اردو
Tuesday 25th of June 2019
  947
  0
  0

ائمہ معصومین علیہم السلام نے ایسے دورحکومت -2

مناجات انجیلیہ میں حضرت امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں :

            اسئلک من الہمم اعلاھا“ ۱#

             پروردگار! عالی ترین ہمت تجھ سے چاہتا ہوں ۔

            امام سجاد علیہ السلام کا یہ کلام ہراس شخص کے لئے جو اس دعا کی کتاب کو ہاتھ میں لیتا ہے اور دعاؤں کو پڑھنے کے ذریعہ پروردگار عالم سے ہم کلام ہوتا ہے بیداری کی گھنٹی  ہے ۔

            یہ دعا کرنے والا جو بھی ہو گرچہ خود کو بے ارادہ اور نا چیز سمجھتا ہے اسے چاہئے کہ پروردگار عالم سے بہترین اورعالی ترین ہمت طلب کرے تاکہ اپنی زندگی میں عظیم تبدیلی پیدا کرسکے اور اپنے وجود کو سماج کے لئے حیاتی اور بنیادی بنا سکے ،یہ وہ حقیقت ہے جو قلب پر نور امامت کی چمک کے ساتھ جاودانی بن جاتی ہے ۔

بس آخر کلام ” اَللّٰھُمَّ کُلَّمَا وَفَّقْنِیْ فَاَنْتَ دَلِیْلِیْ عَلَیْہِ وَ طَرِیْقِیْ اِلَیْہِ“ بارالٰہا یہ تونے ہی راز و نیاز اور عبادت کرنے کی توفیق عنایت فرمائی ہے اور راہنمائی کی ہے جس سے تیری بارگاہ میں حاضر ہوئے ہیں ۔ بارالٰہا تو مجھے رازونیازاوردعا کرنے کی مزید توفیق عنایت فرما۔آمین یا رب العالمین

                                                                                                            صفدر حسین یعقوبی

 

۱: خداوند عالم کی حمد و ثناء

            اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الْاَوَّلِ بِلاَ اَوَّلٍ کَانَ قَبْلَہُ ، وَ الْآخِرِ بِلاَ آخِرٍ یَکُوْنُ بَعْدَہُ .اَلَّذِیْ قَصُرَتْ عَنْ رُوٴْیَتِہٖ اَبْصَارُ النَّاظِرِیْنَ ، وَ عَجَزَتْ عَنْ نَعْتِہٖ اَوْہَامُ الْوَاصِفِیْنَ .اِبْتََدَعَ بِقُدْرَتِہِ الْخَلْقَ ابْتِدَاعاً ، وَاخْتَرَعَہُمْ عَلیٰ مَشِیَّتِہِ اخْتِرَاعاً .ثُمَّ سَلَکَ بِہِمْ طَرِیْقَ اِرَادَتِہِ ، وَ بَعَثَہُمْ فِیْ سَبِیْلِ مَحَبَّتِہِ ، لَا یَمْلِکُوْنَ تَاٴْخِیْراً عَمَّا قَدَّمَہُمْ اِلَیْہِ ، وَ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ تَقَدُّماً اِلیٰ مَا اَخَّرْہُمْ عَنْہُ .وَ جَعَلَ لِکُلِّ رُوْحٍ مِنْہُمْ قُوتاً مَعْلُوْماً مَقْسُوْماً مِنْ رِزْقِہِ ، لاٰ یَنْقُصُ مَنْ زَادَہُ نَاقِصٌ ، وَ لاٰ یَزِیْدُ مَنْ نَقَصَ مِنْہُمْ زَائِدٌ .ثُمَّ ضرب لہ فی الحیو اجلا موقوتا ، و نصب لہ امدا محدودا ، یتخط الیہ بایام عمرہ ، و یرہقہ باعوام دہرہ ، حتی ذا بلغ اقصی اثرہ ، و استوعب حساب عمرہ ، قبضہ الی ما ندبہ الیہ من موفور ثوابہ ، و محذور عقابہ ، لیجزی الذین اساا بما عملوا و یجزی الذین احسنوا بالحسنی .عدلا منہ ، تقدست اسماہ ، و تظاہرت الاہ ، لا یسئل عما یفعل و ہم یسئلون .و الحمد للہ الذی لو حبس عن عبادہ معرف حمدہ علی ما ابلاہم من مننہ المتتابع ، و اسبغ علیہم من نعمہ المتظاہر ، لتصرفوا فی مننہ فلم یحمدوہ ، و توسعوا فی رزقہ فلم یشروہ .و لو انوا ذل لخرجوا من حدود الانسانی الی حد البہیمی فانوا ما وصف فی محم تابہ : ن ہم لا الانعام بل ہم اضل سبیلا .و الحمد للہ علی ما عرفنا من نفسہ ، و الہمنا من شرہ ، و فتح لنا من ابواب العلم بربوبیتہ ، و دلنا علیہ من الاخلاص لہ فی توحیدہ ، و جنبنا من الالحاد و الش فی امرہ .حمدا نعمر بہ فیمن حمدہ من خلقہ ، و نسبق بہ من سبق الی رضاہ و عفوہ .حمدا یضی  لنا بہ ظلمات البرزخ ، و یسہل علینا بہ سبیل المبعث ، و یشرف بہ منازلنا عند مواقف الاشہاد ، یوم تجزی ل نفس بما سبت و ہم لا یظلمون ، یوم لا یغنی مولی عن مولی شیئا و لا ہم ینصرون .حمدا یرتفع منا الی اعلی علیین فی تاب مرقوم یشہدہ المقربون .حمدا تقربہ عیوننا ذا برقت الابصار ، و تبیض بہ وجوہنا ذا اسودت الابشار .حمدا نعتق بہ من الیم نار اللہ الی ریم جوار اللہ .حمدا نزاحم بہ ملائتہ المقربین ، و نضام بہ انبیاہ المرسلین فی دار المقام التی لا تزول ، و محل رامتہ التی لا تحول .و الحمد للہ الذی اختار لنا محاسن الخلق ، و اجری علینا طیبات الرزق .و جعل لنا الفضیل بالمل علی جمیع الخلق ، فل خلیقتہ منقاد لنا بقدرتہ ، و صائر الی طاعتنا بعزتہ .و الحمد للہ الذی اغلق عنا باب الحاج لا الیہ ، فیف نطیق حمدہ ؟ م متی ندی شرہ ؟ ! لا ، متی ؟ .و الحمد للہ الذی رب فینا الات البسط ، و جعل لنا ادوات القبض ، و متعنا بارواح الحیو ، و اثبت فینا جوارح الاعمال ، و غذانا بطیبات الرزق ، و اغنانا بفضلہ ، و اقنانا بمنہ .ثم امرنا لیختبر طاعتنا ، و نہانا لیبتلی شرنا ، فخالفنا عن طریق امرہ ، و ربنا متون زجرہ ، فلم یبتدرنا بعقوبتہ ، و لم یعاجلنا بنقمتہ ، بل تنانا برحمتہ ترما ، و انتظر مراجعتنا برفتہ حلما .و الحمد للہ الذی دلنا علی التوبہ التی لم نفدہا لا من فضلہ ، فلو لم نعتدد من فضلہ لا بہا لقد حسن بلاہ عندنا ، و جل احسانہ الینا ، و جسم فضلہ علینا .فما ہذا انت سنتہ فی التوب لمن ان قبلنا ، لقد وضع عنا ما لا طاق لنا بہ ، و لم یلفنا الا وسعا ، و لم یجشمنا لا یسرا ، و لم یدع لاحد منا حج و لا عذرا .فالہال منا من ہل علیہ ، و السعید منا من رغب الیہ .و الحمد للہ بل ما حمدہ بہ ادنی ملائتہ الیہ و ارم خلیقتہ علیہ و ارضی حامدیہ لدیہ .حمدا یفضل سائر الحمد فضل ربنا علی جمیع خلقہ .ثم لہ الحمد مان ل نعم لہ علینا و علی جمیع عبادہ الماضین و الباقین عدد ما احاط بہ علمہ من جمیع الاشیا ، و مان ل واحد منہا عددہا اضعافا مضاعف ابدا سرمدا الی یوم القیم .حمدا لا منتہی لحدہ ، و لا حساب لعددہ ، و لا مبلغ لغایتہ ، و لا انقطاع لامدہ .حمدا یون وصل الی طاعتہ و عفوہ ، و سببا الی رضوانہ ، و ذریع الی مغفرتہ ، و طریقا الی جنتہ ، و خفیرا من نقمتہ ، و امنا من غضبہ ، و ظہیرا علی طاعتہ ، و حاجزا عن معصیتہ ، و عونا علی تدی حقہ و وظائفہحمدا نسعد بہ فی السعدا من اولیائہ ، و نصیر بہ فی نظم الشہدا بسیوف اعدائہ ، نہ ولی حمید .

ترجمہ

            تمام تعریفیں اس خدا کے لئے ہے جو ایسا اول ہے جس کے پہلے کوئی اول نہ تھا اور ایسا آخر ہے جس کے بعد کوئی آخر نہ ہو گا۔ وہ خدا جس کے دیکھنے سے لوگوں کی آنکھیں عاجز اور جس کی حمد و ثنا سے توصیف کرنے والوں کی عقلیں قاصر ہیں۔ اس نے کائنات کو اپنی قدرت سے پیدا کیا، اور اپنے منشائے ازلی سے جیسا چاہا اسے ایجاد کیا ۔ پھر انھیں اپنے ارادہ کے راستے پر چلایا اور اپنی محبت کی راہ پر ابھارا۔ جن حدود کی طرف انہیں آگے بڑھایا ہے ان سے پیچھے رہنا اور جن سے پیچھے رکھا ہے ان سے آگے بڑھنا ان کے قبضہ و اختیار سے باہر ہے ۔ اسی نے ہر (ذی)روح کے لیئے اپنے (پیدا کردہ )رزق سے معین و معلوم روزی مقرر کر دی ہے جسے زیادہ دیا ہے اسے کوئی گھٹانے والا گھٹا نہیں سکتا اور جسے کم دیا ہے اسے کوئی بڑھانے والا بڑھا نہیں سکتا ۔ پھر یہ کہ اسی نے اس کی زندگی کا ایک وقت مقرر کر دیا اور ایک معینہ مدت اس کے لئے ٹھہرا دی ۔ جس مدت کی طرف وہ اپنی زندگی کے دنوں سے بڑھتا اور اپنے زمانہ زیست کے سالوں سے اس کے نزدیک ہوتا ہے یہاں تک کہ جب زندگی کی انتہا کو پہنچ جاتا ہے اور اپنی عمر کا حساب پورا کر لیتا ہے تو اللہ اسے اپنے ثواب بے پایاں تک جس کی طرف اسے بلایا تھا یا خوفناک عذاب کی جانب جسے بیان کر دیا تھا قبض روح کے بعد پہنچا دیتا ہے تاکہ اپنے عدل کی بنا پر بروں کی اس کی بد اعمالیوں کی سزا اور نیکو کاروں کو اچھا بدلا دے ۔ اس کے نام پاکیزہ اور اس کی نعمتوں کا سلسلہ لگاتار ہے ۔ وہ جو کرتا ہے اس کی پوچھہ گھچہ اس سے نہیں ہو سکتی اور لوگوں سے بہرحال باز پرس ہو گی ۔ تمام تعریف اس اللہ کے لئے ہے کہ اگر وہ اپنے بندوں کو حمد و شکر کی معرفت سے محروم رکھتا ان پیہم عطیوں پر جو اس نے دیئے ہیں اور ان پے درپے نعمتوں پر جو اس نے فراوانی سے بخشی ہیں تو وہ اس کی نعمتوں میں تصرف تو کرتے مگر اس کی حمد نہ کرتے ۔ اور اس کے رزق میں فارغ البالی سے بسر تو کرتے مگر اس کا شکر بجا نہ لاتے اور ایسے ہوتے تو انسانیت بی حدوں سے نکل کر چوپالوں کی حد میں آ جاتے ، اور اس توصیف کے مصداق ہوتے جو اس نے اپنی محکم کتاب میں کی ہے کہ وہ تو بس چوپائیوں کے مانند ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ راہ راست سے بھٹکتے ہوئے ۔ تمام تعریف اللہ کے لئے ہے کہ اس نے اپنی ذات کو ہمیں پہچنوایا اور حمد و شکر کا طریقہ سکھایا اور اپنی پروردگاری پر علم و اطلاعات کے دروازے ہمارے لئے کھول دیئے اور توحید میں تنزیہ و اخلاص کی طرف رہنمائی کی اور اپنے معاملہ شرک و کجروی سے ہمیں بچایا ۔ ایسی حمد جس کے ذریعے ہم اس کی مخلوقات میں سے حمد گزاروں میں زندگی بسر کریں اور اس کی خوشنودی و بخشش کی طرف بڑھنے والوں سے سبقت لے جائیں ۔ ایسی حمد جس کی بدولت ہمارے لئے برزخ کی تاریکیاں چھٹ جائیں اور جو ہمارے لئے قیامت کی راہوں کو آسان کر دے اور حشر کے مجمع عام میں ہماری قدرومنزلت کو بلند کر دے جس دن ہر ایک کو اس کے کئے کا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کسی طرح کا ظلم نہ ہو گا ۔ جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ان کی مدد کی جائے گی ۔ ایسی حمد جو ایک لکھی ہوئی کتاب میں ہے جس کی مقرب فرشتے محافظت کرتے ہیں ہماری طرف سے بہشت بریں کے بلند ترین درجات تک بلند ہو ، ایسی حمد جس سے ہماری آنکھوں میں ٹھنڈک آئے جبکہ تمام آنکھیں حیرت و دہشت سے پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی ۔ اور ہمارے چہرے روشن و منور ہوںگے جبکہ تمام چہرے سیاہ ہوں گے ۔ایسی حمد جس کے ذریعہ ہم اللہ کی بھڑکتی ہوئی آگ کی اذیت سے آزادی پا کر اس کے جوار رحمت میں آ جائیں ۔ ایسی حمد جس کے ذریعہ ہم اس کے مقرب فرشتوں کے ساتھہ شانہ بشانہ بڑھتے ہوئے ٹکرائیں اور اس منزل جاوید و مقام عزت و رفعت میں جسے تغیر و زوال نہیں اس کے فرستادہ پیغمبروں کے ساتھ یکجا ہوں ۔ تمام تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے خلقت و آفرینش کی تمام ہمارے لئے منتخب کیں اور پاک وپاکیزہ رزق کا سلسلہ ہمارے لئے جاری کیا اور ہمیں غلبہ اور تسلط دے کر تمام مخلوقات پر برتری عطا کی ۔ چنانچہ تمام کائنات اس کی قدرت سے ہمارے زیر فرمان اور اس کی قوت اور سربلندی کی بدولت ہماری اطاعت پر امادہ ہے ۔ تمام تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے اپنے سوا طلب و حاجت کا ہر دروازہ ہمارے لئے بند کر دیا تو ہم ( اس حاجت و احتیاج کے ہوتے ہوئے ) کیسے اس کی حمد سے عہدہ برآ ہو سکتے ہیں اور کب اس کا شکر ادا کر سکتے ہیں ۔ نہیں! کسی وقت بھی اس کا شکر ادا نہیں ہو سکتا ۔ تمام تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے ہمارے (جسموں میں) پھیلنے والے اعصاب اور سمٹنے والے عضلات ترتیب دیئے اور زندگی کی آسائشوں سے بہرہ مند کیا اور کار و کسب کے اعضا ہمارے اندر ودیعت فرمائے اور پاک و پاکیزہ روزی سے ہماری پرورش کی اور اپنے فضل وکرم کے ذریعہ ہمیں بےنیاز کر دیا اور اپنے لطف و احسان سے ہمیں (نعمتوں کا ) سرمایہ بخشا۔ پھر اس نے اپنے اوامر کی پیروی کا حکم دیا تاکہ فرمانبرداری میں ہم کو آزمائے اور نواہی کے ارتکاب سے منع کیا تاکہ ہمارے شکر کو جانچے مگر ہم نے اس کے حکم کی راہ سے انحراف کیا اور نواحی کے مرکب پر سوار ہو لئے ۔ پھر بھی اس نے عذاب میں جلدی نہیں کی ، اور سزا دینے میں تعجیل سے کام نہیں لیا بلکہ اپنے کرم و رحمت سے ہمارے ساتھ نرمی کا برتا کیا اور حلم و رافت سے ہمارے باز آ جانے کا منتظر رہا ۔ تمام تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے ہمیں توبہ کی راہ بتائی کہ جسے ہم نے صرف اس کے فضل و کرم کی بدولت حاصل کیا ہے ۔ تو اگر ہم اس کی بخششوں میں سے اس توبہ کے سوا اور کوئی نعمت شمار میں نہ لائیں تو یہی توبہ ہمارے حق میں اس کا عمدہ انعام ، بڑا احسان اور عظیم فضل ہے اس لئے کہ ہم سے پہلے لوگوں کے لئے توبہ کے بارے میں اس کا یہ رویہ نہ تھا ۔ اس نے تو جس چیز کے برداشت کرنے کی ہمیں طاقت نہیں ہے وہ ہم سے ہٹا لی اور ہماری طاقت سے بڑھ کر ہم پر ذمہ داری عائد نہیں کی اور صرف سہل و آسان چیزوں کی ہمیں تکلیف دی ہے اور ہم میں سے کسی ایک کے لئے حیل و حجت کی گنجائش نہیں رہنے دی ۔ لہذا وہی تباہ ہونے والا ہے جو اس کی منشا کے خلاف اپنی تباہی کا سامان کرے ، اور وہی خوش نصیب ہے جو اس کی طرف توجہ و رغبت کرے۔ اللہ کے لئے حمد و ستائش ہے ہر وہ حمد جو اس کے مقرب فرشتے بزرگ ترین مخلوقات اور پسندیدہ حمد کرنے والے بجالاتے ہیں ۔ ایسی ستائش جو دوسری ستائشوں سے بڑھی چڑھی ہوئی ہو جس طرح ہمارا پروردگار تمام مخلوقات سے بڑھا ہوا ہے ۔ پھر اسی کے لئے حمد و ثناہ ہے ۔ اس کی ہر ہر نعمت کے بدلے میں جو اس نے ہمیں اور تمام گزشتہ وباقی ماندہ بندوں کو بخشی ہے ان تمام چیزوں کے شمار کے برابر جن پر اس کا علم حاوی ہے اور ہر نعمت کے مقابلہ میں دوگنی چوگنی جو قیامت کے دن تک دائمی و ابدی ہو ۔ ایسی حمد جس کا کوئی آخری کنار اور جس کی گنتی کا کوئی شمار نہ ہو ۔ جس کی حد ونہایت دسترس سے باہر اور جس کی مدت غیر مختتم ہو ۔ ایسی حمد جو اس کی اطاعت و بخشش کا وسیلہ ، اس کی رضامندی کا سبب ، اس کی مغفرت کا ذریعہ ، جنت کا راستہ ، اس کے عذاب سے پناہ ،اس کے غضب سے امان ، اس کی اطاعت میں معین ، اس کی معصیت سے مانع اور اس کے حقوق و واجبات کی ادائیگی میں مددگار ہو ۔ ایسی حمد جس کے ذریعے اس کے خوش نصیب دوستوں میں شامل ہو کر خوش نصیب قرار پائیں اور شہیدوں کے زمرہ میں شمار ہوں جو اس کے دشمنوں کی تلواروں سے شہید ہوئے ۔ بے شک وہی مالک مختار اور قابل ستائش ہے ۔

  947
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      امام کاظم علیہ السلام کی مجاہدانہ زندگی کے واقعات کا ...
      امام جواد علیہ السلام اور شیعت کی موجودہ شناخت اور ...
      حدیث "قلم و قرطاس" میں جو آنحضرت{ص} نے فرمایا هے: ...
      حضرت علی (ع ) خلفاء کے ساتھ کیوں تعاون فر ماتے تھے ؟
      شیعه فاطمه کے علاوه پیغمبر کی بیٹیوں سے اس قدر نفرت ...
      کیا عباس بن عبدالمطلب اور ان کے فرزند شیعوں کے عقیده کے ...
      امام محمد باقر علیہ السلام کی حیات طیبہ کے دلنشین گوشے ...
      اگر کسی دن کو یوم مادر کہا جا سکتا ہے تو وہ شہزادی کونین ...
      قرآن مجید کی مثال پیش کرنے کا دعوی کرنے والوں کی حکمیت ...
      فاطمہ، ماں کی خالی جگہ

 
user comment