اردو
Wednesday 21st of August 2019
  811
  0
  0

ائمہ معصومین علیہم السلام نے ایسے دورحکومت -4

۴۔ انبیا کے تابعین اوران پر ایمان لانے والوں کے حق میں حضرت کی دعا

            اللہم و اتباع الرسل و مصدقوہم من اہل الارض بالغیب عند معارض المعاندین لہم بالتذیب و الاشتیاق الی المرسلین بحقائق الایمان .فی ل دہر و زمان ارسلت فیہ رسولا و اقمت لاہلہ دلیلا من لدن ادم الی محمد - صلی اللہ علیہ و الہ - من ئم الہدی ، و قاد اہل التقی ، علی جمیعہم السلام ، فاذرہم من بمغفر و رضوان .اللہم و اصحاب محمد خاص الذین احسنوا الصحاب و الذین ابلوا البلا الحسن فی نصرہ ، و انفوہ ، و اسرعوا الی وفادتہ ، و سابقوا الی دعوتہ ، و استجابوا لہ حیث اسمعہم حج رسالاتہ .و فارقوا الازواج و الاولاد فی اظہار لمتہ ، و قاتلوا الابا و الابنا فی تثبیت نبوتہ ، و انتصروا بہ .و من انوا منطوین علی محبتہ یرجون تجار لن تبور فی مودتہ .و الذین ہجرتہم العشائر اذ تعلقوا بعروتہ ، و انتفت منہم القرابات اذ سنوا فی ظل قرابتہ .فلا تنس لہم اللہم ما تروا ل و فی ، و ارضہم من رضوان ، و بما حاشوا الخلق علی ، و انوا مع رسول دعا ل الی .و اشرہم علی ہجرہم فی دیار قومہم ، و خروجہم من سع المعاش الی ضیقہ ، و من ثرت فی اعزاز دین من مظلومہم .اللہم و اوصل الی التابعین لہم باحسان ، الذین یقولون : ربنا اغفر لنا و لاخواننا الذین سبقونا بالایمان خیر جزاء .الذین قصدوا سمتہم ، و تحروا وجہتہم ، و مضوا علی شالتہم .لم یثنہم ریب فی بصیرتہم ، و لم یختلجہم ش فی قفو اثارہم ، و الایتمام بہدای منارہم .مانفین و موازرین لہم ، یدینون بدینہم ، و یہتدون بہدیہم ، یتفقون علیہم ، و لا یتہمونہم فیما ادوا الیہم .اللہم و صل علی التابعین من یومنا ہذا الی یوم الدین و علی ازواجہم و علی ذریاتہم و علی من اطاع منہم .صلو تعصمہم بہا من معصیت ، و تفسح لہم فی ریاض جنت ، و تمنعہم بہا من ید الشیطان ، و تعینہم بہا علی ما استعانو علیہ من بر ، و تقیہم طوارق اللیل و النہار لا طارقا یطرق بخیر .و تبعثہم بہا علی اعتقاد حسن الرجا ل ، و الطمع فیما عند ، و تر التہم فیما تحویہ ایدی العباد .لتردہم الی الرغب الی و الرہب من ، و تزہدہم فی سع العاجل ، و تحبب الیہم العمل للاجل ، و الاستعداد لما بعد الموت .و تہون علیہم ل رب یحل بہم یوم خروج الانفس من ابدانہا .و تعافیہم مما تقع بہ الفتن من محذوراتہا ، و ب النار و طول الخلود فیہا .و تصیرہم الی امن من مقیل المتقین .

ترجمہ

            اے اللہ ! تو اہل زمین میں سے رسولوں کی پیروی کرنے والوں اور ان مومنین کو اپنی مغفرت اورخوشنودی کے ساتھ یاد فرما جو غیب کی رو سے ان پر ایمان لائے اس وقت کہ جب دشمن ان کے جھٹلانے کے درپے تھے اور اس وقت کہ جب وہ ایمان کی حقیقتوں کی روشنی میں ان کے (ظہور کے ) مشتاق تھے ۔ ہر اس دور اور ہر اس زمانہ میں جس میںتو نے کوئی رسول بھیجا اوراس وقت کے لوگوں کے لیے کوئی رہنما مقرر کیا ۔ حضرت آدم کے وقت سے کے کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد تک جو ہدایت کے پیشوا اورصاحبان تقوی کے سربراہ تھے ( ان سب پر سلام ہو ) بارالہا!خصوصیت سے اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے وہ افراد جنہوں نے پوری طرح پیغمبر کا ساتھ دیا۔ اوران کی نصرت میں پوری شجاعت کا مظاہرہ کیا اور ان کی مدد پر کمر بستہ رہے اوران پر ایمان لانے میں جلد ی اوران کی دعوت کی طرف سبقت کی ۔ اور جب پیغمبرنے اپنی رسالت کی دلیلیں ان کے گوش گزار کیں تو انہوں نے لبیک کہی اور ان کا بول بالا کرنے کے لیے بیوی بچوں کو چھوڑ دیا اور امر نبوت کے استحکام کے لیے باپ اوربیٹوں تک سے جنگیں کیں اورنبی اکرم کے وجود کی برکت سے کامیابی حاصل کی اس حالت میں کہ ان کی محبت دل کے ہر رگ وریشہ میں لئے ہوئے تھے اورا ن کی محبت ودوستی میں ایسی نفع بخش تجارت کے متوقع تھے جس میں کبھی نقصان نہ ہو۔ اور جب ان کے دین کے بندھن سے وابستہ ہوئے تو ان کے قوم قبیلے نے انہیں چھوڑ دیا۔اورجب ان کے سایہ قرب میں منزل کی تو اپنے بیگانے ہو گئے تو اے میرے معبود !انہو ں نے تیری خاطر اورتیری راہ میں جو سب کو چھوڑ دیا تو (جزائے کے موقع پر ) انہیں فراموش نہ کیجئیواوران کی فدا کاری اورخلق خدا کو تیرے دین پر جمع کرنے اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ داعی حق بن کر کھڑا ہونے کا صلہ میں انہیں اپنی خوشنودی سے سرفراز وشاد کان فرما اورانہیں اس امر پر بھی جزاد ے کہ انہو ں نے تیری خاطر اپنے قوم قبیلے کے شہروں سے ہجرت کی اور وسعت معاش سے تنگی معاش میں جا پڑے اوریونہی ان مظلوموں کی خوشنودی کا سامان کر کہ جن کی تعداد کو تو نے اپنے دین کو غلبہ دینے کے لیے بڑھایا بارالہا ۔ جنہوں نے اصحاب رسول کی احسن طریق سے پیروی کی انہیں بہترین جزائے خیر دے جو ہمیشہ یہ دعا کرتے رہے کہ اے ہمارے پروردگار! توہمیں اور ہمارے بھائیوں کو بخشدے جو ایمان لانے میں ہم سے سبقت لے گئے ۔ اور جن کا مطمع نظر اصحاب کا طریق رہا اور انہی کا طور طریقہ اختیار کیا اور انہی کی روش پر گامزن ہوئے ۔ ان کی بصیرت میں کبھی شبہ کا گزر نہیں ہوا کہ انہیں( راہ حق سے ) منحرف کرتا اور ان کے نقش قدم پر گام فرسائی اور ان کے روشن طرز عمل کی اقتدا میں انہیں شک و تردد نے پریشان نہیں کیا وہ اصحاب نبی کے معاون و دستگیر اور دین میں ان کے پیرو کار اورسیرت واخلاق میں ا ن سے درس آموز رہے اورہمیشہ ان کے ہمنوا رہے اور ان کے پہنچائے ہوئے احکام میں ان پر کوئی الزام نہ دھرا ۔ بارالہا! ان تابعین اوران کے ازواج اور آل اولاد اور ان میں سے جو تیرے فرمانبردار ومطیع ہیں ان پر آج سے لے کر روز قیامت تک درود و رحمت بھیج۔ ایسی رحمت جس کے ذریعہ تو انہیں معصیت سے بچائے ، جنت کے گلزاروں میں فراخی ووسعت دے۔ شیطان کے مکر سے محفوظ رکھے اورجس کارخیر میں تجھ سے مدد چاہیں ان کی مدد کرے اورشب وروز کے حوادث سے سوائے کسی نوید خیر کے ان کی نگہداشت کرے اوراس بات پر انہیں آمادہ کرے کہ وہ تجھ سے حسن امید کا عقیدہ وابستہ رکھیں اورتیرے ہاں کی نعمتوں کی خواہش کریں ۔ اوربندوں کے ہاتھوں میں فراخی نعمت کو دیکھ کر تجھ پر (بے انصافی کا ) الزام نہ دھریں تاکہ تو ان کا رخ اپنے امید وبہم کی طرف پھیر دے اوردنیا کی وسعت وفراخی سے انہیں بے تعلق کر دے اورعمل آخرت اورموت کے بعد کی منزل کا ساز وبرگ مہیا کرنا ان کی نگاہوں میں خوش آیند بنا دے اورروحوں کے جسموں سے جدا ہونے کے دن ہر کرب واندوہ جو ان پر وارد ہو آسان کر دے اورفتنہ و آزمائش سے پیدا ہونے والے خطرات اورجہنم کی شدت اوراس میں ہمیشہ پڑے رہنے سے نجات دے اور انہیں جائے امن کی طرف جو پرہیز گاروں کی آسائش گاہ ہے منتقل کر دے ۔

            ۵۔ اپنے لئے اور اپنے دوستوں کے لیے حضرت کی دعا

            و تصیرہم الی امن من مقیل المتقین .یا من لا تنقضی عجائب عظمتہ ، صل علی محمد و الہ ، واحجبنا عن الالحاد فی عظمت .و یا من لا تنتہی مد ملہ ، صل علی محمد و الہ ، و اعتق رقابنا من نقمت .و یا من لا تفنی خزائن رحمتہ ، صل علی محمد و الہ ، و اجعل لنا نصیبا فی رحمت .و یا من تنقطع دون ریتہ الابصار ، صل علی محمد و الہ ، و ادننا الی قرب .و یا من تصغر عند خطرہ الاخطار ، صل علی محمد و الہ ، و رمنا علی .و یا من تظہر عندہ بواطن الاخبار ، صل علی محمد و الہ ، و لا تفضحنا لدی .اللہم اغننا عن ہب الوہابین بہبت ، و افنا وحش القاطعین بصلت حتی لا نرغب الی احد مع بذل ، و لا نستوحش من احد مع فضل .اللہم فصل علی محمد و الہ ، و د لنا و لا تد علینا ، و امر لنا و لا تمر بنا ، و ادل لنا و لا تدل منا .اللہم صل علی محمد و الہ ، و قنا من ، و احفظنا ب ، و اہدنا الی ، و لا تباعدنا عن ، ان من تقہ یسلم ، و من تہدہ یعلم ، و من تقربہ الی یغنم .اللہم صل علی محمد و الہ ، و افنا حد نوائب الزمان ، و شر مصائد الشیطان ، و مرار صول السلطان .اللہم انما یتفی المتفون بفضل قوت ، فصل علی محمد و الہ ، و افنا ، و انما یعطی المعطون من فضل جدت ، فصل علی محمد و الہ ، و اعطنا ، و انما یہتدی المہتدون بنور وجہ ، فصل علی محمد و الہ ، و اہدنا .اللہم ان من والیت لم یضررہ خذلان الخاذلین ، و من اعطیت لم ینقصہ منع المانعین ، و من ہدیت لم یغوہ اضلال المضلین .فصل علی محمد و الہ ، و امنعنا بعز من عباد ، و اغننا عن غیر بارفاد ، و اسل بنا سبیل الحق بارشاد .اللہم صل علی محمد و الہ ، و اجعل سلام قلوبنا فی ذر عظمت ، و فراغ ابداننا فی شر نعمت ، و انطلاق السنتنا فی وصف منت .اللہم صل علی محمد و الہ ، و اجعلنا من دعات الداعین الی ، و ہدات الدالین علی ، و من خاصت الخاصین لدی ، یا ارحم الراحمین .

ترجمہ

اے وہ جس کی بزرگی وعظمت کے عجائب ختم ہونے والے نہیں ۔ تو محمد اوران کی آل پر رحمت نازل فرما اورہمیں اپنی عظمت کے پردوں میں چھپا کر کج اندیشیوں سے بچا لے ۔ اے وہ جس کی شاہی وفرمانروائی کی مدت ختم ہونے والی نہیں تو رحمت نازل کر محمد اور ا ن کی آل پراورہماری گردنوں کو اپنے غضب وعذاب ( بندھنوں ) سے آزاد رکھ ۔ اے وہ جس کی رحمت کے خزانے ختم ہونے والے نہیں۔ رحمت نازل فرما محمد اوران کی آل پر اور اپنی رحمت میں ہمارا بھی حصہ قرار دے۔ اے وہ جس کے مشاہدہ سے آنکھیں قاصر ہیں رحمت نازل فرما محمد اور ان کی آل پر اوراپنی بارگاہ سے ہم کو قریب کر لے۔ اے وہ جس کی عظمت کے سامنے تمام عظمتیں پست و حقیر ہیں رحمت نازل فرما محمد اوران کی آل پر اورہمیں اپنے ہاں عزت عطا کر۔ اے وہ جس کے سامنے راز ہائے سر بستہ ظاہر ہیں رحمت نازل فرما محمد اوران کی آل پر اور ہمیں اپنے سامنے رسوا نہ کر۔ بارالہا! ہمیں اپنی بخشش وعطا کی بدولت بخشش کرنے والوں کی بخشش سے بے نیاز کر دے اوراپنی پیوستگی کے ذریعہ قطع تعلق کرنے والوں کی بے تعلقی ودوری کی تلافی کر دے تاکہ تیری بخشش وعطا کے ہوتے ہوئے دوسرے سے سوال نہ کریں اورتیرے فضل واحسان کے ہوتے ہوئے کسی سے ہراساں نہ ہوں۔ اے اللہ ! محمد اورا ن کی آل پر رحمت نازل فرما اورہمارے نفع کی تدبیر کر اورہمارے نقصان کی تدبیر نہ کر اورہم سے مکر کرنے والے دشمنوں کو اپنے مکر کا نشانہ نہ بنا اور ہمیں اس کی زد پر نہ رکھ ۔ اورہمیں دشمنوں پر غلبہ دے دشمنوں کو ہم پر غلبہ نہ دے ۔ بارالہا ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اورہمیں اپنی ناراضی سے محفوظ رکھ اوراپنے فضل وکرم سے ہماری نگہداشت فرما اور اپنی جانب ہمیں ہدایت کر اوراپنی رحمت سے دور نہ کر کہ جسے تو اپنی ناراضگی سے بچائے گا وہی بچے گا اورجسے تو ہدایت کرے گا وہی (حقائق پر ) مطلع ہو گا اورجسے تو (اپنی رحمت سے )قریب کرے گا وہی فائدہ میں رہے گا۔ اے معبود !تو محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اورہمیں زمانہ کے حوادث کی سختی اورشیطان کے ہتھکنڈوں کی فتنہ انگیزی اورسلطان کے قہر وغلبہ کی تلخ کلامی سے اپنی پناہ میں رکھ ۔ بارالہا! بے نیاز ہونے والے تیرے ہی کمال قوت واقتدار کے سہارے بے نیاز ہوتے ہیں ۔ رحمت نازل فرما محمد اور ان کی آل پر اور ہمیں بے نیاز کر دے اورعطا کرنے والے تیری ہی عطا وبخشش کے حصہ وافر میں سے عطا کرتے ہیں ۔ رحمت نازل فرما محمد اور ان کی آل پر اور ہمیں بھی (اپنے خزانہ رحمت سے )عطا فرما۔ اور ہدایت پانے والے تیری ہی ذات کی درخشندگیوں سے ہدایت پاتے ہیں ۔ رحمت نازل فرما محمد اوران کی آل پراورہمیں ہدایت فرما۔ بارالہا ! جس کی تو نے مدد کی اسے مدد نہ کرنے والوں کا مدد سے محروم رکھنا کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اورجسے تو عطا کرے اس کے ہاں روکنے والوں کے روکنے سے کچھ کمی نہیں ہو جاتی ۔اورجس کی تو خصوصی ہدایت کرے اسے گمراہ کرنے والوں کا گمراہ کرنا بے راہ نہیں کر سکتا۔ رحمت نازل فرما محمد اور ان کی آل پر اوراپنے غلبہ اورقوت کے ذریعہ بندوں(کے شر) سے ہمیں بچائے رکھ اوراپنی عطا وبخشش کے ذریعہ دوسروں سے بے نیاز کر دے اوراپنی رہنمائی سے ہمیں راہ حق پر چلا۔ اے معبود ! تو محمد اوران کی آل پر رحمت نازل فرما اورہمارے دلوں کی سلامتی اپنی عظمت کی یاد میں قرار دے اورہماری جسمانی فراغت (کے لمحوں ) کو اپنی نعمت کے شکریہ میں صرف کر دے اورہماری زبانوں کی گویائی کو اپنے احسان کی توصیف کے لیے وقف کر دے۔ اے اللہ ! تو رحمت نازل فرما محمد اوران کی آل پر اور ہمیں ان لوگوں میں سے قرار دے جو تیری طرف دعوت دینے والے اورتیری طرف کا راستہ بتانے والے ہیں اوراپنے خاص الخاص مقربین میں سے قرار دے۔ اے سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والے۔

  811
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      امام کاظم علیہ السلام کی مجاہدانہ زندگی کے واقعات کا ...
      امام جواد علیہ السلام اور شیعت کی موجودہ شناخت اور ...
      حدیث "قلم و قرطاس" میں جو آنحضرت{ص} نے فرمایا هے: ...
      حضرت علی (ع ) خلفاء کے ساتھ کیوں تعاون فر ماتے تھے ؟
      شیعه فاطمه کے علاوه پیغمبر کی بیٹیوں سے اس قدر نفرت ...
      کیا عباس بن عبدالمطلب اور ان کے فرزند شیعوں کے عقیده کے ...
      امام محمد باقر علیہ السلام کی حیات طیبہ کے دلنشین گوشے ...
      اگر کسی دن کو یوم مادر کہا جا سکتا ہے تو وہ شہزادی کونین ...
      قرآن مجید کی مثال پیش کرنے کا دعوی کرنے والوں کی حکمیت ...
      فاطمہ، ماں کی خالی جگہ

 
user comment