Thursday 17th 2012
 
تلاش
شعر و ادب
 
  حدیث و اخلاق
1388/12/24 11:29:11 ارسال به دوستان    چاپ کد مطلب : 14602
تعداد بازدید : 627

ایک سنجیدہ مسئلہ

ایک سنجیدہ مسئلہ

 

 انسانوں  ھی کی طرح انسانی اعمال اور عبادتیں بھی اگر بغیر روح کے انجام دی جائیں  تو نہ صرف یہ کہ ان کا انسانی زندگی پر کوئی مثبت اثر نھیں  پڑتا بلکہ در حقیقت وہ مزید فساد کا باعث بنتی ھیں ۔تصنّع،ریا کاری ،فریب، تکبّر،اور خود نمائی جیسے اخلاقی مفاسد بعض اوقات انھیں  بے روح عبادتوں  کے نتیجے میں  پیدا ھوتے ھیں  جن میں  اکثر عباد ت گزار مبتلا ھوجاتے ھیں ۔عبادتوں  کے ان نتائج کو دیکہ کر ایک بڑا طبقہ ان سے دور ھو جاتا ھے اور دور ھونا بھی چا ھیے کیونکہ مردہ چیزوں  سے ھر شخص دوری اختیار کرتا ھے۔ پھر یہ شکایت کی جاتی ھے کہ جوان نسل مسجد میں  نھیں  آتی،جوان روزہ نھیں  رکھتے اور یہ درست بھی ھے لیکن وہ مسجد میں  اس لئے نھیں آتے کیوں کہ انھیں  اسرار نماز نھیں  معلوم ،وہ روزہ اسلئے نھیں  رکھتے کیوں کہ انھیں  فلسفھٴ روزہ نھیں  بتایا گیا ھے ۔

 

 

راہ حل

 

آج جب کہ پوری بشریت شدّت سے اپنے اندر معنویت اور روحانیت کا خلا محسوس کر رھی ھے او ر دوسری طرف ان بے روح عبادتوں  کو قبول بھی نھیں  کیا جا سکتا تو ضرورت اس بات کی ھے کہ ان تمام عبادتوں  کے اسرار و فلسفے بیان کیے جائیں  ، ،لوگوں  کو جتنے احکام بتائے جائیں  اس سے کھیں  زیادہ ان کے اسرار بتائے جائےں  ،احکام کا فلسفہ بیان کیا جائے۔

ممکن ھے کوئی یہ راہ حل پیش کرے کہ جو چیز بے روح ھو جائے اسے ترک کردیا جائے لھٰذا یہ بے روح نمازیں ، بے روح روزے ،بے روح حج،بے روح عبادتےں ، بے روح عزاداری،حتّیٰ بے روح دین ان سب کو ترک کر دیا جائے ۔اگر اس ترک کرنے سے مراد یہ ھو کہ ان بے روح عبادتوں اور اعمال کو ترک کر کے زندہ عبادتےں ، زندہ اعمال اور زندہ دین کو اپنایا جائے تو یہ وھی راہ حل ھے جو پھلے بیان کیا گیاھے یعنی ان میں  روح پیدا کی جائے ان کے اسرار وفلسفے بیان کئے جائیں ، لیکن اگر اس سے مراد یہ ھو کہ سرے سے دین کو ترک کر دیا جائے،سرے سے عبادتےں ھی نہ انجام دی جائےں ،سرے سے عزاداری ھی نہ کی جائے تو یہ راہ حل ایسا ھے جیسے کوئی کھے کہ آج اکثر انسان اور انسانی معاشرے روحانیت اور معنویت سے خالی ھیں  لھٰذاان سب کا خاتمہ کر دیا جائے۔یہ کوئی راہ حل نھیں  ھے کہ ابرو سنوارنے میں آنکھیں  پھوڑ دی جائیں ۔

 

commentUser
نام اور فیملی نام
ایمیل ایڈریس
comment *

کوچک و یا بزرگ بودن حروف اهمیتی ندارد
 relateArticle 
 moreVisitFromCategoryOf " حدیث و اخلاق "  
Copyright © 2004-2011 ERFAN.IR