اردو
Saturday 25th of May 2019
  860
  0
  0

ائمہ معصومین علیہم السلام نے ایسے دورحکومت -6

۸۔خواستگاری پناہ کے سلسلے کی دعا

اللہم انی اعوذ ب من ہیجان الحرص ، و سور الغضب ، و غلب الحسد ، و ضعف الصبر ، و قل القناع ، و شاس الخلق ، و الحاح الشہو ، و مل الحمی .و متابع الہوی ، و مخالف الہدی ، و سن الغفل ، و تعاطی اللف ، و ایثار الباطل علی الحق ، و الاصرار علی المثم ، و استصغار المعصی ، و استبار الطاع .و مباہات المثرین ، و الازرا بالمقلین ، و سو الولای لمن تحت ایدینا ، و تر الشر لمن اصطنع العارف عندنا .و ن نعضد ظالما ، و نخذل ملہوفا ، و نروم ما لیس لنا بحق ، و نقول فی العلم بغیر علم .و نعوذب ن ننطوی علی غش احد ، و ن نعجب باعمالنا ، و نمد فی امالنا .و نعوذ ب من سو السریر ، و احتقار الصغیر ، و ن یستحوذ علینا الشیطان ، و ینبنا الزمان ، و یتہضمنا السلطان .و نعوذ ب من تناول الاسراف ، و من فقدان الفاف .و نعوذ ب من شمات الاعدا ، و من الفقر الی الافا ، و من معیش فی شد ، و میت علی غیر عد .و نعوذ ب من الحسر العظمی ، و المصیب البری ، و اشقی الشقا ، و سو الماب ، و حرمان الثواب ، و حلول العقاب .اللہم صل علی محمد و الہ ، و اعذنی من ل ذل برحمت و جمیع الممنین و الممنات ، یاارحم الراحمین .

ترجمہ

اے اللہ !میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں حرص کی طغیانی ،غضب کی شدت، حسد کی چیرہ دستی ، بے صبری ، قناعت کی کمی ، کج اخلاقی ، خواہش نفس کی فراوانی ، عصبیت کے غلبہ ، ہوا وہوس کی پیروی ، ہدایت کی خلاف ورزی ، خواب غفلت (کی مدہوشی ) اورتکلف پسندی سے نیز باطل کو حق پر ترجیح دینے ، گناہوں پر اصرار کرنے ، معصیت کو حقیر اوراطاعت کو عظیم سمجھنے ، دولت مندوں کے سے تفاخر، محتاجوں کی تحقیر اوراپنے زیر دستوں کی بری نگہداشت اورجو ہم سے بھلائی کرے اس کی ناشکری سے اوراس سے کہ ہم کسی ظالم کی مدد کریں اورمصیبت زدہ کو نظر انداز کریں یا اس چیز کا قصد کریں جس کا ہمیں حق نہیں یا دین میں نے جانے بوجھے دخل دیں اور ہم تجھ سے پناہ مانگتے ہیں اس بات سے کہ کسی کو فریب دینے کا قصد کریں یا اپنے اعمال پر نازاں ہوں اوراپنی امیدوں کا دامن پھیلائیں ۔ اور ہم تجھ سے پناہ مانگتے ہیں بد باطنی اورچھوٹے گناہوں کوحقیر تصور کرنے اور اس بات سے کہ شیطان ہم پر غلبہ حاصل کر لے جائے یا زمانہ ہم کو مصیبت میں ڈالے یا فرمانروا اپنے مظالم کا نشانہ بنائے اورہم تجھ سے پناہ مانگتے ہیں فضول خرچی میں پڑنے ،اورحسب ضرورت رزق کے نہ ملنے سے۔اور ہم تجھ سے پناہ مانگتے ہیں دشمنوں کی شماتت،ہم چشموں کی احتیاج ،سختی میں زندگی بسر کرنے اورتوشئہ آخرت کے بغیر مر جانے سے اور تجھ سے پناہ مانگتے ہیں بڑے تاسف ، بڑی مصیبت ، بد ترین بدبختی ، برے انجام ، ثواب سے محرومی اورعذاب کے وارد ہونے سے ۔ اے اللہ !محمد اوران کی آل پر رحمت نازل فرما اوراپنی رحمت کے صدقے میں مجھے اورتمام مومنین ومومنات کو ان سب برائیوں سے پناہ دے ۔ اے تمام رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والے ۔

۸۔ طلب مغفرت کے سلسلے کی دعا

اللہم صل علی محمد و الہ ، و صیرنا الی محبوب من التوب ، و ازلنا عن مروہ من الاصرار .اللہم و متی وقفنا بین نقصین فی دین و دنیا ، فاوقع النقص باسرعمہا فنا ، و اجعل التوب فی اطولہما بقا .و ذا ہممنا بہمین یرضی احدہما عنا ، و یسخط الاخر علینا ، فمل بنا الی ما یرضی عنا ، و اوہن قوتنا عما یسخط علینا .و لا تخل فی ذل بین نفوسنا و اختیارہا ، فانہا مختار للباطل لا ما وفقت ، امار بالسو لا ما رحمت .اللہم و ن من الضعف خلقتنا ، و علی الوہن بنیتنا ، و من ما مہین ابتدتنا ، فلا حول لنا لا بقوت ، و لا قو لنا لا بعون .فایدنا بتوفیق ، و سددنا بتسدید ، و اعم ابصار قلوبنا عما خالف محبت ، و لا تجعل لشی  من جوارحنا نفوذا فی معصیت .اللہم فصل علی محمد و الہ ، و اجعل ہمسات قلوبنا ، و حرات اعضائنا ، و لمحات اعیننا ، و لہجات السنتنا فی موجبات ثواب حتی لا تفوتنا حسن نستحق بہا جزا ، و لا تبقی لنا سیء نستوجب بہا عقاب .

ترجمہ

            اے اللہ ! رحمت نازل فرما محمد اوران کی آل پر اور ہماری توجہ اس کی توبہ کی طرف مبذول کر دے جو تجھے پسند ہے اورگناہ کے اصرار سے ہمیں دور رکھ جو تجھے ناپسند ہے بارالہا!جب ہمارا موقف کچھ ایسا ہو کہ (ہماری کسی کوتاہی کے باعث) دین کا زیاں ہوتا ہو یا دنیا کا تو نقصان (دنیا میں ) قرار دے کہ جو جلد فنا پذیر ہے اورعفو ودرگذر کو(دین کے معاملہ میں ) قرار دے جو باقی و برقرار رہنے والا ہے اورجب ہم ایسے دو کاموں کا ارادہ کریں کہ ان میں سے ایک تیری خوشنودی کا اور دوسرا تیری ناراضی کا باعث ہو تو ہمیں اس کام کی طرف مائل کرنا جو تجھے خوش کرنے والا ہو ۔ اور اس کام سے ہمیں بے دست وپا کر دینا جو تجھے ناراض کرنے والا ہو اور اس مرحلہ پر ہمیں اختیار دے کر آزاد نہ چھوڑ دے ، کیونکہ نفس تو باطل ہی کو اختیار کرنے والا ہے ۔ مگرجہاں تیری توفیق شامل حال ہو اوربرائی کا حکم دینے والا ہے مگر جہاں تیرا رحم کار فرما ہو ۔ بارالہا! تو نے ہمیں کمزور اور سست بنیاد پیدا کیا ہے اور پانی کے ایک حقیر قطرہ (نطفہ ) سے خلق فرمایا ہے اگر ہمیں کچھ قوت وتصرف حاصل ہے تو تیری قوت کی بدولت اوراختیار ہے تو تیری مدد کے سہارے سے۔ لہذا اپنی توفیق سے ہماری دستگیری فرما اوراپنی رہنمائی سے استحکام و قوت بخش اورہمارے دیدہ دل کو ان باتوں سے جو تیری محبت کے خلاف ہیں نابینا کردے اورہمارے اعضا کے کسی حصہ میں معصیت کے سرایت کرنے کی گنجائش پیدا نہ کر ۔ بارالہا ! رحمت نازل فرما محمد اورانکی آل پر اورہمارے دل کے خیالوں ، اعضا کی جنبشوں،آنکھ کے اشاروں اورزبان کے کلموں کو ان چیزوں میں صرف کرنے کی توفیق دے جو تیرے ثواب کا باعث ہوں یہاں تک کہ ہم سے کوئی ایسی نیکی چھوٹنے نہ پائے جس سے ہم تیرے اجر وثواب کے مستحق قرار پائیں۔ اورنہ ہم میں کوئی برائی رہ جائے جس سے تیرے عذاب کے سزاوار ٹھہریں ۔

۱۰۔ طلب پناہ کے سلسلے کی دعا

            اللہم ن تش تعف عنا فبفضل ، و ن تش تعذبنا فبعدل .فسہل لنا عفو بمن ، و اجرنا من عذاب بتجاوز ، فانہ لا طاق لنا بعدل ، و لا نجا لاحد منا دون عفو .یا غنی الاغنیا ، ہا ، نحن عباد بین یدی و نا افقر الفقرا الی ، فاجبر فاقتنا بوسع ، و لا تقطع رجانا بمنع ، فتون قد اشقیت من استسعد ب ، و حرمت من استرفد فضل .فالی من حینئذ منقلبنا عن ، و الی این مذہبنا عن باب ، سبحان نحن المضطرون الذین اوجبت اجابتہم ، و اہل السو الذین وعدت الشف عنہم .واشبہ الاشیا بمشیت ، و اولی الامور ب فی عظمت رحم من استرحم ، و غوث من استغاث ب ، فارحم تضرعنا الی ، و اغننا ذ طرحنا انفسنا بین یدی .اللہم ن الشیطان قد شمت بنا ذ شایعناہ علی معصیت ، فصل علی محمد و الہ ، و لا تشمتہ بنا بعد ترنا ایاہ ل ، و رغبتنا عنہ الی .

ترجمہ

            بارالہا! اگر تو چاہے کہ ہمیں معاف کر دے تو یہ تیرے فضل کے سبب سے ہے اوراگر تو چاہے کہ ہمیں سزا دے تو یہ تیرے عدل کی رو سے ہے ۔ تو اپنے شیوہ احسان کے پیش نظر ہمیں پوری معافی دے اور ہمارے گناہوں سے درگزر کرکے اپنے عذاب سے بچا لے ۔ اس لئے کہ تیرے عدل کی تاب نہیں ہے ۔ اورتیرے عفو کے بغیر ہم میں سے کسی ایک کی بھی نجات نہیں ہو سکتی ۔ اے بے نیازوں کے بے نیاز! ہاں تو پھر ہم سب تیرے بندے ہیں جو تیرے حضور کھڑے ہیں اور میں سب محتاجوں سے بڑھ کر تیرا محتاج ہوں ۔ لہذا اپنے بھرے خزانے سے ہمارے فقر واحتیاج کو بھر دے ، اور اپنے دروازے سے رد کرکے ہماری امیدوں کو قطع نہ کر ۔ ورنہ جو تجھ سے خوشحالی کا طالب تھا وہ تیرے ہاں سے حرماں نصیب ہو گا اور جو تیرے فضل سے بخش وعطا کا خواستگار تھا وہ تیرے در سے محروم رہے گا۔ تو اب ہم تجھے چھوڑ کر کس کے پاس جائیں اورتیرا در چھوڑ کر کدھر کا رخ کریں ۔ تو اس سے منزہ ہے(کہ ہمیں ٹھکرا دے جب کہ ) ہم ہی وہ عاجز وبے بس ہیں جن کی دعائیں قبول کرنا تو نے اپنے اوپر لازم کر لیا ہے اوروہ درد مند ہیں جن کے دکھ درد کرنے کا تو نے وعدہ کیا ہے۔ اورتمام چیزوں میں تیرے مقتضائے مشیت کے مناسب اور تمام امور میں تیری بزرگی وعظمت کے شایان یہ ہے کہ جو تجھ سے رحم کی درخواست کرے تو اس پر رحم فرمائے اورجو تجھ سے فریاد رسی چاہے، تو اس کی فریاد رسی کرے ۔ تو اب اپنی بارگاہ میں ہماری تضرع و زاری پر رحم فرما ۔ اورجب کہ ہم نے اپنے کو تیرے آگے (خاک مذلت پر) ڈال دیا ہے تو ہمیں (فکر وغم سے ) نجات دے ۔ بارالہا! جب ہم نے تیری معصیت میں شیطان کی پیروی کی تو اس نے (ہماری اس کمزوری پر ) اظہار مسرت کیا۔ تو محمد اور ان کی آل اطہر پر درود بھیج۔ اورجب ہم نے تیری خاطر اسے چھوڑ دیا اور اس سے روگردانی کرکے تجھ سے لو لگا چکے ہیں تو کوئی ایسی افتاد نہ پڑے کہ وہ ہم پر شماتت کرے۔

۱۱۔ انجام بخیر ہونے کی دعا

            یا من ذرہ شرف للذارین ، و یا من شرہ فوز للشارین ، و یا من طاعتہ نجا للمطیعین ، صل علی محمد و الہ ، و اشغل قلوبنا بذر عن ل ذر ، و السنتنا بشر عن ل شر ، و جوارحنا بطاعت عن ل طاع .فان قدرت لنا فراغا من شغل فاجعلہ فراغ سلام لا تدرنا فیہ تبع ، و لا تلحقنا فیہ سئم ، حتی ینصرف عنا تاب السیئات بصحیف خالی من ذر سیئاتنا ، و یتولی تاب الحسنات عنا مسرورین بما تبوا من حسناتنا.و ذا انقضت ایام حیاتنا ، و تصرمت مدد اعمارنا ، و استحضرتنا دعوت التی لابد منہا و من اجابتہا ، فصل علی محمد و الہ ، و اجعل ختام ما تحصی علینا تب اعمالنا توب مقبول لا توقفنا بعدہا علی ذنب اجترحناہ ، و لا معصی اقترفناہا .و لا تشف عنا سترا سترتہ علی رس الاشہاد ، یوم تبلو اخبار عباد .ن رحیم بمن دعا ، و مستجیب لمن نادا .

ترجمہ

اے وہ ذات ! جس کی یاد ، یاد کرنے والوں کے لیے سرمایہ عزت ۔ اے وہ جس کا شکر، شکر گزاروں کے لیے وجہ کامرانی ۔ اے وہ جس کی فرمانبرداری، فرمانبرداروں کے لیے ذریعہ نجات ہے ۔ رحمت نازل فرما محمد اوران کی آل پر اورہمارے دلوں کو اپنی یاد میں اورہماری زبانوں کو اپنے شکریہ میں اور ہمارے اعضا کو اپنی فرمانبرداری میں مصروف رکھ کر ہر یاد ،ہر شکریہ اور فرمانبرداری سے بے نیاز کر دے ۔ اوراگر تو نے ہماری مصروفتیوں میں کوئی فراغت کا لمحہ رکھا ہے تو اسے سلامتی سے ہمکنار کر۔ اس طرح کہ نتیجہ میں کوئی گناہ دامن گیر نہ ہو اورنہ خستگی رونما ہو تا کہ برائیوں کو لکھنے والے فرشتے اس طرح پلٹیں کہ نام اعمال ہماری برائیوں کے ذکر سے خالی ہو اور نیکیوں کو لکھنے والے فرشتے ہماری نیکیوں کو لکھ کر مسرور وشاداں واپس ہوں اورجب ہماری زندگی کے دن بیت جائیں اورسلسلہ حیات قطع ہو جائے اور تیری بارگاہ میں حاضر ہونے کا بلاوا آئے جسے بہرحال آنا اورجس پربہرصورت لبیک کہنا ہے ۔ تو محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اورہمارے کاتبان اعمال ہمارے جن اعمال کا شمار کریں اوران میں آخری عمل مقبول توبہ کو قرار دے کہ اس کے بعد ہمارے ان گناہوں اورہماری ان معصیتوں پر جن کے ہم مرتکب ہوئے ہیں سرزنش نہ کرے اورجب اپنے بندوں کے حالات جانچے تو اس پردہ کو جو تو نے ہمارے گناہوں پر ڈالا ہے سب کے رو برو چاک نہ کرے بے شک جو تجھے بلائے تو اس پر مہربانی کرتا ہے اور جو تجھے پکارے تو اس کی سنتا ہے ۔

  860
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      امام کاظم علیہ السلام کی مجاہدانہ زندگی کے واقعات کا ...
      امام جواد علیہ السلام اور شیعت کی موجودہ شناخت اور ...
      حدیث "قلم و قرطاس" میں جو آنحضرت{ص} نے فرمایا هے: ...
      حضرت علی (ع ) خلفاء کے ساتھ کیوں تعاون فر ماتے تھے ؟
      شیعه فاطمه کے علاوه پیغمبر کی بیٹیوں سے اس قدر نفرت ...
      کیا عباس بن عبدالمطلب اور ان کے فرزند شیعوں کے عقیده کے ...
      امام محمد باقر علیہ السلام کی حیات طیبہ کے دلنشین گوشے ...
      اگر کسی دن کو یوم مادر کہا جا سکتا ہے تو وہ شہزادی کونین ...
      قرآن مجید کی مثال پیش کرنے کا دعوی کرنے والوں کی حکمیت ...
      فاطمہ، ماں کی خالی جگہ

 
user comment