Monday 21st 2012
 
تلاش
شعر و ادب
 
  معصومین
1389/6/12 13:01:11 ارسال به دوستان    چاپ کد مطلب : 21320
تعداد بازدید : 795

حضرت علی علیه السلام اور خطبه شقشقیه کی نسبت

بعض ان کوتاه فکر رکھنے والوں نے یه گمان کیا هے که نهج البلاغه سید رضی کی من گھڑت کهانی هے

نهج البلاغه کے سلسله میں محققین نے جو تحقیقات انجام دی هیں ان کے مطابق نهج البلاغه ان خطبات پر مشتمل هے که جو شیعه حدیثی اور شیعه تاریخی منابع سے زیاده اهل سنت کے منابع اور ان کی کتابوں میں نقل هوئے هیں اور سید رضی علیه الرحمه نے ان کو نهج البلاغه میں جمع کیا هے، بعض ان کوتاه فکر رکھنے والوں نے جو نهج البلاغه کے سلسله میں شبه ایجاد کیا هے اس لحاظ سے هے که شبه پیدا کرنے والے نے یه گمان کیا هے که نهج البلاغه سید رضی کی من گھڑت کهانی هے، لیکن یه بات بهت سے قرائن کی بنا پر باطل هے:

اولاً: خود سید رضی نے اس بات کا اظهار کیا هے که یه خطبات حضرت امیر علیه السلام سے منسوب هیں اور میں نے صرف ان کو جمع کیا هے، حالانکه خود سید رضی شیعه اور اهل سنت کے نزدیک ایک مورد اعتماد شخصیت هیں۔

دوسرے:  یه که نهج البلاغه کے بهت سے خطبے دیگر حدیثی کتابوں میں بھی نقل هوئے هیں، جن میں سے یهی خطبه شقشقیه هے که جسے شیخ صدوق اور شیخ مفید نے نقل کیا هے که جو شیعوں کے بڑے محدث هیں اور تقریبا سید رضی کے هم عصر تھے، اس بنا پر یه بات کس طرح کهی جاسکتی هےکه نهج البلاغه سید رضی کی من گھڑت کهانی هے۔

لیکن جیسا که بعض لوگ یه کهتے هیں که خطبه شقشقیه میں خلفاء کو بُرا بھلا کها گیا هے، لیکن هم یه کهتےهیں که اس خطبه میں ایسی کوئی بات نهیں هے که جو بدگوئی اور ناسزا الفاظ شمار هوتے هوں، جو کچھ بھی بیان کیا گیا هے ان کے ناروا اور غلط کاموں کا ایک حصه هے که خلفاء نے خلافت کے دوران انجام دئے هیں، اس بنا پر اگر کوئی شخص اس خطبه کو قبول نه کرے تو وه بے جا تعصب اور جهالت کا شکار هوا هے۔

اس بنا پر یه بات کس طرح کهی جاسکتی هےکه نهج البلاغه سید رضی کی من گھڑت کهانی هے۔

commentUser
نام اور فیملی نام
ایمیل ایڈریس
comment *

کوچک و یا بزرگ بودن حروف اهمیتی ندارد
 relateArticle 
 moreVisitFromCategoryOf " معصومین "  
Copyright © 2004-2011 ERFAN.IR