|
||||||||||||||||||||||
کلینی کے بارے میں
کلینی کے بارے میںعلی دوانی کی کتاب مفاخر اسلام ج ۳ ص ۴۰ سے اقتباس دنیائے اسلام میں کلینی کا مقامجناب ثقۃ الاسلام کلینی حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے زمانہ میں متولد ہوئے ، اور حضرت امام زمان (ع) کے خاص چار نمائندوں اور سفیروں کے ۔۔ جو کہ غیبت صغریٰ میں امام اور شیعوں کے درمیان رابط کی حثیت رکھتے تھے ۔۔ ہم عصر تھے۔اس کے باوجود کہ وہ چاروں نوابِ خاص شیعوں کے بزرگ محدث اور فقیہ تھے اور شیعیان اہل بیت (ع)ان کی عظمت وجلالت کے معترف و معتقد تھے لیکن شیخ کلینی ایسی عالی مقام شخصیت کے مالک تھے کہ اس زمانے میں آپ شیعہ و سنی دونوں کے درمیان بڑے احترام کے حامل تھے اور آپ نے علی الاعلان مذہب حق اور معارف و فضائل اہل بیت(ع) کی نشر واشاعت کا بیڑا اٹھا رکھا تھا۔ ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگ آپ کی صداقتِ گفتار و کردار کی درستگی اور احادیث و روایات کے حفظ و ثبت کے اس قدر مداح تھے کہ لکھا ہے شیعہ سنی دونوں فتویٰ لینے کے لئے آپ سے رجوع کرتے تھے اور اس سلسلہ میں آپ دونوں فرقوں کے نزدیک بڑے موثق اور مورد اعتماد شخص تھے ۔۔ اسی وجہ سے آپ کو "ثقۃ الاسلام" کے لقب سے ملقب کیا گیا، آپ اسلامی دانشمندوں میں وہ پہلے شخص ہیں جنھیں اس لقب سے پکارا گیا اور حقیقت میں بھی آپ اس عظیم لقب کے لائق و شائستہ تھے۔(3) کلینی،شیعہ علماء کی نظر میںشیعہ فقہاء کے رئیس شیخ الطائفہ محمد بن حسن طوسی(م ۴۶۰ھ)اپنی گراں قدر کتاب الرجال کے باب "وہ لوگ جنھوں نے ائمہ (ع) سے (براہ راست)روایت نہیں کی ہے" میں لکھتے ہیں: ابو جعفر محمد بن یعقوب کلینی بڑے جلیل القدر دانشمند اور احادیث و روایات کے بڑے عالم تھے، آپ بہت سی کتابوں کے مصنف ہیں کہ جو کتاب الکافی میں مرقوم ہیں ماہ شعبان ۳۲۹ھ میں وفات ہوئی اور محلہ "باب الکوفہ" میں دفن ہوئے ۔ہم نے ان کی کتابوں کو "الفہرست"میں تحریر کیا ہے۔(5) اور"الفہرست"میں الکافی کی ساری کتابوں اور کلینی کی دوسری تالیفات کا۔۔کہ جنھیں ہم بعد میں ذکر کریں گے۔ نام لیتے ہیں پھر ان کتابوں کی روایات کے سلسلہ میں اپنے سلسلۂ سند کو اپنے استاد شیخ مفید اور حسین بن عبید اللہ غضائری ، سید مرتضیٰ اور احمد بن عبدون کے واسطے سے بیان کرتے ہیں۔(6) علم رجال کے گرانقدرعالم جناب ابوالعباس احمد بن علی بن عباس معروف بہ "نجاشی" (م۴۵۰ق)اپنی نفیس اور مشہور کتاب الرجال کہ جنھیں علم رجال کا مشہور شیعہ عالم بتلایا گیا ہے اور انھوں نے اپنی کتاب الرجال کو شیخ طوسی کی کتاب الفہرست اور الرجال کے بعد تحریر کیا ہے ہمارے مشہور ترین عالم جناب کلینی کو اس طرح یاد کرتے ہیں: پھر اس کے بعد الکافی کی کتابوں اور کلینی کی دیگر تالیفات (جس کی تشریح ہم بعد میں کریں گے)ذکر کرتے ہیں۔(7) شیخ طوسی اور شیخ نجاشی کے بعد آنے والے علماء نے جہاں کہیں بھی شیخ کلینی کا نام آیا ہے یا ان کی عظیم و نامور کتاب "الکافی" کا نام لیا ہے انھیں شیعوں کے موثق ترین شخص کے عنوان سے یاد کیا ہے۔ ابن شہر آشوب مازندرانی، علامہ حلی ، ابن داؤد نے، معمول کے مطابق شیخ طوسی اور شیخ نجاشی کے الفاظ کو کلینی کی مدح میں نقل کیا ہے۔ سید ابن طاؤس (م۶۶۴ھ)لکھتے ہیں: نقل حدیث میں شیخ کلینی کی وثاقت و امانت داری تمام دانشمندوں کے نزدیک متفق علیہ ہے ۔(8) شیخ حسین بن عبد الصمد عاملی(شیخ بہائی کے پدر بزرگوار) فرماتے ہیں: محمد بن یعقوب کلینی اپنے دور کے تمام علماء کے استاد و رئیس تھے اور نقل احادیث میں موثق ترین عالم تھے آپ حدیث کی چھان بین میں سب سے زیادہ آشنا اور سب پر فوقیت رکھتے تھے۔(9) ملا خلیل قزوینی مشہور فقیہ و محدث اصول الکافی کی فارسی شرح میں لکھتے ہیں: علامہ مجلسی نے مرآۃ العقول شرح اصول الکافی میں لکھا ہے: شیخ کلینی تمام ررقوں میں مورد قبول اور ممدوح خاص و عام تھے۔(11) مرزا عبد اللہ اصفہانی معروف بہ "آفندی" علامہ مجلسی کے نامی گرامی شاگرد لکھتے ہیں: مرزا محمد نیشاپوری ، محدث اخباری لکھتے ہیں: ثقۃ الاسلام ، قدوۃ الاعلام ۔ بدر التمام، سفراء امام زمان کی موجودگی میں سنن و آثار معصومین(ع) کے جامع، تیسری صدی ھجری میں سیرت وکردار اہل بیت کے زندہ کرنے والے۔ ۔ ۔ (13) کلینی،سنی علماء کی نظر میںسنی علماء خاص طور سے ان کے مورخین کی نظر میں ۔۔جو آپ کے بعد آئے ہیں ۔۔ بڑی عظمت کے حامل ہیں سب نے آپ کی عظمت و تکریم کی ہے اور بڑی عظمت و بزگواری سے آپ کو یاد کیا ہے۔ ابن اثیر جزری (14) اپنی مشہور کتاب "جامع الاصول "میں لکھتے ہیں: ابو جعفر محمد بن یعقوب رازی۔۔ مذہب اہل بیت (ع) کے پیشواؤں میں سے ایک ۔۔ بڑے پایہ کے عالم اور نامور فاضل ہیں ۔ پھر کتاب نبوت کے حرف نون میں انھیں تیسری صدی ھجری میں مذھب شیعہ کو تجدید حیات بخشنے والا جانا ہے ابن اثیر، پیغمبر خدا (ص) سے ایک روایت نقل کرتے ہیں: خداوند متعال ہر صدی کے آغاز پر ایک ایسے شخص کو مبعوث کرے گا جو اس کے دین و آئین کو زندہ اور تجدید حیات عطا کرے گا۔(15) اس کے بعد اس حدیث پر تبصرہ کیا ہے پھر لکھا ہے کہ: مذہب شیعہ کے مجدد پہلی صدی ہجری کے آغاز میں محمد بن علی باقر(امام پنجم) اور دوسری صدی ہجری کے آغاز میں علی بن موسیٰ الرضا (ع) اور تیسری صدی ہجری کے آغاز میں ابو جعفر محمد بن یعقوب کلینی رازی تھے(16) ابن اثیر کی تحریر سے شیخ کلینی کی عظمت و منزلت کا اندازہ ہوتا ہے اور یہ آشکار ہو جاتا ہے کہ تیسری صدی کے اختتام اور چوتھی صدی ہجری کے آغاز میں کلینی اس قدر مشہور شیعہ عالم تھے کہ آپ کو دو معصوم اماموں کے بعد تیسری صدی ہجری کا مجدد مذہب بتلایاگیا ہے۔ ابن اثیر کے چھوٹے بھائی (عزالدین علی ابن اثیر جزری)بھی ۳۲۸ھ کے حوادث کے بیان میں اپنی مشہور تاریخ ۔۔ الکامل فی التاریخ۔۔ میں شیخ کلینی کو اس سال میں رحلت کرنے والا پہلا عالم جانا ہے وہ لکھتے ہیں: محمد بن یعقوب ابوجعفر کلینی نے ۔۔ جو شیعوں کے پیشوا و عالم تھے ۔۔ اسی سال وفات پائی۔(17) توجہ رہے کہ ہمارے ہم عصر محقق و فاضل جناب حسن علی محفوظ نے الکافی کے مقدمہ میں غلطی سے جامع الاصول کی عبارت کو علی ابن اثیر کی الکامل فی التاریخ کے حوالے سے نقل کیا ہے اور انھوں نے خیال کیا ہے کہ جامع الا صول اور الکامل فی التاریخ کے لکھنے والے ایک ہی فرد ہیں۔ بزرگ عالم و مشہور لغت شناس جناب فیروزآبادی(م۸۱۸ ھ ق)نے القاموس المحیط کے مادہ"کلین"میں شیخ کلینی کانام لیاہے اورانھیں شیعہ فقہاء میں سے قرار دیا ہے۔ (18) محمد بن یعقوب بن اسحاق ابو جعفر کلینی رازی بغداد میں قیام فرماتھے اور وہاں انھوں نے محمد بن احمد جبار ، علی بن ابراہیم بن عاصم اور دیگر لوگوں سے روایت نقل کی ہے تھے کلینی شیعہ فقیہ تھے اور انھوں نے اس مذہب کی موافقت میں بڑی زیادہ کتابیں تصنیف کی ہیں۔(19) ابن اثیر نے اپنی دوسری کتاب التبصیر میں لکھا ہے: ابو جعفر محمد بن یعقوب کلینی بزرگ شیعہ علماء میں سے تھے جو مقتدر(عباسی خلیفہ) کے دور میں زندگی بسر کر رہے تھے۔ (20) اس کے علاوہ تمام سنی علماء جہاں کہیں بھی"کلینی"نام پر پہنچے ہیں انھیں بڑا عالم، نامور فقیہ اور شیعوں کے متقدم پیشوا کے عنوان سے یاد کیا ہے۔
استغاثہ کے بارے میں وضاحت
خداوندعالم کے لئے جھت کا ثابت کرنا اس سلسلہ میں وضاحت وھابیوں کے عقائد کلینی کے اساتذہ کلینی کے بارے میں ارشادخدا وندی ھے انگلیوں کے سرے (پورے)کیا خاصیت رکھتے ھیں؟ قیامت کی ضرورت اسی طرح پرو فیسر ”اڈوارڈ لوثر کیل“کہتے ھیں پس یہ ان کی کھال کا تبدیل کرنا کس لئے ؟ قیامت عقیدہ بداء پر وھابیوں کا اعتراض اور کسی مخصوص قوم یا نسل سے تعلق نھیں رکھتا وھابیوں کے ھاتھوں اھل کربلا کا قتل عام |
||||||||||||||||||||||
| Copyright © 2004-2010 ERFAN.IR | ||||||||||||||||||||||