کا ارادہ کرتے ہیں تو وہ ہماری ہمت بندھاتا ہے اوراگر کسی عمل خیر کا ارادہ کرتے ہیں توہمیں اس سے باز رکھتا ہے اورگناہوں کی دعوت دیتا ہے اور ہمارے سامنے شبہے کھڑے کر دیتا ہے۔ اگر وعدہ کرتا ہے تو جھوٹا اورامید دلاتا ہے توخلاف ورزی کرتا ہے اگر تو اس کے مکر کو نہ ہٹائے تو وہ ہمیں گمراہ کرکے چھوڑے گا ۔اوراس کے فتنوں سے نہ بچائے تو وہ ہمیں ڈگمگائے گا۔ خدایا! اس کے تسلط کو اپنی قوت وتوانائی کے ذریعہ ہم سے دفع کر دے تاکہ کثرت دعا کے وسیلہ سے اسے ہماری راہ ہی سے ہٹا دے اور ہم اس کی مکاریوں سے محفوظ ہو جائیں ۔اے اللہ ! میری ہر درخواست کو قبول فرما اورمیری حاجتیں برلا اورجب کہ تو نے استجابت دعا کا ذمہ لیا ہے تو میری دعا کو رد نہ کر اور جب کہ تو نے مجھے دعا کا حکم دیا ہے تو میری دعا کو اپنی بارگاہ سے روک نہ دے ۔اورجن چیزوں سے میرا دینی ودنیوی مفاد وابستہ ہے ان کی تکمیل سے مجھ پر احسان فرما۔ جو یاد ہوں اورجو بھول گیا ہوں ، ظاہر کی ہوں ، یا پوشیدہ رہنے دی ہوں ۔ علانیہ طلب کی ہوں یا در پردہ ان تمام صورتوں میں اس وجہ سے کہ تجھ سے سوال کیا ہے (نیت وعمل کی)اصلاح کرنے والوں اوراس بنا پر کہ تجھ سے طلب کیا ہے کامیاب ہونے والوں اوراس سبب سے کہ تجھ پر بھروسہ کیا ہے غیر مسترد ہونے والوں میں سے قرار دے اور(ان لوگوں میں شمار کر) جو تیرے دامن میں پناہ لینے کے خوگر ، تجھ سے بیوپار میں فائدہ اٹھانے والے اور تیرے دامن عزت میں پناہ گزین ہیں جنہیں تیرے ہمہ گیرفضل وجود وکرم سے رزق حلال مں فراوانی حاصل ہوئی ہے اور تیری وجہ سے ذلت سے عزت تک پہنچے ہیں اور تیرے عدل و انصاف کے دامن میں ظلم سے پناہ لی ہے اور رحمت کے ذریعہ بلا و مصیبت سے محفوظ ہیں اور تیری بے نیازی کی وجہ سے فقیر سے غنی ہو چکے ہیں اور تیرے تقوے کی وجہ سے گناہوں، لغزشوں اورخطاں سے معصوم ہیں اورتیری اطاعت کی وجہ سے خیر ورشد وصواب کی تو فیق انہیں حاصل ہے اور تیری قدرت سے ان کے اور گناہوں کے درمیان پردہ حائل ہے اور جو تمام گناہوں سے دست بردار اورتیرے جوار رحمت میں مقیم ہیں۔ بارالہا! اپنی توفیق رحمت سے یہ تمام چیزیں ہمیں عطا فرما۔ اوردوزخ کے آزار سے پناہ دے اور جن چیزوں کا میں نے اپنے لیے اوراپنی اولاد کے لیے سوال کیا ہے ایسی ہی چیزیں تمام مسلمین ومسلمات اورمومنین ومومنات کو دنیا اورآخرت میں مرحمت فرما۔ اس لیے کہ تو نزدیک اور دعا کا قبول کرنے والا ہے، سننے والا اورجاننے والا ہے، معاف کرنے والا اوربخشنے والا اورشفیق ومہربان ہے۔ ہمیں دنیا میں نیکی (توفیق عبادت) اورآخرت میں نیکی (بہشت جاوید) عطا کر ، اوردوزخ کے عذاب سے بچائے رکھ۔

۲۶۔ جب ہمسایوں اور دوستوں کو یاد کرتے تو ان کے لیے یہ دعا فرماتے

                اللہم صل علی محمد و آلہ ، و تولنی فی جیرانی و موالی العارفین بحقنا ، و المنابذین لاعدائنا بافضل ولایت .و وفقہم لاقام سنت ، و الاخذ بمحاسن ادب فی ارفاق ضعیفہم ، و سد خلتہم ، و عیاد مریضہم ، و ہدای مسترشدہم ، و مناصح مستشیرہم ، و تعہد قادمہم ، و تمان اسرارہم ، و ستر عوراتہم ، و نصر مظلومہم ، و حسن مواساتہم بالماعون ، و العود علیہم بالجد و الافضال ، و اعطا ما یجب لہم قبل السال .و اجعلنی اللہم اجزی بالاحسان مسیئہم ، و اعرض بالتجاوز عن ظالمہم ، و استعمل حسن الظن فی فتہم ، و اتولی بالبر عمتہم ، و اغض بصری عنہم عف ، و الین جانبی لہم تواضعا ، و ارق علی اہل البلا منہم رحم ، و اسر لہم بالغیب مود ، و احب بقا النعم عندہم نصحا ، و اوجب لہم ما اوجب لحمتی ، و ارعی لہم ما ارعی لخاصیتی .اللہم صل علی محمد و آلہ ، و ارزقنی مثل ذل منہم ، و اجعل لی اوفی الحظوظ فیما عندہم ، و زدہم بصیر فی حقی ، و معرف بفضلی حتی یسعدوا بی و اسعد بہم ، امین رب العالمین .

ترجمہ

                اے اللہ ! محمد اوران کی آل پر رحمت نازل فرما۔ اور میری اس سلسلہ میں بہترین نصرت فرما کہ میں اپنے ہمسایوں اوران دوستوں کے حقوق کا لحاظ رکھوں جو ہمارے حق کے پہچاننے والے اورہمارے دشمنوں کے مخالف ہیں اور انہیں اپنے طریقوں کے قائم کرنے اور عمدہ اخلاق وآداب سے آراستہ ہونے کی توفیق دے۔ اس طرح کہ وہ کمزوروں کے ساتھ نرم رویہ رکھیں اوران کے فقر کا مداوا کریں۔ مریضوں کی بیمار پرسی، طالبان ہدایت کی ہدایت ، مشورہ کرنے والوں کی خیر خواہی اورتازہ وارد سے ملاقات کریں ۔ رازوں کو چھپائیں ۔ عیبوں پر پردہ ڈالیں ۔ مظلوم کی نصرت اور گھریلو ضروریات کے ذریعہ حسن مواسات کریں اور بخشش وانعام سے فائدہ پہنچائیں اورسوال سے پہلے ان کے ضروریات مہیا کریں ۔ اے اللہ ! مجھے ایسا بنا کہ میں ان میں سے برے کے ساتھ بھلائی سے پیش آں اور ظالم سے چشم پوشی کرکے درگزر کروں اوران سب کے بارے میں حسن ظن سے کام لوں ۔اور نیکی اور احسان کے ساتھ سب کی خبر گیری کروں ۔ اور پرہیز گاری وعفت کی بنا پر ان (کے عیوب ) سے آنکھیں بند رکھوں ۔ تواضع وفروتنی کی رو سے ان سے نرم رویہ اختیار کروں اورشفقت کی بنا پر مصیبت زدہ کی دل جوئی کروں۔ ان کی غیبت میں بھی ان کی محبت کو دل میں لیے رہوں اورخلوص کی بنا پر ان کے پاس سدا نعمتوں کا رہنا پسند کروں اور جو چیزیں اپنے خاص قریبیوں کے لیے ضروری سمجھوں ان کے لیے بھی ضروری سمجھوں ۔ اور جو مراعات اپنے مخصوصین سے کروں وہی مراعات ان سے بھی کروں ۔ اے اللہ ! محمد اوران کی آل پر رحمت نازل فرما اور مجھے بھی ان سے ویسے ہی سلوک کا روا دار قرار دے اورجو چیزیں ان کے پاس ہیں ان میں میرا حصہ وافر قرار دے اور انہیں میرے حق کی بصیرت اور میرے فضل وبرتری کی معرفت میں افزائش وترقی دے تا کہ وہ میری وجہ سے سعادت مند اور میں ان کی وجہ سے مثاب وماجور قرار پاں ۔ آمین اے تمام جہان کے پروردگار۔

۲۷۔ سرحدوں کی حفاظت کرنے والوں کے لئے دعا

                اللہم صل علی محمد و آلہ ، و حصن ثغور المسلمین بعزت ، و اید حماتہا بقوت ، و اسبغ عطایاہم من جدت .اللہم صل علی محمد و آلہ ، و ثر عدتہم و اشحذ اسلحتہم ، و احرس حوزتہم ، و امنع حومتہم ، و الف جمعہم ، و دبر امرہم ، و واتر بین میرہم ، و توحد بفای منہم ، و اعضدہم بالنصر ، و اعنہم بالصبر ، و الطف لہم فی المر .اللہم صل علی محمد و آلہ ، و عرفہم ما یجہلون ، و علمہم ما لا یعلمون ، و بصرہم ما لا یبصرون .اللہم صل علی محمد و آلہ ، و انسہم عند لقائہم العدو ذر دنیاہم الخداع الغرور ، و امح عن قلوبہم خطرات المال الفتون ، و اجعل الجن نصب اعینہم ، و لوح منہا لابصارہم ما اعددت فیہا من مسان الخلد و منازل الرام و الحور الحسان و الانہار المطرد بانواع الاشرب و الاشجار المتدلی بصنوف الثمر حتی لا یہم احد منہم بالادبار ، و لا یحدث نفسہ عن قرنہ بفرار .اللہم افلل بذل عدوہم ، و اقلم عنہم اظفارہم ، و فرق بینہم و بین اسلحتہم ، و اخلع وثائق افئدتہم ، و باعد بینہم ، و بین ازودتہم ، و حیرہم فی سبلہم ، و ضللہم عن وجہہم ، و اقطع عنہم المدد ، و انقص منہم العدد ، و امل افئدتہم الرعب ، و اقبض ایدیہم عن البسط ، و اخزم السنتہم عن النطق ، و شرد بہم من خلفہم ، و نل بہم من وراہم ، و اقطع بخزیہم اطماع من بعدہم .اللہم عقم ارحام نسائہم ، و یبس اصلاب رجالہم ، و اقطع نسل دوابہم و انعامہم ، لا تذن لسمائہم فی قطر ، و لا لارضہم فی نبات .اللہم و قو بذل محال اہل الاسلام ، و حصن بہ دیارہم ، و ثمر بہ اموالہم ، و فرغہم عن محاربتہم لعبادت ، و عن منابذتہم للخلو ب حتی لا یعبد فی بقاع الارض غیر ، و لا تعفر لاحد منہم جبہ دون .اللہم اغز بل ناحی من المسلمین علی من بازائہم من المشرین ، و امددہم بملاء من عند مردفین حتی یشفوہم الی منقطع التراب قتلا فی ارض و اسرا ، و یقروا بن نت اللہ الذی لا لہ لا نت وحد لا شری ل .اللہم و اعمم بذل اعدا فی اقطار البلاد من الہند و الروم و التر و الخزر و الحبش و النوب و الزنج و السقالب و الدیالم و سائر امم الشر ، الذین تخفی اسماہم و صفاتہم ، و قد احصیتہم بمعرفت ، و اشرفت علیہم بقدرت .اللہم اشغل المشرین بالمشرین عن تناول اطراف المسلمین ، و خذہم بالنقص عن تنقصہم ، و ثبطہم بالفرق عن الاحتشاد علیہم .اللہم اخل قلوبہم من الامن ، و ابدانہم ، من القو ، و اذہل قلوبہم عن الاحتیال ، و اوہن ارانہم عن منازل الرجال ، وجبنہم عن مقارع الابطال ، و ابعث علیہم جندا من ملائت بباس من باس فعل یوم بدر ، تقطع بہ دابرہم و تحصد بہ شوتہم ، و تفرق بہ عددہم .اللہم و امزج میاہہم بالوبا ، و اطعمتہم بالادوا ، و ارم بلادہم بالخسوف ، و الح علیہا بالقذوف ، و افرعہا بالمحول ، و اجعل میرہم فی احص ارض و ابعدہا عنہم ، و امنع حصونہا منہم ، اصبہم بالجوع المقیم و السقم الالیم .اللہم و ایما غاز غزاہم من اہل ملت ، و مجاہد جاہدہم من اتباع سنت لیون دین الاعلی و حزب الاقوی و حظ الاوفی فلقہ الیسر ، وہیء لہ الامر ، و تولہ بالنجح ، و تخیر لہ الاصحاب ، و استقولہ الظہر ، و اسبغ علیہ فی النفق ، و متعہ بالنشاط ، و اطف عنہ حرار الشوق ، و اجرہ من غم الوحش ، و انسہ ذر الاہل و الولد .واثر لہ حسن النی ، و تولہ بالعافی ، و اصحبہ السلام ، و اعفہ من الجبن ، و الہمہ الجر ، و ارزقہ الشد ، و ایدہ بالنصر ، و علمہ السیر و السنن ، و سددہ فی الحم ، و اعزل عنہ الریا ، و خلصہ من السمع ، و اجعل فرہ و ذرہ و ظعنہ و اقامتہ فی و ل .فذا صاف عدو و عدوہ فقللہم فی عینہ ، و صغر شنہم فی قلبہ ، و ادل لہ منہم ، و لا تدلہم منہ ، فان ختمت لہ بالسعاد ، و قضیت لہ بالشہاد فبعد ن یجتاح عدو بالقتل ، و بعد ن یجہد بہم الاسر ، و بعد ن تمن اطراف المسلمین ، و بعد ن یولی عدو مدبرین .اللہم و ایما مسلم خلف غازیا و مرابطا فی دارہ ، و تعہد خالفیہ فی غیبتہ ، و اعانہ بطائف من مالہ ، و امدہ بعتاد ، و شحذہ علی جہاد ، و اتبعہ فی وجہہ دعو ، و رعی لہ من ورائہ حرم ، فاجر لہ مثل اجرہ وزنا بوزن و مثلا بمثل ، و عوضہ من فعلہ عوضا حاضرا یتعجل بہ نفع ما قدم و سرور ما اتی بہ ، الی ن ینتہی بہ الوقت الی ما اجریت لہ من فضل ، و اعددت لہ من رامت .اللہم و ایما مسلم اہمہ امر الاسلام ، و احزنہ تحزب اہل الشر علیہم فنوی غزوی ، و ہم بجہاد فقعد بہ ضعف ، و ابطات بہ فاق ، و خرہ عنہ حادث ، و عرض لہ دون ارادتہ مانع فاتب اسمہ فی العابدین ، و اوجب لہ ثواب المجاہدین ، و اجعلہ فی نظام الشہدا و الصالحین .اللہم صل علی محمد عبد و رسول و آل محمد ، صلو عالی علی الصلوات ، مشرف فوق التحیات ، صلو لا ینتہی امدہا ، و لا ینقطع عددہا اتم ما مضی من صلوات علی احد من اولیاء ، ن المنان الحمید المبدء المعید الفعال لما ترید .

ترجمہ

                بارالہا ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور اپنے غلبہ و اقتدار سے مسلمانوں کی سرحدوں کو محفوظ رکھ ، اور اپنی قوت و توانائی سے ان کی حفاظت کرنے والوں کو تقویت دے اور اپنے خزانہ بے پایاں سے انہیں مالامال کر دے۔ اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پررحمت نازل فرما اور ان کی تعداد بڑھا دے ۔ ان کے ہتھیاروں کو تیز کر دے ۔ ان کے حدود و اطراف اور مرکزی مقامات کی حفاظت و نگہداشت کر ۔ ان کی جمعیت میں انس و یکجہتی پیدا کر ، ان کے امور کی درستی فرما ، رسد رسانی کے ذرائع مسلسل قائم رکھ ۔ ان کی مشکلات کے حل کرنے کا ذمہ خود لے ۔ ان کے بازو قوی کر ۔ صبر کے ذریعہ ان کی اعانت فرما ۔ اور دشمن سے چھپی تدبیروں میں انہیں باریک نگاہی عطا کر ۔ اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور جس شے کو وہ نہیں پہچانتے وہ انہیں پہنچوا دے اور جس بات کا علم نہیں رکھتے وہ انہیں بتا دے ۔ اور جس چیز کی بصیرت انہیں نہیں ہے وہ انہیں سجھا دے ۔ اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور دشمن سے مدمقابل ہوتے وقت غدار و فریب کار دنیا کی یاد ان کے ذہنوں سے مٹا دے ۔ اور گمراہ کرنے والے مال کے اندیشے ان کے دلوں سے نکال دے اور جنت کو ان کی نگاہوں کے سامنے کر دے اور جو دائمی قیام گاہیں عزت و شرف کی منزلیں اور پانی ، دودھ ، شراب اور صاف و شفاف شہر کی بہتی ہوئی نہریں اور طرح طرح کے پھلوں ( کے بار ) سے جھکے ہوئے اشجار وہاں فراہم کئے ہیں ، انہیں دکھا دے تاکہ ان میں سے کوئی پیٹھ پھرانے کا ارادہ اور اپنے حریف کے سامنے سے بھاگنے کا خیال نہ کرے ۔ اے اللہ ! اس ذریعہ سے ان کے دشمنوں کے حربے کند اور انہیں بے دست و پا کر دے اور ان میں اور ان کے ہتھیاروں میں تفرقہ ڈال دے ، ( یعنی ہتھیار چھوڑ کر بھاگ جائیں ) اور ان کے رگ دل کی طنابیں توڑ دے اور ان میں اور ان کے آذوقہ میں دوری پیدا کر دے اور ان کی راہوں میں انہیں بھٹکنے کے لئے چھوڑ دے ۔ اور ان کے مقصد سے انہیں بے راہ کر دے ۔ ان کی کمک کا سلسلہ قطع کر دے ان کی گنتی کم کر دے ۔ ان کے دلوں میں دہشت بھر دے ۔ ان کی دراز دستیوں کو کوتاہ کر دے ان کی زبانوں میں گرہ لگا دے کہ بول نہ سکیں ، اور انہیں سزا دے کر ان کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کو بھی تتر بتر کر دے جو ان کے پس پشت ہیں اور پس پشت والوں کو ایسی شکست دے کہ جو ان کے پشت پر ہیں انہیں عبرت حاصل ہو اور ان کی حزیمت و رسوائی سے ان کے پیچھے والوں کے حوصلے توڑ دے ۔ اے اللہ ! ان کی عورتوں کے شکم بانجھ ،ان کے مردوں کے صلب خشک اوران کے گھوڑوں ، اونٹوں، گائیوں ، بکریوں کی نسل قطع کر دے اور ان کے آسمان کو برسنے کی اور زمین کو روئیدگی کی اجازت نہ دے ۔بارالہا ! اس ذریعہ سے اہل اسلام کی تدبیروں کو مضبوط ، ان کے شہروں کو محفوظ اوران کی دولت و ثروت کو زیادہ کر دے اور انہیں عبادت و خلوت گزینی کے لئے جنگ وجدال اور لڑائی جھگڑے سے فارغ کر دے ۔ تاکہ روئے زمین پر تیرے علاوہ کسی کی پرستش نہ ہو اور تیرے سوا کسی کے آگے خاک پر پیشانی نہ رکھی جائے ۔ اے اللہ ! تو مسلمانوں کو ان کے ہر ہر علاقہ میں برسرپیکار ہونے والے مشرکوں پر غلبہ دے اور صف در صف فرشتوں کے ذریعے ان کی امداد فرما ۔ تاکہ اس خطہ زمین میں انہیں قتل و اسیر کرتے ہوئے اس کے آخری حدود تک پسپا کر دیں یا یہ کہ وہ اقرار کریں کہ تو وہ خدا ہے جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یکتا و لا شریک ہے ۔خدایا 1 مختلف اطراف و جوانب کے دشمنان دین کو بھی اس قتل و غارت کی لپیٹ میں لے لے ۔ وہ ہندی ہوں یا رومی ، ترکی ہوں یا خزری ، حبشی ہوں یا نوبی ، زنگی ہوں یا صقلبی و دیلمی ، نیز ان مشرک جماعتوں کو جن کے نام اور صفات ہمیں معلوم نہیں اور تو اپنے علم سے ان پر محیط اور اپنی قدرت سے ان پر مطلع ہے ۔ اے اللہ ! مشرکوں کو مشرکوں سے الجھا کر مسلمانوں کے حدود مملکت پر دست درازی سے باز رکھ اور ان میں کمی واقع کرکے مسلمانوں میں کمی کرنے سے روک دے اور ان میں پھوٹ ڈلوا کر اہل اسلام کے مقابلہ میں صف آرائی سے بٹھا دے ۔ اے اللہ ! ان کے دلوں کو تسکین و بے خوفی سے ان کے جسموں کو قوت و توانائی سے خالی کر دے ۔ ان کی فکروں کو تدبر و چارہ جوئی سے غافل اور مردان کارزار کے مقابلہ میں ان کے دست وبازو کو کمزور کر دے اور دلیران اسلام سے ٹکر لینے میں انہیں بزدل بنا دے اور اپنے عذابوں میں سے ایک عذاب کے ساتھ ان پر فرشتوں کی سپاہ بھیج ۔ جیسا کہ تو نے بدر کے دن کیا تھا ۔ اسی طرح تو ان کی جڑ بنیادیں کاٹ دے ۔ ان کی شان و شوکت مٹا دے اوران کی جمعیت کو پراگندہ کر دے ۔ اے اللہ ! ان کے پانی میں وبا اور ان کے کھانوں میں امراض ( کے جراثیم ) کی آمیزش کر دے ۔ ان کے شہروں کو زمین میں دھنسا دے ، انہیں ہمیشہ پتھروں کا نشانہ بنا اور قحط سالی ان پر مسلط کر دے ۔ان کی روزی ایسی سر زمین میں قرار دے جو بنجر اور ان سے کوسوں دور ہو۔ زمین کے محفوظ قلعے ان کے لئے بند کر دے ۔ اور انہیں ہمیشہ کی بھوک اور تکلیف دہ بیماریوں میں مبتلا رکھ ۔ بارالہا ! تیرے دین و ملت والوں میں سے جو غازی ان سے آمادہ جنگ ہو یا تیرے طریقہ کی پیروی کرنے والوں میں سے جو مجاھد قصد جہاد کرے اس غرض سے کہ تیرا دین بلند، تیرا گروہ قوی اور تیرا حصہ و نصیب کامل تر ہو تو اس کے لئے آسانیاں پیدا کر۔ تکمیل کار کے سامان فراہم کر ۔ اس کی کامیابی کا ذمہ لے ۔ اس کے لئے بہترین ہمراہی انتخاب فرما ۔ قوی و مضبوط سواری کا بندوبست کر ۔ضروریات پورا کرنے کے لئے وسعت اور فراخی دے ۔دلجمعی و نشاط خاطر سے بہرہ مند فرما ۔ اس کے اشتیاق( وطن) کا ولولہ ٹھنڈا کر دے ، تنہائی کے غم کا اسے احساس نہ ہونے دے ۔زن و فرزند کی یاد اسے بھلا دے ۔ قصد خیر کی طرف رہنمائی فرما ۔ اس کی عافیت کا ذمہ لے ۔ سلامتی کو اس کا ساتھی قرار دے ۔ بزدلی کو اس کے پاس نہ پھٹکنے دے ۔ اس کے دل میں جرات پیدا کر ۔زور و قوت اسے عطا فرما ۔اپنی مددگاری سے اسے توانائی بخش ۔ راہ و روش ( جہاد ) کی تعلیم دے اور حکم میں صحیح طریق کار کی ہدایت فرما ۔ریا و نمود کو اس سے دور رکھ ۔ ہوس ، شہرت کا کوئی شائبہ اس میں نہ رہنے دے ۔ اس کے ذکر و فکر اور سفرو قیام کو اپنی راہ میں اور اپنے لئے قرار دے اور جب وہ تیرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں سے مدمقابل ہو تو اس کی نظروں میں ان کی تعداد تھوڑی کرکے دکھا اس کے دل میں ان کے مقام و منزلت کو پست کر دے اسے ان پر غلبہ دے اور ان کو اس پرغالب نہ ہونے دے ۔ اگر تو نے اس مرد مجاہد کے خاتمہ با لخیر اور شہادت کا فیصلہ کر دیا ہے تو یہ شہادت اس وقت واقع ہو جب وہ تیرے دشمنوں کو قتل کرکے کیفر کردار تک پہنچا دے ۔ یا اسیری انہیں بے حال کر دے اور مسلمانوں کے اطراف مملکت میں امن برقرار ہو جائے اور دشمن پیٹھ پھرا کر چل دے ۔ بارالہا ! وہ مسلمان جو کسی مجاہد یانگہبان سرحد کے گھر کا نگران ہو یا اس کے اہل و عیال کی خبر گیری کرے یا تھوڑی بہت مالی اعانت کرے یا آلات جنگ سے مدد دے ۔ یا جہاد پر ابھارے یا اس کے مقصد کے سلسلہ میں دعائے خیر کرے یا اس کے پس پشت اس کی عزت و ناموس کا خیال رکھے تو اسے بھی اس کے اجر کے برابر بے کم و کاست اجر اور اس کے عمل کا ہاتھوں ہاتھ بدلہ دے جس سے وہ اپنے پیش کئے ہوئے عمل کا نفع اور اپنے بجا لائے ہوئے کام کی مسرت دنیا میں فوری طور سے حاصل کر لے ۔ یہاں تک کہ زندگی کی ساعتیں اسے تیرے فضل و احسان کی اس نعمت تک جو تو نے اس کے لئے جاری کی ہے اوراس عزت وکرامت تک جو تو نے اس کے لئے مہیا کی ہے پہنچا دیں ۔ پروردگار ! جس مسلمان کو اسلام کی فکر پریشان اور مسلمانوں کے خلاف مشرکوں کی جتھ بندی غمگین کرے اس حد تک کہ وہ جنگ کی نیت اور جہاد کا ارادہ کرے مگر کمزوری اسےبٹھا دے یا بے سروسامانی اسے قدم نہ اٹھانے دے یا کوئی حادثہ اس مقصد سے تاخیر میں ڈال دے یا کوئی مانع اس کے ارادہ میں حائل ہو جائے تو اس کا نام عبادت گزاروں میں لکھ اور اسے مجاہدوں کا ثواب عطا کر اور اسے شہیدوں اور نیکو کاروں کے زمرہ میں شمار فرما۔ اے اللہ ! محمد پر جو تیرے عبد خاص اور رسول ہیں اور ان کی اولاد پر ایسی رحمت نازل فرما جو شرف و رتبہ میں تمام رحمتوں سے بلند تر اور تمام درودوں سے بالا تر ہو۔ ایسی رحمت جس کی مدت اختتام پذیر نہ ہو ، جس کی گنتی کا سلسلہ کہیں قطع نہ ہو ۔ ایسی کامل و اکمل رحمت جو تیرے دوستوں میں سے کسی ایک پر نازل ہوئی ہو اس لئے کہ تو عطا و بخشش کرنے والا ، ہر حال میں قابل ستائش ، پہلی دفعہ پیدا کرنے والا ، اور دوبارہ زندہ کرنے والا اور جو چاہے وہ کرنے والا ہے ۔

  827
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      امام کاظم علیہ السلام کی مجاہدانہ زندگی کے واقعات کا ...
      امام جواد علیہ السلام اور شیعت کی موجودہ شناخت اور ...
      حدیث "قلم و قرطاس" میں جو آنحضرت{ص} نے فرمایا هے: ...
      حضرت علی (ع ) خلفاء کے ساتھ کیوں تعاون فر ماتے تھے ؟
      شیعه فاطمه کے علاوه پیغمبر کی بیٹیوں سے اس قدر نفرت ...
      کیا عباس بن عبدالمطلب اور ان کے فرزند شیعوں کے عقیده کے ...
      امام محمد باقر علیہ السلام کی حیات طیبہ کے دلنشین گوشے ...
      اگر کسی دن کو یوم مادر کہا جا سکتا ہے تو وہ شہزادی کونین ...
      قرآن مجید کی مثال پیش کرنے کا دعوی کرنے والوں کی حکمیت ...
      فاطمہ، ماں کی خالی جگہ

 
user comment