Thursday 23rd 2014
 
تلاش
شعر و ادب
 
جو شخص شہ دیں کا عزادار نہیں ہے
فاطمہ بنت اسد کا آج دلبر آ گیا
پیغمبروں نے جو مانگی ہے وہ دعا ...
ستارہ صبح کا روتا تھا اور یہ ...
نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟
  مقالات
1389/4/15 16:49:46 ارسال به دوستان    چاپ کد مطلب : 17923

اھل بیت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی علمی مرکزیت کی اساس پر اسلامی اتحاد

آیت اللہ محمد علی تسخیری 

مسلمانوں کی علمی مرکزیت صدیوں سے بحث و گفتگو کا موضوع بنی ہو‏ئی ہے اور یہ سوال ہمیشہ پیش آتارہا ہے کہ مسلمانوں کے لئے وہ کونسی ہستیاں ہیں جو علمی لحاظ سے مرکزیت اور مرجعیت رکھتی ہیں۔ مسلمان جس قدر صدر اسلام کے زمانے سے دورہوتے جارہے ہیں اس بحث کی اہمیت میں بھی اضافہ ہوتاجارہا ہے اسی طرح ان کے مابین اتحاد کی ضرورت بھی روز بروز زیادہ محسوس ہوتی جارہی ہے ۔قرآن کریم اور سیرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسلامی اتحاد کے اساسی اور حقیقی محور ہیں۔لھذا ایسے علمی مرجع ومرکز کا تعین ضروری ہے جو قرآن وسنت کی تفسیر کرسکے اور ان کے معانی سے نقاب ہٹاسکے اور اپنی مستحکم رائے سے فقہی اور کلامی اختلافات کو ختم کرسکے۔ زیر نظر تحقیق میں ہم اس علمی مرجعیت کا مصداق اہل بیت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرض کرتے ہوئے بحث کا آغاز کرتے ہیں ۔اس انحصار کا فائدہ یہ ہےکہ ہماری بحث واضح اور شفاف حدود میں پیش کی جائے گي اور ہم پراکندگي نیز تشتت آراء سے بھی محفوظ رہیں گے ۔یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ہماری بحث مستحکم اور متقن دلیلوں پر استوارہے۔ یہ دلیلیں اس وقت پیش کی جائيں گی جب قرآن و سنت کی نظر میں علمی مرجعیت کا تذکرہ کیا جائے گا۔کیونکہ قرآن وسنت پر کسی اسلامی فرقے کو اختلاف نہيں ہے اورسب ان پر متفق ہیں اور ان ہی سے استدلال کرتے ہيں۔بنابریں اس بحث سے ہمارا ہدف اہل بیت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی علمی مرجعیت و مرکزیت ثابت کرنا ہے۔ ہم نے اپنی اس کاوش میں اہل سنت کی کتب حدیث، فقہ، و تاریخ سے شیعہ کتب سے زیادہ استفادہ کیا ہے۔کیونکہ شیعہ اہل بیت علیھم السلام کی مرجعیت علمی میں کسی طرح کا شک نہیں کرتے یہ ان کے نزدیک ایک مسلمہ اصل ہے ۔ہماری اس بحث کے وہ لوگ مخاطب ہیں جنہيں اس اصل میں شک وتردید ہے ۔ہم اپنی بحث کو مکمل علمی معیارات پرپیش کررہے ہیں تاکہ ایسا نتیجہ پیش کریں کہ جس پر ہرمنصف انسان اتفاق کرے گا۔

اس مشترکہ مقصد میں کامیابی سے مسلمانوں کے تاریخی اختلافات حل ہوسکتے ہیں اور ایسا مشترکہ میدان فراہم ہوسکتا ہےجسمیں مسلمان دورحاضراور مستقبل میں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوسکتے ہيں۔اسکے علاوہ اسلامی معارف کے ایک عظیم حصےکوضایع ہونے سے بچایا جاسکتا ہے جس کو مسلمانوں کی اکثریت نظرانداز کردیتی ہے اور اس سے فائدہ نہیں اٹھاتی جبکہ وہ معارف کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہے ۔

قرآن و سنت کی نظر میں مسلمانوں کی علمی مرجعیت

علمی مرجعیت سے مراد جیسا کہ اشارہ کیاگيا وہ نقطہ مشترک ہے جس پر مسلمانوں کا اتفاق ہواور جو ان کے اختلافات، خاص طورسے فقہی اور اعتقادی اختلافات کو ختم کرسکے ۔یہ مرجعیت قرآن و سنت کے حقائق کواس طرح بیان کرتی ہےکہ جس سے مسلمانوں میں کوئي اختلاف پیدانہیں ہوتا۔چونکہ قرآن کریم اورسنت نبوی علی صاحبھا آلاف التحیۃ والثنا پر مسلمانوں کا بھرپور اتفاق ہے آئیے خود ان ہی سےمعلوم کرتے ہیں کہ اس مرجعیت کی نشانیاں کیا ہیں اور اس کو کیسے پہچانا جائے گا۔یہاں پر ہم حجیت ادلہ کی اصولی بحث نہیں کریں گے کیونکہ ہم نے اصول بنایاہےکہ کسی بھی قیمت پرمتفقہ اصولوں خاص طورسے احادیث ونصوص کی دلالت وحجیت سے متعلق اصولوں سے خارج نہیں ہونگے ۔ہم نے مرجعیت علمی کے بارےمیں قرآنی آیات اور سنت نبوی کا استقراءکرکے یہ نتیجہ اخذ کیا ہےکہ ان نصوص میں اھل بیت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مرجعیت علمی کے علاوہ کسی اور مرجعیت علمی کی طرف بات نہیں کی گئي ہے ۔گرچہ بعض ضعیف روایات موجود ہیں جن پر مسلمانوں کو اختلاف ہے لھذا ہم ان کا سہارا نہیں لیں گے اور ان نصوص پر تکیہ کریں گے جن پرسارے مسلمانوں کا اتفاق ہے ۔

ہم نے اپنی بحث کے لئے جو حدود معین کی ہیں ان کی اساس پر ادلہ کتاب وسنت پر ایک نظرڈالتے ہیں تاکہ بحث طولانی اور ملال آور نہ ہواور ہم اپنے مقصد سے نزدیک بھی ہوتے جائيں ۔سب سے پہلے ان آيات کتاب مجید کا تذکرہ کرتے ہیں جن کی تفسیر سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کی گئ ہے ۔

قرآن کریم میں اھل بیت رسول اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کی علمی مرجعیت ۔

1۔آیت ذکر ۔

فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لاتعلمون ۔(النحل 43-انبیاء 7)

اگر نہیں جانتے ہوتو اھل ذکر سے سوال کرو۔

ابن جریر طبری کی تفسیر میں ان کی سند سے جابر جعفی سے نقل ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئي تو حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا "نحن اھل الذکر "ہم اھل ذکر ہیں ۔2

حارث کہتے ہیں کہ :سالت علیا عن ھذہ الآیۃ "فاسئلوا اھل الذکر "فقال واللہ انا نحن اھل الذکر نحن اھل الذکر نحن اھل العلم و نحن معدن التاویل و التنزیل(3)

میں نے علی علیہ السلام سے اس آيت کے بارےمیں سوال کیا کہ فاسئلوا اھل الذکر سے مراد کونسے افراد ہیں؟ آپ نے فرمایا خداکی قسم ہم اھل ذکر ہیں ہم اھل ذکر ہیں ہم اھل علم ہیں اور ہم معدن تاویل وتنزیل ہیں ۔

راسخون فی العلم ۔

ومایعلم تاویلہ الااللہ والراسخون فی العلم 4۔

قرآن کی تاویل کو خدا اور راسخون فی العلم کےسوا کوئي نہيں جانتا ۔

حضرت علی علیہ السلام نے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا ہےکہ :این الذین زعموا انھم الراسخون فی العلم دوننا،کذبوا بغیاعلیناان رفعنا اللہ ووضعھم واعطانا وحرمھم وادخلنا و اخرجھم بنا یستطعی الھدی و یستجلی العمی 5۔

کہاں ہیں وہ لوگ جو یہ سوچتے ہیں کہ وہ ۔نہ ہم۔حاملان علم قرآن ہیں۔جھوٹ اور ستم سے جو ہم پرروارکھا ہواہے ۔خدا نے ہمیں رفعت عطا کی ہے اور انہیں نیچا کیا ہے ہمیں عطا کیا ہے اور انہیں محروم رکھا ہے ہمیں اپنے کنف عنایت مین لیا ہے اور انہیں اس سے دور رکھا ہے ۔لوگ ہمارے سہارے راہ ہدایت پر چلتےہیں اور تاریک دل ہم سے نور حاصل کرتے ہيں ۔

علم کتاب کس کےپاس ہے؟

و یقول الذین کفروا لست مرسلاقل کفی باللہ شہیدا بینی وبینکم و من عندہ علم الکتاب 7۔

اور یہ کافر کہتےہيں کہ آپ رسول نہیں ہیں توکہ دیجئے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان رسالت کی گواہی کے لئے خداکافی ہے اور وہ شخص کافی ہے جس کے پاس پوری کتاب کا علم ہے ۔ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ ساءلت رسول اللہ عن ھذہ الآیۃ قال ذاک اخی علی ابن ابیطالب 8۔

ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس آيت کےبارےمیں سوال کیا توآپ نے فرمایا "وہ میرے بھائي علی ابن ابیطالب ہیں "۔

:آیت تطہیر ۔

انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت و یطھرکم تطھیرا۔9۔

بس اللہ کا ارادہ یہ ہےکہ اے اھل بیت تم سے ہربرائي کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہےکہ "انا واھل بیتی مطھرون من الذنوب ۔میں اور میرے اھل بیت گناہوں سے پاک ہیں ۔10۔

آپ نے ایک اور جگہ ارشاد فرمایا ہے"انا وعلی والحسن و الحسین و تسعۃ من ولد الحسین مطھرون معصومون۔11۔

میں علی حسن اور حسین اور حسین کی اولاد میں نو افراد پاک پاکیزاور معصوم ہیں ۔

آيت تطھیر اھل بیت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےحق میں خاص الخاص عنایت خداوندی کوبیان کرتی ہے اور یہ تاکید کرتی ہےکہ اھل بیت علیھم السلام ہر طرح کی لغزش و انحراف سے دورہیں تاکہ انسان ان کی اتباع کرسکے اور اپنے اختلافات حل کرنے کے لئے ان سے رجوع کرسکے ۔

5۔اجر رسالت ۔

قل لااسئلکم علیہ اجرا الاالمودہ فی القربی ۔12۔

آپ کہ دیجیے میں اپنی تئيس سالہ رسالت کے عوض کچھ نہیں چاہتامگر یہ کہ تم میرے قریبی افراد سے محبت کرو۔

عبداللہ ابن عباس سے روایت ہےکہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس آیت کے بارےمیں پوچھا گيا کہ "من ھم القربی " قال " علی فاطمہ و ابناھما" میرے قریبی افراد علی و فاطمہ اور ان کے دوبیٹے ہیں ۔13۔

سعید بن جبیر کہتےہیں کہ اھل قربی سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیے اھل بیت ہیں 14۔

یہ آيت دلوں اور عقلوں کو اھل بیت رسول اکرم صلی للہ علیہ وآلہ وسلم سے جوڑدیتی ہے اور تاکید کرتی ہےکہ اھل بیت کی محبت ہی اجررسالت ہے اور ان کودوست رکھنا ۔کم از کم علمی لحاض سے۔حقیقی مودت ہے ۔

قرآن کریم میں آیک اور آيت ہے جس سے ہم یہ استدلال کرسکتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع اور محبت میں ملازمہ پایاجاتا ہے یہ آیت ہے : 

"ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ۔15۔اے رسول کہ دین اگر تم مجھے چاہتے ہوتو میری پیروی کرو تاکہ خدا بھی تمہیں دوست رکھے۔ 

سنت نبوی میں اھل بیت کی روسے اھل بیت کی علمی مرجعیت ۔

حدیث کساء 

حدیث کساء آیت تطھیر کی تفسیرکرتی ہے اور یہ بیان کرتی ہےکہ آيت تطھیر میں اھل بیت سے کونسی ہستیاں مراد ہیں۔ ابن عباس روایت کرتےہیں کہ "اخذ رسول اللہ ثوبہ فوضعہ علی علی و فاطمہ و حسن وحسین و قال انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت و یطھرکم تطہیرا16۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی عباعلی و فاطمہ حسن حسین پرڈال دی اور فرمایا"خدا نے ارادہ کیا ہے تم سے اے اھل بیت ہرطرح کے رجس کو دوررکھے گاجسطرح دوررکھنے کا حق ہے ۔

ام سلمہ کہتی ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئي تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی فاطمہ حسن و حسین کو اپنے پاس بلایا اور ان پر خیبری عباڈال دی اور فرمایا اللھم ھولاءاھل بیتی اللھم اذھب عنھم الرجس وطھرھم تطھیرا۔

خدا یا یہ میرے اھل بیت ہیں انہیں ہربرائي سے دوررکھ اور پاک وپاکیزہ کرجیسے پاک کرنے کاحق ہے۔ 

اس کےبعد ام سلمہ کہتی ہیں میں نے آپ سے سوال کیا کہ الست منھم کیا میں ان میں شامل نہیں ہوں ۔آپنے فرمایا تم نیک خاتوں ہو۔17۔

اس حدیث کو عطاابن یسار ،ابو سعید خدری ، ابوھریرہ ، حکیم ابن سعد ، شہر اب حوشب ،عبداللہ ابن مغیرہ ،عطاء ابن ابی ریاح، عمرہ ابن افعی ، حضرت علی ابن الحسین زین العابدین علیھما السلام نے ام سلمہ سے روایت کی ہے ۔

اس حدیث کو صفیہ بنت شیبہ اورعوام ابن حوشب 

نے تمیمی اور ابن عمیر نے ام المومنین عایشہ سے اس طرح نقل کیا ہے ۔

"خرج النبی غداہ و علیہ مزط مرحل من شمراسود فجاء الحسن ابن علی فادخلہ ،ثم جاء الحسین فدخل معہ ثم جاءت فاطمہ فادخلھا، ثم جاء علی فادخلہ ثم قال انمایرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت و یطھرکم تطھیرا۔18۔

ایک دن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے عالم میں جبکہ آپ سیاہ اون سے بناہوا لباس زیب تن کئے ہوئے تھے باہر تشریف لائےاس کے بعد حسن ابن علی وارد ہوئے آپ نے انہيں اپنی ردا میں جگہ دی اور اس کے بعد حسین ابن علی آئے آپ نے انہیں بھی اپنی ردا میں جگہ دی اس کےبعد فاطمہ آئيں آپ نے انہیں بھی اپنی ردا میں جگہ دی اور اسکے بعد علی آئے آپ نے انہیں بھی اپنی ردا میں داخل کرلیا اس کےبعد فرمایا :انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطھرکم تطہیرا۔

بہت سے صحابہ نے حدیث کساء کی روایت کی ہے انمیں ابوسعید خدری ،ابو برزہ ، ابوالحمراء، ابو لیلی انصاری ، انس بن مالک ،براء بن عازب ، ثوبان ، جابر ابن عبداللہ انصاری ، زید بن ارقم ، زینب بنت ابی سلمہ ،سعد بن ابی وقاص، صبیح مولی ام سلمہ، عبداللہ ابن جعفر، عمرابن ابی سلمہ ،عمرابن خطاب وغیرہ ۔

ان راویوں کی روایات سے معلوم ہوتا ہےکہ اھل بیت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد علی و فاطمہ حسن وحسین علیھم السلام ہیں اور ان روایات کی اسناد صحاح ستہ اور اھل سنت کے دیگر جوامع حدیث سے نقل کی گئي ہیں ۔(19)

2:حدیث ثقلین :

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ "انی تارک فیکم ما ان تمسکتم بہ لن تضلوا بعدی،احدھما اعظم من آخر کتاب اللہ حبل ممدود من السماء الی الارض وعترتی اھل بیتی ،ولن یفترقا حتی یردا علی الحوض ،فانظروکیف تخلفونی فیھما۔(20)

میں تمہارے درمیاں ایسی چیزیں چھوڑے جارہا ہوں کہ اگران سے متمسک رہوگے تومیرے بعد گمراہ نہ ہوگے، ان میں ایک جو دوسرے سے بڑی ہے کتاب خدا ہے وہ ایسی مضبوط رسی ہے جسے آسمان سے زمیں پربھیجاگياہے۔دوسری میری عترت اور میراخاندان ہے یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہونگے یہاں تک کہ میرے پاس حوض پروارد ہوجائيں،پس ہوشیاررہنا کہ میرے بعد ان کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہو۔

یہ حدیث ان الفاظ میں بھی وارد ہوئي ہے ۔"انی قد ترکت فیکم الثقلین احدھما اکبر من الآخر :کتاب اللہ تعالی وعترتی ، فانظروا کیف تخلفونی فیھما،لن یفترقا حتی یردا علی الحوض ۔(21)

میں تمہارے درمیاں دوگرانبھا چیزیں چھوڑے جارہا ہوں کتاب خدا اور اپنی عترت ،ان میں ایک، دوسرے سے بڑی ہے خبردار میرے بعد تم ان کےساتھ کیسا سلوک کرتے ہو۔وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہونگے مگر یہ کہ میرے پاس حوض پر وارد ہوجائيں۔

حدیث ثقلین میں اھل بیت علیھم السلام کو قرآن کا ھمسر قراردیا گيا ہے۔یہ حدیث تینتیس صحابیوں سے مروی ہے جنمیں ابو ایوب انصاری ،ابوذر غفاری، ابو سعید خدری، ابو شریح خزاعی، ابو قدامہ انصاری، ابو ھریرہ، ام سلمہ، انس بن مالک، خزیمہ ذو الشھادتین، سعد ابن ابی وقاص، زید ابن ثابت، سلمان فارسی ، عبدالرحمن ابن عوف ، عبداللہ ابن عباس ، عمرابن خطاب اور عمرابن عاص شامل ہیں۔22۔

حديث ثقلین کے بارےمیں اھل سنت کے بعض علماء نے کہا ہےکہ اس حدیث میں مرجعیت سے مراد فقہی مرجعیت ہے۔محمد ابو زھرہ کا کہنا ہے کہ "لایدل علی امامۃ السیاسۃ وانہ ادل علی امامۃ الفقہ والعلم ۔23۔ہم یہاں پر حدیث کی دلالت کےبارےمیں بحث نہیں کریں گے اور اھل بیت کی علمی امامت ہی پراکتفا کریں گے جس پر فریقین کا اتفاق ہے ۔

اس حدیث کے بارےمیں ابو احمد یعقوب کا کہنا ہے کہ انہوں نے حدیث ثقلین کی اھل سنت کی اہم ترین کتابوں میں ایک سو پچاسی مصادر سے تخریج کی ہے ۔اور ان تمام حدیثوں میں کتاب اللہ والعترہ کے الفاظ موجودہيں اور ان کتابوں میں یہ بھی صراحت کی گئ ہے کہ عترت سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اھل بیت ہیں ،جن کے نام حدیث کساء اور حدیث ثقلین سمیت مختلف مقامات پر مختلف احادیث میں بیان کئے گئے ہیں۔24۔

حدیث رفع اختلاف ۔

انس بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی سے فرمایا"انت تبین لامتی ما اختلفوا فیہ بعدی "25۔

"اے علی میرے بعد امت میں پیداہونے والے اختلافات کو تم حل کروگے۔

4۔حضرت علی امت کی عالم ترین فرد ۔

سلمان فارسی کہتے ہیں کہ :قال رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعلم امتی من بعدی علی ابن ابی طالب ۔26۔

آپ نے فرمایا ہےکہ میرے بعد اس امت میں سب سے زیادہ علم والے علی ابن ابی طالب ہیں ۔

مسلم اول۔

حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا سے فرمایا:اما ترضین انی زوجتک اول المسلمین اسلاما و اعلمھم علما۔ 27۔

کیا تم خوش نہيں ہوکہ میں نے تمہاری شادی ایسے شخص سے کی ہے جو سب سے پہلا مسلمان اور امت میں سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہے ۔

امان امت :

عبداللہ ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:النجوم امان لاھل الارض من الغرق و اھل بیتی امان لامتی می الاختلاف ۔28

ستارے اھل زمیں کو غرق ہونے سے بچاتے ہیں اور میرے اھل بیت امت کو اختلاف سے امان میں رکھیں گے ۔

حدیث سفینہ 

ابوذر غفاری کہتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :الا ان مثل اھل بیتی فیکم کسفینۃ نوح فی قومہ فمن رکبھا نجا،ومن تخلف عنھا غرق۔29۔

جان لو کہ تمہارے درمیاں میرے اھل بیت کی مثال کشتی نوح کی ہے جو اس پر سوار ہوگا نجات پاجائے گا اور جو پیچھے رہ جائے گا غرق ہوجائے گا۔

اھل بیت علیھم السلام سب سے زیادہ کتاب وسنت کا علم رکھتے ہیں۔

حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں۔

انا نحن اھل البیت اعلم بماقال اللہ ورسولہ۔30۔

ہم اھل بیت کتاب خدا اور سنت رسول سے سب سے زیادہ واقف ہیں ۔

شجر نبوت:

حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

نحن شجرہ النبوہ ومحط الرسالۃومختلف الملائکہ و معادن العلم و ینابیع الحکم ۔31۔

ہم اھل بیت شجرہ نبوت، مقام رسالت، منزل ملائکہ،معدن علم ودانش اور حکمت کا سرچشمہ ہیں۔

رسول االلہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانشین بارہ ہیں۔

جابر ابن سمرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ہے:لایزال الدین قائما حتی تقوم الساعۃ اویکون علیکم اثنی عشرخلیفۃ کلھم من قریش۔32۔

یہ دین اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ قیامت نہیں آجائے گي اور بارہ خلیفہ جو سب قریش سے ہونگے تم پرحکومت کریں کے ۔

عبداللہ ابن مسعود کہتے ہیں کہ اصحاب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خلفاء کے عدد کےبارےمیں سوال کیا توآپنے فرمایا:اثنی عشرکعدہ نقباء بنی اسرائیل ۔وہ بارہ خلیفہ ہونگے نقباء بنی اسرائیل کے عدد کے برابر۔33۔

اھل سنت اور اھل تشیع کی کتابوں میں بہت سی حدیثیں ہیں جو الفاظ میں مختصر سے اختلاف کےساتھ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ بنابریں مسلمانوں کا اتفاق ہےکہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلفاء یا نقباء یا امراء یا ائمہ بارہ ہیں اور سب کے سب قریش سے ہیں اور ان کا تعین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صریح احادیث سے ہوا ہے ۔بنی اسرائيل کے نقباء سے خلفاء کو تشبیہ دینے کا مقصد بھی ان کے عدد کا تعین کرنا ہے ۔اس کےعلاوہ یہ احادیث قیامت تک دین کے باقی رہنے نیز قیامت تک امامت کے جاری رہنے پر تاکید کرتی ہیں۔صحیح مسلم ميں بھی اسی مضمون کی ایک روایت ہے ۔

خلفاء رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت علی علیہ السلام سے لیکرحضرت مھدی علیہ السلام تک معین کرنے والی روایات بعض صحاح اور مسانید میں پائي جاتی تھیں جس سے واضح ہوتا ہےکہ ان کا جعل کرنا محال ہے۔اس کےعلاوہ وہ روایتیں جو اھل سنت سے منقول ہیں وہ ان کے نزدیک قابل قبول ثقہ اور صحیح ہیں ۔34۔

مجموعی طورپر ان آیات وروایات کی حجیت سے ہمیں جو نتیجہ حاصل ہوتاہے وہ یہ ہے کہ اسلامی مذاھب کو اپنی خصوصیات سے دستبردارہوئے بغیر ایک پلیٹ فارم پرمتحد ہوجاناچاہیے ۔

فصل دوم ۔

اہل بیت علیھم السلام کے علم کا سرچشمہ ۔

فصل اول میں جن روایات کا ہم نے جائزہ لیا ان سے اھل بیت علیھم السلام کی طہارت اور علمی مرجعیت ثابت ہوتی ہے ۔

علامہ محمد تقی حکیم کہتے ہیں ۔

ائمہ اھل البیت علیھم السلام کی زندگي کے حقائق اور ان حدیثوں کی دلالت میں مکمل ہماہنگي پائي جاتی ہے اور دونوں دلالت کرتی ہیں کہ ائمہ علیھم السلام صاحب عصمت اور اعلم زمانہ تھے بالخصوص وہ ائمہ جنہیں نہایت سخت حالات کاسامنا تھاجیسے حضرت امام تقی ،حضرت امام علی نقی اور حضرت امام حسن عسکری علیھم السلام ۔یہ امر اس بات کا بہترین موید ہے کہ سنت (قول ،فعل اور تقریر)ائمہ علیھم السلام کو بھی شامل ہے اور یہاں پرہم خلیل ابن احمد فراہیدی کی عقلی دلیل پیش کرسکتے ہیں جو انہوں نے حضرت علی علیہ السلام کی امامت کے بارےمیں پیش کی ہے ۔

ان(حضرت علی ) کا سب سے بےنیاز رہنا اور سب کا ان (حضرت علی )کا محتاج ہونا ان کی امامت کی دلیل ہے ۔یہ استدلال ہم سارے ائمہ کے لئے پیش کرسکتےہیں کیونکہ تاریخ گواہ ہےکہ ائمہ اھل بیت نے کسی کے سامنے زانوے ادب تہ نہیں کیا ہے۔اور وہ کسی بھی طرح سے کسی کے محتاج نہیں رہے ہیں ۔یہ بات ہمیں اس اہم نکتے کی طرف رہنمائي کرتی ہےکہ اگر اھل بیت نے کسی کے سامنے زانوے ادب تہ نہیں کیا تو ان کے علم کا سرچشمہ کیا ہے؟انہوں نے کس سے علم حاصل کیا ہے؟

صحیح روایات اور احادیث کاجائزہ لینے سے واضح ہوتا ہےکہ ائمہ اھل بیت علیھم السلام کے علم کا سرچشمہ ان چار موارد میں منحصر ہے ۔

1۔قرآن کریم :

متعدد روایات ہیں جو اس بات پرتاکید کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے اھل بیت ہی ہیں جو قرآن کے حقائق ،معانی اور اھداف سے کما حقہ واقف ہیں ۔ان روایات میں سے ایک یہ ہےکہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے "من عندہ علم الکتاب کے بارےمیں فرمایا ہےکہ اس سے مراد علی ابن ابی طالب ہیں۔36۔ اسی طرح حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ "انا ھو الذی عندہ علم الکتاب"میں ہی ہوں جس کےپاس علم کتاب ہے۔37۔ 

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ "نحن الذین عندناعلم الکتاب و بیان مافیہ"ہم اھل بیت ہی ہیں جن کے پاس علم کتاب اور اسمیں جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس کا علم ہے ۔38۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث ہے کہ "علی یعلم الناس من بعدی تاویل القرآن و مالایعلمون "علی میرے بعد لوگوں کو تاویل قرآن اور جوکچھ نہیں جانتے اس کی تعلیم دینگے۔39۔

حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام تاکید کے ساتھ فرمایا کرتے تھے کہ "سلونی عن کتاب اللہ فانہ لیس میں آیۃ الا وقد عرفت بلیل نزلت ام بنھار فی سھل ام جبل "مجھ سے کتاب خدا کےبارےمیں سوال کرو ،میں ہرآيت کے بارےمیں جانتاہوں خواہ وہ رات میں نازل ہوئي ہویا دن میں، دشت میں نازل ہوئي ہو یا پہاڑی پر ۔40۔

عبداللہ ابن مسعود نے روایت کی ہےکہ "ان القرآن نزل علی سبعۃ احرف مامنھا حر‌ف الا لہ ظہرو بطن و ان علی ابن ابی طالب عندہ علم الظاہرو الباطن۔41۔

قرآن سات حرفوں پرنازل ہوا ہے اور انمیں ایسا کوئي حرف نہیں جسکا ظاہر اور باطن نہ ہواور علی ابن ابی طالب کے پاس ظاہر اور باطن کا علم ہے ۔

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ قرآن سے پوچھو،سوال کرو ،آپ کا ارشاد ہے "ذالک القرآن فاستنطقوہ ،ولن ینطق ،ولکن اخبرکم ،الا ان فیہ علم ما یاتی ۔ یہ قرآن ہے اس سے سوال کرو تاکہ وہ تم سے کلام کرے وہ ہرگز کلام نہیں کرے گالیکن میں میں تمہيں بتاتاہوں، جان لوکہ قرآن میں آيندہ کا علم ہے ۔42۔

مذکورہ بالا روایات سے صراحتا یہ بات معلوم ہوتی ہے اھل بیت علیھم السلام کویہ امتیاز حاصل ہےکہ انہیں کے پاس علم قرآن ہے اور اگر کسی کو علم قرآن حاصل کرنا ہوتواسے در اھل بیت علیھم السلام پرآنا ہوگا۔

2۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔

ذات اقدس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اھل بیت علیھم السلام کے علم کا دوسرا سرچشمہ ہے اس سلسلے میں سب زیادہ مشہور حدیث جو فریقین کی کتابوں میں منقول ہے یہ ہے "انامدینۃ العلم وعلی بابھا فمن اراد المدینۃ والحکمۃ فلیات الباب " میں شہر علم ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں۔جو علم اور حکمت کا طالب ہےاسے دروازے سے آنا ہوگا ۔43۔

ایک اور حدیث ہے :انادارالعلم وعلی بابھا ۔ یا انا دارالحکمۃ و علی بابھا۔ "میں علم کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں " یا "میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں "۔44۔45۔

حاکم، بریدہ اسلمی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی ابن ابی طالب (علیہ السلام )سے فرمایا"ان اللہ تعالی امرنی ان ادنیک و لااقصیک و ان اعلمک وان تعی و حق علی اللہ ان تعی، فنزل قولہ تعالی وتعیھا اذن واعیہ "آپ فرماتے ہیں خدانے مجھے حکم دیا ہے تمہیں اپنے آپ سے نزدیک لاتاجاوں اور تمہیں دورنہ کروں اور تمہیں تعلیم دوں اور تم مجھ سے علم حاصل کرو۔اور خدا اس بات کا ضامن ہے کہ تم علم حاصل کرو اور سمجھو ۔اس موقع پر یہ آيت نازل ہوئي "اور محفوظ رکھنے والے کان سن لیں "۔46،47۔

جب بھی لوگ حضرت علی علیہ السلام سے ان کے علم بےکران کے سرچشمہ کے بارےمیں سوال کرتے اور پوچھتے کہانہوں نے کہاں سے علم حاصل کیا ہے تو آپ فرماتے "وما سوی ذالک فعلم علمہ اللہ نبیہ فعلمنیہ و دعا لی بان یعیہ صدری و تضطم علیہ جوانحی ۔آپ فرماتے اس کے علاوہ بھی علم ہے جس کی تعلیم خدا نے اپنے رسول کودی تھی اور انہوں نے مجھے عطافرمایا اور میرے لئے دعا کی کہ میرا سینہ اس علم سے مالا مال ہوجائے اوروہ میرے سینے میں سماجائے۔48۔

بعض روایات سے معلوم ہوتاہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو اپنے علم کا وارث بنایااور حضرت علی علیہ السلام نے حضرات حسنین علیھما السلام کو اس کے بعد ہرامام نے اپنے بعد کے امام کو اس علم کا وارث بنایا۔حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا "ماارث منک یا رسول اللہ "تو آپ نے فرمایا "ماورث الانبیاء من قبل :کتاب ربھم وسنۃ نبیھم ۔

حضرت علی علیہ السلام نے آپ سے پوچھا میں آپ سے وراثت میں کیا پاوں گا، آپ نے فرمایا،تمہیں میری وراثت میں وہی چیزیں ملیں گی جو انبیاء ماسلف چھوڑا کرتے تھے یعنی کتاب خدا اور اپنی سنت ۔49۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک روایت مروی ہےکہ آپ نےفرمایا :ان اللہ علم رسولہ الحلال و الحرام و التاویل و علم رسول اللہ علمہ کلہ علیا"اللہ نے اپنے رسول کو حلال وحرام اور تاویل قرآن کا علم عطا کیا اور آپ نے یہ ساراعلم علی علیہ السلام کو عطافرمایا۔50۔

حضرت امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اھل بیت کا علم ان کے ذاتی نظریات کا غماز نہيں ہے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی میراث ہے ۔آپ فرماتے ہیں ۔لوکنا نفتی الناس براينا و ھوانا لکنا من الھالکین ،ولکنا نفتیھم بآثار من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واصول علم عندنا نتوراثھا کابر عن کابر نکنزھا کما یکنزھولاء ذھبھم و فضتھم ۔

اگر ہم لوگوں کو اپنی ہوا و ھوس کے مطابق فتوی دیتے تو بے شک ہلاک شدگان میں شامل ہوجاتے لیکن ہم تعلیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور جوعلم ہمیں ان سے ملا ہے اس کے مطابق لوگوں کو فتوی دیتے ہیں۔ اور جو علم ہمارے پاس ہے وہ بعد والے امام کو وراثت میں ملتاہے ۔ہم اس علم کو اسی طرح سنبھال کررکھتے ہیں جسطرح لوگ سونا چاندی سنبھال کررکھتے ہيں۔51۔

3۔امام ماقبل ۔

ائمہ اھل بیت علیھم السلام میں ہر امام اپنے ماقبل امام سے ہی علم حاصل کرتاہےاور یہ علم ان کی مخصوص میراث ہے ۔ائمہ معصومین اپنے علم سے اپنے بعض خاص اصحاب کو بھی ان کی استعداد و صلاحیت کے مطابق کچھ عطافرماتےہیں ۔اس سلسلے میں بہت سی روایات وارد ہوئي ہیں۔52۔

ذاتی آگہی اور تجربے ۔

ائمہ طاہرین میں سے ہرایک کو اپنی زندگي میں خاص تجربوں اور حالات سے گذرنا پڑا ان تجربوں سے ان کی علمی صلاحیت میں اضافہ ہوتاتھا۔یہ تجربے ان کو انسانی زندگي سدھارنے کی راہ میں حاصل ہوتےتھے ۔ہرامام کے تجربے دوسرے امام کے لئے مشعل راہ ہوتےتھےاور ان کا ھدف بھی ایک ہی ہوتاتھاگرچہ ائم معصومین اپنے زمانے کےلحاظ سے خاص وسائل وذرایع استعمال کیا کرتے تھے ۔53

 

ائمہ اھل بیت علیھم السلام کی زندگي کے اس انسانی پہلو پرتوجہ کرنا ان کی طبیعت بشری کو سمجھنے کےلئے نہایت ضروری ہے۔ اھل بیت علیھم السلام کےان پہلووں کو سمجھنے سے یہ یقین ہوتاہےکہ وہ بھی خدا کےبندے تھے تاہم خدا نے انہیں خاص نعمتوں سے نوازا تھا جن سے دوسرے لوگ محروم تھے۔دراصل اھل بیت علیھم السلام کےبارےمیں غلو کا سرچشمہ یہی وجہ ہے کہ لوگ ان کے علم اور حقیقی شخصیت کو سمجھنے سے قاصر تھےاوران کی شخصیت سے اس قدر حیران اور مبہوت ہوجاتےتھے کہ غلو میں گرفتار ہوجاتے۔لوگ اھل بیت علیھم السلام کی ذوات مقدسہ میں ایسے علوم اورکرامات دیکھتے تھے جو عام انسان کے بس کی بات نہیں تھے لھذا ان کے بارےمیں غلو کرنے لگتے تھے۔ ائمہ علیھم السلام نے اپنی احادیث و روایات میں اپنی انسانی اور بشری حقیقت پرتاکید کی ہے اور یہ سمجھایا ہےکہ انہیں ذاتا علم غیب حاصل نہیں ہےبلکہ انہیں جوکچھ عطا ہوا ہے بارگاہ ربوبی سے عطاہوا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےواسطے سے خدا نے انہیں ساری فضیلتیں اور کمالات عطاکئےہیں۔

حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام فرماتےہیں: "علم الغیب الذی لایعلمہ احد الا اللہ وماسوی ذالک فعلم علمہ اللہ نبیہ فعلمنیہ" خدا کے علاوہ کوئي علم غیب کا حامل نہیں ہے ،اس کے علاوہ خدا نے سب کچھ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تعلیم فرمایا ہے اور انہوں نے وہ سب کچھ مجھےتعلیم فرمایا ہے ۔54۔

حضرت علی علیہ السلام اور دیگر ائمہ طاہرین نے غلو کرنے والوں پرلعنت کی ہے۔البتہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ خدا نے ائمہ اھل بیت علیھم السلام کو اپنی رحمت خاصہ میں شامل کیا ہے اور مختلف مواقع پرانہیں حقیقت تک پہنچانے کےلئے انہیں الھام کی نمعت سےبھی نوازتاہے ۔اس کے برخلاف ہمیں کوئي دلیل نہیں ملی ہے ۔

فصل سوم :

امت میں اھل بیت علیھم السلام کی علمی منزلت ۔

بے پناہ علمی اختلافات گروہ بندیوں اور گوناگوں فقہی وکلامی مکاتب کےباوجود مسلمانوں نے ہمیشہ اھل بیت علیھم السلام کی خاص منزلت و مقام کا اعتراف کیا ہے اور اس کا لحاظ رکھا ہے انہیں تمام صحابہ اور تابعین نیز فقہاسے برترو بہتر سمجھاہے۔تاریخ و حدیث و فقہ کی کتابیں اس حقیقت کی گواہ ہیں۔ اگر بنوامیہ اور بنوعباس کی ظالمانہ اور مکروفریب سے بھری چالیں نہ ہوتیں تو اھل بیت کی یہ منزلت امت اسلام کے دل میں مستحکم واستوار رہتی ۔اموی اور عباسی حکومتوں نے جو حقیقت سے کوسوں دورتھیں حقیقت کو توڑمڑوڑ کرپیش کرنے کی بھرپور کوشش کی تاکہ اھل بیت علیھم السلام اور ان کی مرکزیت سے لوگوں کی توجہ ہٹاکر دوسروں کی طرف موڑسکیں۔

ہم اختصار سے کام لیتے ہوئے بعض صحابہ، تابعین اور فقہا کی شہادتیں پیش کریں گے ۔ان شہادتوں سے واضح ہوجائے گا کہ اھل بیت علیھم السلام کی شان میں کتاب و سنت کے نصوص اور مسلمانوں کی منصفانہ رائے ان کی عظمت و بزرگواری سے مکمل مطابقت رکھتی ہیں ۔ 

خلفاءکے زمانےمیں حضرت علی علیہ السلام کی علمی منزلت :

1۔حضرت ابو بکر کی خلافت کے زمانے میں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ کے بعد خلافت راشدہ کا زمانہ آتاہے ۔حضرت ابوبکر نے اس وقت کے پیچیدہ حالات میں بہت سے مسائل اور سیاسی مشکلات اور شرعی مسائل میں مولائے کائنات سے رجوع کیا ،ابو بکرنے اھل ردہ سے جنگ میں بھی مولائے کائنات سے صلاح و مشورہ کیا تھا ۔ 56

حضرت عمر کی خلافت کے دوران :

حضرت عمر ابن خطاب ہر مشکل مسئلے میں حضرت علی علیہ السلام سے مدد مانگتےتھے خواہ وہ فقہی مسئلہ ہوتایا پھر اجتماعی اور سیاسی۔ حضرت علی علیہ السلام کے بارےمیں حضرت عمر کے بیانات سے پتہ چلتاہےکہ وہ سب سے زیادہ حضرت علی علیہ السلام کے علم ودانش اور آپ کی منزلت سے آشنا تھے ۔ حضرت عمر نے متعدد مقامات پریہ جملے کہےہیں ۔1۔ اعوذ باللہ ان اعیش فی قوم لست فیھم یا اباالحسن۔57۔

اے ابوالحسن میں خدا سے پناہ مانگتاہوں کہ مجھے ایسی قوم میں رہنا پڑے جسمیں آپ نہ ہوں ۔

2۔لولاعلی لھلک عمر۔59

اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا۔

3۔ انت یا علی خیرھم فتوی۔60۔

اے علی آپ مسلمانوں میں سب سے بہتر فتوی دیتےہیں ۔

4۔ اللھم لاتنزل بی شدہ الا و ابوالحسن الی جنبی۔61

خدایا مجھے کسی سخت مشکل میں نہ ڈالنا مگریہ کہ ابوالحسن میرے پاس ہوں ۔

5۔ یا ابوالحسن لاابقانی اللہ لشدہ لست لھا ولافی بلد لست فیہ۔62

اے علی خدا مجھے ایسی مشکل کے وقت زندہ نہ رکھے جسے حل کرنے کے لئے آپ موجود نہ ہوں اور نہ اس شہرمیں رکھے جہاں آپ نہ ہوں ۔

6 ۔یاابن ابی طالب فمازلت کاشف کل شبہۃ و موضع کل حکم۔63

اے ابن ابی طالب آپ ہمیشہ شبہات کا ازالہ کرنے والے اور احکام بیان کرنے والے ہیں ۔

7۔ا عوذ باللہ من معضلۃ لیس لھا ابو الحسن ۔64۔

میں خدا سے پناہ مانگتاہوں ایسی مشکل سے جس کے حل کرنے کے لئے ابو لحسن نہ ہوں ۔

8۔لاابقانی اللہ بعدک یا علی ۔65۔

اے علی تمہارے بعد خدا مجھے زندہ نہ رکھے ۔

حضرت عمر کے ان تمام اقوال سے پتہ چلتاہےکہ حضرت علی علیہ السلام خلفاء کے زمانے کے عقیدتی ،سیاسی اور فقہی مسائل کوحل کرنے والے واحد فرد تھے۔اس سلسلے میں ایک قابل غور واقعہ مسلمانوں کی تاریخ کی ابتداکا تعین کرنا ہے۔عمر ابن خطاب نے جب مسلمانوں کی تاریخ کا مبداء معین کرنے ک ارادہ کیا تو حضرت علی علیہ السلام سے مشورہ ، آپ نے ان سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجرت کو مسلمانوں کی تاریخ کا مبدا قراردیں ،حضرت عمرنے ان کا یہ مشورہ پسند کیا اور ہجرت کو مسلمانوں کی تاریخ کی ابتدا قراردیا۔ 66۔

حضرت عمر نے جب ایران کو فتح کرنے کاارادہ کیاتو اس بارےمیں بھی حضرت علی علیہ السلام سے مشورہ کیا ۔

3۔: تیسرے خلیفہ کے دور میں بھی حضرت علی علیہ السلام ہی متعدد مسائل حل فرمایا کرتےتھے ،تاریخ و حدیث کی کتابیں ان واقعات سے بھری پڑی ہیں۔67۔

4۔: حضرت عائشہ ام المومنین اور علم علی علیہ السلام کا اعتراف

ام المومنین عائشہ بھی جب ان سے احکام شرعی پوچھے جاتے تو لوگوں کو حضرت علی علیہ السلام کی طرف رجوع کرنے کو کہتیں اور فرماتیں علیک بابن ابی طالب لتساءلہ۔68۔ آپ سائل سے کہتیں جاواس سوال کو ابن ابی طالب سے پوچھو۔

یا پھر فرماتیں ائت علیا فانہ اعلم بذالک منی۔69۔

جاو علی سے پوچھو وہ مجھ سے زیادہ جانتےہیں ۔

علی ابن ابی طالب اور سعدبن ابی وقاص ۔

حاکم نے اپنی سند سے قیس ابن ابی حازم سے روایت کی ہےکہ ایک شخص حضرت علی علیہ السلام کی شان میں گستاخی کررہاتھا، سعد ابن ابی وقاص نے اسکی ملامت کی اور کہا الم یکن اول من اسلم؟او لم یکن اول من صلی مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ؟او لم یکن اعلم الناس؟

کیا علی اسلام لانے والے پہلے شخص نہیں ہیں؟کیاوہ پہلے شخص نہیں ہیں جنہوں نے رسول اللہ کے ساتھ نماز اداکی اور کیا وہ سب سے زیادہ عالم نہیں ہیں؟70۔

تاریخ گواہ ہےکہ حضرت علی علیہ السلام کا مشہور ترین لقب "امام " ہے ۔

قارئين کرام جس طرح سے ہم نے حضرت علی علیہ السلام کے علمی مرجع ومرکز ہونے کے بارےمیں تاریخی شواہد پیش کئے ہیں اسی طرح آپ کی ذریت یعنی حضرت امام حسن علیہ حضرت امام حسین حضرت امام زین العابدین اور دیگر تمام ائمہ اھل بیت علیھم السلام کے علمی مرجعیت اور مرکزیت کےبارےمیں ناقابل انکار تاریخی شواہد ہیں۔

ائمہ مذاھب کے نزدیک اھل بیت کی علمی عظمت

مختلف اسلامی مذاھب کے ائمہ اور بزرگ فقہاء نے اھل بیت علیھم السلام بالخصوص حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے تعلیم حاصل کی ہے ۔حافظ بن عقدہ نے چار ہزار فقہاء اور محدثین کے نام ذکرکئےہیں جنہوں نے آپ سے روایت حدیث کی ہے یا آپ کے سامنے زانوے ادب تہ کیا ہے۔76۔

حافظ بن عقدہ نے ان فقہاء ومحدثین کی کتابوں کےنام بھی ذکرکئےہیں ان لوگوں میں مالک بن انس اصبحی ، ابوحنیفہ نعمان بن ثابت،77 یحی بن سعید، ابن جریح،سفیان ثوری ، شعبہ ابن الحجاج، عبداللہ ابن عمرو ، روح ابن قاسم ، سفیان ابن عینیہ، اسماعیل ابن جعفر، ابراھیم ابن طحان اوربہت سے دیگر افراد شامل ہیں ۔ 78

ابو حنیفہ کایہ قول کہ " لولا السنتان لھلک النعمان"79 ان دوبرسوں کی طرف اشارہ جب انہوں نے امام جعفرصادق علیہ السلام کے درس میں شرکت کی تھی ۔ابو حنیفہ کے اس قول سے پتہ چلتا ہے کہ ائمہ اھل بیت علیھم السلام کس قدر اپنے زمانوں کی علمی فضا پرحاوی اور اثرگذارتھے۔

مالک بن انس کہتےہیں کہ : مارات عین ولا سمعت اذن ولاخطر علی قلب بشر افضل من جعفرابن محمد الصادق علما و عبادۃ و ورعا۔80۔

نہ کسی آنکھ نے یہ دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اورنہ کسی نے یہ تصورکیا ہےکہ جعفرابن محمد صادق سے کوئي علم، عبادت و ورع میں افضل ہوسکتاہے۔

الازھر یونیورسٹی کے معروف استاد اور عالم دین شیخ محمد ابو زھرہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی علمی مرجعیت کوان الفاظ میں بیان کرتےہیں "کان ابو حنیفہ یروی عن الامام الصادق ویراہ اعلم الناس باختلاف الناس و اوسع الفقہاء احاطۃ وکان مالک یختلف الیہ دارسا وراویا ومن کان لہ فضل الاستاذیہ علی ابی حنیفہ و مالک فحسبہ ذالک فضلاولایمکن ان یوخر عن نقص ولا یقدم علیہ غیرہ عن فضل ۔وھوفوق ھذا حفید علی زین العابدین الذی کان سید اھل المدینۃ فی عمرہ فضلا و شرفاو دینا و علما وقد تتلمذ لہ ابن شہاب الزھری و کثیرون من التابعین وھو ابن محمد الباقرالذی بقر العلم و وصل الی لبابہ فھو ممن جمع اللہ تعالی لہ الشرف الذاتی و الشرف الاضافی بکریم النسب والقرابۃ الھاشمیہ والعترۃ المحمدیۃ ۔                              ابو حنیفہ امام صادق سے روایت کیاکرتےتھے اور انہیں لوگوں کے اختلافات سے سب سے زیادہ واقف کار اور فقہاء میں سب سے زیادہ عالم سمجتھےتھے ۔مالک بھی ان کےپاس کبھی نقل روایت توکبھی حصول علم کے لئے آیا کرتےتھے اور جس کو ابو حنیفہ اور مالک پرفضل استادی حاصل ہویہ فضل اس کےلئے کافی ہےوہ کسی سے پیچھے نہيں رہ سکتے اورنہ فضیلت میں ان پرکسی کو برتری حاصل ہوسکتی ہے ۔سب سے زیادہ صاحب فضل علی ابن الحسین زین العابدین کے پوتےہیں جواھل مدینہ کے سردار اور فضل و شرف ودین وعلم میں سب سے آگے تھے ابن شہاب زھری اور بہت سے تابعین نے ان کے سامنے زانوے ادب تہ کیا ہے۔وہ محمد باقر کے بیٹےہیں جنہوں نے علم کا سینہ چاک کیا اور اسکی حقیقت تک رسائي حاصل کی ۔خدا نے انہیں نسبی اور ذاتی شرف عطاکیا ہے وہ بنی ہاشم اور عترت پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہیں۔

فصل چہارم :

علوم اھل بیت علیھم السلام کے عینی جلوے۔

1۔دانشوروں کےساتھ علمی مناظرے۔

ائمہ اھل بیت علیھم السلام کی مبارک زندگیاں علمی سرگرمیوں سے بھری پڑی ہیں ۔ وہ میدان علم کے شہسوار تھے اور قرآن کی روشنی میں علمی گفتگو اور مناظرےمیں یگانہ روزگار ۔بعض اوقات دشمن اور حکام جور انہيں اذیت پہنچانے کےلئے علمی مناظروں کا انتظام کیا کرتےتھے اور بعض اوقات یہ مناظرے لوگوں کو جہل کی تاریکی سے نکال کرعلم وحقیقت کی روشنی میں لےجانے کےلئے بھی ہواکرتےتھے۔ اور بعض اوقات جب محدثین، فقہااور درباری علماء سوالوں کےجواب سے عاجزآجاتے تھے تو اھل بیت علیھم السلام کے دروازے پرآتےتھے اور ان سے اپنے مسائل کا حل حاصل کرتےتھے ۔ائمہ اھل بیت علیھم السلام کے علمی مناظروں کو بعض علماء نے مستقل کتابی شکل میں جمع کیا ہے ۔

ان مناظروں میں سب سے اہم نکتہ یہ ہےکہ ائمہ اھل بیت علیھم السلام کو کبھی شکست نہیں ہوئي اورنہ انہیں کسی طرح کی مشکل کا سامنا کرناپڑا بلکہ انہوں نے کوہ استوار کی طرح ہرطرح کے مسائل منجملہ علمی مناظروں کا سامنا کیا اورخدا کے فضل وکرم سے ہرامتحان میں سرخرو ہوئے۔ یادرہے ائمہ اھل بیت علیھم السلام کی بعض شخصیتوں جیسے حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کو کمسنی میں (نوسال) ہی دشمنوں کی سازشوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ ہمیشہ کامیاب رہے ۔ان مناظرات کے اعلی علمی معیاراور زمانے کے بزرگ ترین اور عالم ترین افراد کے مقابلے میں ائمہ اھل بیت علیھم السلام کا کامیاب رہنا ان کے بلامنا‌زعہ علمی مرجع ہونے کی دلیل ہے ۔

حضرت علی علیہ السلام کے علمی مناظرات ۔

سب سے پہلے، میدان علم میں قدم رکھنے والے حضرت علی علیہ السلام ہیں۔ آپ نے یہود و نصاری سے متعدد مناظرے کئےہیں گویا مناظرہ کرنا آپ کی زندگي کا ایک اہم کام بن گیا تھا ۔ آپ نے غالیوں سے بھی مناظرے کئےہیں تاکہ انہیں توبہ کرنے کی طرف راغب کرسکیں۔ اس کےعلاوہ آپ نے ان لوگوں سے بھی مناظرے کئےہیں جنہوں نے آپ کی بیعت قبول کرنے سے انکارکردیاتھا اور اجماع امت سے نکل گئےتھے۔حضرت علی علیہ السلام امت کو سوال کرنے کی طرف راغب کرتےتھے آپ کا یہ قول نہایت مشہور ہےکہ "سلونی قبل ان تفقدونی"۔مجھے کھونے سے قبل مجھ سےجوچاہے سوال کرلو۔

آپ کے بعد حضرات حسنین علھیماالسلام نے بھی آپ ہی کی روش پرزندگي گذاری اور لوگوں کے مسائل حل کرتے رہے ۔

حضرت امام حسن کے مناظرات :

مرد شامی کے ساتھ حضرت امام حسن علیہ السلام کا مناظرہ نہایت معروف ہے۔ اس مرد شامی کو معاویہ نے حضرت علی علیہ السلام کا امتحان لینے کےلئے کچھ سوالات دے کربھیجاتھا۔حضرت علی علیہ السلام نے اسے حضرت امام حسن کے پاس بھیج دیا اور آپ نے اس کے تمام سوالوں کا شافی جواب دیا۔85۔

حسن بصری کے ساتھ قضاو قدر کے بارےمیں امام حسین علیہ السلام کا مناظرہ بھی تاریخ میں مشہور ہے۔86۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے مناظرات۔

اپنی بحث کو طوالت سے بچاتےہوئے یہاں پرحضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کے اہم مناظرے نقل کررہےہیں ۔حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا زمانہ استثنائي زمانہ قراردیاجاسکتاہے۔آپ کو معارف اسلام کی تبلیغ کرنے کا نسبتا مناسب موقع ملاتھا اور آپ نے وقت سے فائدہ اٹھاکر حقیقی اسلام کی ترویج کی ۔

ابوحنیفہ نعمان کے ساتھ آپ کا ایک مناظرہ ہے جو منصور دوانیقی کے دربار میں انجام پایاتھا۔

ابو حنیفہ خود کہتےہیں کہ"میں نے جعفرابن محمد سے زیادہ عالم کسی کو نہیں پایا جب منصور نے انہیں بلایا تو میرے پاس اپنےایلچی کو بھیجا اور پیغام دیا کہ لوگ جعفر ابن محمد کے گرویدہ ہورہےہیں ان سے پوچھنے کےلئے سخت اورمشکل سوالات تیارکرو میں نے منصور کے کہنے پرچالیس سوالات تیاررکئے ۔ابو حنیفہ کہتے ہیں جب منصور حیرہ میں تھا تو اس نے مجھے بلابھیجا،جب میں اس کےمحل پہنچا تودیکھتاہوں جعفر ابن محمد اس کےدائيں طرف بیٹھے ہوئےہیں۔میں نے جب جعفرابن محمد کی طرف دیکھا تو مجھ پران کے رعب وجلال کاایسا اثرپڑاجیسا منصورکودیکھنے سے بھی نہیں پڑا تھا۔ میں نے سلام کیااور بیٹھ گيا، منصورنے ان کی طرف دیکھ کرکہا اباعبداللہ یہ ابوحنیفہ ہیں۔انہوں نے اثبات میں جواب دیا اس کےبعد مجھ سے مخاطب ہوکرکہنے لگا ابوحنیفہ اپنے سوالات پیش کریں، میں نے ایک ایک سوال کرنا شروع کیا،جعفرابن محمد ہرایک سوال کا جواب دیتے اوراھل مدینہ، اپنا نظریہ اور میرے نظریے کی طرف اشارہ کرتے۔وہ کبھی ہمارے نظریے کی تائيد کرتےتوکبھی اھل مدینہ کی اور کبھی سب کی مخالفت کرتےمیں نے پورے چالیس سوال کرلئے اور انہوں نے تمام سوالون کےجوابات دیئے ۔اس کےبعد ابوحنیفہ کہتےہیں کہ "کیا ہم نے نہیں کہا ہے کہ سب سے زیادہ عالم وہ ہوتاہےجو مختلف نظریات کا علم رکھتاہو"۔87۔

 

 

commentUser
نام اور فیملی نام
ایمیل ایڈریس
comment *

کوچک و یا بزرگ بودن حروف اهمیتی ندارد
 relateArticle 
 moreVisitFromCategoryOf " مقالات "  
Copyright © 2004-2011 ERFAN.IR