اردو
Thursday 20th of June 2019
  817
  0
  0

ائمہ معصومین علیہم السلام نے ایسے دورحکومت -5

۶۔ دعائے صبح وشام

الحمد للہ الذی خلق اللیل و النہار بقوتہ .و میز بینہما بقدرتہ .و جعل لل واحد منہما حدا محدودا ، و امدا ممدودا .یولج ل واحد منہما فی صاحبہ ، و یولج صاحبہ فیہ بتقدیر منہ للعباد فیما یغذوہم بہ ، و ینشئہم علیہ .فخلق لہم اللیل لیسنوا فیہ من حرات التعب و نہضات النصب ، و جعلہ لباسا لیلبسوا من راحتہ و منامہ ، فیون ذل لہم جماما و قو ، و لینالوا بہ لذ و شہو .و خلق لہم النہار مبصرا لیبتغوا فیہ من فضلہ ، و لیتسببوا الی رزقہ ، و یسرحوا فی ارضہ ، طلبا لما فیہ نیل العاجل من دنیاہم ، و در الاجل فی اخریہم .بل ذل یصلح شنہم ، و یبلو اخبارہم ، و ینظر یف ہم فی اوقات طاعتہ ، و منازل فروضہ ، و مواقع احامہ ، لیجزی الذین اساا بما عملوا ، و یجزی الذین احسنوا بالحسنی .اللہم فل الحمد علی ما فلقت لنا من الاصباح ، و متعتنا بہ من ضو النہار ، و بصرتنا من مطالب الاقوات ، و وقیتنا فیہ من طوارق الافات .اصبحنا و اصبحت الاشیا لہا بجملتہا ل : سماہا و ارضہا ، و ما بثثت فی ل واحد منہما ، سانہ و متحرہ ، و مقیمہ و شاخصہ ، و ما علا فی الہوا ، و ما ن تحت الثری .اصبحنا فی قبضت یحوینا مل و سلطان ، و تضمنا مشیت ، و نتصرف عن امر ، و نتقلب فی تدبیر .لیس لنا من الامر الا ما قضیت ، و لا من الخیر الا ما اعطیت .و ہذا یوم حادث جدید ، و ہو علینا شاہد عتید ، ان احسنا ودعنا بحمد ، و ان اسانا فارقنا بذم .اللہم صل علی محمد و الہ ، و ارزقنا حسن مصاحبتہ ، و اعصمنا من سو مفارقتہ بارتاب جریر ، و اقتراف صغیر و بیر .و اجزل لنا فیہ من الحسنات ، و اخلنا فیہ من السیئات ، و امل لنا ما بین طرفیہ حمدا و شرا و اجرا و ذخرا و فضلا و احسانا .اللہم یسر علی الرام الاتبین منتنا ، و امل لنا من حسناتنا صحائفنا ، و لا تخزنا عندہم بسو اعمالنا .اللہم اجعل لنا فی ل ساع من ساعاتہ حظا من عباد ، و نصیبا من شر ، و شاہد صدق من ملائت .اللہم صل علی محمد و الہ ، و احفظنا من بین ایدینا و من خلفنا و عن ایماننا و عن شمائلنا و من جمیع نواحینا ، حفظا عاصما من معصیت ، ہادیا الی طاعت ، مستعملا لمحبت .اللہم صل علی محمد و الہ ، و وفقنا فی یومنا ہذا و لیلتنا ہذہ و فی جمیع ایامنا لاستعمال الخیر ، و ہجران الشر ، و شر النعم ، و اتباع السنن ، و مجانب البدع ، و الامر بالمعروف ، و النہی عن المنر ، و حیاط الاسلام ، و انتقاص الباطل و اذلالہ ، و نصر الحق و اعزازہ ، و ارشاد الضال ، و معاون الضعیف ، و ادرا اللہیف .اللہم صل علی محمد و الہ ، و اجعلہ ایمن یوم عہدناہ ، و افضل صاحب صحبناہ ، و خیر وقت ظللنا فیہ .و اجعلنا من ارضی من مر علیہ اللیل و النہار من جمل خلق ، اشرہم لما اولیت من نعم ، و اقومہم بما شرعت من شرائع ، و اوقفہم عما حذرت من نہی .اللہم انی اشہد و فی ب شہیدا ، و اشہد سما و ارض و من اسنتہما من ملائت و سائر خلق فی یومی ہذا و ساعتی ہذہ و لیلتی ہذہ و مستقری ہذا ، انی شہد ن نت اللہ الذی لا لہ لا نت ، قائم بالقسط ، عدل فی الحم ، رف بالعباد ، مال المل ، رحیم بالخلق .و ن محمدا عبد و رسول و خیرت من خلق ، حملتہ رسالت فاداہا ، و امرتہ بالنصح لامتہ فنصح لہا .اللہم فصل علی محمد و الہ ، اثرما صلیت علی احد من خلق ، و اتہ عنا افضل ما اتیت احدا من عباد ، و اجزہ عنا افضل و ارم ما جزیت احدا من انبیاء عن امتہ .ن نت المنان بالجسیم ، الغافر للعظیم ، و نت ارحم من ل رحیم ، فصل علی محمد و الہ الطیبین الطاہرین الاخیار الانجبین .

ترجمہ

سب تعریف اس اللہ کے لیے جس نے اپنی قوت وتوانائی سے شب وروز کو خلق فرمایا اوراپنی قدرت کی کارفرمائی سے ان دونوں میں امتیاز قائم کیا اوران میں سے ہر ایک کو معینہ حدود ومقررہ اوقاف کا پابند بنایا۔ اوران کے کم وبیش ہونے کا جو اندازہ مقرر کیا اس کے مطابق رات کی جگہ پر دن اوردن کی جگہ پر رات کو لاتا ہے تا کہ اس ذریعہ سے بندوں کی روزی اوران کی پرورش کا سروسامان کرے ۔ چنانچہ اس نے ان کے لیے رات بنائی تاکہ وہ اس میں تھکا دینے والے کاموں اورخستہ کردینے والی کلفتوں کے بعد آرام کریں اور اسے پردہ قرار دیا تاکہ سکون کی چادر تان کر آرام سے سوئیں اور یہ ان کے لیے راحت و نشاط اورطبعی قوتوں کے بحال ہونے اورلذت وکیف اندوزی کا ذریعہ ہو اور دن کو ان کے لیے روشن و درخشاں پیدا کیا تاکہ اس میں (کاروکسب میں سرگرم عمل ہو کر) اس کے فضل کی جستجو کریں اورروزی کا وسیلہ ڈھونڈیں اوردنیاوی منافع اوراخروی فوائد کے وسائل تلاش کرنے کے لیے اس کی زمین میں چلیں پھریں۔ان تمام کارفرمائیوں سے وہ ان کے حالات سنوارتا ہے اوران کے اعمال کی جانچ کرتا ہے اوریہ دیکھتا ہے کہ وہ لوگ اطاعت کی گھڑیوں ،فرائض کی منزلوں اورتعمیل احکام کے موقعوں پر کیسے ثابت ہوتے ہیں تاکہ بروں کو ان کی بداعمالیوں کی سزا اورنیکو کاروں کو اچھا بدلہ دے اے اللہ ! تیرے ہی لیے تمام تعریف و توصیف ہے کہ تو نے ہمارے لیے (رات کا دامن چاک کرکے )صبح کا اجالا کیا اوراس طرح دن کی روشنی سے ہمیں فائدہ پہنچایا اورطلب رزق کے مواقع ہمیں دکھائے اوراس میں آفات وبلیات سے ہمیں بچایا ۔ ہم اور ہمارے علاوہ سب چیزیں جنہیں تو نے ان میں پھیلایا ہے وہ ساکن ہوں یا متحرک ، مقیم ہوں یا راہ نورد ، فضا میں بلند ہوں یا زمین کی تہوں میں پوشیدہ ۔ ہم تیرے قبضہ قدرت میں ہیں ۔اورتیرا اقتدار اورتیری بادشاہت ہم پر حاوی ہے اورتیری مشیت کا محیط ہمیں گھیرے ہوئے ہے۔ تیرے حکم سے ہم تصرف کرتے اور تیری تدبیر وکارسازی کے تحت ہم ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹتے ہیں ۔ جو امر تو نے ہمارے لیے نافذ کیا اورجو خیر اوربھلائی تو نے ہمیں بخشی اس کے علاوہ ہمارے اختیار میں کچھ نہیں ہے اور یہ دن نیا اور تازہ وارد ہے جو ہم پر ایسا گواہ ہے جو ہمہ وقت حاضر ہے۔ اگر ہم نے اچھے کام کئے تو وہ توصیف وثنا کرتے ہوئے ہمیں رخصت کرے گا اوراگر برے کام کئے تو برائی کرتا ہوا ہم سے علیحدہ ہوگا ۔ اے اللہ ! تومحمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور ہمیں اس دن کی اچھی رفاقت نصیب کرنا اور کسی خطا کے ارتکاب کرنے یا صغیرہ وکبیرہ گناہ میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اس کے چیں بہ جبیں ہو کر رخصت ہونے سے ہمیں بچائے رکھنا اور اس دن میں ہماری نیکیوں کا حصہ زیادہ کر ۔ اوربرائیوں سے ہمارا دامن خالی رکھ ۔ اورہمارے لیے اس کے آغاز وانجام کو حمد وسپاس ، ثواب وذخیرہ آخرت اوربخشش واحسان سے بھر دے ۔ اے اللہ !کراما کاتبین پر (ہمارا گناہ قلم بند کرنے کی ) زحمت کم کر دے اورہمارا نامہ اعمال نیکیوں سے بھر دے اوربد اعمالیوں کی وجہ سے ہمیں ان کے سامنے رسوا نہ کر ۔ بارالہا! تو اس دن کے لمحوں میں سے ہر لمحہ وساعت میں اپنے خاص بندوں کا حظ ونصیب اوراپنے شکر کا ایک حصہ اورفرشتوں میں سے ایک سچا گواہ ہمارے لیے قرار دے ۔ ا ے اللہ ! تو محمد اوران کی آل پر رحمت ناز ل فرما اورآگے پیچھے اورداہنے اوربائیں اور تمام اطراف وجوانب سے ہماری حفاظت کر۔ ایسی حفاظت جو ہمارے لیے گناہ ومعصیت سے سدراہ ہو، تیری اطاعت کی طرف رہنمائی کرے اورتیری محبت میں صرف ہو ۔ اے اللہ ! تو محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما ۔ اور ہمیں آج کے دن، آج کی رات اورزندگی کے تمام دنوں میں توفیق عطا فرما کہ ہم نیکیوں پر عمل کریں ، برائیوں کو چھوڑیں ، نعمتوں پر شکر اورسنتوں پر عمل کریں ،بدعتوں سے الگ تھلگ رہیں اور نیک کاموں کا حکم دیں اور برے کاموں سے روکیں ۔اسلام کی حمایت وطرفداری کریں ،باطل کو کچلیں اور اسے ذلیل کریں ۔ حق کی نصرت کریں اوراسے سر بلند کریں ۔ گمراہوں کی رہنمائی ،کمزوروں کی اعانت اوردرد مندوں کی چارہ جوئی کریں ۔ بارالہا!محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اورآج کے دن کو ان تمام دنوں سے جو ہم نے گزارے زیادہ مبارک دن اور ان تمام ساتھیوں سے جن کا ہم نے ساتھ دیا ۔ اس کو بہترین رفیق اوران تمام وقتوں سے جن کے زیر سایہ ہم نے زندگی بسر کی اس کو بہترین وقت قرار دے اورہمیں ان تمام مخلوقات میں سے زیادہ راضی وخوشنود رکھ جن پر شب وروز کے چکر چلتے رہے ہیں اور ان سب سے زیادہ اپنی عطا کی ہوئی نعمتوں کا شکر گزار اوران سب سے زیادہ اپنے جاری کئے ہوئے احکام کا پابند اوران سب سے زیادہ ان چیزوں سے کنارہ کشی کرنے والا قرار دے جن سے تو نے خوف دلا کر منع کیا ہے۔ اے خدا !میں تجھے گواہ کرتا ہوں اورتو گواہی کے لیے کافی ہے اورتیرے آسمان اورتیری زمین کو اور ان میں جن جن فرشتوں اورجس جس مخلوق کو تو نے بسایا ہے آج کے دن اوراس گھڑی اوررات میں اور اس مقام پر گواہ کرتا ہوں کہ میں اس بات کا معترف ہوں کہ صرف تو ہی وہ معبود ہے جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ۔ انصاف کا قائم کرنے والا ،حکم میں عدل ملحوظ رکھنے والا، بندوں پر مہربان ، اقتدار کا مالک اورکائنات پر رحم کرنے والا ہے اوراس بات کی بھی شہادت دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیرے خاص بندے ، رسول اوربرگزیدہ کائنات ہیں ان پر تو نے رسالت کی ذمہ داریاں عائد کیں تو انہو ں نے اسے پہنچایا اوراپنی امت کو پند و نصیحت کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے نصیحت فرمائی ۔ ہماری طرف سے انہیں وہ بہترین تحفہ عطا کر جو تیرے ہر اس انعام سے بڑھا ہوا ہو جو اپنے بندوں میں سے تو نے کسی ایک کو دیا ہو ۔ اورہماری طرف سے انہیں وہ جزا د ے جو ہر اس جزا سے بہتر و برتر ہو ۔ جو ابنیا میں سے کسی ایک کو تو نے اس کی امت کی طرف سے عطا فرمائی ہو ۔ لہذا تو محمد اوران کی پاک وپاکیزہ اورشریف ونجیب اولاد پر رحمت نازل فرما۔

۷۔ مشکلات کے وقت کی دعا

یا من تحل بہ عقد المارہ ، و یا من یفث بہ حد الشدائد ، و یا من یلتمس منہ المخرج الی روح الفرج .ذلت لقدرت الصعاب ، و تسببت بلطف الاسباب ، و جری بقدرت القضا ، و مضت علی ارادت الاشیا .فہی بمشیت دون قول متمر ، و بارادت دون نہی منزجر .نت المدعو للمہمات ، و نت المفزع فی الملمات ، لا یندفع منہا لا ما دفعت ، و لا ینشف منہا لا ما شفت .و قد نزل بی یا رب ما قد تدنی ثقلہ ، و الم بی ما قد بہظنی حملہ .و بقدرت اوردتہ علی ، و بسلطان وجہتہ الی .فلا مصدر لما اوردت ، و لا صارف لما وجہت ، و لا فاتح لما اغلقت ، و لا مغلق لما فتحت ، و لا میسر لما عسرت ، و لا ناصر لمن خذلت .فصل علی محمد و الہ ، و افتح لی یا رب باب الفرج بطول ، و اسر عنی سلطان الہم بحول ، و انلنی حسن النظر فیما شوت ، و اذقنی حلاو الصنع فیما سلت ، و ہب لی من لدن رحم و فرجا ہنیئا ، و اجعل لی من عند مخرجا وحیا .و لا تشغلنی بالاہتمام عن تعاہد فروض ، و استعمال سنت .فقد ضقت لما نزل بی یا رب ذرعا ، و امتلت بحمل ما حدث علی ہما ، و نت القادر علی شف ما منیت بہ ، و دفع ما وقعت فیہ ، فافعل بی ذل و ن لم استوجبہ من ، یا ذاالعرش العظیم .

ترجمہ

اے وہ جس کے ذریعہ مصیبتوں کے بندھن کھل جاتے ہیں ۔ اے وہ جس کے باعث سختیوں کی باڑھ کند ہو جاتی ہے اے وہ جس سے (تنگی ودشواری سے ) وسعت وفراخی کی آسائش کی طرف نکال لے جانے کی التجا کی جاتی ہے۔ تو وہ ہے کہ تیری قدرت کے آگے دشواریاں آسان ہو گئیں ۔ تیرے لطف سے سلسلہ اسباب برقرار رہا اورتیری قدرت سے قضا کا نفاذ ہوا اورتمام چیزیں تیرے ارادہ کے رخ پر گامزن ہیں۔ وہ بن کہے تیری مشیت کی پابند اور بن روکے خود ہی تیرے ارادہ سے رکی ہوئی ہیں ۔ مشکلات میں تجھے ہی پکارا جاتا ہے اور اسی بلیات میں تو ہی جائے پناہ ہے ۔ ان میں سے کوئی مصیبت ٹل نہیں سکتی مگر جسے تو ٹال دے اور کوئی مشکل حل نہیں سکتی مگر جسے توحل کر دے۔ پروردگارا ! مجھ پر ایک ایسی مصیبت نازل ہوئی ہے جس کی سنگینی نے مجھے گراں بار کر دیا ہے اور ایسی آفت آ پڑی ہے جس سے میری قوت برداشت عاجز ہو چکی ہے تو نے اپنی قدرت سے اس مصیبت کو مجھ پر وارد کیا ہے اور اپنے اقتدار سے میری طرف متوجہ کیا ہے ۔ تو جسے وارد کرے اسے کوئی ہٹانے والا ، اورجسے تومتوجہ کرے اسے کوئی پلٹانے والا ، اورجسے تو بند کرے اسے کوئی کھولنے والا اورجسے تو کھولے اسے کوئی بند کرنے والا اورجسے تو دشوار بنائے اسے کوئی آسان کرنے والا اورجسے تو نظر انداز کرے اسے کوئی مدد دینے والا نہیں ہے ۔ رحمت نازل فرما محمد اوران کی آل پر ، اور اپنی کرم فرمائی سے اے میرے پالنے والے میرے لیے آسائش کا دروازہ کھول دے اوراپنی قوت وتوانائی سے غم و اندوہ کھول دے اوراپنی قوت وتوانائی سے غم واندوہ کا زور توڑ دے اورمیرے اس شکوہ کے پیش نظر اپنی نگاہ کرم کا رخ میری طرف موڑ دے اورمیری حاجت کو پورا کرکے شیرینی احسان سے مجھے لذت اندوز کر ۔ اور اپنی طرف سے رحمت اورخوشگوار آسودگی مرحمت فرما اورمیرے لیے اپنے لطف خاص سے جلد چھٹکارے کی راہ پیدا کر اور اس غم واندوہ کی وجہ سے اپنے فرائض کی پابندی اورمستحبات کی بجا آوری سے غفلت میں نہ ڈال دے ۔ کیونکہ میں مصیبت کے ہاتھوں تنگ آچکا ہوں اوراس حادثہ کے ٹوٹ پڑنے سے دل رنج واندوہ سے بھر گیا ہے جس مصیبت میں مبتلا ہوں اس کے دور کرنے اورحسن بلا میں پھنسا ہوا ہوں اس سے نکالنے پر تو ہی قادر ہے۔ لہذا اپنی قدرت کو میرے حق میں کار فرما کر ۔ اگرچہ تیری طرف سے میں اس کا سزا وار نہ قرار پا سکوں ۔ اے عرش عظیم کے مالک ۔

  817
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      امام کاظم علیہ السلام کی مجاہدانہ زندگی کے واقعات کا ...
      امام جواد علیہ السلام اور شیعت کی موجودہ شناخت اور ...
      حدیث "قلم و قرطاس" میں جو آنحضرت{ص} نے فرمایا هے: ...
      حضرت علی (ع ) خلفاء کے ساتھ کیوں تعاون فر ماتے تھے ؟
      شیعه فاطمه کے علاوه پیغمبر کی بیٹیوں سے اس قدر نفرت ...
      کیا عباس بن عبدالمطلب اور ان کے فرزند شیعوں کے عقیده کے ...
      امام محمد باقر علیہ السلام کی حیات طیبہ کے دلنشین گوشے ...
      اگر کسی دن کو یوم مادر کہا جا سکتا ہے تو وہ شہزادی کونین ...
      قرآن مجید کی مثال پیش کرنے کا دعوی کرنے والوں کی حکمیت ...
      فاطمہ، ماں کی خالی جگہ

 
user comment