|
||||||||||||||||||||||
اسی طرح پرو فیسر ”اڈوارڈ لوثر کیل“کہتے ھیں
اسی طرح پرو فیسر ”اڈوارڈ لوثر کیل“کہتے ھیں : ” حرارت گرم چیزوں سے ٹھنڈی چیزوں کی طرف منتقل هوتی ھے اور کبھی اس کے بر عکس نھیں هوتا یعنی حرارت اس کے بر عکس نھیں چلتی کہ ٹھنڈی چیزوں سے گرم چیزوں کی طرف منتقل هو، اس کا مطلب یہ ھے کہ ایک دن وہ آئے گا جب اس دنیا کی حرارت تمام اجسام میں برابر هو جائے گی ،اور اس صورت میں تمام چیزوں کی طاقت ختم هو جائے گی ،اور اس وقت کیمیاوی یا طبعی عملیات ختم هو جائیں گی،اور پھر اس کائنات کی حیات ختم هوجائے گی “
”اسحاق نیوٹن،،کی تحقیق یہ ھے کہ یہ نظام کائنات نابودی کی طرف بڑھ رھا ھے ،اور ایک دن وہ آئے گا جب تمام چیزوں کی حرارت برابر هو جائے گی…اور حرارت کے بارے میںتحقیق ان نظریات کی تائید کرتی ھے اور” طاقت میسور“”طاقت غیر میسور“ میں تبدیل هو جائے گی ،اور جب حرارت میں تبدیلی آئے گی تو طاقت میسور غیر میسور میں بدل جائے گی ،اور اس کے بر عکس هونے کا کوئی راستہ نھیں ھے “
”تمام علماء فلک اس بات پر تائید کرتے ھیں کہ سورج (دیگر سیاروں کی طرح)کی حرارت ،اس کا حجم اور اس کی شعاعیں اس حد تک خطرناک هوجاتی ھیں جن تک عقل کی رسائی ممکن نھیں ،اور جب یہ حرارت بیرونی سطح میں پھیل جائے گی تو اس کے شعلہ اور دھواں اس قدر پھیل جائے گا کہ وہ چاند تک پهونچ جائیں گے ،اور تمام نظام شمسی اپنا تو ازن ختم کردے گا ، آسمان میں ھر ستارہ کے لئے ضروری ھے کہ وہ اپنا ھمیشگی کار نامہ سے پھلے ایسی حالت رکھتا هو ،لیکن ھمارا یہ سورج اب تک اس مرحلہ تک نھیں پهونچا ھے۔“[88] خداوندعالم کا ارشاد ھے: <فَاٴرْتَقِبْ یَوْمَ تَاٴتِی السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِیْن >[89] ”تو تم اس دن کا انتظار کرو کہ آسمان سے ظاھر بظاھر دھواں نکلے گا“ <فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ وَخَسَفَ الْقَمَرُ وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ یَقُوْلُ الٴاٴِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّ>[90] ”جب آنکھیں چکا چوند میں آجائیں گی اور چاند گہن میں چلا جائے گا اور سورج اور چاند اکھٹا کر دئے جائیں گے تو انسان کھے گا آج کھاں بھاگ کر جاوٴ گے“ <وَحُمِلَتِ الاَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُکَّتًا دَکَّةً وَاحِدَةً >[91] ”زمین اور پھاڑ اٹھا کر اکبارگی (ٹکراکر)ریزہ ریزہ کر دئے جائیں گے“ قارئین کرام ! جیسا کہ آپ حضرات نے ملاحظہ فرمایا کہ بڑے بڑے دانشوروں کے نظریہ کے مطابق بھی یہ کائنات اور تمام عالم سب کچھ فنا کی طرف بڑھ رھا ھے تو پھر قیامت کے دن کا آنا بہت ممکن ھے ،بلکہ آج کے علمی لحاظ سے ایک یقینی اور قطعی بات ھے۔ ۱۔ڈینا میکا حراری "Thermo Dynamics" قانون نے یہ بات ثابت کر دی ھے کہ یہ حرارت ھمیشہ باقی رہنے والی نھیں ھے،اور ایک دن ایسا آئے گا جب یہ کائنات فنا هوجائے گی (جیسا کہ تفصیل گزر چکی ھے) ۲۔ستارہ شناس افراد نے بہت سی مرتبہ سورج پر هوئے دھماکوں کا تجربہ کیا جن کے بعد یہ پتہ چلتا ھے کہ سورج کے اس حصے میں بوسیدگی آگئی ھے۔ لہٰذاان تمام باتوں کا نتیجہ یہ هوا کہ یہ کائنات ضرور بالضرور فنا هوجائے گی ،جبکہ سورج کا ھمیشہ کے لئے باقی رہنے والوں کے قول کے لئے کوئی بھی دلیل موجود نھیں ھے۔ < یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاٴَرْضُ غَیْرَ الْاٴَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ >[92] ”(مگر کب) جس دن یہ زمین بدل کر دوسری زمین کردی جائے گی۔“ اور تبدل اور فنا میں زمین آسمان کا فرق ھے۔ جبکہ ھمیں یہ بھی معلوم ھے کہ” تبدل مادہ“ اور ”فنا“ میں بہت بڑا فرق ھے۔ خلاصہ بحث ! <اَنَّ السَّاعَةَ آتِیَةٌ لَا رَیْبَ فِیْھَا وَاَنَّ اللهَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ>[93] ”اور قیامت یقینا آنے والی ھے اس میں کوئی شک نھیں اوربیشک جو لوگ قبروں میں ھیں ان کو خدا دوبارہ زندہ کرے گا“ <اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِی ضَلاَلٍ بَعِیْدٍ>[94] ”جو لوگ قیامت کے بارے میں شک کرتے ھیں وہ بڑے پر لے درجے کی گمراھی میں ھیں “ ”او ر جس روز قیامت بر پا هوگی اس روز اھل باطل بڑے گھا ٹے میں رھیں گے۔“ اور یہ قیامت عنقریب آئے گی جب زمین اپنی پوری آب وتاب پر پهونچ جائے گی اور انسان ترقی کی آخری منزلوں کو طے کرلے گا ، اور زمین اپنی تمام تر زینتوں کے ساتھ مزین هوجائے گی، اور انسان یہ گمان کرنے لگے گا کہ وہ ھر چیز پر قادر ھے اور اس کی حکومت تمام اشیاء پر ھے یھاں تک کہ بارش پر بھی کنٹرول کرنے لگے گا، اور پھاڑوں پر بھی زراعت کرنے لگے گا، نیزمشکل امراض کا علاج کرنے لگے گا، اور مردہ لوگوں کے دلوں اور آنکھوں کا زندہ انسان میں پیوند لگانے لگے گا، اور ستاروں کے درمیان سیر کرے گا ، اور ذرہ کو روشن کردے گا، اور پھاڑوں کو ہٹانے لگے گا، کیونکہ انھیں تمام چیزوں کے بارے میں خداوندعالم نے ڈرایا ھے، ارشاد هوتا ھے: <حَتّٰی اِذَا اَخَذَتِ الاَرْضُ زُخْرُفَھَا وَازَّیِّنَتْ وَظَنَّ اٴَھْلُھَا اَنَّھُمْ قَادِرُوْنَ عَلَیْھَا اٴَتَا ھَا اٴَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَھَا رًا فَجَعْلَنَاھَا حَصِیْدًا کَاٴَنْ لَمْ تَغْنَ بِاٴلْاٴَمْسِ>[96] ”یھاں تک کہ جب زمین نے(فصل کی چیزوں سے)اپنا بناوٴ سنگار کر لیا اور ھر طرح آراستہ هوگئی اور کھیت والوں نے سمجھ لیا کہ اب وہ اس پر یقینا قابو پا لیں گے (جب چاھیں گے کاٹ لیں گے) یکا یک ھمارا حکم و عذاب رات یا دن کو آپهونچا تو ھم نے اس کھیت کو ایسا صاف کٹا هو ا بنادیاجیسے کل اس میں کچھ تھا ھی نھیں“ <وَمَا اٴَمْرُ السَّاعَةِ إِلاَّ کَلَمْحِ الْبَصَرِ اٴَوْ هو اٴَقْرَبُ>[97] ”قیامت کا واقع هونا تو ایسا ھے جیسے پلک جھپکنا بلکہ اس سے بھی جلد تر“ یعنی قیامت کے وقت آدھی زمین میں رات هوگی اور آدھی میں دن اس کے علاوہ قرآن مجید نے قیامت کی ایک دوسری نشانی بھی بیان کی ھے ،اور وہ یہ کہ جب صور پھونکا جائے گا تب قیامت آئے گی ۔ اسی طرح قیامت کے لئے قرآن مجید نے ایک اور نشانی بیان کی ھے کہ تمام لوگوں میں خون برف بن جائے گا چاند و سورج کو گہن لگے گا پھاڑ ریزہ ریزہ هو جائیں گے ،ستارے پھیکے (ماند)پڑجائیں گے دریا پھٹنے لگیں گے،زمین میں زلزلہ آجائے گا ،اور زمین و آسمان میں تمام زندہ چیزیں نابو د هو جائیں گی۔ اور سب کچھ پھلے صور پھونکنے کے نتیجہ میں هوگا۔اور دوسرے صور میں تمام کے تمام زندہ هو جائیں گے اور حساب کتاب شروع هوجائےگا۔[98] < وَوُضِعَ الْکِتَابُ فَتَرَی الْمُجْرِمِینَ مُشْفِقِینَ مِمَّا فِیہِ وَیَقُولُونَ یَاوَیْلَتَنَا مَالِ ہَذَا الْکِتَابِ لاَیُغَادِرُ صَغِیرَةً وَلاَکَبِیرَةً إِلاَّ اٴَحْصَاہَا وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا وَلاَیَظْلِمُ رَبُّکَ اٴَحَدًا>[99] ”نہ چھوٹے ھی گناہ هو بے قلمبند کئے چھوڑتی ھے نہ بڑے گناہ کو اور جو کچھ ان لوگوں نے(دنیامیں )کیا تھا وہ سب (لکھا هوا) موجود پائیں گے اور تمھارا پروردگار کسی پر (ذرہ برابر ) بھی ظلم نھیں کرے گا“ < وَوُضِعَ الْکِتَابُ وَجِیءَ بِالنَّبِیِّینَ وَالشُّہَدَاءِ وَقُضِیَ بَیْنَہُمْ بِالْحَقِّ وَہُمْ لاَیُظْلَمُونَ ۔ وَوُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ وَهو اٴَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُونَ>[100] ”اور اعمال کی کتاب (لوگوں کے سامنے)رکھ دی جائے گی اور پیغمبر اور گواہ لاکر حاضر کئے جائیں گے اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور ان پر (ذرہ برابر ) ظلم نھیں کیا جائے گا اور جس شخص نے جیسا کیا هوگا اسے اس کا پورا پورا بدلا مل جائے گا اور جو کچھ یہ لوگ کرتے ھیں وہ اس سے خوب واقف ھے“
استغاثہ کے بارے میں وضاحت
خداوندعالم کے لئے جھت کا ثابت کرنا اس سلسلہ میں وضاحت وھابیوں کے عقائد کلینی کے اساتذہ کلینی کے بارے میں ارشادخدا وندی ھے انگلیوں کے سرے (پورے)کیا خاصیت رکھتے ھیں؟ قیامت کی ضرورت اسی طرح پرو فیسر ”اڈوارڈ لوثر کیل“کہتے ھیں پس یہ ان کی کھال کا تبدیل کرنا کس لئے ؟ قیامت عقیدہ بداء پر وھابیوں کا اعتراض اور کسی مخصوص قوم یا نسل سے تعلق نھیں رکھتا وھابیوں کے ھاتھوں اھل کربلا کا قتل عام |
||||||||||||||||||||||
| Copyright © 2004-2010 ERFAN.IR | ||||||||||||||||||||||