اردو
Wednesday 26th of June 2019
  923
  0
  0

ائمہ معصومین علیہم السلام نے ایسے دورحکومت -7

۱۲۔ اعتراف گناہ اور طلب توبہ کے سلسلہ میں حضرت کی دعا

            اللہم انہ یحجبنی عن مسالت خلال ثلاث ، و تحدونی علیہا خل واحد .یحجبنی امر امرت بہ فابطات عنہ ، و نہی نہیتنی عنہ فاسرعت الیہ ، و نعم انعمت بہا علی فقصرت فی شرہا .و یحدونی علی مسالت تفضل علی من اقبل بوجہہ الی ، و وفد بحسن ظنہ الی ، ذ جمیع احسان تفضل ، و اذ ل نعم ابتدا .فہا انا ذا ، یا الہی ، واقف بباب عز وقوف المستسلم الذلیل ، و سائل علی الحیا منی سال البائس المعیل .مقر ل بانی لم استسلم وقت احسان لا بالاقلاع عن عصیان ، و لم اخل فی الحالات لہا من امتنان .فہل ینفعنی ، یا الہی ، اقراری عند بسو ما اتسبت ؟ و ہل ینجینی من اعترافی ل بقبیح ما ارتبت ؟ ام اوجبت لی فی مقامی ہذا سخط ؟ ام لزمنی فی وقت دعای مقت ؟سبحان ، لا ایئس من و قد فتحت لی باب التوب الی ، بل اقول : مقال العبد الذلیل الظالم لنفسہ المستخف بحرم ربہ .الذی عظمت ذنوبہ فجلت ، و ادبرت ایامہ فولت حتی ذا رای مد العمل قد انقضت ، و غای العمر قد انتہت ، و ایقن انہ لا محیص لہ من ، و لا مہرب لہ عن ، تلقا بالاناب ، و اخلص ل التوب ، فقام الی بقلب طاہر نقی ، ثم دعا بصوت حائل خفی .قد تط طال فانحنی ، و نس راسہ فانثنی ، قد ارعشت خشیتہ رجلیہ ، و غرقت دموعہ خدیہ ، یدعو : بیا ارحم الراحمین ، و یا ارحم من انتابہ المسترحمون ، و یا اعطف من اطاف بہ المستغفرون ، و یا من عفوہ اثر من نقمتہ ، و یا من رضاہ اوفر من سخطہ .و یا من تحمد الی خلقہ بحسن التجاوز ، و یا من عود عبادہ قبول الاناب ، و یا من استصلح فاسدہم بالتوب ، و یا من رضی من فعلہم بالیسیر ، و یا من افی قلیلہم بالثیر ، و یا من ضمن لہم اجاب الدعا ، و یا من وعدہم علی نفسہ بتفضلہ حسن الجزا .ما انا باعصی من عصا فغفرت لہ ، و ما انا بالوم من اعتذر الی فقبلت منہ ، و ما انا باظلم من تاب الی فعدت علیہ .اتوب الی فی مقامی ہذا توب نادم علی ما فرط منہ ، مشفق مما اجتمع علیہ ، خالص الحیا مما وقع فیہ .عالم بان العفو عن الذنب العظیم لا یتعاظم ، و ان التجاوز عن الاثم الجلیل لایستصعب ، و ان احتمال الجنایات الفاحش لایتد ، و ان احب عباد الی من تر الاستبار علی ، و جانب الاصرار ، و لزم الاستغفار .و انا ابر الی من ان استبر ، و اعوذ ب من ان اصر ، و استغفر لما قصرت فیہ ، و استعین ب علی ما عجزت عنہ .اللہم صل علی محمد و الہ ، وہب لی ما یجب علی ل ، و عافنی مما استوجبہ من ، و اجرنی من یخافہ اہل الاسا ، فان ملء بالعفو ، مرجو للمغفر ، معروف بالتجاوز ، لیس لحاجتی مطلب سوا ، و لا لذنبی غافر غیر ، حاشا .و لا اخاف علی نفسی لا ایا ، ان اہل التقوی و اہل المغفر ، صل علی محمد و ال محمد ، و اقض حاجتی ، و انجح طلبتی ، و اغفر ذنبی ، و امن خوف نفسی ، ان علی ل شی قدیر ، و ذل علی یسیر ، امین رب العالمین .

ترجمہ

اے اللہ !مجھے تین باتیں تیری بارگاہ میں سوال کرنے سے روکتی ہیں اور ایک بات اس پر آمادہ کرتی ہے ۔ جو باتیں روکتی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ جس امر کا تو نے حکم دیا میں نے اس کی تعمیل میں سستی کی ۔ دوسرے یہ کہ جس چیز سے تو نے منع کیا اس کی طرف تیزی سے بڑھا ۔ تیسرے جو نعمتیں تو نے مجھے عطا کیں ان کا شکریہ ادا کرنے میں کوتاہی کی ۔ اورجو بات مجھے سوال کرنے کی جرات دلاتی ہے وہ تیرا تفضل واحسان ہے جو تیری طرف رجوع ہونے والوں اورحسن ظن کے ساتھ آنے والوں کے ہمیشہ شریک حال رہا ہے کیونکہ تیرے تمام احسانات صرف تیرے تفضل کی بنا پر ہیں اور تیری ہر نعمت بغیرکسی سابقہ استحقا ق کے ہے۔ اچھا پھر ا ے میرے معبود! میں تیرے دروازہ عزوجلال پر ایک عبد مطیع وذلیل کی طرح کھڑا ہوں اور شرمندگی کے ساتھ ایک فقیر ومحتاج کی حیثیت سے سوال کرتا ہوں اس امر کا اقرار کرتے ہوئے کہ تیرے احسانات کے وقت ترک معصیت کے علاوہ اورکوئی اطاعت (ازقبیل حمد وشکر) نہ کر سکا۔ اورمیں کسی حالت میں تیرے انعام واحسان سے خالی نہیں رہا۔ تو کیا اے میرے معبود! یہ بد اعمالیوں کا اقرار تیری بارگاہ میں میرے لئے سود مند ہو سکتا ہے اور وہ برائیاں جو مجھ سے سرزد ہوئی ہیں ان کا اعتراف تیرے عذاب سے نجات کا باعث قرار قرار پا سکتا ہے ۔ یا یہ کہ تو نے اس مقام پر مجھ پر غضب کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اوردعا کے وقت اپنی ناراضگی کو میرے لیے برقرار رکھا ہے تو پاک ومنزہ ہے۔ میں تیری رحمت سے مایوس نہیں ہوں، اس لیے کہ تو نے اپنی بارگاہ کی طرف میرے لیے توبہ کا دروازہ کھول دیا ہے ۔ بلکہ میں اس بندہ ذلیل کی سی بات کہہ رہا ہوں جس نے اپنے نفس پر ظلم کیا اور اپنے پرودگار کی حرمت کا لحاظ نہ رکھا۔ جس کے گناہ عظیم روزافزوں ہیں جس کی زندگی کے دن گزر گئے اورگزرے جا رہے ہیں یہاں تک کہ جب اس نے دیکھا کہ مدت عمل تمام ہو گئی اورعمر اپنی آخری حد کو پہنچ گئی اوریہ یقین ہو گیا کہ اب تیرے ہاں حاضر ہوئے بغیر کوئی چارہ اورتجھ سے نکل بھاگنے کی کوئی صورت نہیں ہے تو وہ ہمہ تن تیری طرف رجوع ہوا اورصدق بیت سے تیری بارگاہ میں توبہ کی ۔ اب وہ بالکل پاک وصاف دل کے ساتھ تیرے حضور کھڑا ہوا۔ پھر کپکپاتی آواز سے اوردبے لہجے میں تجھے پکارا!اس حالت میں کہ خشوع وتذلل کے ساتھ تیرے سامنے جھک گیا اورسر کو نیوڑھا کر تیرے آگے خمیدہ ہوگیا ۔ خوف سے اس کے دونوں پاں تھرا رہے ہیں اور سیل اشک اس کے رخساروں پر رواں ہے ۔ اورتجھے اس طرح پکار رہا ہے ۔ اے سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والے ۔ اے ان سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے جن سے طلبگاران رحم وکرم بار بار رحم کی التجائیں کرتے ہیں ۔ اے ان سب سے زیادہ مہربانی کرنے والے جن کے گرد معافی چاہنے والے گھیرا ڈالے رہتے ہیں ۔ اے وہ جس کا عفو و درگذر اس کے انتقام سے فزوں تر ہے ۔ اے وہ جس کی خوشنودی اس کی ناراضگی سے زیادہ ہے۔ اے وہ جو بہترین عفو ودرگزر کے باعث مخلوقات کے نزدیک حمد وستائش کا مستحق ہے۔ ا ے وہ جس نے اپنے بندوں کو قبول توبہ کا خوگر کیا ہے ۔ اورتوبہ کے ذریعہ ان کے بگڑے ہوئے کاموں کی درستی چاہی ہے۔ اے وہ جو ان کے ذرا سے عمل پر خوش ہو جاتا ہے اورتھوڑے سے کام کا بدلہ زیادہ دیتا ہے ۔ اے وہ جس نے ان کی دعاں کو قبول کرنے کا ذمہ لیا ہے۔ اے وہ جس نے ازروئے تفضل واحسان بہترین جزا کا وعدہ کیا ہے ۔جن لوگوں نے تیری معصیت کی اور تو نے انہیں بخش دیا میں ان سے زیادہ گنہگار نہیں ہوں اورجنہوں نے تجھ سے معذرت کی اور تو نے ان کی معذرت کو قبول کر لیا ان سے زیادہ قابل سر زنش نہیں ہوں اورجنہوں نے تیری بارگاہ میں توبہ کی اور تو نے (توبہ کو قبول فرما کر) ان پر احسان کیا ان سے زیادہ ظالم نہیں ہوں ۔ لہذا میں اپنے اس موقف کو دیکھتے ہوئے تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔ اس شخص کی سی توبہ جو اپنے پچھلے گناہوں پر نادم اورخطاں کے ہجوم سے خوف زدہ اورجن برائیوں کا مرتکب ہوتا رہا ہے ان پر واقعی شرمسارہو اورجانتا ہو کہ بڑے سے بڑے گناہ کو معاف کر دینا تیرے نزدیک کوئی بڑی بات نہیں ہے اوربڑی سے بڑی خطا سے درگزر کرنا تیرے لیے کوئی مشکل نہیں ہے اورسخت سے سخت جرم سے چشم پوشی کرنا تجھے ذرا گراں نہیں ہے یقینا تمام بندوں میں سے وہ بندہ تجھے زیادہ محبوب ہے جو تیرے مقابلہ میں سرکشی نہ کرے ۔ گناہوں پر مصر نہ ہو اورتوبہ واستغفارکی پابندی کرے۔ اورمیں تیرے حضور غرور وسرکشی سے دست بردار ہوتا ہوں اورگناہوں پر اصرار سے تیرے دامن میں پناہ مانگتا ہوں اورجہاں جہاں کوتاہی کی ہے اس کے لیے عفو وبخشش کا طلب گار ہوں اور جن کاموں کے انجام دینے سے عاجز ہوں ان میں تجھ سے مدد کا خواستگار ہوں ۔اے اللہ تو رحمت نازل فرما محمد اوران کی آل پر اورتیرے جو جو حقوق میرے ذمہ عائد ہوتے ہیں انہیں بخش دے اورجس پاداش کا میں سزاوار ہوں اس سے معافی دے اورمجھے اس عذاب سے پناہ دے جس سے گنہگار ہراساں ہیں اس لیے کہ تو معاف کر دینے پر قادر ہے اورتجھ ہی سے مغفرت کی امید کی جا سکتی ہے اور تو اس صفت عفو و درگزر میں معروف ہے اور تیرے سوا حاجت کے پیش کرنے کی کوئی جگہ نہیں ہے اورنہ تیرے علاوہ کوئی میرے گناہوں کا بخشنے والا ہے۔حاشا وکلا کوئی اور بخشنے والا نہیں ہے اور مجھے اپنے بارے میں ڈر ہے تو بس تیرا ۔ اس لیے کہ تو ہی اس کا سزاوار ہے کہ تجھ سے ڈرا جائے اورتو ہی اس کا اہل ہے کہ بخشش و آمرزش سے کام لے ۔ تو محمد اوران کی آل پر رحمت نازل فرما اورمیری حاجت بر لا اورمیری مراد پوری کر ۔ میرے گناہ بخش دے اورمیرے دل کو خوف سے مطمئن کر دے ۔ اس لیے کہ ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے اور یہ کام تیرے لئے سہل وآسان ہے۔ میری دعا قبول فرما اے تمام جہان کے پروردگار۔

۱۳۔ طلب حاجات کے سلسلہ میں حضرت کی دعا

            اللہم یا منتہی مطلب الحاجات .و یا من عندہ نیل الطلبات .و یا من لا یبیع نعمہ بالاثمان .و یا من لا یدر عطایاہ بالامتنان .و یا من یستغنی بہ و لا یستغنی عنہ .و یا من یرغب الیہ و لا یرغب عنہ .و یا من لا تفنی خزائنہ المسائل .و یا من لا تبدل حمتہ الوسائل .و یا من لا تنقطع عنہ حوائج المحتاجین .و یا من لا یعنیہ دعا الداعین .تمدحت بالغنا عن خلق و نت اہل الغنی عنہم .و نسبتہم الی الفقر و ہم اہل الفقر الی .فمن حاول سد خلتہ من عند ، و رام صرف الفقر عن نفسہ ب فقد طلب حاجتہ فی مظانہا ، و اتی طلبتہ من وجہہا .و من توجہ بحاجتہ الی احد من خلق و جعلہ سبب نجحہا دون فقد تعرض للحرمان ، و استحق من عند فوت الاحسان .اللہم و لی الی حاج قد قصر عنہا جہدی ، و تقطعت دونہا حیلی ، و سولت لی نفسی رفعہا الی من یرفع حوائجہ الی ، و لا یستغنی فی طلباتہ عن ، و ہی زل من زلل الخاطئین ، و عثر من عثرات المذنبین .ثم انتبہت بتذیر لی من غفلتی ، و نہضت بتوفیق من زلتی ، و رجعت و نصت بتسدید عن عثرتی .و قلت : سبحان ربی یف یسال محتاج محتاجا ؟ و انی یرغب معدم الی معدم ؟فقصدت ، یا الہی ، بالرغب ، و اوفدت علی رجائی بالثق ب .و علمت ان ثیر ما اسل یسیر فی وجد ، و ان خطیر ما استوہب حقیر فی وسع ، و ان رم لا یضیق عن سال احد ، و ان ید بالعطایا اعلی من ل ید .اللہم فصل علی محمد و الہ ، و احملنی برم علی التفضل ، و لا تحملنی بعدل علی الاستحقاق ، فما انا باول راغب رغب الی فاعطیتہ و ہو یستحق المنع ، و لا باول سائل سال فافضلت علیہ و ہو یستوجب الحرمان .اللہم صل علی محمد و الہ ، و ن لدعائی مجیبا ، و من ندائی قریبا ، و لتضرعی راحما ، و لصوتی سامعا .و لا تقطع رجائی عن ، و لا تبت سببی من ، و لا توجہنی فی حاجتی ہذہ و غیرہا الی سوا .و تولنی بنجح طلبتی و قضا حاجتی و نیل سلی قبل زوالی عن موقفی ہذا بتیسیر لی العسیر و حسن تقدیر لی فی جمیع الامور .و صل علی محمد و الہ ، صلو دائم نامی لا انقطاع لابدہا و لا منتہی لامدہا ، و اجعل ذل عونا لی و سببا لنجاح طلبتی ، ن واسع ریم .و من حاجتی یا رب ذا و ذا ( و تذر حاجت ثم تسجد و تقول فی سجود : ) فضل انسنی ، و احسان دلنی ، فاسال ب و بمحمد و الہ ، صلوات علیہم ، ن لا تردنی خائبا .

ترجمہ

            ا ے معبود ! اے وہ جو طلب حاجات کی منزل منتہا ہے۔ اے وہ جس کے یہاں مرادوں تک رسائی ہوتی ہے ۔ اے وہ جو اپنی نعمتیں قیمتوں کے عوض فروخت نہیں کرتا اورنہ اپنے عطیوں کو احسان جتا کر مکدر کرتا ہے ۔ اے وہ جس کے ذریعہ بے نیازی حاصل ہوتی ہے اور جس سے بے نیاز نہیں رہا جا سکتا۔اے وہ جس کی خواہش و رغبت کی جاتی ہے اورجس سے منہ موڑا نہیں جا سکتا۔ اے وہ جس کے خزانے طلب وسوال سے ختم نہیں ہوتے اور جس کی حکمت ومصلحت کو وسائل واسباب کے ذریعہ تبدیل نہیں کیا جا سکتا ۔ اے وہ جس سے حاجتمندوں کا رشتہ احتیاج قطع نہیں ہوتا اورجسے پکارنے والوں کی صدا خستہ وملول نہیں کرتی ۔ تو نے خلق سے بے نیاز ہونے کی صفت کا مظاہرہ کیا ہے اور تو یقینا ان سے بے نیاز ہے اور تونے ان کی طرف فقرواحتیاج کی نسبت دی ہے اور وہ بیشک تیرے محتاج ہیں ۔لہذا جس نے اپنے افلاس کے رفع کرنے کے لیے تیرا ارادہ کیا اوراپنی احتیاج کے دور کرنے کے لئے تیرا قصد کیا اس نے اپنی حاجت کو اس کے محل ومقام سے طلب کیا اور اپنے مقصد تک پہنچنے کا صحیح راستہ اختیار کیا ۔ اور جو اپنی حاجت کو لے کر مخلوقات میں سے کسی ایک کی طرف متوجہ ہوا یا تیرے علاوہ دوسرے کو اپنی حاجت برآری کا ذریعہ قرار دیا وہ حرماں نصیبی سے دوچار اورتیرے احسان سے محرومی کا سزاوار ہوا ۔ بارالہا ! میری تجھ سے ایک حاجت ہے جسے پورا کرنے سے میری طاقت جواب دے چکی ہے اورمیری تدبیر وچارہ جوئی بھی ناکام ہو کر رہ گئی ہے اورمیرے نفس نے مجھے یہ بات خوش نما صورت میں دکھائی کہ میں اپنی حاجت کو اس کے سامنے پیش کروں جو خود اپنی حاجتیں تیرے سامنے پیش کرتا ہے اور اپنے مقاصد میں تجھ سے بے نیاز نہیں ہے یہ سراسر خطا کاروں کی خطاں میں سے ایک خطا اور گنہگاروں کی لغزشوں میں سے ایک لغزش تھی لیکن تیرے یاد لانے سے میں اپنی غفلت سے ہوشیار ہوا اورتیری توفیق نے سہارا دیا تو ٹھوکر کھانے سے سنبھل گیا اور تیری راہنمائی کی بدولت اس غلط اقدام سے باز آیا اورواپس پلٹ آیا اورمیں نے کہا واہ سبحان اللہ ! کس طرح ایک محتاج دوسرے محتاج سے سوال کر سکتا ہے ۔اورکہاں ایک نادار دوسرے نادار سے رجوع کر سکتا ہے (جب یہ حقیقت واضح ہوگئی )تو میں نے اے میرے معبود!پوری رغبت کے ساتھ تیرا ارادہ کیا اورتجھ پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی امیدیں تیرے پاس لایا ہوں ۔اورمیں نے اس امر کو بخوبی جان لیا ہے کہ میری کثیر حاجتیں تیری تونگری کے آگے کم اور میری عظیم خواہشیں تیری وسعت رحمت کے سامنے ہیچ ہیں ۔ تیرے دامن کرم کی وسعت کسی کے سوال کرنے سے تنگ نہیں ہوتی اورتیرا دست کرم عطا وبخشش میں ہر ہاتھ سے بلند ہے۔ اے اللہ ! محمد اوران کی آل پر رحمت نازل فرما اوراپنے کرم سے میرے ساتھ تفضل واحسان کی روش اختیار اوراپنے عدل سے کام لیتے ہوئے میرے استحقاق کی رو سے فیصلہ نہ کر کیونکہ میں پہلا وہ حاجت مند نہیں ہوں جو تیری طرف متوجہ ہوا اور تو نے اسے عطا کیا ہو حالانکہ وہ رد کئے جانے کا مستحق ہو اور پہلا وہ سائل نہیں ہوں جس نے تجھ سے مانگا ہو اور تو نے اس پر اپنا فضل کیا ہو حالانکہ وہ محروم کئے جانے کے قابل ہو۔ ا ے اللہ ! محمد اوران کی آل پر رحمت نازل فرما اورمیری دعا کا قبول کرنے والا میر ی پکار پر التفات فرمانے والا ، میری عجز وزاری پر رحم کرنے والا اورمیری آواز کا سننے والا ثابت ہو اور میری امید جو تجھ سے وابستہ ہے اسے نہ توڑ اورمیرا وسیلہ اپنے سے قطع نہ کر۔ اورمجھے اس مقصد اور دوسرے مقاصد میں اپنے سوا دوسرے کی طرف متوجہ نہ ہونے دے ۔اوراس مقام سے الگ ہونے سے پہلے میری مشکل کشائی اورتمام معاملات میں حسن تقدیر کی کارفرمائی سے میرے مقصد کے برلانے ، میری حاجت کے روا کرنے اورمیرے سوا ل کے پورا کرنے کا خود ذمہ لے ۔اورمحمد اوران کی آل پر رحمت نازل فرما۔ ایسی رحمت جو دائمی اورروز افزوں ہو ۔ جس کا زمانہ غیر مختتم اورجس کی مدت بے پایاں ہو اور اسے میرے لیے معین اورمقصد برآری کا ذریعہ قرار دے ۔ بیشک تو وسیع رحمت اورجود وکرم کی صفت کا مالک ہے ۔ اے میرے پروردگار! میری کچھ حاجتیں یہ ہیں (اس مقام پر اپنی حاجتیں بیان کرو۔ پھر سجدہ کرو اورسجدہ کی حالت میں یہ کہو) تیرے فضل وکرم نے میر ی دل جمعی اورتیرے احسان نے رہنمائی کی ۔ اس وجہ سے میں تجھ سے تیرے ہی وسیلہ سے اور محمد و آل محمد علیہم الصلو والسلام کے ذریعہ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے (اپنے در سے) ناکام ونامراد نہ پھیر۔

  923
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      امام کاظم علیہ السلام کی مجاہدانہ زندگی کے واقعات کا ...
      امام جواد علیہ السلام اور شیعت کی موجودہ شناخت اور ...
      حدیث "قلم و قرطاس" میں جو آنحضرت{ص} نے فرمایا هے: ...
      حضرت علی (ع ) خلفاء کے ساتھ کیوں تعاون فر ماتے تھے ؟
      شیعه فاطمه کے علاوه پیغمبر کی بیٹیوں سے اس قدر نفرت ...
      کیا عباس بن عبدالمطلب اور ان کے فرزند شیعوں کے عقیده کے ...
      امام محمد باقر علیہ السلام کی حیات طیبہ کے دلنشین گوشے ...
      اگر کسی دن کو یوم مادر کہا جا سکتا ہے تو وہ شہزادی کونین ...
      قرآن مجید کی مثال پیش کرنے کا دعوی کرنے والوں کی حکمیت ...
      فاطمہ، ماں کی خالی جگہ

 
user comment