Thursday 09th 2012
 
تلاش


شعر و ادب
 
  معاشره
1389/4/26 10:24:25 ارسال به دوستان    چاپ کد مطلب : 18363
تعداد بازدید : 446

اہل سنت بھی وحدت کی طرف قدم اٹھائیں

زاہدان سے ایک بار پھر تلخ خبریں سننے اور دیکھنے کو ملیں

مسجد پر قاتلانہ حملہ 

دعائے کمیل پر جارحیت

ابا عبداللہ الحسین کی ولادت کے دن اور علمدار کربلا کی ولادت کی شب دعائے کمیل اور جشن ولادت کے لئے آنے والے بے گناہ اور نہتے انسانوں کو شہید اور زخمی کرنا

یہ پہلی بار نہیں ہے اور آخری بار بھی نہیں ہوگی کہ شہادت کا عنقاء شیعہ کے کندھے پر رونق افروز ہورہا ہے؛ اور ہاں اگر شیعہ نہ ہوتا تو مظلومیت، بے کسی اور شہادت کے مفاہیم کیا زندہ رہ سکتے تھے؟

اعیاد شعبانیہ کے ایام اور لیالی میں کربلائے زاہدان میں شہادتوں کے عنقا کے نزول کے بہانے ہمیں زاہدان کے عارضی امام جمعہ حجت الاسلام و المسلمین راہداری سے بات چیت کا موقع ملا تو انھوں نے کہا:

آج نمازیوں کی اکثریت شہیدوں کو کندھا دینے گئی ہوئی تھی اور تعداد بہت کم رہی اور سیکورٹی فورسز تلاشیاں لے رہی تھیں کہ کہیں خدا و رسول (ص) اور قوم و ملت کا نام لے کر خدا و رسول (ص) کی تعلیمات کو پامال اور قوم و ملت کے حقوق ضائع کرنے والے دہشت گرد اس بار نماز جمعہ ہی پر قاتلانہ حملہ نہ کردیں۔!

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے سوالات اور حجت الاسلام و المسلمین راہداری کے جوابات ملاحظہ ہوں:

ابنا: آپ نے آج خطبوں میں فرمایا کہ اہل سنت کے علماء دہشت گردی کی مذمت کی بجائے فتوی دے دیں؛ ہم پوچھنا یہ چاہتے ہیں کہ اہل سنت کے علماء کے فتوے اس قسم کی دہشت گردانہ کاروائیوں کی روک تھام میں کیا کردار ادا کرسکتے ہیں؟

حجت الاسلام راہداری: بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ جب علماء سنجیدگی کے ساتھ اس قسم کی دہشت گردانہ جرائم کی حرمت کا فتوی دیں گے تو نوجوان آگاہ اور مطلع ہونگے اور آسانی سی دہشت گردوں کے دھوکے میں نہیں آئیں گے اور اپنی دنیا اور آخرت کو تباہ نہیں کریں گے۔ اگر لوگ سمجھ لیں کہ دہشت گردوں کے ساتھ ہر قسم کا تعاون اور ان کی حمایت اور ان کے جرائم پر راضی ہوجانا اللہ کی نافرمانی ہے تو دہشت گرد تنہا رہ جائیں گے اور اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے اور وہ کوچہ و بازار کے عام لوگوں کو اس طرح قتل نہیں کرسکیں گے۔ 

ادھر پڑوسی ملک پاکستان میں بعض لوگ اہل تشیع کے کفر اور ان کی جان و مال کے حلال ہونے کے فتوے دیتے ہیں تو کیا ایسی صورت میں اہل سنت کو ان کے ساتھ اپنی حدود الگ کرنے کی ضرورت نہیں ہے؟ کیا انہیں اس قسم کے فتوؤں کا مقابلہ نہیں کرنا چاہئے؟ 

ظاہر ہے کہ جب وہ انتہاپسندانہ فتوؤں کے بےبنیاد ہونے پر فتوے دیں گے تو ایک طرف سے وہ ہمارے ساتھ اپنی دوستی کا ثبوت فراہم کریں گے اور دوسری طرف سے امت اسلامی کی وحدت و تقریب کی جانب ایک بہت اہم قدم شمار ہوگا۔ 

ابنا: آپ نے نماز جمعہ میں وحدت کی ضرورت اور اختلاف اور تفرقہ سے پرہیز پر زور دیا، کیا تقریب اور وحدت کی ساتھ ساتھ دہشت گردوں، مجرموں اور ان کے حامیوں، پناہ دینے والوں اور تعاون کرنے والوں کو سزا دینے اور سارے شہریوں کو قانون کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی ضرورت پر زور دینے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی؟

حجت الاسلام راہداری: بالکل صحیح ہے۔ وحدت قانون کے نفاذ کے ساتھ قابل جمع ہے اور اتحاد اور قانون کے نفاذ میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ میں نے نمازجمعہ کے خطبوں میں اشارہ کیا کہ یہ دہشت گرد جو سرحد پار سے آئے ہیں کس کے گھر میں ٹہرے ہیں؟ کس نے انہیں پناہ دی ہے؟ کس نے ان کے ساتھ تعاون کیا ہے؟ میں نے کہا کہ دہشت گرد سرحد پار سے آکر کس کے پاس ٹہرے ہیں؟ میں نے اس اہم نکتے کی طرف زور دے کر اشارہ کیا اور میں نے وحدت و تقریب کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے قانون کے نفاذ اور دہشت گردوں اور مجرموں اور ان کے حامیوں، میزبانوں اور پناہ دینے والوں کے سلسلے میں قانون کے نفاذ اور انہیں سزا دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ 

ابنا: بہت شکریہ

حجت الاسلام راہداری: میں بھی آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

commentUser
نام اور فیملی نام
ایمیل ایڈریس
comment *
 relateArticle 
 moreVisitFromCategoryOf " معاشره "  
Copyright © 2004-2011 ERFAN.IR